قارورہ سے شناخت امراض اے آئی کے توسط سے۔
کتاب کا نام
“قارورہ سے شناخت امراض اے آئی کے توسط سے۔”
مصنف کا نام
حکیم لامیوات قاری محمد یونس شاہد میو
کمپوزنگ ۔ناشر
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
تاریخ اشاعت
جو2026

Advertisements

سخن ہائے گفتنی
بحمد اللہ امراض کی تشخیصات پر کئی کتب سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی ﷺ//سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی طرف سے شائع ہوچکی ہیں ۔جیسے (1)تشخیصات متعددہ۔
(2)قانون مفرد اعضاء کی تفہیم آے آئی کے توسط سے۔
(3) تحریک امراض علاج۔وغیرہ۔
(4)قران کریم سے اخذ کردہ طبی نکات
(5)احادیث مبارکہ سے اخذ کردہ طبی نکات۔
قارورہ شناسی ایک قدیم طبی فن ہے جس پر قدماء معالجین نے بہت کچھ لکھا ہے قدیم کتب میں اس بارہ میں تفصیلات پائی جاتی ہیں۔جالینوس۔ بقراط وغیرہ سے لیکر مسلم اطباء میں ابن سینا۔رازی۔اور ہندستان کے اطباٰ ید طولیٰ رکھتے ہیں اور قارورہ دیکھ کر امراض کی شناخت اور بہتر طریقے سے علاج ان کا طرہ امتیاز تھا۔
جب سے فرنگی طب آئی اس نے بھی قارورہ کے تجزیہ کو اہمیت دی ۔دیسی معالجین بالخصؤص قانون مفرد اعضاء کے ماہرین نے اس بارہ میں بہت مہارت کا ثبوت پیش کیا۔قانون مفرد اعضاء سے پہلے قارورہ اور نبض ایک معمہ پر اسرار تھے۔جن کے بارہ میں معلوم ہوتا کہ وہ قارورہ شناس یا نباض ہیںمعاشرہ میں ان کی اہمیت ،قدرو منزلت بہت ہوا کرتی تھی۔ایسے ماہرین کا طوطی بولتا تھا۔
جب سے مجدد الطب صابر ملتانی علیہ الرحمہ نے طب یونانی کی تسلیم کی اور اس تحقیق پر اپنی زندگی کے 22 سال صرف کئے۔خود کے جسم کو بطور لبارٹری کے پیش کیااور تشخیص امراض ہی نہیں بلکہ مختصر و جامع علاج بھی پیش کیا ۔ غذائی علاج پہلے بھی تھا لیکن جو اہمیت

قانون مفرد اعضاء والوں نے بتائی اور لوگوں کو اس طرف مائل کیا یہ ان کا خاصہ ہے۔
قارورہ شناسی اس قدر عام فہم اور سہل الحصول ذریعہ تشخیص ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔بیان کرنے والوں نے سمجھانے میں کسر نہ چھوڑی لیکن انسان کی تفہیم یکساں تو نہیں ہوتی۔اس لئے لکھنے والوں نے سمجھانے میں کہیں طوالت سے کام لیا تو کہیں سہل الممتع اختصار سے کام لیا گیالیکن اس گھتی کو جتنا سلجھایا گیا اتنی الجھتی گئی۔ڈایا گرامز بنائے گئے۔مختلف نقشے کھینچے گئے۔لیکن کتب میں ان سے کی تشہیر مشکل تھی کیونکہ لکھنے والوں کے پاس اشاعت کے لئے وسائل نہیں ہوتے ۔اور اگر کسی لکھنے والے کو وسائل میسر بھی آجائیں،تو کتنی تشریح ہوسکتی ہے ۔
جب سے سوشل میڈیا آیا اس کے بعد اے آئی کے آنے کے بعد حقائق بیان کرنا یا پھراپنے مافی الضمیر کا اظہار قدرے آسان ہوگیا۔لیکن ایک نئی مصیبت یہ آن کھڑی ہوئی کہ حاذقین کو کمپیوٹر اور اے آئی سے شناسائی نہ تھی ۔ جو یہ جانتے تھے ان کے پاس طبی درک نہ تھا۔یوں الجھائو مزید بڑھتا گیا کیونکہ التباس انسان کو الجھا کر رکھ دیتا ہے۔ راقم الحروف طبی میدان میں زندگی کے قیمتی ایام بِتا چکا ہے۔ ربع صدی کی آبلہ کا تجربہ ہے۔۔
کمپیوٹر اور اے آئی میں سوجھ بوجھ ہے۔معالجاتی تجربے کی بنیاد پرجو کچھ بن پڑا حاضر خدمت ہے۔میں نہیں کہتا کہ یہ کوئی پہلی کاوش ہے معالجین نے اپنے اپنے انداز میں بہت کام کیا ہے اور قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں لیکن کتابی صورت میں شاید یہ پہلی کاوش ہے،اصلاح کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔کوئی انسان خطاء و بھول سے ماوراء نہیں ہے۔انسانی تجربات ہیں ضروری نہیں کہ ہر تجربہ کرنے والا ایک جیسے نتائج کا سامنا کرے،مہارت و حذاقت انسان کے اندر پختگی اور نکھار کا سبب بنتے ہیں۔
کوئی بھی کتاب حرف آخر نہیں ہوتی۔ہر آنے والا دن انسان کے تجربات میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔راقم الحروف نے بیس پچیس سال پہلے جو کتب لکھی تھیں اس وقت وہ اپنے موضوعات انتخاب میں اچھوتی تھیں لیکن آج انہیں دیکھتا ہوں تو جگہ جگہ تشنگی دکھائی دیتی ہےیہ تشنگی موضوع یا کتاب میں مندرج مواد کی وجہ سے نہیںبلکہ ان تجربات کی وجہ سے ہے جو انہیں لکھنے کے بعد میدان عمل میں ہوئے۔نئی نئی چیز سیکھنے کو ملیں۔
اس میں شک نہیں کہ جدید وسائل اور ڈیجیٹل ڈیوائسز نے کام کو بہت آسان کردیا ہے لیکن محنت اور وسائل تو پھر بھی خرچ ہوتے ہیںاس وقت کتاب کا مطالعہ متروک ہوتا جارہا ہےہزاروں کے مجمع میں کوئی ایک آدھ کتاب کا شیدائی ملتا ہے۔گرانی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کتاب چھپوانا وسائل کو منجمد کرنے والی بات سمجھی جاتی ہے۔
تمام مسائل و موانع کے باوجود سعد طبیہ کالج کتابی شکل میں فروغ طب کے لئے کوشاں ہیں۔زرکثیر کے مصارف لگاکے اطباء کے لئے کتب کی فراہمی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے۔امید ہے پڑھنے والےادارہ کی نیک نامی اور اراکین ادارہ بالخصوص۔میرے والدین ۔بھائیوں اور میرے بیٹے سعد یونس مرحوم جس کی کاوش نے اس ادارہ کو وجود بخشا،ضرور نیک دعائوں میں شامل حال رکھیں گے۔ طب کی نایاب قدیم و جدید کتب حسب فرمائش مہیا کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے امید ہے اہل علم استفادہ فرمائیں گے۔
طالب دعا خادم فن طب
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ//سعد ورچوئل سکلز پاکستان

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme