سکندر اور ارسطو کے مابین مکالمات و خطوط

0 comment 15 views

سکندر اور ارسطو کے مابین مکالمات و خطوط

از: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

Advertisements

سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی، کہنہ نو، لاہور

[اقتباس: تجارب الامم]

(راقم الحروف ان دنوں ۔عربی ادب کی امہات کتب کو اردو مین ڈھال رہا ہے۔یہ وہ کتابیں جن کے بارہ میں ہمارے اساتذہ کرام حوالے دیا کرتے تھے۔یا ہمیں ان کے اقتباسات اردو میں لکھی گئی کتب مین دیکھنے کو ملتے تھے۔آج الحمد اللہ ان ضخیم کتب کو ۔سعد ورچوئل سکلز پاکستان کے ماہرین کی نگرانی میں اردو مین ڈھالا جارہا ہے۔تجارب الامم۔ابن مسکویہ ۔آٹھ جلدیں۔العقد الفرید۔آٹھ جلدیں ۔۔صبح الاعشیٰ قشقلندی۔15 جلدیں وغیرہ کتب۔اس کے علاوہ بہت سی معروف کتب ہیں جو عربی میں ہونے کی وجہ سے اردو والے ان سے استفادہ نہیں کرسکتے تھے۔یہ کچھ واقعات ان ہی کتب سے نقل کئے جاتے ہیں۔۔حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو)

تقدیمیہ

تاریخ عالم میں سکندر اعظم اور ارسطو کے مکالمات ایک منفرد اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ مکالمات و خطوط فلسفے، سیاسی حکمت عملی، اخلاقیات اور عملی دانائی کا ایک بہترین نمونہ پیش کرتے ہیں۔ جب ایک شاگرد (سکندر) اپنے استاد (ارسطو) کی حکمت سے رہنمائی حاصل کرتا ہے، تو اس سے صرف نظریہ نہیں بلکہ عملی نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔ یہاں ہم ان مکالمات کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

اول: سکندر کی فوجی سمجھ کا مسئلہ

جب سکندر اعظم کو اپنی فوج میں سے ایک خاص طبقے کے متعلق فکر مند ہوا، تو اس نے اپنے استاد فیلسوف ارسطو کو خط لکھا۔ یہ خط ایک فوجی کمانڈر کی عملی پریشانی کو ظاہر کرتا ہے:

میرے لشکر میں رومی اشراف اور کمانڈروں کا ایک ایسا طبقہ ہے جن کی طرف سے مجھے اپنی جان کا خطرہ رہتا ہے؛ کیوں کہ ان کی بلند ہمتی، شجاعت اور عسکری وسائل بہت زیادہ ہیں، مگر ان کے پاس ایسی عقلیں نہیں ہیں جو ان صلاحیتوں کو قابو میں رکھ سکیں۔ اور میں محض بدگمانی کی بنیاد پر ان کی پرانی خدمات کو جھٹلا کر انہیں قتل کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔

یہاں سکندر ایک اہم مسئلہ اجاگر کر رہا ہے: طاقت (قوت) اور عقل کا توازن۔ جب افراد میں جسمانی قوت اور شجاعت تو ہو لیکن عقلی بصیرت نہ ہو، تو وہ شورش کا سبب بن سکتے ہیں۔

ارسطو کی حکمت عملی کا پہلا اصول

ارسطو نے اپنے شاگرد کو جو جواب دیا، وہ سیاسی نفسیات کا ایک شاہکار ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ ان لوگوں کو قتل کر دو، بلکہ ایک تہذیب شدہ اور طویل مدتی حکمت عملی تجویز کرتے ہیں:

میں تمہاری فکر کو سمجھ گیا۔ جہاں تک ان کی بلند ہمتی کا تعلق ہے، تو یاد رکھو کہ وفاداری ہمیشہ بلند ہمتی سے ہی جنم لیتی ہے۔

یہ کہتے ہوئے، ارسطو وفاداری کو شجاعت اور بلند ہمتی سے جوڑتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زبردستی سے نہیں، بلکہ ان کی فطری خصوصیات کو سمجھ کر کام لینا چاہیے۔

سکندر کا مسئلہ حل کرنے کے لیے، ارسطو ایک سوچ سمجھ کر تجویز کردہ حکمت عملی پیش کرتے ہیں:

اس کا علاج یہ ہے کہ: ان کی معیشت کو انتہائی پرتعیش اور عیش پسند بنا دو، اور انہیں خوبصورت عورتوں کی صحبت میں الجھا دو! کیوں کہ عیش و آرام کی زندگی ارادوں کو کمزور کر دیتی ہے، انسان میں عافیت پسندی اور جان بچانے کی محبت پیدا کرتی ہے، اور اسے خطرناک مہمات اور سرکشی سے دور کر دیتی ہے۔

یہاں ایک اہم نفسیاتی اصول کا اظہار ہے: جو انسان آرام اور لذت میں مگن رہے، وہ خطرناک مہمات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ یہ انسانی فطرت کا ایک سادہ لیکن موثر اصول ہے۔

اخلاقیات اور قیادت کا درس

ارسطو محض حکمت عملی نہیں، بلکہ اخلاقی اصول بھی بیان کرتے ہیں۔ وہ سکندر کو یقین دلاتے ہیں کہ اپنا اخلاق بہتر رکھنا کتنا ضروری ہے:

تمہارا اپنا اخلاق ہمیشہ عمدہ رہنا چاہیے تاکہ لوگوں کی نیتیں تمہارے ساتھ خالص رہیں۔ خود ایسی لذتوں سے پرہیز کرو جو تمہارے عام سپاہی بھائیوں کو میسر نہ ہوں۔

یہ اصول آج کی عصر میں بھی انتہائی متعلقہ ہے۔ ایک قائد کو اپنے لوگوں کے ساتھ برابری میں رہنا چاہیے۔ خود غرضی اور خصوصی مراعات سے وفاداری نہیں بلکہ نفرت پیدا ہوتی ہے۔

ارسطو یہ خوبصورت بات کہتے ہیں:

خود غرضی (استیثار) کے ساتھ محبت کبھی باقی نہیں رہتی، اور برابری و ہمدردی کے ساتھ دشمنی کبھی نہیں پنپتی۔

دوم: فارسی خطرے کا حل

ایران میں نمایاں اہلِ عقل کا مشاہدہ

جب سکندر نے ایران میں قدم رکھا اور دارا کی حکومت کو شکست دی، تو اسے ایران کے لوگوں میں ایک نمایاں صلاحیت اور حکمت کا مشاہدہ ہوا۔ اس کی وجہ سے وہ ایک خطرے کا اندیشہ کرنے لگا۔ سکندر نے دوبارہ ارسطو کو لکھا:

میں نے سرزمینِ ایران میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جو گہری اور صائب عقل کے مالک ہیں، چہروں کے خوبصورت ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ غیر معمولی شجاعت، دلیری اور وقار رکھتے ہیں۔ اگر مجھے ان کی اس حقیقی ہیبت اور غیر معمولی صلاحیتوں کا پہلے علم ہوتا تو میں ان پر کبھی حملہ نہ کرتا!

سکندر کے خطے میں ایک خطرناک خیال بھی ظاہر ہوتا ہے۔ وہ قتل و غارت کا منصوبہ بناتا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بغاوت نہ ہو سکے۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں ارسطو کی حکمت واقعی کام آتی ہے۔

قتل و غارت کے بجائے تقسیم کی حکمت عملی

یہاں ارسطو کا جواب سیاسی فلسفے کا شاہکار ہے۔ وہ سکندر کو قتل و ستیاں کرنے سے روکتے ہیں اور ایک بہت ہی دوری اور موثر حکمت عملی تجویز کرتے ہیں:

میں اہلِ فارس کے بارے میں تمہاری فکر کو سمجھ گیا۔ جہاں تک ان کے قتلِ عام کا تعلق ہے، تو یہ روئے زمین پر بدترین فساد ہوگا۔

ارسطو یہاں ایک اہم اصول بیان کرتے ہیں: ایک سرزمین اپنی آب و ہوا اور موضوع کی وجہ سے بار بار اسی قسم کے انسان پیدا کرتی ہے۔

اگر تم ان سب کو قتل بھی کر ڈالو گے، تب بھی یہ سرزمین دوبارہ ان جیسے انسانوں کو جنم دے گی؛ کیوں کہ خطۂ بابل کی مٹی اور آب و ہوا کا مزاج ہی ایسا ہے جو اس طرح کے صاحبِ عقل، صائب الرائے اور متوازن المزاج مردوں کو پیدا کرتا ہے۔

پھر ارسطو نے وہ حکمت عملی بیان کی جو تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی:

تم ان کے شاہی خاندانوں کے شہزادوں اور ان بااثر سرداروں کو بلاؤ جو حکومت کے اہل اور امیدوار ہیں؛ تم ان تمام الگ الگ شہروں اور صوبوں کی حکومتیں انہی شہزادوں میں بانٹ دو! تا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے خطے کا خود مختار بادشاہ بن جائے۔

یہ حکمت عملی کی جڑ میں ‘تقسیم اور حکمرانی’ (Divide and Conquer) کا اصول ہے۔ جب طاقت منتشر ہو تو کوئی بھی متحدہ ہونے سے قاصر رہتا ہے۔

نتیجتاً ان کا قومی اتحاد اور اتفاق پارہ پارہ ہو جائے گا، وہ باہمی طور پر ایک دوسرے کی اطاعت کبھی نہیں کریں گے، ان کا کلمہ کبھی ایک نہ ہو سکے گا؛ لیکن وہ سب کے سب انفرادی طور پر تمہاری برتری اور اطاعت پر متفق رہیں گے!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوم: حکمت عملی کا عملی نفاذ اور تاریخی نتائج

سکندر نے ارسطو کے مشورے پر حرف بہ حرف عمل کیا۔ یہ ایک اہم لمحہ ہے جب علم اور حکمت عملی عملی نتائج میں تبدیل ہوتی ہے۔

ملوک الطوائف (Taifa Kingdoms) کا ظہور

جب سکندر نے ایران کے مختلف صوبوں کو الگ الگ حکومتوں میں تقسیم کیا اور اہل خاندان کے شہزادوں کو ان کی سربراہی میں مقرر کیا، تو ایک نیا سیاسی نظام وجود میں آیا جسے تاریخ میں ‘ملوک الطوائف’ کہا جاتا ہے۔

یہ نظام اس لحاظ سے کامیاب تھا کہ:

• کوئی بھی شہزادہ اتنی طاقت نہیں رکھتا تھا کہ سکندر کے خلاف متحد ہو سکے

• ہر حکمران اپنی خود مختاری میں مگن رہتا تھا

• سکندر کو براہ راست حکومت کا بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا تھا

• مقامی فرمانروایوں کی وفاداری براقی رہتی تھی

ہند اور دیگر علاقوں میں توسیع

جب سکندر ایران کے مسائل کو حل کر چکا، تو وہ اطمینان سے ہند کی طرف بڑھا۔ وہاں اس نے عظیم الشان معرکے لڑے، مقامی راجاؤں کو شکست دی، اور بہت سے شہر فتح کیے۔ پھر چین کی سمت گیا، وہاں بھی فتوحات کے بعد قطبِ شمالی کی طرف رخ کیا۔ آخر میں وہ عراق واپس آیا۔

اچانک موت اور تاریخی خاتمہ

تاریخ کا ایک المناک حصہ یہ ہے کہ سکندر، جو دنیا کو فتح کرنے والا تھا، عراق سے کوچ کرتے وقت ‘شہرزور’ نام کی جگہ پر (یا بعض روایات کے مطابق بابل کے ایک گاؤں میں) بیمار ہو کر کم عمری میں ہی مر گیا۔ اس طرح، ایک عظیم سکندر کی ایک چھوٹی سی بیماری نے تمام فتوحات کو ختم کر دیا۔

چہارم: فلسفیانہ نتائج و حکمت سے سبق

۱۔ طاقت اور عقل کا توازن ضروری ہے

یہ مکالمات بتاتے ہیں کہ محض جسمانی طاقت اور شجاعت کافی نہیں ہے۔ حقیقی طاقت وہ ہے جو عقل اور دانائی سے ہمراہ ہو۔ سکندر اپنی بلاؤں میں بھی ارسطو کی حکمت مانگتا ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو اسے کامیاب کرتی ہے۔

۲۔ اخلاق ہی حقیقی حکمرانی کی بنیاد ہے

جب ارسطو سکندر سے کہتے ہیں کہ ‘تمہارا اخلاق ہمیشہ عمدہ رہنا چاہیے’، تو وہ ایک عمومی قانون بیان کر رہے ہیں۔ حکمران کا اخلاق اس کے لوگوں کی نیتوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔ خود غرضی سے محبت نہیں، بلکہ نفرت پیدا ہوتی ہے۔

۳۔ سوچ سمجھ کر بنائی گئی حکمت عملی قتل و غارت سے بہتر ہے

ارسطو جب ‘تقسیم اور حکمرانی’ کی حکمت عملی تجویز کرتے ہیں، تو وہ بتاتے ہیں کہ قتل و ستیاں سے زیادہ موثر حکمت عملی وہ ہے جو مختلف اداروں اور طاقتوں کو منتشر کر دے۔ یہ نفسیات اور سماجیات پر مبنی ہے، نہ کہ خشونت پر۔

۴۔ دنیوی حکومتیں عارضی ہیں

سکندر کی ہر فتح کے باوجود، ایک چھوٹی سی بیماری نے اس کی تمام حکومت کو بکھیر دیا۔ یہ ایک عمومی سچ ہے کہ دنیوی حکومتیں عارضی ہیں، اور کوئی بھی سلطنت ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں رہتی۔

۵۔ انسانی نفسیات کو سمجھنا ضروری ہے

جب ارسطو کہتے ہیں کہ آرام اور عیش انسان میں عافیت پسندی پیدا کرتے ہیں، تو وہ انسانی نفسیات کو سمجھتے ہوئے بات کر رہے ہیں۔ ہر شخص اپنے مفادات کی حفاظت کریں گے، اور یہ ایک فطری رجحان ہے۔ قانون سازی اور حکمت عملی اسی نفسیات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی جانی چاہیے۔

خاتمہ

سکندر اور ارسطو کے ان مکالمات میں فلسفے، سیاسی علم، نفسیات اور اخلاقیات کا ایک جامع مجموعہ ملتا ہے۔ یہ مکالمات کبھی بھی اپنی اہمیت نہیں کھو سکے، کیونکہ انسانی فطرت اور معاشرے کے اصول کال کے ساتھ نہیں بدلتے۔   آج کے دور میں جب ہم سیاسی مسائل، تنظیم سازی، اور قیادت کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ارسطو کی یہ حکمتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ حقیقی طاقت صرف طاقت میں نہیں، بلکہ سمجھ داری، اخلاق اور طویل مدتی سوچ میں ہے۔   سکندر کی عظمت اس میں تھی کہ وہ اپنے استاد کی سنتے تھے اور اپنے نفس کو کنٹرول میں رکھتے تھے۔ اور ارسطو کی حکمت اس میں تھی کہ وہ صرف نظری علم نہیں، بلکہ عملی اور دوری اندیشی والی حکمت عملی فراہم کرتے تھے۔

حوالہ: تجارب الامم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقدمہ

تاریخِ عالم میں فاتحین اور مفکرین کے باہمی تعلقات میں سکندرِ اعظم اور ارسطو (ارسطوطالس) کا رشتہ ایک فکری و سیاسی محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ سکندر کی فتوحات محض تلوار کا کرشمہ نہیں تھیں، بلکہ ان کے پیچھے ارسطو کی وہ سیاسی اور حکمت عملی کارفرما تھی جو اس نے وقتاً فوقتاً اپنے شاگرد کو خطوط اور مشوروں کی صورت میں دی۔ اس فکری مکالمے نے مشرق و مغرب کی تہذیبی تاریخ کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

سکندرِ اعظم اور ارسطو کی مختصر سوانح عمریاں

ارسطو (384 ق م تا 322 ق م)

ارسطو قدیم یونان کے شہر استاجیرا میں پیدا ہوا تھا۔ وہ افلاطون کا سب سے ہونہار شاگرد اور تاریخِ انسانی کے عظیم ترین فلسفیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس نے طبعی علوم، حیاتیات، ماببعدالطبیعیات، اخلاقیات اور سیاست پر گہرے افکار پیش کیے۔ مقدونیہ کے بادشاہ فلپ دوم کی دعوت پر وہ دربار میں آیا اور شہزادہ سکندر کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس نے ایتھنز میں “لائیسیم” (Lyceum) کے نام سے اپنا علمی ادارہ قائم کیا، جہاں وہ شاگردوں کو چلتے پھرتے درس دینے کے لیے مشہور تھا۔

سکندرِ اعظم (356 ق م تا 323 ق م)

سکندر مقدونیہ کا بادشاہ فلپ دوم اور ملکہ اولمپیاس کا بیٹا تھا۔ کم عمری میں ہی ارسطو جیسے نابغہ روزگار فلسفی کی صحبت نے اس کے اندر علم، حکمت اور جہاں بانی کا شوق پیدا کیا۔ والد کی وفات کے بعد اس نے تخت سنبھالا، یونان کو متحد کیا اور فارسی سلطنت (ہخامنشی سلطنت) کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔ اس کی فتوحات کا دائرہ مصر، بابل، فارس سے ہوتا ہوا برصغیر پاک و ہند کے دریائے جہلم تک پھیل گیا۔ وہ محض 33 برس کی عمر میں عراق کے مقام پر پراسرار حالات میں انتقال کر گیا۔

امکانی زمانہ

یہ تمام تاریخی واقعات اور مکالمات چوتھی صدی قبل مسیح کے آخری ایام (تقریباً 334 ق م سے 323 ق م) کے دوران رونما ہوئے۔ جب سکندر نے محض 20 سال کی عمر میں فارسی سلطنت کے خلاف یلغار کی تھی اور 323 ق م میں اپنی وفات سے چند سال قبل تک وہ ارسطو سے خط و کتابت اور فکری رہنمائی حاصل کرتا رہا۔

مکالمات و خطوط: سیاسی حکمت عملی کا پس منظر

سکندر کو اپنی فتوحات کے دوران اندرونی خلفشار، رومی و مقدونیہ کے امرا کی سازشوں اور ایرانی تہذیب کے گہرے اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے سیاسی سفر کے اہم مراحل درج ذیل خطوط اور واقعات کے آئینے میں دیکھے جا سکتے ہیں:

پہلا خط: اندرونی سازشوں کا تدارک

سکندر نے اپنے لشکر میں موجود رومی اشراف اور کمانڈروں کی بلند ہمتی اور بے باکی سے خوف زدہ ہو کر ارسطو کو خط لکھا کہ وہ انہیں بغیر کسی ٹھوس جرم کے قتل بھی نہیں کرنا چاہتا۔ ارسطو نے نہایت مدبرانہ جواب دیا کہ ان کی عقل کو عیش و عشرت، پرتعیش معیشت اور خوبصورت عورتوں کی صحبت میں الجھا دیا جائے تاکہ ان کے انقلابی ارادے کمزور پڑ جائیں۔ ساتھ ہی حکیم نے حکمران کو نصیحت کی کہ وہ خود عاجزی اور سادگی اختیار کرے کیونکہ برابری اور ہمدردی سے دشمنی ختم ہوتی ہے اور خادم بھی آقا کی مال و دولت سے زیادہ اس کے اخلاق کا گرویدہ ہوتا ہے۔

ایران کی فتح اور دارا کا زوال

سکندر نے جب فارسی سلطنت کے بادشاہ دارا کو شکست دی، تو دارا کے اپنے درباریوں نے اسے دھوکا دیا کیونکہ وہ اس سے متنفر تھے۔ سکندر نے فارس کے قلعے مسمار کیے، آتش کدے گرائے اور سرکاری رجسٹر جلائے، لیکن اس کے بعد ایرانی قوم کی جرأت، حسن اور صائب عقل دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا۔

دوسرا خط: ایرانی قوم سے نمٹنے کا طریقہ

ایرانیوں کی ممکنہ بغاوت کے خطرے کے پیشِ نظر سکندر نے ارسطو کو دوسرا خط لکھا اور ان کے مکمل خاتمے کی خواہش ظاہر کی۔ ارسطو نے اسے قتلِ عام سے سختی سے روکا اور سمجھایا کہ خطۂ بابل کی آب و ہوا ہی ایسی ہے جو صاحبِ عقل انسان پیدا کرتی ہے۔ اگر سب کو قتل بھی کر دیا گیا تو زمین پھر ایسے ہی لوگ پیدا کرے گی اور آنے والی نسلوں میں انتقام کی آگ بھڑک اٹھے گی۔ ارسطو نے تجویز پیش کی کہ:

  • ایرانی شاہی خاندانوں کے شہزادوں اور بااثر سرداروں کو الگ الگ شہروں اور صوبوں کی حکومتیں دے دی جائیں۔
  • انہیں باہم خود مختار بادشاہ بنا دیا جائے تاکہ ان کا قومی اتحاد پارہ پارہ ہو جائے اور وہ آپس میں کبھی متحد نہ ہوں۔
  • نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سب انفرادی طور پر تو سکندر کی برتری تسلیم کرتے رہے مگر کبھی ایک ہو کر بغاوت نہ کر سکے۔

ملوک الطوائف کا قیام اور آخری سفر

ارسطو کے اس سنہرے مشورے پر عمل کرتے ہوئے سکندر نے ایران میں “ملوک الطوائف” (Feudal Fragmented States) کی بنیاد رکھی۔ اس داخلی انتشار اور ٹکڑوں میں بٹی سلطنت سے بے فکر ہو کر وہ مشرق کی طرف بڑھا۔ اس نے برصغیر کا رخ کیا، راجہ پورس کے خلاف جنگ لڑی، دریائے سندھ کی وادیوں کو عبور کیا، اور پھر چین اور قطب شمالی کی سمتوں کا سفر کرتے ہوئے بالآخر بابل یا شہرزور کے قریب بیمار ہو کر اپنے انجام کو پہنچا۔

قلمکار کا تعارف

یہ تاریخی تجزیہ اور حکمت و فلسفہ کے موتی حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو (معتمد و بانی: سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ) کے قلم کا شاہکار ہے، جو قدیم روایات، تاریخی حقائق اور طب و حکمت کے اسرار و رموز کو یکجا کرنے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

عربی کتاب کا ڈائون لوڈ لنک

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme