یوم عاشوررہ،ایک پیغام اور جینے کا شعور۔

0 comment 6 views
یوم عاشوررہ،ایک پیغام اور جینے کا شعور۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
یوم عاشوررہ،ایک پیغام اور جینے کا شعور۔ حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔

یوم عاشورہ،ایک پیغام اور جینے کا شعور۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
آج یوم عاشورہ یعنی دس محرم الحرام1448 بروز جمعہ ہے۔ہم نے بچپن میں دینی کتب میں پڑھا تھا کہ جس دن صور اسرافیل پھونکا جائے گا وہ ،دس محرم الحرام اور جمعہ المبارک کا دن ہوگا۔
عاشورہ کے دس دنوں میں دنیا بھر کے لوگ اپنی اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔حسب توفیق صدقہ خیرات ۔دعائیں ،فاتحہ خوانی۔مجلس، جلسے، جلوس۔سبیلیں نیازیں ختمیں، نہ جانے بے شمار چیزیں

Advertisements

ہیں جنہیں لوگ پختہ یقین اور عقیدت کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔
عقائد و نظرات کا اختلاف اپنی جگہ لیکن اہل بیت اطہار اور اصحاب رسولﷺ کا احترام ہر کلمہ گو

کے ایمان کا حصہ ہیں۔
مشاہداتی طورپر جہاں اہل تشیع اپنے اپنے اندااز میں حب اہل بیت سے سرشار ہوکے رسومات مذہبی ادا کرتے ہیں وہیں پر سنُی لوگ اپنے اپنے مکاتیب و مدارس میں قران خوانی۔دعائوں کا اہتمام کرتے ہیں ۔جو چیز مشترکہ ہے وہ یہ کہ ہر کسی کا وعظ سیرت حسین سے شروع ہوکر اطاعت حسین پر ختم ہوتا ہے۔
جب سنی ،شیعہ دونوں حسین کی اطاعت پر متفق ہیں تو درمیان میں جو معمولی قسم کے اختلافات پائے جاتے ہیں،حل کرلئے جائیں۔معاشرتی طورپر تنائو و کشیدگی کا ماحول میں پُر فضاء وسکون کے جھونکے چل سکے۔
لیکن اس بارہ میں صحیح طریقہ اور صحیح روایت پے عمل کے بجائےوہ باتیں سامنے لائی جاتی ہیں جو حسین سے زیادہ ۔فریقین کے مفادات سے تعلق رکھتی ہیں۔
جو چیزیں کربلا کے نام سے منسوب بیان کی جاتی ہیں کہ،ان میں حسین کے ساتھ ساتھ اہل بیت کا درس اخوت، دشمن کے ساتھ نرمی و رواداری والا سلوک۔دشمن کے پیاسے سپاہیوں اور گھوڑوں کو پانی پلانا۔۔مذاکرت اور مفاہمتی دروس دینا۔فریقین کی کتب میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔
لیکن اس وقت کے مذہبی علمبرداروں اور محراب و ممبر پر براجمان لوگوں کو یہ دروس و خطبات اپنے مفادات کے خلاف دکھائی دیتے ہیں لہذا انہیں بیان کرنے کے بجائے عوام الناس میں گرما گرمی کا ماحول و جذبات کو بھڑکانا زیادہ سومند ہے۔اس لئے یہ لوگ مفانع بخش کاروبار سے کیوں دسکش ہوں۔یہی تو روزی روٹی کا مقدس راستہ ہے۔
سچی بات تو یہ ہے ہر گروہ حسین کو مانتا ہے لیکن حسین کی نہیں مانتا۔جب تک یہ روش جاری رہے گی امن کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے نہ تعلیمات حسین بار آور ہوسکتی ہیں۔کیا ہم لوگ کوئی ایسا راستہ تلاش نہیں کرسکتے ۔جہاں متفقہ باتیں بیان ہوں اختلاف اور دوسروں پر حملہ آور ہونے والی باتوں کو چھوڑدیں ۔
لیکن مسلمانوں نے ہمیشہ اسلام کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ہے۔اور مفادات سے جھولیاں بھری ہیں ۔ اسلام کی خدمت کم کی ہے،کیونکہ جو اسلام کی حقیقی تعلیمات کا درس دیتا ہے اسے دشمنوں کے بجائے اپنے ہی ٹھکانے لگادیتے ہیں۔
کیا دیکھتے نہیں مسلمانوں میں تعلیمات حسینی سے انحراف کی وجہ سے ہر گلی محلہ سے لیکر ممالک کے سرحدوں تک بہت گہری ہے۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو نام حسین کا استعمال ہوتا ہے لیکن تعلیمات حسین سے دونوں فریق تہی دست ہیں۔
حسین نے صرف کربلا کے دس ہی کی زندگی نہیں پائی تھی ان کی 63 سالہ اور بھی زندگی ہے۔جہاں بڑوں کا احترام۔چھوٹوں پر شفقت۔دست و دشمن کی پہچان۔اپنے بیگانوں کے ساتھ معاملات ۔طرز تکلم۔معاشرتی زندگی۔اتنا کچھ کہ عمل کرنے والوں کی زندگی جیتے جی جنت بن جائے۔لیکن ہمیں صرف کربلا۔اور اپنی مذہبی و سیاسی عزائم سے غرض ہے ۔باقی سے کوئی لینا دینا نہیں۔ممکن ہے قدرت کبھی ایسے حالات پیدا کردے کہ ہر کوئی رعلمیات حسینی کو اپنانے کی راہ ہموار ہوجائے/

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme