انسانی صلاحیت و مومن کی فراست

0 comment 9 views

انسانی صلاحیت و مومن کی فراست
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

Advertisements

سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
(یہ ہماری کتاب“جادو اور جنات کا طبی علاج”نامی کتاب سے اقتباس ہے ،جو پندرہ سال پہلے لکھی گئی تھی۔مصنف نے نظر ثانی کی ہے۔جدید اے آئی کی مدد سے اپنے مزید 15سالہ تجربات بھی شامل کردئے ہیں۔جادو جنات یا پھر توہمات میں جڑے ہوئے سوالوں کے جوابات مدلل انداز میں دئے گئے

ہیں۔)
جنات سے انسانی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس کے خمیر میں شروع دن ہی سے اللہ نے علوم کے جذب کرنے کی صلاحیت ودیعت کردی تھی۔قران کریم کے بیان مطابق انسان کو سب سے پہلا سبق ہی علم الاسما القاء کیا تھا۔اس کی جسمانی و روحانی صلاحیت اس قابل ہوتی ہے اپنی ضرورت کی چیزوں کا ادراک کرسکے۔فراست ایک انمول تحفہ خدا وندی ہے اس پر تفصیل تو ہم کسی دوسری کتاب میں کردی ہے اس جگہ کچھ باتیں ہدیہ قارئین ہیں۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مومن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ ) 15 الحجر : 75) (بےشک اس واقعہ میں اہل بصیرت کے لیے کئی نشانیاں ہیں) بعض علماء نے اس حدیث کی تفسیر میں کہا ہے کہ متوسمین کے معنی فراست والوں کے ہیں۔ سنن الترمذي ت شاكر (5/ 298)
ارشاد فرمایا کہ ہر قوم کی فراست ہے اس کو اس کے اشراف پہچانتے ہیں ضعیف الجامع 939 اکشف الخفاء 80) کنزالعمال:جلد ششم:حدیث نمبر 365 ٍ
۔ ارشاد فرمایا کہ مسلم کی بددعا اور اس کی فراست سے بچو۔ حلیة الاولیا بروایت لوبان۔ کنزالعمال:جلد ششم:حدیث نمبر 401
نْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ «اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ» يُرِيدُ الْعَالِمَ الْفَاضِلَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، [ص:678]جامع بيان العلم وفضله (1/ 677) یعنی اس حدیث سے مراد عالم و فاضل کی نگاہ ہے۔اس بارہ میں حضرت شاہ ولی اللہ کا حوالہ مناسب رہے گا۔امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:ظاہری اعمال باطنی اعمال کا عکاس ہوتے ہیں۔اگر اندر اصلاح یا فساد ہوگا تو اس کے ظاہری اعمال سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔اگر کسی کے باطن کو دیکھنا ہوتو ظاہری اعمال سے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔فيض القدير (2/ 558)
حضرت ملا علی القاری لکھتے ہیں: وَالْفَرَاسَةُ عِلْمٌ يَنْكَشِفُ مِنَ الْغَيْبِ بِسَبَبِ تَفَرُّسِ آثَارِ الصُّوَرِ، «اتَّقَوْا فَرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ» فَالْفَرْقُ بَيْنَ الْإِلْهَامِ وَالْفِرَاسَةِ أَنَّهَا كَشْفُ الْأُمُورِ الْغَيْبِيَّةِ بِوَاسِطَةِ تَفَرُّسِ آثَارِ الصُّوَرِ، وَالْإِلْهَامُ كَشْفُهَا بِلَا وَاسِطَةٍ، وَالْفَرْقُ بَيْنَ الْإِلْهَامِ وَالْوَحْيِ أَنَّهُ تَابِعٌ لِلْوَحْيِ مِنْ غَيْرِ عَكْسٍ، ثُمَّ عِلْمُ الْيَقِينِ مَا كَانَ مِنْ طَرِيقِ النَّظَرِ وَالِاسْتِدْلَالِ،وَعَيْنُ الْيَقِينِ مَاكَانَ بِطَرِيقِ الْكَشْفِ وَالنَّوَالِ،وَحَقُّ الْيَقِينِ مَا كَانَ بِتَحْقِيقِ الِانْفِصَالِ عَنْ لَوْثِ الصَّلْصَالِ لِوُرُودِ رَائِدِ الْوِصَالِ۔مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (1/ 280)
اسی طرح جامع الصغیر کی شرح میں لکھا ہے۔فراست کے دو معنی لئے جاتے ہیں۔ایک یہ جس پر ظاہری حدیث دلالت کرے،جو اللہ نیک لوگوںکے دلوں میں القاء کرتا ہے ،اس فرست کی مدد سے لوگوں کے کچھ احوال کان سکتا ہے،یہ کرامات کی قبیل سے ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ انسان اپنے تجربات اور زندگی کے معاملات میں مہارت کی بنیاد پر وہ بہت سی باتوں کو سمجھ لیتا ہے جو غیر تجربہ کارلوگوں کی سمجھ میں نہیں آیا کرتیں۔آپ لوگوں کی لکھی ہوئی کتب میں ان کے نظائر دیکھے جاسکتے ہیں۔۔التنوير شرح الجامع الصغير (1/ 346)اگر کوئی کشف یا فراست پر عبور حاصل کرنا چاہے تو اس کی باقاعدہ مشقیں ہیں، کتب صوفیاء کرام۔ہپناٹزم۔ وغیرہ میں اس کی صراحت موجود ہے۔کشف اور وقائع آئندہ کا سراغ لگانا بنیادی طورپر انسانی صلاحیت کا ایک پہلو ہے لیکن عوام اور جہلاء نے اپنے مفاد کی خاطر اسے جنات کی طرف منسوب کردیا ہے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme