
آگے چلو۔ضد چھوڑدئیو۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
جناب عمر میو کی وال سو ای شعر کافی جاندار لگو۔اور میو قوم کی حالت اور ان کی سوچ کی عکاسی ہے۔ای شعر ایک سکرین ہے۔جامیں حال و مستقبل دیکھو جاسکے ہے
ہم اس زمانے کی خوشیاں خریدتے کیسے
ہماری جیب میں پچھلی صدی کے سکّے تھے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
جتنی تیزی سو حالات بدل راہاں ،اور زندگی کی ریت جتنی تیزی سو ہاتھ کی مٹھی سو پھسلتی جاری ہے۔بہت بڑو لمحہ فکریہ ہے۔
انسانی زندگی چلتی ہی ایسے ہے کہ اپنی اپنی ترجیحات متعین کرلی جاواہاں ۔پھر ان ترجیحات پر عمل کرتے ہوئے سارا وسائل جھونک دیا جاواہاں۔ذہن میں ایک خمار رہوے ہے کہ ۔ہم نے ایسے جینو ہے۔لوگن سو ایسو برتائو کرنو ہے۔
لیکن ضروری نہ ہے کہ جو ترجیحا ت کائی ایک شخص نے مقرر کرلی ہاں دنیا بھی اُن ترجیحات پے ایسے ہی مُڑتی چلی جائے۔۔یہ لوگ بھول

جاواہاں کہ سیلابی پانی اور ہوا ۔ آندھی ۔طوفان۔اپنا راستہ خود بناواہاں ۔ کوئی ان کے مارے راستہ مقرر نہ سکے ہے۔
یہی حال انسانی زندگی کو ہے ۔کوئی کتنو بھی بڑو بن جائے ۔واکا ذہن میں کوئی بھی خمار چھاجائے۔۔
دنیا واکی پابند نہ ہے۔کہ وا خمار کی بنیاد پے اپنی ترجیحات اورزندگی کا راستہ نہ بدلا جاسکاہاں۔
میو قوم کے مارے بہتر سوچو۔بہتر فیصلہ کرو۔اگر تم لوگ کچھ بہتر کرن میں کامیاب ہویا
تو قوم عزت ۔محبت۔اوراپنانیت دئے گی۔اور اگر پرُانیروش نہ بدلی تو ثواب کی نیت سو اتنی بددعا اورمتبرک قسم کی گالین نے دئے گی۔
کہ کدی سوچو بھی نہ ہوئے گو۔
وقت کے ساتھ ساتھ سوچ اور پالیسز بھی بدلنی پڑا ہاں ۔
پرانی سوچ ۔پرانا فیصلہ۔کدی انقلاب نہ لاسکاہاں۔۔۔
