قانونِ مفردِ اعضاء کی فارماکوپیاطبِ مشرق کا ایک سائنسی معجزہ

0 comment 16 views

قانونِ مفردِ اعضاء کی فارماکوپیا
طبِ مشر
ق کا ایک سائنسی معجزہ

Advertisements

تمہید
طبِ مشرق کی تاریخ میں جہاں سینکڑوں معالجین نے اپنے اپنے دور میں علاج کے اصول وضع کیے، وہیں حکیم صابر ملتانی رحمہ اللہ کا نام ایک ایسے مفکر کی حیثیت سے لیا جاتا ہے جس نے علاج کو علامات کی بھول بھلیوں سے نکال کر ایک واضح، منظم اور قابلِ فہم قانون کے تابع کر دیا۔ ان کی وضع کردہ “قانونِ مفردِ اعضاء” کی فارماکوپیا دراصل جڑی بوٹیوں اور معدنی ادویات کا محض ایک ذخیرہ نہیں، بلکہ انسانی جسم کے اندرونی نظام کو سمجھنے اور اس کے توازن کو بحال کرنے کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔
بنیادی ڈھانچہ: تین اعضاء، تین مزاج
اس نظریے کی بنیاد اس مشاہدے پر ہے کہ انسانی جسم کے تمام افعال دراصل تین بنیادی اعضاء — دل، دماغ اور جگر — کے گرد گھومتے ہیں۔ یہی تین اعضاء جسم کے باقی تمام حصوں کو کنٹرول کرتے ہیں، اور جب ان میں سے کسی ایک کا توازن بگڑتا ہے تو بیماری جنم لیتی ہے۔ اسی اصول پر ادویات کو بھی تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
اعصابی ادویات — دماغ اور اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہیں، اور ان کا مزاج عموماً سرد تر یا تر سرد ہوتا ہے۔
عضلاتی ادویات — دل اور عضلات کو متحرک کرتی ہیں، ان کا مزاج خشک سرد یا سرد خشک ہوتا ہے۔
غدی ادویات — جگر اور غدود پر کام کرتی ہیں، ان کا مزاج گرم خشک یا خشک گرم ہوتا ہے۔
یہ تقسیم محض نظری نہیں بلکہ عملی علاج کی بنیاد ہے، کیونکہ ہر مرض کو ان تینوں میں سے کسی ایک عضو کی خرابی سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔
شدت کے مطابق ادویات کی درجہ بندی
ہر گروہ کے اندر ادویات کو ان کی تاثیر کی شدت کے لحاظ سے پانچ درجوں میں بانٹا گیا ہے:
۱۔ محرک
وہ دوا جو متعلقہ عضو میں ہلکی سی حرکت پیدا کرے۔
۲۔ شدید
جو تحریک کو تھوڑا اور تیز کر دے۔
۳۔ ملین
جو فضلات کے اخراج میں مدد دے، یعنی قبض کشا اثر رکھے۔
۴۔ مسہل
جو عضو سے مواد کو تیزی سے، جلاب کی طرح، خارج کر دے۔
۵۔ مقوی
جو متعلقہ عضو کو مستقل طاقت اور توانائی فراہم کرے۔
اس کے علاوہ دو خصوصی درجات — اکسیر اور تریاق — بھی اس فارماکوپیا کی جان ہیں۔ اکسیر وہ مرکب ہے جو غیر معمولی سرعت سے اثر دکھاتا ہے، جبکہ تریاق زہریلے مادوں یا کسی خاص بیماری کے فاسد مادے کو زائل کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔
نمبروں کا نظام: ایک عام آدمی کے لیے بھی آسان
اس فارماکوپیا کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کا نمبرنگ سسٹم ہے، جس نے ایک پیچیدہ سائنس کو عام فہم بنا دیا ہے۔ نمبر ۱ اور ۶ اعصابی یعنی دماغی تحریک کے لیے مخصوص ہیں، نمبر ۲ اور ۳ عضلاتی یعنی قلبی تحریک کے لیے، جبکہ نمبر ۴ اور ۵ غدی یعنی جگر کی تحریک کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ حکیم مریض کی نبض دیکھ کر یہ طے کرتا ہے کہ جسم کا کون سا عضو زائد تحریک کا شکار ہے اور کون سا سویا ہوا، اور پھر اسی نمبر کی دوا تجویز کرتا ہے جو پورے جسمانی نظام کے بگڑے ہوئے توازن کو ازسرِ نو درست کر دیتی ہے۔
مثال کے طور پر پانچویں نمبر کی نسخہ جات میں محرک، شدید، ملین، مسہل اور اکسیر سے لے کر تریاق، مقوی، روغن اور سرمے تک — ہر ایک نسخہ مخصوص اجزاء اور مقررہ مقدار کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے، جس میں زنجبیل، نوشادر، مرچ سیاہ، سنائے مکی، نیلا تھوتھا، شیر مدار، رائی، اخروٹ، پستہ اور بہت سی دیگر اشیاء شامل ہیں۔ یہ درستگی اور باقاعدگی ہی اس نظام کو محض تجرباتی نسخہ جات سے ممتاز کرتی ہے اور اسے ایک قانون کا درجہ دیتی ہے۔
رنگ اور ذائقے کی حکمت
قانونِ مفردِ اعضاء میں ادویات کے انتخاب میں رنگ اور ذائقے کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ترش یعنی کھٹی اشیاء دل کو طاقت بخشتی ہیں، کڑوی اور نمکین اشیاء جگر کو متحرک کرتی ہیں، جبکہ میٹھی اور پھیکی اشیاء دماغ و اعصاب کو سکون عطا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری روزمرہ کچن میں موجود عام مصالحے — ہلدی، اجوائن، رائی اور دیگر — دراصل انہی اصولوں کے تحت طاقتور علاجی خواص کے حامل ہیں، بشرطیکہ انہیں صحیح تناسب اور صحیح عضو کی مناسبت سے استعمال کیا جائے۔
علاج کا منفرد فلسفہ
روایتی طبی طریقوں میں اکثر مرض کی ظاہری علامات کا علاج کیا جاتا ہے، لیکن قانونِ مفردِ اعضاء کا اصول اس سے یکسر مختلف ہے۔ اس میں سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ جسم کا کون سا عضو ضرورت سے زیادہ متحرک ہو کر تھک چکا ہے اور کون سا عضو، اسی زیادتی کے ردِعمل میں، سستی اور سکون کا شکار ہو کر سویا پڑا ہے۔ دوا کا اصل مقصد علامات کو دبانا نہیں بلکہ سوئے ہوئے عضو کو بیدار کر کے دونوں اعضاء کے درمیان قدرتی توازن بحال کرنا ہے۔ جب یہ توازن لوٹ آتا ہے تو بیماری خود بخود، بغیر کسی جبر کے، رخصت ہو جاتی ہے۔ یہی اصول اس نظام کو محض “علامتی علاج” سے بلند کر کے ایک حقیقی “سببی علاج” کا درجہ دیتا ہے۔
اکسیر و تریاق: فوری تاثیر کا راز
عمومی تصور یہی ہے کہ دیسی اور جڑی بوٹیوں پر مبنی علاج سست رفتار سے کام کرتا ہے، مگر قانونِ مفردِ اعضاء کے اکسیر اور تریاق اس تاثر کی نفی کرتے ہیں۔ یہ مرکبات براہِ راست خون کی کیمیائی ساخت پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کے باعث بعض اوقات چند منٹوں کے اندر ہی درد کی شدت میں کمی یا زہریلے اثر کا خاتمہ دیکھنے میں آتا ہے۔ یہی سرعتِ تاثیر اس فارماکوپیا کو جدید طب کے مقابلے میں بھی ایک قابلِ توجہ متبادل بناتی ہے۔
خلاصۂ کلام
قانونِ مفردِ اعضاء کی فارماکوپیا محض نسخوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ انسانی جسم، اس کے مزاج اور اس کے اندرونی توازن کو سمجھنے کا ایک مربوط، منظم اور تجرباتی طور پر آزمودہ نظام ہے۔ تین اعضاء، چھے درجات، نمبروں کا سادہ مگر گہرا فلسفہ، اور رنگ و ذائقے کی حکمت — یہ سب مل کر ایک ایسا طبی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں جو نہ صرف مشرقی طب کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ آج کے سائنسی ذہن کے لیے بھی قابلِ فہم اور قابلِ تحقیق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی سعد طبیہ کالج جیسے ادارے اس علم کو محفوظ رکھنے اور آگے بڑھانے میں مصروفِ عمل ہیں۔

طالبِ دعا:
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبوی، لاہور

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme