
آگے بڑھوگا یا ایسے ہی بیٹھا رہوگا؟
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
فطری قانون ہے ترقی ہوئے یا تنزلی کے مارےموجودہ جگہ چھوڑنی پڑے ہے ۔ پاکستان بنےایک کم اسی سال ہوچکا ہاں۔میو قوم نے بہت سی اُونچ نیچ دیکھی ہاں،میو قوم نے پاکستان کی سر زمین میں اپنو وجود بہت مشکل سو منوائیو ہے۔آج بھی بہت سی مشکلات ہاں،جو مختلف میدانن میں پیش آری ہاں۔
ہر قوم و ملک میں کچھ طبقہ ایسو بھی رہوے ہے جو مالی لحاظ سو آسودہ رہوے ہے۔وسائل ان کے پئے رہوا ہاں۔ان کی کوشش یہی رہوے ہے کہ جو کچھ جہاں ہے جیسے ہے، برقرار رہے۔غریب ۔ان پڑھ لوگن کو ایک طبقہ موجود رہنو ان کی بقا کے مارے ضروری ہے ۔کیونکہ یہی پسماندہ طبقہ یاسیاسی لحاظ سو زندہ باد مردہ باد کا نعرہ لگانا والا لوگن کی ضرورت رہوا ہاں۔ان لوگن کا جذبات امیر اور ۔عہدان پے بیٹھا لوگن کے مارے اثاثہ اور قابل فروخت جائیداد رہوا ہاں۔
یہ وے گیدڑ پٹا(رسید) رہوا ہاں ،جن کی موجودگی ان کی سرداری یا چوہدر کی ضمانت رہوے ہے۔

یامارے ایسا لوگن کے مارے نظام کُہن موجودگی ان کی بقا کی ضمانت ہے۔
یا نظام کو ٹوٹنو پرانی چوہدر کی موت ہے۔یامارے موجودہ بھمیا یا سردارن نے میو قوم سو گھنو یا نظام کی حفاظت کی ضرورت ہے۔کیونکہ قوم سو جتنو فائدہ جہالت یا موجودہ حالت سو اُن کو

پہنچے ہے اتنو فائدہ قوم کی ترقی یا بہتری آنا سو نہ پہنچ سکے ہے،
یا وقت میو قوم کا نام پے جو کچھ موجود ہے یا میں کچھ لوگ جدوجہد میں لگاہویا ہاں ای ایسے ہی برقرا رہے۔یا کو زندہ ثبوت ای ہے کہ جماعت ہوواں یا میو قوم کا نام پے بنی ہوئی تنظیم ،گروپس۔ان کی ترجیحات قوم سو گھنی۔ذاتی مفاد یا انا کی تسکین رہوے ہے ۔ جماعت یا ادارہ تو الگ رہا ۔وٹس ایپ گروپس میں بھی ایسا قواعد و ضوابط لاگو ہوچکا ہاں ایڈمن کی مرضی کے بنا ایک پوسٹ لگانو بھی ممکن نہ ہے۔جو مرضی کے خلاف ہوئے ۔ پالیسی کی خلاف ورزی کہہ کے ڈیلیٹ کردی جاوے ہے۔کدی مدی تو گروپ سو ریمو کو صدمہ بھی برداشت کرنو پڑے ہے۔
راقم الحروف کے نزدیک یہ واٹس ایپ گروپ کے بجائے چھوٹی چھوٹی مسجد یا مقدسات ہاں جن میں بغیر وضو داخلہ ممنوع ہے۔
رہی بات جماعتن کی تو ان میں ایک لگو بندھو نظام رائج ہے جو دھڑا بندی پسند ،ناپسند کی بنیاد پے پے چل رو ہے۔میو قوم کا مفادات۔جوانن کے مارے ترجیحات۔فلاح و بہبود کے مارے جدوجہد سب خواب و خیال ہاں ۔۔ایک مسجد مدرسہ سکول سو لیکے معاشرت معیشت۔سیاست۔سب جگہ ای تعفن موجود ہے۔
جب مفاد پرست لوگ بند کمران میں بیٹھ کے اپنی بقا اور مفادات کا تحفظ کے مارے فیصلہ کراہاں۔تو ان کو اعلان کچھ یا قسم کو رہوے ہے۔میو قوم کا بڑان نے ای فیصلہ کرو ہے۔وے بڑا کون رہواہاں ۔یہی مفاد پرست ٹولہ۔
کدی مدی جماعتن مین الیکشن بھی ہوواں ہاں۔یہ الیکشن یا بنیاد پے نہ کروایا جاواہاں کہ قوم کو فائدہ پہنچائیو جائے۔بلکہ اپنے دھڑا کی مضبوطی۔اور اپنے مرضی کا لوگ آگے لانا کے مارے کروایا جاواہاں ۔یا کو بہترین ثبوت ای ہے جو نظام پچاس سالن سو زیادہ عرصہ میں میو قوم کو کچھ نہ دے سکو۔آگے چل کے واسو کہا امید کری جاسکے ہے؟
آج کل انجمن اتحاد ترقی میوات۔کا بارہ میں سوشل میڈیا پے پوسٹن کی بھرمار ہے۔ای ایک ہوا چل پڑی ہے۔باقی جو نظام چلتو آئیو ہے ۔آگے بھی ایسے ہی چلے گوکیونکہ پالیسیز وہی ہاں ۔طریقہ وہی ہے۔لوگ وہی ہاں پھر تبدیلی کی امید یا بدلائو کی آس لگانو ایسے ای ہے جیسے ۔بُسا لگان سو بہترین ذائقہ کی امید لگانو۔
جب تک پاوں کی مانٹی نہ چھوڑو گا۔پسند و ناپسند کی جگہ قومی مفاد مین فیصلہ نہ کرو ۔ایک اینچ بھی آگے نہ بڑھ سکو گا۔
دنیا میں معجزاتی تبدیلی آچکی ہاں ۔ضروریات کی تکمیل جدید سہولیات کی بنیاد پے کری جاری ہاں ۔ہمارئی قوم کا نصیب کہ ۔کنواں کا مینڈک پگڑین میں بھر راکھاہاں ۔جو پانی اے دیکھتے ای ٹران لگ پڑا ہاں ۔اُنن نے کوئی فکر نہ ہے کہ ای پانی پاک ہے ۔یا ناپاک ہے ۔جب تک جدید تقاضان کے مطابق پالیسیز ترجیحات میں شامل نہ کری جانگی۔وا وقت تک زندہ باد مردہ باد کا نعرہ تو ملوک لگ سکاہاں ۔لیکن آگے بڑھنو ممکن نہ ہے۔
