میو قوم کی نفسیات ۔ ترقی کو نعرہ، لیڈر ن کو قوم گٹھڑی پے قبضہ

0 comment 4 views

۔۔۔۔۔۔
میو قوم کی نفسیات ۔ ترقی کو نعرہ، لیڈر ن کو قوم گٹھڑی پے قبضہ
کچھ حقائق جو صرف تمثیلی طورپے بیان کرا جاسکاہاں ؟۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
میو قوم بھی عجیب ہے۔یاکی سوچ اور یاکام ،سدا سو۔پٹُھا رہا ہاں۔سدھا کامن میں کدی ان کو اتفاق نہ ہوئیو ہے۔
لیکن اُلٹا کامن میں ان کی مثال ملنی مشکل ہے۔حالیہ دِنن میں میو قوم کے ساتھ منظم انداز میں ڈھول پیٹ کے دھوکہ کرو گئیو ہے۔
دِن دُھپر۔ڈبیا جلا کے حقوق لوٹا گیا۔۔
میو قوم میں جہاں کھڑا ہونا اور کائی جگہ پے بیٹھنا پے جھگڑا برس ہا برس تک چلا ہاں۔
۔یا وقت ان کے ہاتھ ایسی گیدڑ سینگی ہاتھ لگی ہے کہ دو اڑھائی کروڑ عوام کی پاگ دھرن کے مارے کوئی پڑھو، لکھو، سلجھو آدمی نہ مل سکو۔
اخلاص کا پیکر۔میو قوم کا درد میں تڑپن والان نے پاگ ایک ۔۔۔معمولی سوجھ بوجھ راکھن والا کے سر پے دھردی ۔۔
۔دو واقعات سنارو ہوں ۔کردارن کو میلاپ اتفاقی ہوئے گو۔۔اور کردار بھی تمثیلی ہونگا۔۔
(1)میرو سب سو چھوٹو بھائی محمد عباس۔جوکہ کم عمری میں ہی اللہ کو پیار و ہوگئیو۔۔سر میں رسولی کی وجہ سو ،واکی بینائی کم ہوگئی ہی۔جب کدی میںگائوں جاوے ہو تو۔سو پچاس روپیہ لین کے مارے۔ہر حربہ استعمال کرے ہو۔منت سماجت۔ترلہ۔دھمکی۔جو کچھ ہوسکے ہو ،کرے ہو کہ خرچہ مل جائے۔۔۔
ایک دن پتو نہ ہے، کہاں معاملہ ہو۔۔۔میں نے واکو کچھ نہ دئیو،،یا واکی بات پے توجہ نہ دی۔۔

Advertisements

۔تو مایوس ہوکے کہن لگو۔۔۔۔میری ایک بات سُن جا۔۔
ایک بوڑھی مائی چوک میں کھڑی خدا سو دعا کرری ہی۔۔
۔کہ یا اللہ میری گم شدہ گٹھڑی۔۔کائی مولوی ،یا کائی لیڈر کو مت ملے۔۔باقی جاکو چاہے مل جائے۔۔۔
کائی نکلتا بڑتا نے سوال کرو ۔۔مائی تیری گٹھڑی تو کھوگئی،،ای کائی مولوی یا جاہل کو ملے ۔۔یا لیڈر کو ۔۔تیرا ہاتھ سو تو گئی؟۔
۔۔کہا فرق پڑے ہے،،،کائی کوبھی مل جائے؟۔
مائی کہن لگی ۔۔بیٹا توئے پتو نہ ہے۔ اگر میری گٹھڑی کائی دوسرا کو ملی تو۔لے لئیونگی۔۔ہین نہ تو آخرت میں۔
کہیں نہ کہیں سو ملن کی امید ہے۔۔لیکن اگر مولوی۔۔۔یا لیڈر کے گٹھڑی ہاتھ لگی ۔۔۔۔ہین ملے ۔۔نہ آخرت میں۔۔
یہ لوگ دوسران کا حق مارن کے مارے ۔۔۔ دلائل کو انبار پہلے سو گھڑی راکھاہاں۔۔۔
یاد راکھئیو ۔۔یا کہانی کو میو قوم سو کوئی تعلق نہ ہے ۔
(2) پہلا زمانہ کی بات ہے۔۔۔
ایک سیدھو سادو۔دیہاتی نے اپنی بیٹی کی شادی کے ماری ۔جمع پوچنجی ۔کی تھیلی سنبھال کے دھر راکھی ہے۔۔
۔جو آنہ ٹکا کماتو۔بچ جاتا تو۔تھیلی میں جمع کردیتو۔۔۔لمبا عرصہ تک ۔ایسو ہی چلتو رہو۔
۔واکی ایک بیٹی ہی، اُو بھی ہولے ہولے ،،بچہ سو ُ،جوان ہوتی گئی۔۔
۔ایک دن سوچن لگو۔۔۔زندگی بھر کی کمائی ہے۔۔کہیں کوئی چور اُچکو لے اُڑو۔۔یا کائی چور نے ۔۔چوری کرلی تو ۔
۔بیٹی کو بیاہ کیسے کرونگو۔۔کئی رات وائے نیند نہ آئی۔
آخر پریشان ہوکے ۔۔شہر کا مہیں گئیو کہ تھیلی کی حفاظت کو کچھ بندو بست کرو جائے۔۔
۔کائی کے پئے دَرور۔۔دھر دئینگو۔۔۔
۔شہرپہنچو تو۔۔ایک خوبصورت بازار دیکھو ۔۔۔جاپے موٹا لفظن میں لکھ رو ہو۔۔۔

۔بازار ۔امانت داراں۔۔۔۔
۔بوڑھا نے ۔۔لکھو بانچو(پڑھو)۔۔دل میں راضی ہوگئیو۔۔خوشی خوشی۔۔بھینتر گئیو۔۔۔۔
بازار میں گئیو تو دیکھو کہ بڑا،بڑا معزز لوگ دکھائی دیا۔
نفیس لباس ۔چٹا لتا۔۔منہ پے بڑی بڑی داڑھی۔۔ہاتھ میں لمبی لمبی تسبیح۔۔۔۔
بوڑھو یا منظر اے دیکھ کے پریشان ہوگئیو کہ اتنا سارا اچھا لوگ دکھائی دے راہاں۔کس کو انتخاب کروں؟
۔۔موئے یقین ہے۔یاجگہ میری تھیلی محفوظ رہے گی۔۔۔
واکا ذہن میں ہوکہ ان میں سو کائی بہترین دیکھن والا کے پئے امانت دھر دئینگو۔
۔۔جب ضرورت ہوئے گی ۔۔لے جائونگو۔۔۔
ایک دو قدم چلتے ہی ۔۔ایک سفید داڑھی۔۔والو نورانی چہرہ۔فرشتہ صفت لگن والو حاجی صاحب بیٹھو ہو۔
۔۔آنکھ بند ہی۔۔تسبیح کا دانہ مسلسل گِررا ہا۔۔
بوڑھانے سوچو یا سو ُگھنو نیک اور بھلو آدمی کہاں ملے گو؟۔۔
۔واکے گئے جا پہنچو۔۔۔حاجی صاحب بھی آنکھن کا کویان میں سو ۔۔بلی کی طرح واکی باٹ میں بیٹھو۔۔
سلام کرو۔تو حاجی صاحب نے مساں آنکھ کھولی۔
۔حال احوال معلوم کرو۔۔۔بوڑھو کہن لگو۔۔حاجی صاحب۔۔میرے پئے ایک تھیلی ہے ۔
۔جامیں میری عمر بھر کی جمع پونچی ہے۔
زمانہ خراب ہے۔۔چور اچکا کو بھی ڈر لگو رہوے ہے۔۔
۔کائی نے ہڑ لی تو میں اپنی بیٹی کو بیاہ کیسے کرونگو؟؟۔۔۔
۔تو یائے اپنے پئے امانت دھرلے۔۔جب ضرورت ہوئے گی۔تو میں تو پے سوُ لے جائونگو۔۔
حاجی صاحب تو یائی دائو میں بیٹھو ہو۔
۔۔وانے کہو۔۔ذمہ داری بڑی ہے۔۔۔لیکن تو مدد کو مستحق ہا۔۔میں تیری بات مان لیرو ہوں ۔
۔دوکان پے واکا تین بیٹا بھی کام کرے ہا۔۔
حاجی صاحب نے اونچی آواز میں ہیلو دئیو۔۔
بیٹافٖلاں ۔۔میری بات سُن ئیو۔۔
۔بیٹا بھی پورا فنکار اور چنڈا ہویا ہا۔۔
کہن لگا۔۔باپ۔۔تھوڑو سو ڈٹ یو۔۔ایک امانت دار کی امانت واپس کررو ہوں۔۔
باپ کہن لگو۔۔کونسا کی امانت ہے؟۔۔۔بیٹانے اونچی آواز میں کہو۔۔
باپ۔۔فلاں آدمی ہے۔۔جو فلاں دیہات میں رہوے ہو۔۔
۔جانے تیرا ترَلا کراہا۔۔۔پائوں پکڑا ہا کہ میری امانت دَھرلے۔۔
تینے واکی امانت دھری ہی۔۔۔واپس لین آئیو ہے۔۔
۔باپ کہن لگو۔۔بیٹا۔۔غریب اور بھلو مانس ہے۔۔۔یاکو تھوڑو بہت زیادہ دئیو۔۔
کیونکہ یانےہمارے اوپر بھروسہ کرو ہے۔۔
بوڑھا نے ای بات سُنی تو تسلی ہوگئی کہ میں ٹھیک جگہ پے پہنچو ہوں ۔
۔۔۔بوڑھو کہوے۔۔میری تھیلی اے دھرلے۔۔۔۔حاجی صاحب جواب دئے کہ ۔۔امانت میں کہیں خیانت نہ ہوجائے۔
۔میں تو نہ دَھرونگو۔۔تو اور کہیں چلو جا۔۔
میری عادت ہے۔۔جب کائی کی امانت دھرو ہوں تو ۔۔ساتھ میں کچھ اضافی رقم بھی دئیو ہوں ۔
میرا باپ دادا بھی جب کائی کی امانت دھرے ہا۔۔تو دھرور کے ساتھ کچھ نہ کچھ ضرور اضافی رقم دیوے ہا۔
ای کام ہمارو خاندانی ہے۔۔باپ دادان سو یہی پرم پَرا چلی آری ہے
۔آج کل حالات۔۔کچھ بہتر نہ ہاں ۔۔میں فالتو نہ دے سکوہوں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
باقی کال لکھونگو۔۔۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme