
یعنی علم الادیہ حفظ الکبیر”
“رہنمائے علم الادویہ
یعنی علم الادیہ حفظ الکبیر”
پیش لفظ
جامعہ ہمدرد میں طب یونانی کی تعلیم فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے علاوہ فیکلٹی آف فارمیسی میں ان طلبہ کو بھی دی جاتی ہے جو گریجوئیشن اور ڈپلوما میں بحیثیت ایک مضمون طب یونانی کا انتخاب کرتے ہیں۔ ہیں۔ یہ یہ ان امتیاز اور مراعات صرف جامعہ ہمدرد کو حاصل ہیں ہندوستان ن میں میں کسی اور ادارہ کو نہیں ۔ بی فارما اور ڈی فارما کے نصاب درس میں جو طبی مضامین داخل ہیں وہ مبادیات پر مشتمل ہیں اور چونکہ ایسا صرف ہمدرد میں ہے اس لئے ہمارے قلم کار اطباء کی توجہ ان طلباء کی مشکلات کی طرف نہیں گئی ۔ جب جامعہ ہمدرد سے میری وابستگی ہوئی اور بی فارما اور ڈی فارما کے طلبہ کو یونانی طب پڑھانے کا موقع ملا تو صحیح معنوں میں ان کی دقتوں اور پریشانیوں کا اندازہ ہوا اسی وقت یہ خیال میں نے دل میں راسخ کر لیا کہ موقع ملتے ہی ان کے طبی نصاب کی روشنی میں ان کی صلاحیت کو مد نظر رکھ کر ایسی کتاب ضرور مرتب کی جائے گی جو ان کے لئے خضر راہ ثابت ہو۔ اور اپنا یہ کورس بخوبی اس کتاب کو پڑھ کر پاس کر سکیں اسی مخلصانہ جذبہ کے تحت زیر نظر کتاب میں نے مرتب کی ہے۔ اس کی کامیابی کا دارو مدار طلبہ کی دلچسپی پر موقوف ہے۔ کتاب طب یونانی کے نصاب کو سامنے رکھکر مرتب کی گئی ہے۔ زبان سادہ اور عام فہم استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ طبی اصطلاحات کو اردو ترجمہ کے ساتھ ساتھ انگریزی میں ترجمہ بھی کر دیا گیا ہے۔ اور ایسا صرف اس لئے کیا گیا تا کہ بی فارما ، ڈی فارما کے ساتھ بی یوایم ایس طلبہ بھی احسن طور پر اس کتاب سے استفادہ کر سکیں ۔ خدا کرے میری یہ مخلصانہ کاوش بار آور ہو ( آمین )
حفظ الكبير
