آگے بڑھنا چاہو تو راستہ موجود ہے۔

0 comment 6 views
آگے بڑھنا چاہو تو راستہ موجود ہے۔
آگے بڑھنا چاہو تو راستہ موجود ہے۔

آگے بڑھنا چاہو تو راستہ موجود ہے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
پچھلا مہینہ میں کئی نامور لوگ میو قوم کی جانی پہچانی شخصیات یا دنیا سو کوچ کرکے اگلے جہاں جاپہنچی۔ان میں جناب آصف مرحوم صاحب کی وفات ایک سانحہ ثابت ہوئی۔ ان سو زندگی میں ایک بار تفصیلی ملاقات ہوئی ہی۔ میو قوم کے مارے درد راکھن والان میں سو ایک ہو ۔ سیاست و خدمت کا مواقع جب بھی میسر آیا۔ مرحوم نے اپنی قوم کی خدمت کے مارے بہتر فیصلہ کرا۔ اللہ مرحوم کی بخشش

Advertisements

فرمائے۔آمین۔
جب میں نامور لوگن کا جنازہ کو اعلان سنو ہوں تو ایک بات دل میں ضرور آوے ہے کہ۔یہ لوگ محنت کرکے آگے بڑھا پوری زندگی لگادی نام بنانا میں۔ لیکن موت نے آلپکا۔اور سب چھوڑ چھاڑ کے چلتا بنا۔کل ہمارو عزیز حافظ عقیل کو جنازہ پڑھو۔خوبصورت سجیلو جوان ہو۔بھرپور جوانی مین چلتو بنو۔موت کچا ۔پکا سبن نے توڑ دیوے ہے۔
پرسوں ۔پاکستان میو اتحاد لاہور کو صدر نعیم میو،مشتاق میو امرالیا ۔شکر اللہ میو۔عمران بلا میو۔اور راقم الحروف حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔کائی کام کاسلسلہ میں میو قوم کی دو نامور شخصیات
(1)جناب ریحان احمد میوایڈوکیٹ۔سکر ٹری پنجاب بار کونسل۔

(2)یاسر سلطان میو(کھلاڑی۔نیزہ باز)
یہ دو میو قوم کا نامور اور خود کی محنت سو آگے بڑھا ہاں۔محنت و لگن سو ایک خاص مقام حاصل کرو ہے۔
میو قوم سپوت اوربہترین لوگن سو بھری پڑی ہے۔ لیکن ان سو من الحیث القوم فائدہ اٹھانو۔ان سو کام لینو۔ان جیسا لوگ تلاش کرنو ۔اور ان کے مارے بہتر مواقع پیدا کرن کے مارے کوئی کوشش کرنو۔یا اقدام کرنو۔ہماری ترجیھات میں نہ ہے۔
میو قوم کے پئے خداداد صلاحیت اور جوہر قابل موجود ہاں۔لیکن بہتر مصرف اورانکی بڑھوتری کے مارے میوقوم کے پئے پئے کوئی پلان /منصوبہ بندی۔موجود نہ ہے۔میو قوم کے لئے وسائل ہاں ۔صلاحیت ہاں ۔میدان عمل ہے۔ضرورت بھی ہے۔لیکن کوئی جامع منصوبہ بندی موجود نہ ہے۔میو تنظیمات۔گروپس۔سوشل میڈیا پے میو قوم کا لوگن نے رَول مچا راکھی ہے۔لیکن سارا دن بے کار لایعنی باتن میں وقت ضائع کراہاں۔
جب انا کو مسئلہ آوے ہے۔یا بیاہ شادین میں وسائل ضائع کرن کی باری آوے ہے تو میو بائولا ہوجاواہاں۔۔وا وقت میو قوم کو اندرونی گند باہر آوے ہے۔جہیز یا رسومات کی ایسی اقسام سامنے آواہاں کہ عقل دھنگ رہ جاوے ہے۔ایک بڑی گاڑی چھورا کی۔چھوٹی گاڑی باپ کی۔نائی میراثین کے مارے ہونڈا۔باہن بہنوئی کے مارے سونا کی چین ۔لاحول والا قوۃ۔یا وقت ایسو لگے ہے کہ دنیا کی واہیات ترین قوم میو ہے۔
یہ لوگ زمین بیچ کے یا فراڈ کرکے۔یا پھر دوسرا طریقان سو مالدار بنا ہاں ۔جائز و حلال کمائی سو یہ واہیات پن کہاں ہوسکاہاں؟لیکن ان لوگن کی جہالت نے پوری قوم مصیبت میں گیر راکھی ہے۔بھلائی۔نیکی۔تعمیری کام۔اور بہتر منصوبہ بندی فلاح انسانیت کا بارہ میں ان کی سمجھ میں کچھ نہ آوے ہے۔کچھ لوگ بظاہر میو قوم کی اصلاح کو نعرہ لگاواہاں۔جہیز پے لمبا چوڑا لیکچر دیواہاں۔لیکن جب کوئی آسامی ملے ہے تو بھرپور انداز میں جہیز اور رسومات کی گنگا میں اشنان کراہاں۔بیٹی کی شادی تاج محل میں کراہاں۔اور بیٹی کی شادی کے مارے رائیونڈ یا مسجد ابراہیم میں جاکے سنت ادا کراہاں۔ مکمل مشرع حالت میں منافقت کی زندہ مثال رہوا ہاں۔جہاں دینو پڑے دین اجازت نہ دیوے ہے ۔جب لینا کی باری آوے تو مجبوری اور بہانہ بازی کی ضخیم کتاب لیکے بیٹھ جاواہاں۔فضول و لایعنی باتن کا جواز کی لمبی چوڑی کتاب کھول کے بیٹھ جاواہاں۔جتنو نقصان لیڈر۔مذہبی لبادہ میں ملفوف منافق طبقہ نے قوم کو پہنچائیو ۔شاید ہی کائی نے پہنچائیو ہوئے؟۔
ایسا لوگ جب مرا ہاں تو بتانا کے مارے کچھ بھی نہ رہے ہے۔تو اعلان ہووے ہے۔فلاں کو بھائی۔جانے فلاں سوسائٹی بنائی ہی۔فلاں چیز کو اونر۔آج سچی مانچ مر گو ہے ۔فلاں وقت جنازہ ہے ۔
یامارے بہتر یہی ہے کہ کوئی مشترکہ قومی مفاد والی پالیسی تشکیل دی جائے۔ قومی سطح پے کوئی ایسو منصوبہ بنائیو جائے۔کہ مرن والان سو پیچھے بھی کچھ لوگ ایسا تیار کرا جاواں۔جو جان والان کی جگہ لے سکاہاں۔زندہ قومن کو یہی طریقہ رہے ہے۔
ترقی پزیر یا آگے بڑھن والی قوم، شخصیات کے بجائے نظام تشکیل دیواہاں۔جب ایک مضبوط نظام وجود میں آجاوے ہے تو کائی کامرن ، گرن سو قوم کو فرق نہ پڑے ہے۔
میو قوم میں ایک خاص بیماری کہ قومی سطح کا کام خود کراہاں ،نہ کرن والان کو ساتھ دیواہاں۔ہاں جنازہ اور ختمن میں بروقت پہنچا ہاں،کیونکہ مردہ پرستی اور شخصیت پرستی کوٹ کوٹ کے بھری پڑی ہے۔فضولیات میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیواہاں۔
ریٹائرڈ لوگ تو نفسیاتی طورپے مجبور ہاں کہ خود کرن کے قابل نہ ہاں ۔یائی مارے یہ اداران نے فارغ کراہاں۔
بوڑھان کے پئے کوئی منصوبہ بندی نہ ہے۔
ایک پڑھو لکھو میو جوان، بچو ہے۔یاسو بہتری کی امید ہے۔
قانون قدرت ہے جب کائی کام کو ارادہ کرلیوے ہے۔تو واکا اسباب و حالات پیدا کردیوے ہے۔کائی سو بھی کام لے سکے ہے۔
سوچن والی بات ای ہے کہ وا انتخاب میں ہمارو یا تہارو نام موجود ہے کہ نہ ہے۔اگر اللہ کائی سو کام لے رو ہے تو وائے شکر کرنو چاہے کہ اللہ نے واسو کام لئیو ہے۔اگر قدرت کائی دوسرا سو کام لیوے ہے تو سوچنو چاہے کہ میں یاانتخاب سو کیوں محروم رہو۔؟۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme