
۔”ہندوستان میں طب کی تاریخ، ارتقا اور قانونی حیثیت”
طبی تاریخ میں طب کو قانونی حیثیت دلوانے کی کاوشیں دوچار دنوں کی بات نہیں بلکہ یہ دوصدی سے چلنے والا قضیہ ہے۔جیسے ہی مغل سلطنت کا چراغ مدہم ہوا ،ہر چیز ہی اپنی جگہ چھوڑ نے لگی۔تہذیب و ثقافت اور حکومت کی تبدیلی ۔کے ساتھ ساتھ طبی دنیا میں بھی ایک زلزلہ برپاء ہوا۔جب سرزمین ہندستان میں طب کو قانونی طورپر شجرہ ممنوعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔یہ کوشش سوا صدی پہلے شروع ہوئی آج تک جاری ہے۔اس وقت طبی دنیا میں قلمی طورپر جو کوششیں ہوئیں وہ تاریخ کے صفحات میں کسی حد تک محفوظ رہ گئیں۔اسی کی کی یہ سطور بھی ہیں۔(حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
۔ دیباچہ
۔۔ طب قدیم اور مرقعِ جواہرات (جلدِ دوم)
از: فاضل الطب و الجراحت حکیم محمد علی امرتسری
مستند طبیہ کالج دہلی، فاروق گنج گوجرانوالہ
۔۔۔ ڈاکٹر لورا مارا کا بل اور طبِ قدیم کے خلاف سازش
1905ء میں ڈاکٹر لورا مارا، ممبر بنگال اسمبلی، نے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا اور قانونی طور پر طبِ قدیم کو ختم کرنے کی سازش کی بنیاد ڈالی۔ طبِ قدیم کے متعلق نہایت ناز یبا الفاظ استعمال کیے گئے، مثلاً یہ وحشیانہ طریقِ علاج ہے، یہ طب ان سائنٹیفک ہے، بوگس ہے، بے اصول ہے، لہٰذا اسے قانونی طور پر بند کر دینا چاہیے۔ ان الفاظ سے طبی دنیا میں یہ چنگاری، ہندوستان کے ہر مہذب طبقے کے لیے زہرِ ہلاہل ثابت ہوئی۔ خدا مغفرت کرے۔
اُن دنوں حضرت مسیح الملک کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی۔ ہر طرف سے تاریں اور خطوط آنے شروع ہو گئے کہ اس سیلابِ عظیم کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو دیسی طب صفحۂ ہستی سے نیست و نابود ہو جائے گی۔ اِدھر قبلہ مسیح الملک کی بے تابی اور بے قراری کا یہ حال تھا کہ دین کا کاروبار اور رات کا آرام بالکل عنقا ہو گیا۔
زمانۂ طالبِ علمی میں میری بھی طبیہ کالج میں تعلیم جاری تھی، اور میں دیکھ رہا تھا کہ قبلہ حکیم صاحب کس قدر بے چین اور مضطرب ہیں۔ دہلی اور اطبائے لکھنؤ میں بھی چند فروعی طبی مسائل پر اختلاف تھا، جس پر رسالوں اور پمفلٹوں کی شکل میں طبع آزمائی بھی ہوئی۔
۔۔۔ متفقہ محاذ کی بنیاد
حکیم صاحب نے ان تمام اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر، اغیار کے مقابلے کے پیشِ نظر ایک متفقہ محاذ قائم کرنے کا پروگرام پیش کیا۔ حکیم عبدالعزیز صاحب اور ان کے صاحبزادگان، حکیم عبدالحفیظ اور حکیم عبدالوحید صاحبان، نے اپنی ذاتی رنجش کے باعث حکیم صاحب کی دعوت کو اہمیت نہ دی۔ البتہ حکیم عبدالولی صاحب لکھنوی اپنے متعلقین کے ساتھ اس معاملے میں شریک ہو گئے۔

۔۔۔ آل انڈیا ویدک و یونانی طبی کانفرنس کا قیام
چنانچہ آل انڈیا ویدک و یونانی طبی کانفرنس کی بنیاد ڈال کر، ہندوستان بھر کے ویدوں اور طبیبوں کو یکجا جمع کرنے کا پروگرام مرتب کیا گیا۔ تمام ہندوستان میں دعوتی خطوط بھیج کر طبی کانفرنس کا پہلا اجلاس اپریل 1908ء میں طبیہ کالج دہلی میں بلایا گیا۔ میں بحیثیت طالب علم کے، رضاکارانہ طور پر اپنی تمام جماعت کے ساتھ اس کانفرنس کے اجلاس کو کامیاب بنانے میں لگ گیا۔
ہندوستان بھر کے ویدوں اور طبیبوں کا جمِ غفیر جمع ہو گیا۔ بڑی دھواں دھار تقریریں ہوئیں، اور ڈاکٹر لورا مارا کے خلاف مذمتی قرارداد پاس ہوئی۔ یہ طے پایا کہ ہر شہر اور قصبے میں طبی کانفرنس کی شاخیں قائم کر کے طبی کمیٹیاں بنائی جائیں، ان کا الحاق مرکز سے کیا جائے، اور اپنے ذاتی اختلافات کو بالکل دفن کر دیا جائے۔
۔۔۔ تسلسل اور رجسٹریشن کا مطالبہ
نتیجہ یہ ہوا کہ چند سالوں میں اطباء میں بیداری پیدا ہو گئی اور طبی کانفرنس کے دوسرے سالانہ اجلاس کی دعوتیں آنی شروع ہو گئیں۔ دوسرا جلسہ لکھنؤ میں، پھر دہلی میں ہوا۔ اطباء کی طرف سے رجسٹریشن اور بورڈ آف انڈین میڈیسن کا مطالبہ حکومتِ برطانیہ سے کیا گیا۔ لورا مارا کے بل کی دھجیاں فضائے آسمانی میں اُڑ گئیں کہ پھر اس کا نام و نشان نظر نہ آیا۔
۔۔۔ کارونیشن دربار اور شاہی سرپرستی کا اعلان
جب ہندوستان کے مختلف مقامات سے طبی کانفرنس کے نعرے بلند ہونے لگے تو حکومت بھی چونک اٹھی۔ آخر جب 1911ء میں کارونیشن دربار دہلی میں منعقد ہوا، اور دہلی کو دار الخلافہ قرار پایا، تو اس موقع پر باہر سے آنے والے شاہی مہمانوں کے لیے کئی دیسی شفاخانے گورنمنٹ کے ایما پر حکیم اجمل خان صاحب نے قائم کیے۔ چنانچہ بادشاہی میلہ، جو دریائے جمنا کے کنارے قلعۂ معلی کے مشرقی جانب قائم تھا، اس میں بحیثیتِ معالج کے میری بھی ڈیوٹی لگی تھی، جو دیسی شفاخانہ اس میں بحیثیت ایک معاون معالج کے میری بھی ڈیوٹی تھی۔
میلہ کے حسنِ خدمات کے صلے میں گورنمنٹ کی طرف سے ایک تمغہ اور سرٹیفیکیٹ مجھے بھی ملا۔ اس دربار میں جو شاہی اعلان کیا گیا، اس میں دیسی طبوں کی سرپرستی کا بھی وعدہ کیا گیا۔ یہ اعلان حکیم اجمل خان صاحب کے لیے اس قدر خوشی و شادمانی کا باعث تھا کہ قبلہ مسیح الملک کا چہرہ فرطِ طرب سے سرخ اور منور تھا۔ ہر طرف سے مبارک بادی کے پیغامات موصول ہونے شروع ہو گئے۔
۔۔۔ بورڈ آف انڈین میڈیسن کی جدوجہد
اس کے بعد بورڈ آف انڈین میڈیسن کو عملی جامہ پہنانے کا مسئلہ پھر اسمبلی میں پیش ہوا۔ لورا مارا کی ذہنیت کے حامل افراد اپنی باطنی خباثت کے باعث پھر مخالفت پر آمادہ ہو گئے۔ لیکن پنڈت مدن موہن مالویہ نے بورڈ کے حق میں بڑی لمبی چوڑی تقریریں کر کے اسمبلی کے اکثر ممبروں کو ہم خیال بنا لیا۔
ایک مدت کے بعد نئی وزارتوں کی تحریک شروع ہو گئی، جس کا منشا یہ تھا کہ ہم گورنمنٹ سے کچھ مانگا نہ کریں، بلکہ اپنے سر پر خود کام کریں گے۔ بورڈ آف انڈین میڈیسن کی تحریک بھی معرضِ التوا میں پڑ گئی۔
۔۔۔ تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے بعد کی صورتحال
جب قائدِ اعظم محمد علی جناح نے تحریکِ پاکستان پر قدم اٹھایا، تو ساتھ ہی یہ اعلان بھی ہوا کہ دیسی علوم و فنون کی قدر کی جائے گی، اور طبِ قدیم کو تمام حقوق سے نوازا جائے گا۔
جب پاکستان معرضِ وجود میں آ گیا، اور مسلم لیگ کی حکومت قائم ہو گئی، تو اطباء نے بھی اپنا مطالبہ پیش کر دیا کہ اطباء کو رجسٹرڈ کیا جائے۔ چونکہ ملکی انتظام اور امورِ سلطنت اس مطالبے سے زیادہ اہمیت رکھتے تھے، یہ مسئلہ معرضِ التوا میں پڑ گیا۔ اِدھر قائدِ اعظم کی وفات نے طبیبوں کے اس مطالبے کو کاری ضرب لگا دی، اور کچھ عرصہ کے لیے معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔
۔۔۔ دورِ ایوبی میں رجسٹریشن کی کوشش
ایک عرصہ بعد پھر یہ مسئلہ اٹھا اور تیاریاں شروع ہوئیں تو مسلم لیگ کی حکومت کا دور ختم ہو کر دورِ ایوبی شروع ہوا۔ اب تو اطباء اس قدر خوش ہوئے کہ زیرِ بحث معاملے کے پیشِ نظر دیسی طب کی سرپرستی کا عنقریب ہی اعلان ہو جائے گا۔ چنانچہ وزیرِ صحت واجد علی خان صاحب برکی نے اطباء اور ویدوں کے بورڈ کی عارضی تشکیل کر کے رجسٹریشن کا کام شروع کر دیا۔ مطبوعہ فارم حکومت کی طرف سے جاری ہوئے، جن کو پُر کر کے ایک محکمے کو، جو اسی غرض سے قائم ہوا تھا، بھیجنے کا اعلان ہوا۔
پاکستان کے اطباء نے بڑی گرم جوشی سے ان فارموں کی خانہ پُری کو انجام دیا۔ اب امید تھی کہ قبلہ مسیح الملک مرحوم کے پروگرام کو بہت جلد عملی جامہ پہنا کر اطباء کی رجسٹریشن ہو جائے گی، اور ان کو ڈاکٹروں کے مطابق حقوق دیے جائیں گے۔
۔۔۔ لاہور کے اطباء کی چپقلش اور سانحہ
یہ کام ابھی ابتدائی مراحل میں تھا کہ لاہور کے اطباء کی باہمی چپقلش نے اس عمارت کو ہوا میں خاک بنا کر رکھ دیا، اور بنی بنائی تعمیر بکھر گئی۔
قسمت کو دیکھیے کہ کوئی کہاں کھڑا ہے
دو چار ہاتھ جب کہ لبِ بام رہ گیا
اس سانحۂ عظیمہ سے حکیم اجمل خان کی روحِ عالمِ برزخ میں کس قدر مضطرب اور بے قرار ہوئی ہوگی۔ اس صدمۂ عظیمہ کا احساس اُنہی طالبانِ چمن کو ہوگا، جو اپنے سینوں میں جذباتِ اجمل خان کا احساس رکھتے ہوں گے۔
خاروں سے پوچھیے نہ کسی گُل سے پوچھیے
صدمہ چمن کے لُٹنے کا بلبل سے پوچھیے
۔۔۔ اختتامیہ: امید کی کرن
بادی النظر میں خیال ہوا تھا کہ یہ نفاق کی خلیج شاید کس قدر وسعت اختیار کر لے گی۔ لیکن خدا بھلا کرے حکیم عبدالمجید صاحب عتیقی اور ان کے ہم نوا حضرات کا، جن کی مساعیِ جمیلہ سے یہ اختلاف اتفاق سے بدل گیا، اور متفقہ طور پر ایک پلیٹ فارم یا اسٹیج قائم ہوا۔ خدا کرے کہ اب اس سٹیج سے متفقہ آواز اٹھے، اور رجسٹریشن کے مسودات، جو کسی مہر بند بکس کے حوادثات میں پڑے ہوئے ہیں، از سرِ نو معرضِ وجود میں آ کر رجسٹریشن کا کام تکمیل کو پہنچ جائے۔
پاکستان کے تمام نامور طبی جرائد نے اس سانحۂ عظیمہ پر بڑے بڑے مضامین لکھے۔ ادارۂ قمر الصحت نے بھی اس سارے ڈرامے کو دیکھ کر، اپنی بساط کے مطابق اسے سمجھانے کے لیے، ایک دن رات ایک کر دیا، اور قمر الصحت کے صفحات کو منتقل طور پر خدمتِ فن کے لیے وقف کر دیا۔ اصل موضوع پر کئی مضامین اس کے مختلف نمبروں میں پیش کیے۔ اعمالِ شگرف، اعمالِ ثمر آور، مرقعِ جواہرات — اس سلسلے کی شہری کڑیاں تھیں۔
۔۔۔ پیشِ خدمت
اب مرقعِ جواہرات (جلدِ دوم) آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔ اُمید ہے کہ اس کی قدر افزائی فرما کر، اس کے قابل ایڈیٹر حکیم قمر الدین صاحب کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں، اس کے زیادہ سے زیادہ خریدار بن کر دیسی طب کو زندہ و معیاری ثابت کرنے میں ان کی امداد فرمائیں گے، تاکہ قمر الصحت پہلے سے بھی زیادہ خدمتِ فن کے لیے کمر بستہ ہو جائے۔
نوٹ: قارئین کرام سے یہ بھی درخواست ہے کہ اس نمبر کے نسخہ جات کو جو اپنی کسوٹی پر کَس کر ان کے نتائج سے ادارے کو اطلاع دیں، تاکہ آپ کے نام کے ساتھ اِن نسخہ جات کی تشہیر کی جائے۔
حکیم محمد علی
