
احمد امین اور تاریخِ فکرِ اسلامی میں ان کا منہج
«فجر الإسلام» کا ازہری علمی روایت کی روشنی میں تنقیدی مطالعہ
تالیف
پروفیسر محمد اسلم رضا الازہری
فاضل جامعہ الازہر، مصر
ناقل: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
خلاصۂ مقالہ
یہ مقالہ بیسویں صدی کے ممتاز مصری ادیب، مؤرخ اور مفکر احمد امین کے تاریخی و فکری منہج کا تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے، بالخصوص ان کی معروف تصنیف «فجر الإسلام» کے حوالے سے۔ احمد امین نے اسلامی تہذیب کی تاریخ کو محض سیاسی واقعات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے فکری، مذہبی، ادبی اور عقلی تشکیل کے وسیع تر زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی۔ ان کی کتاب «فجر الإسلام» پہلی مرتبہ 1928ء میں شائع ہوئی اور صدرِ اسلام سے لے کر اختتامِ عہدِ اموی تک کی عقلی، سیاسی اور ادبی زندگی کو اپنا موضوع بناتی ہے۔
مقالے میں احمد امین کے علمی پس منظر، ان کے تاریخی منہج، مصادر کے استعمال، مستشرقانہ تحقیقات سے استفادے، اور بالخصوص حدیث و تدوینِ حدیث کے بارے میں ان کے موقف کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں، مصطفیٰ السباعی کی «السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي» اور دیگر علمی مواقف کی روشنی میں احمد امین پر ہونے والے اعتراضات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
تحقیق کا بنیادی نتیجہ یہ ہے کہ احمد امین کو نہ مطلقاً ’’مستشرق‘‘ قرار دینا درست ہے اور نہ ان کے تمام نتائج کو مسلم علمی روایت کا نمائندہ سمجھنا مناسب ہے۔ ان کا کام جدید اسلامی تاریخ نگاری کا ایک اہم نمونہ ہے، جس کے بعض پہلو قابلِ قدر ہیں جبکہ بعض نتائج بنیادی مصادرِ حدیث و تاریخ کی روشنی میں مزید تنقید کے محتاج ہیں۔
کلیدی الفاظ: احمد امین، فجر الإسلام، تاریخِ فکرِ اسلامی، حدیث، تدوینِ حدیث، مستشرقین، مصطفیٰ السباعی، ازہر، اسلامی تہذیب۔
مقدمہ
اسلامی تاریخ نگاری میں جدید دور کے آغاز کے بعد ایک اہم تبدیلی یہ سامنے آئی کہ بعض مسلم مصنفین نے اسلامی تاریخ کو روایتی سیاسی واقعات کے بجائے فکری، تہذیبی، سماجی اور عقلی ارتقا کے زاویے سے دیکھنا شروع کیا۔ مصر اس جدید علمی تحریک کا ایک اہم مرکز تھا۔
اسی علمی و فکری ماحول میں احمد امین ابراہیم الطباخ (1886ء–1954ء) ایک نمایاں شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے ازہر میں تعلیم حاصل کی، بعد ازاں مدرسۃ القضاء الشرعی سے وابستہ ہوئے، تدریس کی، اور پھر جامعہ قاہرہ کے شعبۂ ادب سے منسلک ہوئے۔ ان کی علمی زندگی کا نمایاں ترین کارنامہ اسلامی تہذیب کی فکری تاریخ پر مشتمل ان کی معروف سہ گانہ سلسلۂ کتب ہے، جس میں «فجر الإسلام»، «ضحى الإسلام» اور «ظهر الإسلام» خاص اہمیت رکھتی ہیں۔
احمد امین کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انہوں نے اسلامی تہذیب کے اندر فکر، مذہب، ادب، فلسفہ اور مختلف تہذیبی اثرات کے باہمی تعلق کو موضوع بنایا۔ لیکن یہی منہج بعض مقامات پر روایتی اسلامی علمی منہج سے اختلاف کا سبب بھی بنا، خصوصاً حدیث اور اس کی تاریخی تدوین کے باب میں۔
چنانچہ اس مقالے کا بنیادی سوال یہ ہے:
کیا احمد امین کا تاریخی منہج اسلامی مصادر اور اصولِ تحقیق سے ہم آہنگ تھا، یا وہ جدید مغربی و استشراقی تاریخی تنقید سے اس حد تک متاثر ہوا کہ بعض نتائج اسلامی علمی روایت سے متعارض ہو گئے؟
باب اول
احمد امین: حیات، تعلیم اور علمی تشکیل
احمد امین 1886ء میں قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد کم عمری میں ازہر میں داخل ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے مدرسۃ القضاء الشرعی سے تعلیم حاصل کی اور تدریس و عدالتی شعبے سے وابستہ رہے۔ 1926ء میں وہ جامعہ قاہرہ کے کلیۃ الآداب میں تدریس سے منسلک ہوئے اور بعد میں عمید (ڈین) بھی مقرر ہوئے۔
یہ پس منظر بہت اہم ہے، کیونکہ احمد امین نہ محض روایتی مدرسے کے عالم تھے اور نہ صرف مغربی طرز کے یونیورسٹی اسکالر۔ ان کی علمی تشکیل میں مندرجہ ذیل عناصر نے اپنا اپنا کردار ادا کیا:
◈ ازہری علمی روایت
◈ قضائی و اصولی تعلیم
◈ عربی ادب
◈ جدید یونیورسٹی کا ماحول
◈ یورپی افکار
◈ مستشرقانہ تحقیقات
یہی مرکب ان کے علمی منہج کی بنیادی خصوصیت بن گیا۔
باب دوم
«فجر الإسلام»: تعارف اور علمی مقصد
«فجر الإسلام» پہلی مرتبہ 1347ھ مطابق 1928ء میں شائع ہوئی۔ نیویارک یونیورسٹی کی Arabic Collections Online میں اس کی پہلی طباعت کا ریکارڈ موجود ہے۔ کتاب کا بنیادی تعارف خود ناشر کے مطابق یہ ہے کہ یہ صدرِ اسلام سے آخرِ عہدِ اموی تک اسلامی زندگی کی عقلی، سیاسی اور ادبی حالت کا مطالعہ کرتی ہے۔
احمد امین کا اصل موضوع محض سیاسی تاریخ نہیں بلکہ الحياة العقلية في صدر الإسلام یعنی صدرِ اسلام کی عقلی زندگی ہے۔ وہ یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں مختلف فکری رجحانات کیسے پیدا ہوئے اور ان کے پس پشت کون سے تاریخی اور تہذیبی عوامل کارفرما تھے۔
اسی اعتبار سے «فجر الإسلام» کو تاریخِ فکرِ اسلامی کی کتاب کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے، نہ کہ محض ایک روایتی تاریخی تصنیف۔
باب سوم
احمد امین کا تاریخی منہج
احمد امین کے منہج کی چند بنیادی خصوصیات درج ذیل ہیں:
1. تاریخ کو فکری تاریخ بنانا — وہ سیاسی واقعات سے زیادہ یہ دیکھتے ہیں کہ کسی واقعے نے مسلمان معاشرے کے فکر و شعور پر کیا اثر ڈالا۔
2. تہذیبی تعامل — احمد امین کے نزدیک اسلامی تہذیب ایک ایسے ماحول میں تشکیل پائی جہاں عرب، ایرانی، یونانی، رومی اور دیگر تہذیبی عناصر ایک دوسرے سے ملے، اور اسلامی فکر کا ارتقا انہی تہذیبی اثرات کے تناظر میں ہوا۔
3. فرق و مذاہب کا تاریخی مطالعہ — وہ خوارج، شیعہ، معتزلہ، مرجئہ اور دیگر فکری گروہوں کو محض عقائد کی فہرست کے طور پر نہیں بلکہ تاریخی حالات کی پیداوار کے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
4. عقلی تجزیہ — ان کے یہاں روایت کو صرف نقل کرنے کے بجائے اس کی تاریخی معنویت اور اسباب تلاش کرنے کا رجحان غالب ہے۔
یہی چیز ان کے کام کو دلچسپ بھی بناتی ہے اور بعض مقامات پر محلِ نقد بھی۔
باب چہارم
مستشرقین سے احمد امین کا تعلق
یہاں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔ احمد امین کو براہِ راست ’’مستشرق‘‘ کہنا تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ وہ مصری مسلم ادیب و مفکر تھے۔ تاہم ان کی کتابوں پر جدید مغربی اور استشراقی تحقیقات کے اثرات کے سوال کو نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اس سلسلے میں سب سے اہم ثبوت خود احمد امین کا اپنا بیان ہے۔ 1933ء کی دوسری طباعت کے مقدمے میں انہوں نے لکھا کہ پہلی طباعت کے بعد عرب محققین اور مستشرقین دونوں نے ان کی کتاب پر تنقید کی اور وہ ان کے مفید آراء سے استفادہ کرتے رہے۔ انہوں نے مصطفیٰ عبد الرازق، عبد الوہاب عزام، برجستراسر اور دیگر اہلِ علم کا ذکر بھی کیا۔ مزید یہ کہ انہوں نے بتایا کہ دوسری طباعت میں بعض مقامات پر انہوں نے غلطی، حتیٰ کہ رائے کی غلطی بھی درست کی۔
یہ اقتباس احمد امین کے علمی مزاج کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے دو باتیں سامنے آتی ہیں: اول، وہ جدید علمی مباحث سے واقف تھے۔ دوم، وہ اپنی سابقہ آراء میں ترمیم کے امکان کو تسلیم کرتے تھے۔
لہٰذا ان کے بارے میں زیادہ محتاط علمی تعبیر یہ ہوگی:
احمد امین ایک مسلم مصری مفکر تھے جنہوں نے جدید تاریخی و استشراقی تحقیقات سے استفادہ کیا، لیکن ان کی علمی شخصیت کو محض استشراق کا نمائندہ قرار دینا درست نہیں۔
باب پنجم
«فجر الإسلام» میں حدیث کا تصور
یہ تحقیق کا سب سے اہم اور حساس حصہ ہے۔ احمد امین نے «فجر الإسلام» میں حدیث کے لیے مستقل بحث قائم کی۔ بعد کی تحقیقات کے مطابق اس بحث میں انہوں نے حدیث، تدوینِ حدیث، وضعِ حدیث، محدثین کے منہج اور بعض رواۃ کے بارے میں گفتگو کی۔ ایک جدید تحقیقی مطالعے نے بھی «فجر الإسلام» میں احمد امین کے نقدِ حدیث کو مستقل موضوع بنا کر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔
احمد امین کی بحث میں چند بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:
◈ کیا حدیث عہدِ نبوی میں لکھی جاتی تھی؟
◈ تدوینِ حدیث کب شروع ہوئی؟
◈ صحابہ کا حدیث کے ساتھ کیا رویہ تھا؟
◈ وضعِ حدیث کے اسباب کیا تھے؟
◈ سیاسی اختلافات نے روایت پر کس حد تک اثر ڈالا؟
◈ محدثین نے سند اور متن کو کس طرح پرکھا؟
◈ ابو ہریرہؓ کی کثرتِ روایت کو کیسے سمجھا جائے؟
ان سوالات میں بعض خود تاریخی تحقیق کے لیے اہم ہیں، لیکن ان کے جوابات پر علمی اختلاف بہت شدید ہے۔
باب ششم
تدوینِ حدیث: احمد امین کے موقف کا جائزہ
یہاں ایک نہایت اہم بات سامنے آتی ہے۔ احمد امین کے اپنے بیان کے مطابق اسلامی ابتدائی معاشرے میں لکھنے والے افراد موجود تھے، اور انہوں نے «فتوح البلدان» کے حوالے سے قریش کے متعدد افراد کا ذکر کیا جو لکھنا جانتے تھے۔ مصر کی وزارتِ اوقاف کے ایک تحقیقی مواد میں بھی «فجر الإسلام» کے حوالے سے یہی اقتباس نقل کیا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں کتابت کا وجود ہی نہیں تھا۔ اصل بحث یہ ہے کہ کیا حدیث کی عمومی و باقاعدہ تدوین بھی اسی دور میں ہوئی یا بعد میں؟
یہاں ’’کتابت‘‘ اور ’’تدوین‘‘ کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے:
1. کتابت: کسی صحابی کا اپنے ذاتی استعمال کے لیے حدیث لکھنا۔
2. تدوین: احادیث کو باقاعدہ، منظم اور وسیع پیمانے پر جمع کرنا۔
یہ دونوں ایک ہی چیز نہیں، اور اسی فرق کو نظر انداز کرنا بحث کو الجھا سکتا ہے۔
باب ہفتم
محدثین کا منہج اور احمد امین
احمد امین نے محدثین کے منہج پر بعض سوالات اٹھائے، خصوصاً نقدِ متن کے حوالے سے۔ ان کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ محدثین نے سند کے نقد پر زیادہ توجہ دی، جبکہ متن کے نقد کو اس نسبت سے کم اہمیت دی۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ کلاسیکی محدثین کے ہاں متن کی جانچ بالکل موجود تھی، اگرچہ اس کا طریقہ جدید اصطلاحی ’’مَتْن کریٹیسزم‘‘ کی صورت میں ہمیشہ پیش نہیں کیا گیا۔ محدثین نے درج ذیل ذرائع سے روایت کے متن پر بھی بحث کی:
◈ قرآن سے تقابل
◈ زیادہ مضبوط روایات سے تقابل
◈ تاریخی حقائق سے تقابل
◈ راوی کی غلطی کی نشاندہی
◈ اضطراب کی تشخیص
◈ شذوذ کی تشخیص
◈ علت کی تشخیص
◈ ناسخ و منسوخ کی تعیین
◈ مختلف طرق کا باہمی تقابل
لہٰذا علمی طور پر زیادہ محتاط نتیجہ یہ ہوگا:
یہ کہنا درست نہیں کہ محدثین نے متن کی تحقیق نہیں کی؛ البتہ یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ ان کے نقدِ متن کا منہج جدید تاریخی نقد سے کس قدر مختلف تھا۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔
باب ہشتم
ابو ہریرہؓ اور احمد امین
احمد امین کی کتاب کے حدیثی مباحث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متعلق بحث خاص طور پر حساس ہے۔ بعد کے ناقدین نے اسی حصے کو شدید تنقید کا موضوع بنایا۔
مصطفیٰ السباعی نے اپنی معروف کتاب «السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي» کے ایک مستقل حصے میں احمد امین کی حدیث سے متعلق آراء کا تفصیلی جائزہ لیا۔ کتاب کے فہرستِ مضامین میں احمد امین کے حوالے سے متعدد صفحات درج ہیں، اور اصل کتاب کے متعلقہ باب میں انہوں نے «فجر الإسلام» کے حدیث والے حصے پر تفصیلی نقد پیش کیا ہے۔
البتہ یہاں ایک تحقیقی اصول ضروری ہے: احمد امین کے کسی جملے کو تنقید میں استعمال کرنے سے پہلے اصل ایڈیشن اور صفحہ نمبر دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ «فجر الإسلام» کی متعدد طبعات ہیں اور صفحات میں فرق پایا جاتا ہے۔
باب نہم
مصطفیٰ السباعی کی تنقید
مصطفیٰ السباعی کی کتاب «السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي» احمد امین کے حدیثی منہج کے نقد کے لیے بنیادی ثانوی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اصل کتاب کے باب ہفتم میں السباعی نے جدید مصنفین کے حدیث سے متعلق اعتراضات پر بحث کی اور احمد امین کو خاص طور پر موضوع بنایا۔
السباعی کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ احمد امین نے حدیث کی تاریخ کے بعض پہلوؤں کو ایسے انداز میں پیش کیا جس سے سنت کے تاریخی ثبوت اور محدثین کی علمی کاوشوں کے بارے میں غیر ضروری تشکیک پیدا ہوتی ہے۔
یہاں ایک علمی فرق بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے: مصطفیٰ السباعی کی تنقید بہت سخت زبان استعمال کرتی ہے، لیکن تحقیقی مقالے میں ہمیں سخت الفاظ کے بجائے ان کے دلائل کا معروضی تجزیہ کرنا چاہیے۔
باب دہم
کیا احمد امین مستشرقین کے ترجمان تھے؟
یہ سوال اہم ہے، لیکن اس کا جواب ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں دینا علمی طور پر ناکافی ہوگا۔
ایک طرف السباعی نے احمد امین پر مستشرقانہ افکار سے استفادہ کرنے کا اعتراض کیا، اور ان کی کتاب میں احمد امین کے حدیثی موقف پر باقاعدہ مستقل بحث موجود ہے۔ دوسری طرف خود احمد امین نے واضح کیا کہ وہ عرب محققین اور مستشرقین دونوں کی تنقیدوں سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
لہٰذا تحقیق کا زیادہ متوازن نتیجہ یہ ہوگا:
احمد امین پر مستشرقانہ اثرات کے شواہد موجود ہیں، لیکن انہیں محض مستشرقین کا ترجمان قرار دینا ان کی علمی شخصیت کی پیچیدگی کو کم کر دیتا ہے۔
باب یازدہم
ازہری علمی روایت کے ساتھ تعلق
احمد امین کا ازہر سے تعلق محض خارجی نہیں تھا؛ وہ خود ازہری تعلیم حاصل کر چکے تھے۔ لہٰذا ’’ازہر بمقابلہ احمد امین‘‘ کی سادہ تقسیم تاریخی طور پر درست نہیں۔ زیادہ درست تصویر کچھ یوں ہے:
ازہری تعلیم → جدید علمی ماحول → احمد امین کا اپنا تحقیقی منہج → بعض مقامات پر ازہری اہلِ علم کی تنقید
یہ ایک پیچیدہ علمی تعلق ہے۔ مزید یہ کہ احمد امین نے خود مصطفیٰ عبد الرازق جیسے ازہری عالم کی تنقید سے استفادہ کرنے کا اعتراف کیا۔ اس لیے یہ کہنا کہ ’’علماءِ ازہر نے احمد امین کو مکمل طور پر مسترد کر دیا‘‘ بھی درست نہیں۔
باب دوازدہم
احمد امین کی علمی خدمات
تنقید کے باوجود احمد امین کی علمی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی سب سے بڑی خدمات درج ذیل ہیں:
1. تاریخ کو فکر سے جوڑا۔
2. اسلامی تہذیب کے علمی ارتقا کو موضوع بنایا۔
3. عربی ادب اور اسلامی فکر کے باہمی تعلق کو واضح کیا۔
4. فرق و مذاہب کو تاریخی تناظر میں پڑھنے کی کوشش کی۔
5. جدید عربی علمی نثر کو فروغ دیا۔
6. اسلامی تاریخ کے مطالعے کو یونیورسٹی کے جدید علمی ماحول سے جوڑا۔
اسی لیے ان کی سہ گانہ تصنیف «فجر الإسلام، ضحى الإسلام، ظهر الإسلام» کو اسلامی تہذیب کی فکری تاریخ کے ایک بڑے علمی منصوبے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تحقیقی تجزیہ
اب سوال یہ ہے کہ ایک محقق احمد امین سے کیسے استفادہ کرے؟ میری تجویز یہ ہے کہ ان کی کتاب کو تین درجوں میں پڑھا جائے:
1. درجہ اول — احمد امین کا بیان: وہ کیا کہتے ہیں؟
2. درجہ دوم — ان کا حوالہ: وہ کس اصل ماخذ سے استدلال کرتے ہیں؟
3. درجہ سوم — اصل ماخذ کی جانچ: کیا اصل ماخذ واقعی وہی نتیجہ پیش کرتا ہے جو احمد امین نے اخذ کیا؟
یہ تیسرا مرحلہ اس تحقیق کی اصل جان ہوگا۔
اہم نتائجِ تحقیق
1. احمد امین جدید عربی اسلامی تاریخ نگاری کے اہم مصنف ہیں۔
2. ان کی بنیادی دلچسپی سیاسی تاریخ سے زیادہ تاریخِ فکر اور تہذیب سے تھی۔
3. «فجر الإسلام» صدرِ اسلام کی عقلی، سیاسی اور ادبی زندگی کے مطالعے کی ایک اہم کوشش ہے۔
4. احمد امین نے عرب اور مستشرق دونوں قسم کے محققین کی تنقید سے استفادہ کیا اور اپنی بعض سابقہ آراء میں اصلاح کا اعتراف کیا۔
5. حدیث کے باب میں ان کا منہج روایتی محدثین کے منہج سے کئی مقامات پر مختلف ہے۔
6. مصطفیٰ السباعی نے ان کے حدیثی موقف پر مستقل اور شدید علمی نقد کیا۔
7. احمد امین کو محض ’’مستشرق‘‘ کہنا علمی طور پر مبالغہ ہے، لیکن ان کے بعض مباحث میں مستشرقانہ تحقیقات کے اثرات کا تحقیقی جائزہ ضروری ہے۔
8. «فجر الإسلام» کو بنیادی اسلامی ماخذ کے بجائے جدید ثانوی و تحلیلی ماخذ کے طور پر استعمال کرنا زیادہ محتاط طریقہ ہے۔
9. حدیث، صحابہ، تدوینِ حدیث اور اصولِ روایت کے مباحث میں احمد امین کی آراء کو اصل کتبِ حدیث، علومِ حدیث اور ائمۂ جرح و تعدیل کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔
مجوزہ بنیادی مصادر
اصل ماخذ
1. أحمد أمين، فجر الإسلام
2. أحمد أمين، ضحى الإسلام
3. أحمد أمين، ظهر الإسلام
4. أحمد أمين، حياتي
«فجر الإسلام» کی 1928ء کی اولین طباعت کا ڈیجیٹل ریکارڈ American University of Beirut اور Arabic Collections Online میں موجود ہے، جبکہ 1933ء کی طباعت کا ریکارڈ New York University میں دستیاب ہے۔
نقدِ حدیث
5. مصطفى السباعي، السنة ومكانتها في التشريع الإسلامي — یہ احمد امین کے حدیثی مباحث کے رد کے لیے انتہائی اہم ماخذ ہے۔ اس کتاب میں احمد امین کے نام کے متعدد حوالہ جات بھی موجود ہیں۔
مزید بنیادی مراجع
6. الخطيب البغدادي، الكفاية في علم الرواية
7. الخطيب البغدادي، تقييد العلم
8. ابن عبد البر، جامع بيان العلم وفضله
9. الذهبي، تذكرة الحفاظ
10. ابن حجر، تهذيب التهذيب
11. ابن حجر، تقريب التهذيب
12. البخاري، الصحيح
13. مسلم، الصحيح
14. البلاذري، فتوح البلدان
خصوصاً کتابتِ حدیث کے مسئلے میں «فتوح البلدان» کا حوالہ خود احمد امین کے استدلال میں موجود ہے، جسے مصر کی وزارتِ اوقاف کے مواد میں بھی نقل کیا گیا ہے۔
حتمی علمی فیصلہ
احمد امین بیسویں صدی کے ان ممتاز مصری مسلم مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے اسلامی تہذیب کی تاریخ کو تاریخِ فکر، ادب، مذہب اور عقل کے باہمی تعامل کے زاویے سے سمجھنے کی اہم کوشش کی۔ ان کی «فجر الإسلام» اسلامی فکری تاریخ کے جدید مطالعے میں ایک مؤثر تصنیف ہے۔ تاہم حدیث، تدوینِ حدیث، بعض رواۃ اور محدثین کے منہج کے بارے میں ان کی بعض آراء روایتی علمِ حدیث کے اصولوں سے اختلاف رکھتی ہیں۔ اس لیے ان کی کتاب سے استفادہ کرتے ہوئے اسے تنقیدی اور تقابلی منہج کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ ان پر مستشرقانہ اثرات کے شواہد موجود ہیں، مگر انہیں محض مستشرقین کا نمائندہ قرار دینا علمی طور پر مناسب نہیں۔
ناقل: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
