حافظ جعفر ضیاءمیو کا میو قوم سے شکوہ

0 comment 7 views
حافظ جعفر ضیاءمیو کا میو قوم سے شکوہ
حافظ جعفر ضیاءمیو کا میو قوم سے شکوہ

حافظ جعفر ضیاءمیو کا میو قوم سے شکوہ
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میو قوم اپنے لوگوں کی قدر ضرور کرتی ہے لیکن ان کا اپنا انداز ہے۔پڑھے لوگ۔یا اعلی عہدوں پر متکمن حضرات اپنے انداز اور اپنی نفسیات کے مطابق چاہتے ہیں لیکن قوم کا یہ انداز نہیں ہے۔
جب کوئی کسی فن و ہنر میں پختگی اختیار کرلیتا ہے تو اس کا معیار عام لوگوں سے الگ ہوجاتا ہے۔ان میں جتنا نکھار پیدا ہوتاہے ان لوگوں کی توقعات بدلتی جاتی ہیں۔لوگ انہیں اسی انداز میں دیکھتے ہیں جو وہ روز مرہ میں ایک دوسرے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
حافظ جعفر ضیاء میو ۔کو اللہ نے بہترین سریلی آواز سے نوازا ہے، انہوں نے محنت بھی کی ہے۔زندگی کا ایک حصہ میواتی زبان میں ۔حمد و

Advertisements

نعت اور دیگر ادب کی خدمت کرتے ہوئے بسر کی ہے۔
جب انسان کسی فن و ہنر میں پختگی حاصل کرتا ہے تو اس کی قیمت بھی ادا کرتا ہے۔لیکن عام لوگ اس قیمت سے بے خبر رہتے ہیں۔جب کہ انسانی جبلت کے ناطے فنکار داد سمیٹنے کی توقع رکھتا ہے ۔جب توقع پوری نہیں ہوتی ۔تو غمگین ہوجاتا ہے۔کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں کہ وہ مایوسی کی کیفیت میں سب کچھ چھوڑنے پر آمادہ بھی ہوجاتا ہے۔یہ کیفیات کسی ایک شخصیت کی نہیں ہوتیں ۔ملتی جلتی بہت سے لوگوں میں دیکھی گئی ہیں۔لیکن محنت کا پھل ضرور ملتا ہے اس کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے۔

حافظ جعفر ضیاء میو کا شکوہ مناسب ہے۔بنتابھی ہے۔
اس کا تدارک کیا ہے؟
راقم الحروف نے زندگی کے کئی سال میو اتی میں لکھنے اور اس کی ترویج کے لئے وقف کئے۔میواتی کے علاوہ دوسری زبان اردو وغیرہ میں 150 سے زائد کتب لکھیں ۔یہ کتابیں اندرون و بیرون ممالک میں بہت بڑی تعداد میں ترسیل کی گئیں۔کئی کتب آج بھی طباعت کے لئے تیار ہیں۔کتاب لکھنے کئےلئے ڈھیر ساری کتب کا مطالعہ۔مطلوبہ نتائج جمع کرنا پھر انہیں کتابی شکل میں جمع کرکے کمپوز کرنا ۔اور طباعت کے مراحل سے گزار کر زر کثیر صرف کرکے میو قوم کو مفت میں تقسیم کرنا ۔صبر آزما مرحلہ ہے۔
میرے من بھی بہت بار۔ایسے جذبات ابھرے۔چھوڑو اور بہت سے کام ہیں ۔لیکن جب کیفیت زائل ہوئی تو پھر سے کام میں لگ گئے۔
بقول ماسٹر نصر اللہ صاحب کہ میو قوم کو محقق فنکار نہیں بلکہ میراثی درکار ہیں جو ان کی جھوٹی سچی تعریفیں کریں او ر ان کی جیبیں خالی کرائیں اور چلتے بنیں۔حافظ جعفر ضیاء میو ایک نعت خواں ہیں ممکن ہے میراثیوں والی صفات سے عاری ہوں۔تو یہ کیسے قبولیت پاسکتے ہیں۔


ایک اہم مشورہ۔
راقم الحروف چندہ مانگنے اور ہاتھ پھیلانے کے سخت خلاف رہا ہے،حالانکہ اس وقت میو قوم میں یہ عادت بُری نہیں سمجھی جاتی۔کوئی چندہ مانگ رہا ہے تو کوئی جہیز مانگ رہا ہے۔کوشش ہے کہ نام ہمارا ہو ۔کام دوسرا کر جائے۔
اگر یہ فنکار اور ذہین لوگ تھوڑا سا کاروبار کرلیں تو محتاجی سے باہر آجائیں ۔میرا ناقص خیال ہے میو قوم میں کسی کے پاس شاید ہی کوئی ایسا منصوبہ ہو ،جس میں انکم جنریٹ کی جائے۔اور اس سے قومی مسائل حل کئے جائیں اور ضروریات پوری کی جائیں۔وقت ملاتو اس پر کسی دن مکمل تفصیل لکھونگا۔
جناب جعفر ضیاء صاحب نے جو میو قوم سے شکوہ کیا۔ذیل میںدرج کیا گیا ہے۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پوری میو برادری کی خدمت میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔
میں نے ہمیشہ اپنی میواتی زبان کے فروغ، بقا اور ترقی کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کیا ہے۔ میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ ہماری مادری زبان کو وہ مقام ملے جس کی وہ حق دار ہے اور اسے قومی سطح پر پہچان حاصل ہو۔
الحمد للہ، پاکستان کی تاریخ کا پہلا میواتی ملی نغمہ لکھنے اور پڑھنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوا، جو مختلف چینلز پر نشر بھی ہوا۔ الحمد للہ، دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ٹی وی چینل کے لائیو پروگرام میں میواتی زبان میں نعتِ رسول ﷺ پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس سے قبل میواتی زبان میں اس نوعیت کا کوئی پروگرام نشر نہیں ہوا تھا۔
الحمد للہ، متعدد میواتی حمدیں، نعتیں، نظمیں اور ملی نغمے ریکارڈ کروائے، میواتی آڈیو و ویڈیو البمز ریلیز کیے، اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ میواتی زبان کی رنگ ٹون تیار کروائی جو جاز، زونگ، ٹیلی نار اور یوفون کے صارفین اپنی سم پر لگا سکتے ہیں۔
یہ سب کام کسی ادارے، تنظیم یا مالی معاونت کے بغیر کیے گئے۔ میواتی زبان کی محبت میں میں نے اپنا وقت، اپنی محنت، اپنی کمائی اور اپنی زندگی کے قیمتی سال صرف کر دیے۔ یہاں تک کہ اپنی زبان کے فروغ کے لیے گھر کے زیورات تک فروخت کرنے پڑے۔ میں نے اپنے فنِ نعت خوانی، پینٹنگ اور خطاطی کو بھی ہمیشہ میواتی زبان کی خدمت کے لیے استعمال کیا اور جو کچھ میرے پاس تھا، اسے اپنی زبان پر قربان کرتا رہا۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری قوم اپنے خدمتگاروں اور اپنی زبان کے لیے کام کرنے والوں کی وہ قدر نہیں کرتی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔ دوسری برادریوں کے لوگ اکثر یہ طعنہ دیتے ہیں کہ آپ اپنی قوم کے لیے اتنا کچھ کر رہے ہیں، مگر آپ کی اپنی برادری ہی آپ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی۔
سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تو ہماری مختلف تنظیموں کے قائدین اور رہنما دوسروں کی پوسٹیں، گانے اور ترانے تو شیئر کرتے ہیں، لیکن اپنی میواتی زبان اور اپنے ہی برادری کے افراد کی کاوشوں کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں لیتے۔ میواتی زبان کے فروغ کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر عملی تعاون نہ ہونے کے برابر ہے۔
میں برادری کے تمام ذمہ داران سے صرف اتنا پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ایک بھی ایسا شخص دکھا سکتے ہیں جس نے ہمارے فیس بک پیج یا یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کیا ہو، ہماری میواتی نعتوں، نظموں یا ترانوں پر حوصلہ افزائی کا ایک جملہ ہی لکھا ہو؟
میں نے اپنی حیثیت سے بڑھ کر میواتی زبان کے لیے کام کیا، مالی مشکلات برداشت کیں، ذاتی نقصانات اٹھائے، لیکن اس کے باوجود اپنی زبان کا دامن نہیں چھوڑا۔ آج میرے بچے بڑے ہو رہے ہیں، مگر میں اپنی جمع پونجی ان کے مستقبل کے بجائے میواتی زبان کے فروغ پر خرچ کر چکا ہوں۔
آج دل انتہائی دکھی ہے۔ جب اپنی زبان اور اپنی قوم ہی اپنے لوگوں کی قدر نہ کرے تو انسان کے حوصلے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں مزید میواتی زبان کے لیے کام کرنے کو دل نہیں کرتا۔ پھر بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو اپنی زبان، اپنی ثقافت اور اپنے مخلص خدمتگاروں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آپ کا بھائی
حافظ محمد جعفر ضیاء قصوری خادمِ میواتی زبان
جعفر کا جواب
محترم حکیم المیوات صاحب!
آپ نے چند سطروں میں وہ حقیقت بیان کر دی جسے سمجھنے میں بعض اوقات پوری عمر گزر جاتی ہے۔ واقعی قربانی کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ صلے، ستائش اور اعتراف کی محتاج نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ اپنے مقصد اور نظریے کے لیے قربانیاں دینے والوں کی قدر اکثر بعد میں کی جاتی ہے، لیکن ان کے اخلاص اور استقامت کی روشنی نسلوں تک راستہ دکھاتی رہتی ہے۔
آپ کے یہ الفاظ میرے لیے حوصلے، رہنمائی اور فکری سرمایہ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے مقصد، اپنی زبان اور اپنی شناخت کے لیے ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکر گزار ہوں۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme