
قانونِ مفرد اعضاء، حرارت اور جدید سائنس
ایک تحقیقی و طبی جائزہ
مرتب کردہ
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویؐ

تمہید
طبِ مفرد اعضاء کی بنیاد جن اصولوں پر استوار ہے، ان میں حرارت کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ جسمِ انسانی میں کارفرما حرارت کی تین صورتیں — حرارتِ عنصری، حرارتِ غریزیہ اور حرارتِ غریبہ — محض کتابی اصطلاحات نہیں بلکہ وہ حقیقی قوتیں ہیں جن کے توازن و عدمِ توازن سے صحت اور مرض کی پوری داستان رقم ہوتی ہے۔ ایک تجربہ کار طبیب کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان تینوں حرارتوں کی ماہیت کو نہ صرف قدیم اصطلاح میں بلکہ جدید سائنسی شعور کی روشنی میں بھی سمجھے، تاکہ فہم پختہ اور دلیل مضبوط ہو۔
جدید سائنس کی مثال سے تفہیم
اس مقصد کے لیے ہم جدید کیمیا کی تین معروف گیسوں — آکسیجن، ہائیڈروجن اور کاربن (کاربانک ایسڈ گیس کی صورت میں) — کو بطور تمثیل پیش کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ تشبیہ محض ذہن نشین کرانے کے لیے ہے، ہم یہ دعویٰ ہرگز نہیں کرتے کہ حرارتِ عنصری، غریزیہ اور غریبہ لفظی طور پر انہی گیسوں کے مساوی ہیں۔ تاہم اصولی مماثلت اس قدر واضح ہے کہ سمجھنے میں آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔
آکسیجن کو ہم حرارتِ عصری (عنصری) سے تشبیہ دیتے ہیں۔ جب یہی آکسیجن ہائیڈروجن کے ساتھ مل کر مرکب بناتی ہے تو اس امتزاج سے حرارتِ غریزیہ کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں، یعنی زندگی اور نشوونما کی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ اور جب یہی آکسیجن کاربن کو جلا کر کاربانک ایسڈ گیس تشکیل دیتی ہے تو اس عمل میں حرارتِ غریبہ کے افعال جنم لیتے ہیں — یعنی وہ حرارت جو بالآخر مرض اور بخار کا سبب بنتی ہے۔
یہ امر بھی پیشِ نظر رہے کہ جس طرح حرارتِ عنصری کبھی تنہا اور آزاد حالت میں نہیں پائی جاتی، بعینہٖ آکسیجن بھی فطرت میں تنہا موجود نہیں رہتی۔ وہ کبھی ہائیڈروجن سے مل جاتی ہے اور کبھی کاربن سے، اور ہر امتزاج کے نتیجے میں ایک نیا مزاج اور نئی خاصیت جنم لیتی ہے۔ عین اسی اصول کے مطابق، جسمِ انسانی میں بھی یہ حرارتیں کبھی منفرد اور خالص صورت میں نہیں پائی جاتیں بلکہ ہمیشہ مرکب حالت میں موجود رہتی ہیں، البتہ ان کی نسبت میں کمی بیشی واقع ہوتی رہتی ہے۔ جس حرارت کا غلبہ ہو، اسی کی کیفیت جسم میں نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔
اعضائے جسم پر مخصوص اثرات
طبی مشاہدے کی رو سے ہائیڈروجن کا گہرا تعلق اعصاب سے ہے، آکسیجن کا رشتہ غذائیت اور جذبِ غذا سے ہے، جبکہ کاربن کا اثر بنیادی طور پر عضلات پر مرتب ہوتا ہے۔ یہی تین نسبتیں بالترتیب حرارتِ عصری، حرارتِ غریزیہ اور حرارتِ غریبہ کی صورت میں متصور کی جاسکتی ہیں۔
صحت و مرض کا خلاصہ
چونکہ حرارتِ عنصری کبھی تنہا نہیں پائی جاتی، اس لیے وہ ہمیشہ یا تو حرارتِ غریزیہ (مائی و ارضی حرارت، جو جسم کو زندگی اور صحت عطا کرتی ہے) کے ساتھ مربوط رہتی ہے، یا پھر حرارتِ غریبہ کے ساتھ، جو امراض اور بخار کو جنم دیتی ہے۔ گویا عملاً میدان میں یہی دو حرارتیں باقی رہ جاتی ہیں — ایک صحت بخش اور دوسری مرض زا۔ اسی نکتے کی تفہیم سے بخار کا مکمل تصور ذہن میں واضح ہو جاتا ہے، اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر طبِ مفرد اعضاء میں علاج کی سمت متعین کی جاتی ہے۔
مرتب کردہ: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طبِ نبویؐ
