
عرض ناشر
امام اعظم ابوحنیفہ حضرت نعمان بن ثابت کوفی (۵۱۵۰/۸۰) امام دار الحجرة حضرت مالک بن انس اسمی (۱۷۹/۵۹۳ھ) حضرت امام محمد بن اور پس شافعی (۲۰۴/۰۱۵۰ھ) اور حضرت امام احمد بن حنبل شیبانی بغدادی علیہم الرحمة والرضوان پوری دنیا کے مسلمانوں کے امام و مقتدی ہیں۔ ان میں ہر ایک کی زندگی دین داری کا آئینہ دار تھی، چین کے لیے دنیا داری یا دنیا سے رغبت وائسیت میدان کا نہ صرف یہ کہ قول کرنا بلکہ سوچنا بھی غلط اور بے بنیاد بات ہے کیوں کہ ان میں سے ہر کوئی مہ شریعت و طریقت اور تصوف و معرفہ اور تصوف و معرفت کا مشہور تھا، یہ الگ بات ہے کہ ان کی شناخت اور پہچان فقیہ و مجتہد کی حیثیت سے ہوتی ہے۔
اس تناظر میں صاف ہے کہ ان کی زندگی کا پہلو ہے لیموں میں ہے تو ظاہر ہے کہ ان کی تحریروں اور تقریروں کو کتابی شکل میں آسان و پرکشش زبان اور لب و لہجے میں پیش کرنا، ان کی طباعت و اشاعت جہاں عوام وخواص کے لیے نہایت مفید ہے وہیں ان کی بارگاہوں میں خراج عقیدت بھی ہے۔ اس دلیے ہمارے چند احباب نے یہ مشورہ دیا کہ مذاہب اربعہ حقی، مالکی، شافعی اور حنبلی کے اہمہ کرام میں سے ایک بزرگ حضرت امام احمد بن حنبل شیبانی کی طریقت افروز معیاری غربی کتاب الزہر کا ترجمہ ہم اپنے مکتبہ امام اعظم سے طبع کرا کے شائع کریں، ہم اپنے اُن کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اس کی کمپوزنگ شروع کر دی اور بموقع عرس رضوی منظر عام پر لانے میں کامیاب ہو گئے بات حضرت امام احمد بن حنبل شیبانی بغدادی علیہ الرحمۃ والرضوان کی یہ معروف و مقبول اور منفرد کتاب شائع کر کے ہم اپنی خوش بختی پر نازاں ہیں اور شکر گزار ہیں کہ خدا تعالی نے ہمیں یہ توفیق
بخشی ۔ ہم ایسے ادارہ پیغام القرآن لاہور کے شکریہ کے ساتھ شائع کر رہے ہیں۔ اس کتاب کی کمپوزنگ، پروف ریڈنگ اور تزئین و ترتیب میں جن احباب نے بھی تعاون کیا، ہم اُن کے شکر گزار ہیں اور قار ہیں اور قارئین سے عرض گزار ہیں کہ جو غلطیاں در آئیں ہوں ، وہ ہماری ہیں، ان سے ہمیں اطلاع فرمائیں تا کہ آئندہ طباعت میں اس کی اصلاح وصیح ہو سکے ای
ثلة بد با اداره است
رد نکته امام اعظیم و عالی –
