
زیادہ قربت دوری کا سبب ہوتی ہے
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
انسانی فطرت ہے ،ہر چیز حد اعتدال میں رہے تو قائم رہتی ہے ،جس وقت حد اعتدال سے تجاوز کرے آرام و راحت تکلیف و مصیبت میں بد ل جاتا ہے۔
مذہب ہو کہ سیاست ،کاروبار ہو کہ معاملات کوئی کتنی بھی بڑی شخصیت کیوں نہ ہے ۔عوام میں رائج امیج اس وقت چکنا چور ہوجاتا ہے جب اس کی نجی زندگی سامنے آتی ہے ۔
کتب بینی بچپن سے میرا شوق رہی ہے۔ مختلف قسم کی کتب بے شمار موضوعات پر پڑھنے کو ملیں
۔یہ شوق اس وقت سے ہے جب مجھے اس بات کا ٹھیک اندازہ نہیں کہ جو کتاب میرے مطالعہ میں ہے یہ کس موضوع پر ہے۔لیکن مطالعہ ضرور کرتاتھا۔۔
ایک چیز جو آج تک سمجھ میں آئی ،وہ یہ تھی کہ ہمہ جہت شخصیت کا ملنا اور آئیڈیل ہونا ناممکن نہیں تو نایاب ضرور ہے۔
ایک فن کے ماہر کی کتاب پڑھنے سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ مصنف اپنے فن میں کتنی مہارت رکھتا ہے۔ اس کا لب و لہجہ۔اس کا انداز تکلم۔طرز تحریر ایسا منظر پیش کرتے ہیں کہ مہارت کا ہیولہ ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔
لیکن جب اسی مصنف کو نجی زندگی ۔میں دیکھتے ہیں،یا کسی ایسے موضوع پر بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں جس میں عبور نہ ہوتو اس کا پھس پھسا پن عیاں ہوجاتا ہے۔
یہی کچھ سیاسی لیڈروں۔مذہبی پیشوائوں ۔کا بھی ہے۔
جب یہ اپنے موضوع اور اپنی ڈومین میں رہ کر بات کرتے ہیں تو باتیں بہت گہری دکھائی دیتی ہیں۔
لیکن جب ان کی نجی زندگی کو دیکھا جاتا ہے تو قوم و فعل میں تضاد پایا جاتا ہے۔
تکلم و کردار اور نجی زندگی میں جتنی یکسانیت ہوگی ،انسانی عظمت کا شاہکار ہوگی۔
عمومی طورپ دیکھا گیا ہے کہ بڑے لوگ دوغلے پن کا شکار رہتے ہیں۔قول و فعل میںتضاد ہوتاہے۔
زندگی کا ایک بہت بڑا سبق یہ بھی ملا کہ جو کتابیں ممنوع قرار دی جاتی ہیں۔اگرمسیر آجائیں و ضرور ان کا مطالعہ کیا کریں،
کیونکہ ان میں کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا جواب یا مندرج سچائی ایسی ہوتی ہے جس کا سامان پاک باز لوگ اور مقتدر حلقوں کے پاس

نہیں ہوتا۔
جب ناروا بے وقت قوانین بنائے جارہے ہوں تو سمجھ جانا چاہئے کہ حکمران غاصب اور اپنی حدود سے تجاوز کرنے لگیں ہیں۔
کوشش کرو دوسروں کے سامنے اپنی حاجت رکھنے کے بجائے۔ اپنی ضروریات کم کردو تاکہ نگاہوں سے نیچے گرنے سے محفوظ رہ سکو۔
جو آدمی یہ سمجھ گیا کہ ہر آدمی ضرورت مند او ر الالچی ہے۔
ضرورت پوری کرانے کے لئے اس کی ضرورت معلوم کرکے یقین دلادو کہ تم اس کی ضرورت پورا کرسکتے ہو۔تمہارا کام ہوجائے گا۔
کچھ لوگ وقتی و اتقافی ملاقات اور میٹھی گفتگو کو تعلقات سمجھ بیٹھتے ہیں وہ قدم قدم پر پشیمانی کا سامان کرتے ہیں۔
زندگی کی بہت بڑی حقیقت یہ ہے کہ۔تمہاری اہمیت اس وقت تک ہے جب تک لوگ تمہیں اپنی ضرورت سمجھتے رہیں۔
جس دن ضرورت ختم ہوئی تمہقارا عظمت کا مینارہ زمین بوس ہوجائے گا۔
مایوسی گناہ ضرور ہے لیکن یہ ایسا راستہ ہے کہجس پر چل کر لوگوں کی غلامی کی زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں۔
آس و امید ایسی غلامی ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے
