
انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان:
برادری کی سرکردہ شخصیات کا اہم اجلاس اور آئندہ کا لائحہ عمل۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
نوں کہواہاں کہ ایک بنیا نے ایک پٹھا ن اپنو چوکیدار بنالئیو۔تجارت کرے ہو۔ بنیا کو خیال ہوکہ چوکیدار کی ذمہ داری دی ہے کہ فاقلہ کے ساتھ ساتھ ہماری حفاظت کے مارے ساتھ ساتھ رہے گو۔
ایک دن قافلو سستانا کے مارے ایک جنگل میں رُکو۔تھکو ہارو قافلہ بے سُدھ ہوگئے سوگئیو۔
۔چوکیدار بھی ۔اپنی جگہ پہرہ دیتو دیتو سوگئیو۔۔
۔اتفاقا۔جنگلی لٹیرا آیا۔قافلہ لوٹنو شروع کردئیو۔
۔تاجرن کو سارو سمان سمیٹ کے جان لگا۔۔
لیکن چوکیدار سوتو رہو۔۔بنیا نے بھتیرو جھنجوڑو۔۔لیکن چوکیدار ٹس سو مس نہ ہویو۔۔۔نسوار منہ میں دھرکے سوتو رہو۔
۔۔بنیا نے بھی ای سب کچھ حادثہ سمجھو۔۔۔ہائے دے کے بیٹھ گئیو۔۔
۔لٹیران کی کمبختی۔۔۔مودھا پڑا پٹھان کی شلوار کھولی۔۔پچھواڑا میں تھوک دئیو۔۔
۔اب چوکیدار کی غیرت جاگی۔۔وانے مار مار کے سارا لٹیرا بھگکا دیا۔۔۔اور مال واپس چھین لئیو۔۔۔
بنیا سیانو ہو۔۔۔وانے اپنی بہی کھاتہ نکالو۔۔اور چوکیدار کو حساب کرو ۔۔ایک مہینہ کی تنخواہ فالتو دی۔۔
۔اور ہاتھ جوڑ کے کہن لگو۔۔اپنو کہیں دوسری جگہ بندوبست کرلے۔۔میرا مہیں سو فارغ ہا۔
۔چوکیدار کہن لگو ایک تو میں نے تیرو مال بچائیو ہے ۔۔اوپر سو تو موئے ملازمت سو فارغ کررو ہا۔۔ای کیسو انصاف ہے۔۔۔
بنیا نے ہاتھ چوڑ کے کہو،،بھایا۔۔اب موئے دو ملازم راکھنا پڑنگا۔۔۔ایک تو ۔۔دوسرو ۔۔جو تیرا پچھواڑا مین تھوکتو رہے۔۔
۔میری اتنی پسلی نہ ہے کہ دو۔دو ملازمن کی تنخواہ دے سکوں۔۔۔کرپا کر ۔۔چلتو بن۔۔۔
اب ایک خبر میو قوم کا نمائیندان کا مہیں سو بھی پڑھ لئیو۔۔
(نوٹ ۔ان دونوں باتن میں مماثلت محض اتفاق ہوئے گو۔۔۔۔بکری مینگی کرکے دودھ دیتی بتائی۔
۔۔ممکن ہے مینگنی کرکے۔۔پورا جہان میں بدنامی و جگ ہنسائی کراکے۔
۔بکری سمجھ گئی ہوئے کہ ۔۔میو قوم کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔۔
۔اب میو قوم کی کڑی تھپیڑنی چاہئے۔۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان:
برادری کی سرکردہ شخصیات کو اہم اجلاس اور آئندہ کا لائحہ عمل
انجمن اتحاد و ترقی میوات پاکستان کا تنظیمی معاملات اور موجودہ صورتحال پے غور و خوض کے مارے برادری کی سنجیدہ اور سرکردہ شخصیات کو ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہویو۔
عمائدین اور بڑان کا خصوصی اصرار پے یااجلاس کی صدارت ممتاز شفیق میو نے کری۔
اجلاس کو ماحول انتہائی خوشگوار اور برادرانہ رہو، جا میں موجودہ حالات پے تفصیلی تبادلہ خیال کروگئیو
اور یا عزم کو اعادہ کرو گئیو کہ تمام حل طلب معاملات آپس میں مل بیٹھ کے افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرا جانگا۔
اجلاس کا اہم فیصلہ:
مصالحتی کمیٹی کو قیام:
باہمی اختلافات دور کرنا اور تمام احبابن نے ایک پیج پے متحد کرن کےمارے ایک ۵ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
ای کمیٹی چوہدری علی محمد کی سربراہی میں کام کرے گی جبکہ یاکا دیگر اراکین میں
اختر بادشاہ،
راؤ شہاب الدین،
طارق شبیر
اور افضال عظیم پاھٹ شامل ہونگا۔
گرینڈ مشاورتی بورڈ:
برادری کا مستقبل کا فیصلہ اور رہنمائی کے مارے
جناب شبیر عثمانی کی سربراہی میں ایک “گرینڈ مشاورتی بورڈ” کا قیام کی منظوری دی گئی۔
اجلاس کا شرکاء:
یا اہم مشاورتی میٹنگ میں برادری کی درج ذیل نمایاں شخصیات نے شرکت کری:
جناب شبیر عثمانی
بریگیڈیئر ظفر یاسین بابر
چوہدری محمد یوسف
چوہدری طارق شبیر
چوہدری اختر بادشاہ
افضال عظیم پاھٹ
سردار امجد طفیل
کرنل محمد علی
چوہدری علی محمد
ڈاکٹر لیاقت علی
سردار احسن امجد
اجلاس کی شاندار میزبانی کا فرائض جمیل احمد میو نے سرانجام دیا اور تقریب کا اختتام پے اتحاد و اتفاق کے نارے نیک تمنان کو اظہار کرو گیو۔
۔۔۔۔۔
اللہ کرے میو قوم کو اچھا دن دیکھنا نصیب ہوواں ۔۔۔
اجلاس میں ۔میں کرا گیا فیصلہ کہا ہا۔۔
یائے تو کوئی شریک حال ای بتا سکے ہے۔۔۔ہم نے جو میڈیا پے دیکھو۔۔وہی تہارے آگے لادھروہے۔۔
کاش کہ ای پنچائت کا پیٹ میں ایک درد پہلے ہوجاتو ۔ممکن ہے قوم اور میو قوم کا جوان بدمزگی۔اورانتشار سو بچ جاتا۔۔
جو قدر ان کا دل میں بوڑھا بڑان کی پہلے سو موجود ہی ۔واکو ستیاناس نہ ہوتو۔۔۔
ٹھیک ہے سب کام ہوجانگا۔۔لیکن ۔۔جنتو گند اور غیبت میڈہیا پے قوم کے بارہ میں اچھالی جاچکی ہے۔۔
اگر مثبت اقدام اور اچھاکامن سو موازہ کرو جائے تو یا گندگی کا ڈھیر میں ،،میو قوم کی شان و شوکت دفن دکھائی دیوے ہے۔۔۔
میو قوم زندہ باد۔۔پاکستان زندہ باد۔۔باقی نام رہے اللہ کو۔
