
مرَدن کا منہ میں بیربانین کی زبان۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
سوچ سوچ کے ہلکان ہوں کہ
(میو قوم کا برا بڑا لوگ یا دنیا سو رخصت ہوچکا۔
علامہ اقبال۔اور قائداعظم بھی یا دنیا اے چھوڑ گیا ۔
میں بھی 53 سال کو ہوگیو ہوں ۔ابھی اب قوم میں سدھار نہ آئیو ہے۔
جاکو زندگی ہے ۔واکو موت پہلے ہے۔سوچوں یا قوم کو کہا بنے گو؟)
میو قوم میں بہت سی صفات اور نرالی خوبی ہاں۔دستور چلو آرہو ہے کہ نئی نسل کو شکوہ ہے
(1) کہ ہمارا بڑا، اَِن پڑھ اور دنیا داری سو واقف نہ ہا؟یامارے ہماری قوم ترقی نہ کرسکی۔
(2)دوسری بات ای کہ ہم نے وا وقت ای بات کہی ہی کائی نے دھینا نہ دئیو ۔اگر میری بات مان لی جاتی تو آج یہ حالات نہ ہوتا؟
(3)ہم نے تو پہلے ای پتو ہو۔کہتا کَس سُو۔کوئی کان دھرن پے راضی نہ ہو۔
(4)آج جو چوہدری بنا پِھر را ہاں ،ان کا باپ ،دادا،ہم سو تمباکو مانگ کے پیوے ہا؟
(5)فلاں آج چوہدری بنو پھرے ہے ۔یاکو باپ ہماری پولی میں پڑو رہوے ہو۔لوٹن بیٹھن کے مارے بھی

جگہ نہ ہی۔
(6)اگر فلاں ٹانگ نہ اڑاتو۔آج ای کام ہوچکو ہوتو۔ہم نے تو کہنو ای چھوڑ دئیو ہے؟
(7)فلاں قوم کا پیسہ کھاگو ہے ،مانگا ہاں ،کھاواہاں۔پوری قوم لوٹ کھائی؟
(8)ہم نے فلاں سن میں قوم کے مارے ہون والا پروگرام میں اتنا پیسہ دیا ہا۔اتنا خرچ ہویا ۔باقی پیسہ کہاں گیا؟کوئی حساب نہ ہے؟
یائی طرح کی بات تقریبا ہر محفل اور میں ہوواہاں۔یا وقت کوئی آدمی ایسو نہ ہے جائے اچھا بُرا کو پتو نہ ہوئے۔
چندہ باپ نے دئیو ۔حساب بیٹا پوتا مانگاہاں ۔
ہم نے ای تو پتو نہ ہے کہ بیربانی کیسے غیبت کراہاں ۔لیکن اتنو ضرور پتو ہے کہ میو قوم کا مردن میں بیربانین کی زبان ضرور موجود ہے۔
جب تک چغلی غیبت۔دھڑے بندی نہ کرلیواں،پیٹ کو درد کم نہ ہووے ہے۔
کئی بیر بانی ایسی رہوا ہاں،سارا سارا دِن کنسوا لیتی ڈولاہاں ۔کہ کائی کی کوئی بات ملے۔اور مرچ مصالحہ لگاکے وائے لوگن میں پھیلا واہاں۔
گریالہ۔محلہ میں کوئی نئی پھلچھڑی چھوڑاں ۔ماشا اللہ مرَدن نے ای ذمہ داری بہت اچھا طریقہ سو نبھائی ہے او ر نبھارا ہاں۔۔
کیونکہ میونی اب تعلیم حاصل کرکے اپنی مصروفیات پیدا کرچکی ہاں ۔مرد مانس بیر بانین کی جگہ لے چکاہاں۔
پہلے بیلی۔فارغ بیربانی اکھٹی ہوکے ۔مغرب سو پیچھے ،باڑان میں جاوے ہی ۔جہاں وے قضاء حاجت کرے ہی۔
یائی دوران سارا دن کی جمع شدہ باتن نے کرے ہی۔جہاں کوئی کمی بیشی دیکھے ہی اپنے پئے سوُ خالی جگہ پُر کردیوے ہی۔
مرد مانس حقہ پوُر پے بیٹھ کے گائوں بستی اَوڑ پاس کا گائوون کی باتن پے تبصرہ کرے ہا،
اپنا اپنا خیالات پیش کرے ہا۔یعنی میو قوم کو میڈیا ۔مغرب سو پیچھے بیر بانین کو باڑان میں ہاتھ دون(قضائے حاجت)کے مارے جانو۔
مرد مانسن کو بیٹک یا چوپال پے بیٹھ کے حقہ سُٹیانو۔ایسو وقت رہوے ہو۔جامیں دستیاب معلومات پے بےلاگ تبصرہ ہووے ہا۔
حالات بدلا ۔اللہ نے میوون کو ترقی دی۔کچا مکان۔جھونپڑین سو اُٹھ کے پکامکان۔کوٹھی بنگلان میں آبسا ۔ لیکن عادت سو چھیانو نہ رہ سکا۔
حقہ ۔پُور ختم ہویا ۔واکی جگہ ہم نے سوشل میڈیا۔فون۔جدید الیکٹرک ڈیوائسز کام میں لانی شروع کردی۔
ہم نے باڑان کی بات اور حقہ ،پپور پے ہون والی غیبت چغلی۔ٹانگ کھنچائی واٹس ایپ۔موبائل فون۔اور چیٹ۔وائس میسجز۔کے ذریعہ کرنو شروع کردی۔
یعنی زمانہ بدل گئیو میو اپنا آپ بدلن کو نام ای نہ لیرو ہے۔
دوسری قومن نے جدید ڈیوائسز ۔اور میسر سہولیات سے کام لیو اور ترقی کرگئی۔کاروبار بڑھا لیا۔جدید مارکٹنگ میں نام پیدا کرا۔مالی لحاظ سو آسودہ ہوگیا۔
لیکن میو قوم باپ دادان کی روش برقرار رکھتے ہوئے ان سہولیاتن نے بھی۔پرانی روش برقرار راکھن کے مارے نیا نیا طریقہ تلاش کرے ہے۔
جو کام پہلے بیر بانی کرے ہی ۔اَ ب مرن نے سنگوالیا ہاں ۔
نوں کہہ سکو ہو کہ مردن کا منہ میں بیربانین کی زبان آچکی ہے۔
یقین نہ آئے تو میو قوم کا وٹس ایپ گروپن نے دیکھ لئیو۔دھڑے بندی۔کھینچا تاکہ۔ٹانگ کھنچائی۔کا نِت نیا طریقہ دیکھن کو ملنگا۔
میری قوم بھولی ضرور ہے لیکن سدُھرن کی نیت ابھی نہ کری ہی۔
تبلیغی جماعت والان کی طرح ہم نے نیت کرلینی چاہے۔کہ باران سو اٹھ کے استنجا کرلینو چاہے۔
حقہ اور پوُر سو اٹھ کے وضو کرکے ۔پچھلی روش پے معافی کے مارے دو رکعت صلاۃ التوبہ کرلینی چاہے۔
میو قوم زندہ باد۔کہواہاں میو قوم پاکستان مین کروڑن مین جاپہنچی ہے۔اگر ہر کوئی ایک آئیڈیا ،بھلی بات۔بہتر مشورہ دیوے تو۔میو قوم سو گھنا دانشور دنیا بھر میں نہ مل سکاں !
باقی نام رہے اللہ کو۔
