
جنازہ کو کندھا دینا سو پہلے بھی آجائو۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
نوں تو دنیا حادثات سو بھری پڑی ہے ۔زندگی میں اتار چڑھائو،اونچ نیچ زندگی کو حصہ ہے۔حادثات ہوتا آیا ہاں۔ہوراہاں اور ہوتا رہینگا۔
زندگی یائی چیز کو نام ہے۔
میو برادری کا سوشل میڈیا گروپس۔سوشل میڈیا۔بینر ز اور پوسٹن نے دیکھ کے ایسے لگے ہے کہ میو

قوم کے ساتھ بہت زیادتی ہوری ہے۔
میو بہت مظلوم ہے /کہیں کوئی قتل ہورو ہے۔یا کوئی فوت ہورو ہے تو تعزیت کی پوسٹ بناکے شئیر کری جاری ہاں۔
کہیں کوئی لڑائی جھگڑ ا ہے تو وائے۔قومی مسئلہ۔یا مظلوم و ظالم کا قضیہ کے طورپے دیکھاہاں۔۔
یا سلسلہ کا دو پہلو ہاں
(1) ۔ایک خوش کُن ہے۔کہ میو قوم میں بیداری اور ہمدردی کی لہر آری ہے۔
ایک دوسرا سو تعلق مضبوط ہورو ہے۔میو قوم کا باشندہ ایک دوسرا کا درد۔اور ایک دوسرا کی مشکل گھڑی میں آواز بلند کرن لگی ہے۔
ایک کونہ سو لیکے دوسرا کونہ تک مظلوم یا ضرورت مندن کی آواز پہنچے ہے۔
ای سوشل میڈیاجدید دور کو پینو اور گھاتک ہتھیار ہے،جائے چلاتے آگو ۔واکا کام ہوتو رہینگا۔
(2)حقیقی و سچی ہمدردی ای ہے کہ کوئی ایسو نظام تربیب دئیو جائے،کہ جنازہ کا کندھا دینا سو پہلے ہی مظلوم یا ضرورت مندن کی مدد کو پہنچنا کو بندوبست کرو جائے۔
غریب یا ضرورت مند کا نقصان ہونا سو پہلے ہی مدد کرن کو انتظام کرو جائے۔
یا میں شک نہ ہے کہ جاکو اللہ نے زندگی دی ہے وائے ایک نہ ایک دن جانو ضرور ہے۔
لیکن جو جیواہاں ان کے مارے ایسو نظام بنائیو جائے کہ وے عدم تحفظ کی زندگی سو باہر آکے اطمنان والی زندگی جی سکاہاں۔

کچھ لوگن نے جنازہ کو کندھا دینا سو پہلے مظلوم یا ضرورت مندن کے گھرن میں پہنچنو پڑے گو۔
اتنی بڑی قوم میں ایسو نظام ہونو چاہے۔کہ ضرورت مند اپنی ضرورت اے میو قوم کا پلیٹ فارم پے لاکے اپنی ضرورت کی تکمیل کرسکے۔
وٹس ایپ گروپس۔فیس بک۔ٹیوٹر(ایکس)۔انسٹا گرام کے علاوہ بھی دیگر سوشل میڈیاز پے ہمدردانہ پوسٹ پے جذبات و اپنایت کے مارے جو کمنٹس اور لائک و شئیر آواہاں۔اُن سو اندازہ ہووے ہے کہ ہمدردن کی کافی بڑی تعداد موجود ہے۔
میو قوم کو یا وقت قدرت نے جو وسائل اور پوزیشنز دی ہاں شاید ہی کائی قوم کو اتنی ساری سہولیات میسر ہوواں۔
میو قوم کا لوگ۔مالی لحاظ سو مضبوط۔زمیندارہ۔چوہدر۔بیوپاری۔علماء۔ایکسپورٹ و امپوٹ۔صحافت۔ایڈیٹر۔لکھاری،مورخ۔۔آرمی سو لیکے سیول ادارہ۔کاروبار۔شعبہ تعلیم ۔سیاست۔ جوڈیشری ۔انتظامیہ۔بیورو کریسی۔رئیل اسٹیٹ۔ڈاکٹرز۔فزیشن۔پی ایچ ڈی۔ریسرچر۔انڈسٹریل۔مارکٹنگ۔لائرز۔ایسوسی ایٹ پروفیسرز ۔لیکچرار ۔اساتذہ۔ موٹیویشنل سپیکر۔اینکرز۔وغیرہ میں موجود ہاں۔تم کہیں بھی چلا جائو۔کائی بھی محکمہ میں دیکھ لئیو کہیں نہ کہیں میو بیٹھو دکھائی دئے گو۔
اگر میو موجود نہ بھی ہوئیو۔تو کائی نہ کائی میو کی ہوں تک رسائی ہوئے گی۔
میو تعلیم کا لحاظ سو بہت آگے پہنچا ہویا ہاں ۔دیگر بردارین سو کہیں بہتر زندگی گزار راہاں۔
اتنی ساری نعمتن کے باوجود اگر میو قوم کا لوگ رونا دھونا والی پوسٹن نے کراں تو ۔یاسو خدا کی ناشکری ای کہہ سکاہاں۔
کفران نعمت بہت بڑو عذاب یا آزمائش رہوے ہے۔
ہاتھ جوڑا کی بنتی ہے کہ میو م اے ۔سوشل میڈیا سو پھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے۔
کوئی عملی اقدام ایسو کرنے پڑے گو،جو ذاتیات سو بالا تر ہوکے میو قوم کی امیدن کو سہارو بن سکے۔میو قوم کی امید بن سکے۔
نادارن کی مالی امداد۔کاروبار۔ملازمت،حصول انصاف۔نئی پود کے مارے تعلیم و روزگار۔ملازمتن کا حصول میں معاونت۔
تھانہ کچہرین میں داد رسی۔جیسی چیزن پے کام ہونو چاہئے۔
یاکے مارے کوئی لمبی چوڑی فنڈنگ یا منیجمنٹ کی ضرورت نہ ہے۔کائی نیا سٹریکچر کی فکر نہ ہے۔جو جہاں ہے جیسے ہے کہ بنیاد پے اپنے سو متعلقہ کام کردئے۔
اپنا محکمہ یا اپنی فیلڈ کے مطابق جو ممکن ہوئے قانون کا دائرہ میں رہتے ہوئے۔ضرورت مندن کی ضرورت پوری کردئے۔
ای روپیہ پیسہ۔وسائل سو زیادہ سوچ بدلنا کی وجہ سو ممکن ہوسکے گو۔مثلا ایک مظلوم ہے تھانہ چوکی والو قانون کے مطابق واکی مدد کردئے۔
کچہری میں برادری کا آدمی کے مارے تھوڑی سی ہمت کردئے۔یعنی جو جہاں ہے جیسو ہے کی بنیادپے ایک ایسو نظام قائم ہوسکے ہے
کہ جائے وقت کی حکومت بھی نہ کرسکے ہے۔
دوسران کی باٹ دیکھ کے بجائے خود سو آگے بڑھ کے اپنو کام سنگوا لئیو۔
یائے اپنی ذؐہ داری بنا لئیو،کوئی شکرئی ادا کرے نہ کرے ،کوی پیسہ دئے یا نہ دئے۔جو کام کرسکوہو،کرتا جائو۔
جب کام برادری۔قوم اور ملک کے مارے کرنو ہے،تو اخلاص کی بنیا دپے اجر اللہ سو لینو ہے۔
سمجھ میں نہ آوے ہے کہ لوگن کا ذہن میں سو چوہدر اور ٹانگ کھنچائی کے بجائے،اپنایت اور خدمت کو جذبہ کد ابھرے گو؟۔
۔بھائی نیکی کو موقع مل جانو ای سب سو بڑی بات ہے ۔یاسو بھی زیادہ اہم بات ای ہے کہ کائی کو یا موقع سو فائدہ اٹھا نا کی توفیق مل جائے۔
کچھ لوگ ذہنی مریض رہواہاں ۔اُنن نے کرنو دھرنو کچھ نہ ہے ،بس ان کے مارے چوہدر کی کرسی ہونی چاہے۔
تو ایسا لوگ بھی قوم کا حصہ رہواہاں۔پریشانی ضرورت نہ ہے ،یہ جب تک ای ہاں ۔
جب تک خدمت کرن والا میدان عمل مین نہ آراہاں ۔جادِن خدمت کو جذبہ جاگ اٹھو ۔ایسان کی سانس خود ہی بند ہوجانگی۔
