میو قوم میںالفاظ کاغلط چنائو۔اور غیر ضروری مفہوم۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔
میو قوم میں بے شمار خوبی ہاں ۔اور طبقاتی طورپے کئی تقسیم موجود ہاں ۔لیکن دو قسم عام دیکھن کو ملاہاں۔
(1)ایک دھنیڑی ۔مالدار۔سرکاری ملازمین۔یا جن کے پئے گھنو پیسہ ہے۔جو اپنا آپ اے سیانا۔عقلمند سمجھا اور اپنی بات اے حرف آخر سمجھاہاں۔اگر وے نیند بھی کوئی غلط سلط بات کہہ دیواں ۔اُو بات نہ مانی جائے، تو روس جاواہاں۔عمومی طورپے دوسران نے کم عقل ناکارہ نکما سمجھاہاں ۔ہر کامیابی اے اپنا کھاتہ میں اور ناکامی اے دوسران کی بہی میں لکھاہاں۔
یہ لوگ وعدہ کراہاں ۔پورو کرنو ضروری نہ سمجھاہاں۔بڑا بول بولاہاں۔اونچی نیچی ڈھینگ مارا ہاں۔ان کو سمجھنو ہے کہ اگر ہم نے اپنو کاندھا کھینچ لئیو۔اپنی چھتر چھایہ الگ کرلی تو میو قوم برباد ہوجائے گی۔ان کو وطیرہ ہے،ہر سرکاری عہدہ پے بیٹھو میو افسر قوم کو سرمایہ ہے۔ہر مال دار آدمی میو قوم کو فخر ہے۔جاکے پئے عہدہ اور پیسہ نہ ہے اُو نکمو۔غیر معتبر۔اور میو کہلانا کو حقدار بھی نہ ہے۔ان کے پئے ایک لائوڈ سپیکر ہے۔جاکی وساطت سے اعلان کرو جاوے ہہے فلاں مخلص اور قوم کو وفادار اور سپوت ہے۔فلان نکمو میو قوم کو مخالف ۔باغی ہے۔یامیں کارنامہ۔خدمت ۔پیشہ ورانہ صلاحیت پیش نظر نہ رہوے ہے ۔البتہ گروہ بندی دھڑی بندی اہمیت راکھے ہے۔
پاکستان کی اناسی سالہ تاریخ تو یائی بات اے کہوے ہے۔تازہ ترین مناظر انجمن اتحاد ترقی میوات کا الیکشن مین دیکھن کو مل جانگا۔۔۔ای الیکشن قومی مفاد۔کالج کی تعمیر،میو قوم کی فلاح و بہبود۔نئی نسل کی تعلیم و تربیت۔تعمیری سوچ۔منصوبہ بندی۔میو قوم میں ٹیلنٹ کی تلاش ۔نئی نسل کی صلاحیت کا ابھار کے بجائے۔ایک مالدارن کو مڈھ بھیڑ ثابت ہوئے گی ۔جو لکھن دکھائی دے راہاں۔لگے ہے،ہم لوگ دوبارہ سو پچاس سال گزاراہویا دِنن کی یاد پھر سو دوہرانگا۔کوئی وژن نہ ہے ۔کوئی نئی امنگ نہ ہے۔جو بابا حضرات کل میدان میں ہا ۔ اکھاڑا میں کھلم کھلا ایک دوسرا کی ٹانگ کھنچائی میں مہارت راکھے ہا۔اب وے بوڑھا ہوچکاہاں۔چلتے پھرتے سانس چڑھے ہے ۔ہلن جوگا نہ رہا۔لیکن ان کا جذبات آج بھی جوان ہاں۔اُنن نے تازہ دم لوگ میدان میں اتار دیا ہاں ۔انداز بدلو، نہ سو چ بدلی۔صرف پیسہ ہے۔اور دھڑا بندی ہے۔کوئی پلان ہے ،نہ کوئی منصوبہ بندی۔امیدوار چور راستان سو پیسہ خرچ کرراہاں ۔ووٹ بنک اپنا حق میں بنا راہاں ۔دھڑے بندی عروج پے ہے۔
کچھ مالدار لوگن نے عجیب قسم کی واردات گیرنی شروع کردی ہے۔کہ کالج کو کام شروع ہوجائے تو ہم اتنالاکھ روپیہ چندہ میں دینگا۔اب تک سوشل میڈیا پے جتنا لاکھن کو چرچا ہوچکو ہے۔اگر اُدھار کے بجائے نقد دیواں،تو کچھ کام شروع کرو جاسکے ۔سبن نے پتو ہے کام تو ہوئے گو نہ۔چلو یا اعلان سو ٹھونڈا پن اور دھڑے بندی کو ایک نعرہ مل جائے گو۔
لیکن تسلیم کرنو میو قوم کی روایات کے خلاف ہے۔حقائق مسخ کرتے وقت چُپ سادھی راکھاہاں ۔جب موقع نکل جائے تو غیبت ساری زندگی غیبت کراہاں ۔
میں نے نوں کہی۔
میں نے پہلے ای بتادی ہی۔
میں اِنن نے پہلے ای جانے ہو۔
جب ہماری بات ای نہ مانی تو موج لیواہاں۔
ہم نے نوں کرو ہو۔
ہم تو کائی نے پوچھا بھی نہ ۔
اگر ہماری بات مانی جاتی تو اب تک فلاں کام کد کو ہوجاتو۔۔۔
امید ہے یا الیکشن کے بعد بھی کچھ ایسی ہی صورت حال سامنے آئے گی۔۔۔
۔یہ وے حقائق ہاں جنن نے آج کوئی بھی مانن کے مارے تیار نہ ہے۔لیکن غور و فکر کرن والان کے مارے۔میری تحریر ایک سند ہے محفوظ کرلیو۔بعد میں کام آئے گی۔لیکن ایک بات ضرور ہے ہر طبقہ میں اچھا بُرا لوگ موجود رہوا ہاں استثنیات سو کوئی میدان خالی نہ ہے۔ایسے ہی مالدارن میں بھی کچھ بھلا لوگ موجود ہاں۔چاہواہاں کہ کچھ بہتری ہوجائے۔لیکن کوئی فارمیٹ ایسو موجود نہ ہے کہ ان کا جذابت کی قدر کری جاسکے۔
(2)وے لوگ جو عام ہاں۔جن کے پئے وسائل کم اور امید گھنی ہاں۔وے ہر کائی کی بات اے مان لیواہاں ۔اور ہر بار دھوکہ کھاواہاں۔لیکن ان کی دیس بھگتی۔قربانی،قوم سو لگائو کوئی ڈھکی چھپی بات نہ ہے۔اناسی سالہ تاریخ میں بے شمار یا قسم میں گزراہاں۔لیکن پہلا طبقہ کی پالیسز کی وجہ سوُ اَب وے مایوسی کا شکار ہاں۔
ان کو کہنو ہے۔قوم کا نام پے جب بھی چار لوگ اکھٹا ہووا ہاں ۔وے دھوکہ دیواہاں۔یا کو زندہ ثبوت ای ہے کہ انجمن اتحاد ترقی میوات کی ممبر شپ میں پیسہ خرچ کرو جارو ہے ۔امیدواران سیاسی انداز میں مہم جوئی میں مصروف ہاں۔
کالج کی تعمیر۔کالج کے مارے فنڈنگ۔کالج کے متعلق منصوبہ بندی ۔کوئی بھی چیز ووٹر سو شئیر نہ کری جاری ہے۔کائی نے اپنو دستور و منشور شائع نہ کرو ہے۔سیاسی انداز میں ای الیکشن لڑو جارو ہے۔
میری تحریر کائی کے خلاف نہ ہے ۔نہ میں کائی دھڑا کو حصہ ہوں۔نہ موئے ای طریقہ کار پسند ہے۔لیکن جب حالات کا تناظر تجزیہ کرو جاوے ہے۔
واکو نتیجہ یہی نکلے ہے،جاپے میں پہنچو ہوں۔ضروری نہ ہے کہ میری بات حرف آخر ہوئے۔تصویر کو دوسرو رخ بھی ہوسکے ہے۔
اللہ کی شان کہ زہر سو بھی تریاق پیدا ہوسکے ہے۔ہماری آنکھن نے دیکھو ہو کہ ایک بدمعاش نے ایسا کام کردیا۔جو ہزاروں تہجد گزار ۔اور دین سو چپکا ہویا لوگ نہ کرسکا۔
اللہ جب کائی سو کام لینو چاہے تو واکو ہدایت دے سکے ہے۔اللہ کا کامن نے اللہ جانے لیکن جو حالات موئے دکھائی دے راہاں۔ان کا نتائج مذکورہ بالا سطور سو گھنا نہ نکل سکاہاں۔
5
