محمد بن قاسم سے پہلے سندھ پر عرب حملے

0 comment 6 views

محمد بن قاسم سے پہلے سندھ پر عرب حملے
کاوش: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی

Advertisements

چچ نامہ، البلاذری اور بعد کے مؤرخین کا تقابلی مطالعہ

اس سوال کا ایک لفظی جواب—مثلاً ’’چھ حملے‘‘، ’’آٹھ حملے‘‘ یا ’’چودہ حملے‘‘—تاریخی طور پر مکمل درست نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ بعض مؤرخین صرف موجودہ سندھ کے اندر ہونے والی فوجی کارروائیوں کو شمار کرتے ہیں، جبکہ بعض مکران، قیکان، دیبل، تھانہ اور بھڑوچ کی تمام بحری و بری مہمات بھی ’’سندھ پر حملوں‘‘ میں شامل کردیتے ہیں۔

مختصر اور محتاط نتیجہ یہ ہے:

محمد بن قاسم سے فوراً پہلے حجاج بن یوسف نے سندھ کے خلاف دو باقاعدہ ناکام فوجی مہمات بھیجیں۔
البتہ عہدِ فاروقی سے محمد بن قاسم تک سندھ، مکران اور سرحدی علاقوں کی تمام مہمات شمار کی جائیں تو تعداد ماخذ اور تعریف کے مطابق تقریباً 10 سے 14 بنتی ہے۔
صرف چچ نامہ میں واضح طور پر بیان کردہ بڑی فوجی مہمات کو الگ الگ شمار کیا جائے تو تقریباً 7 سے 8 مہمات سامنے آتی ہیں۔


1۔ چچ نامہ کا بیان

چچ نامہ، جسے فتح نامۂ سندھ بھی کہا جاتا ہے، موجودہ فارسی صورت میں علی بن حامد کوفی نے 613ھ/1216ء کے بعد مرتب کیا۔ مصنف کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسے ایک قدیم عربی کتاب سے فارسی میں منتقل کیا تھا۔

پہلی بحری مہم: مغیرہ کی دیبل آمد

چچ نامہ کے مطابق حضرت عمرؓ کے زمانے میں عثمان بن ابی العاص ثقفی نے ایک بحری لشکر اپنے بھائی مغیرہ بن ابی العاص کی قیادت میں دیبل بھیجا۔ دیبل کے حاکم نے مقابلہ کیا اور چچ نامہ کے مطابق مغیرہ لڑتے ہوئے مارا گیا۔

حوالہ:
علی بن حامد کوفی، چچ نامہ/فتح نامۂ سندھ ، ترجمہ مرزا قلیچ بیگ، کراچی، 1900ء، ص 57–58۔

لیکن اس روایت میں زمانی اشکال موجود ہے۔ چچ نامہ اس واقعے کو 11ھ سے منسوب کرتا ہے، حالانکہ 11ھ میں حضرت ابوبکرؓ خلیفہ تھے، حضرت عمرؓ نہیں۔ اسی طرح البلاذری کے مطابق مغیرہ دیبل میں قتل نہیں ہوئے بلکہ کامیاب واپس آئے تھے۔ اس لیے اس واقعے کی تاریخ اور انجام دونوں میں اختلاف ہے۔


حضرت عثمانؓ کے زمانے میں جاسوسی یا سروے

حضرت عثمانؓ نے عبداللہ بن عامر کو سندھ کی صورتِ حال معلوم کرنے کا حکم دیا۔ عبداللہ بن عامر نے حکیم بن جبلہ عبدی کو حالات معلوم کرنے بھیجا۔

حکیم بن جبلہ نے واپس آکر سندھ کے متعلق مشہور رپورٹ دی کہ:

پانی کم اور خراب ہے؛
پھل ناقص ہیں؛
زمین سخت اور شور زدہ ہے؛
تھوڑا لشکر تباہ ہوجائے گا؛
بڑا لشکر بھوک سے مرجائے گا۔

اس رپورٹ کے بعد حضرت عثمانؓ نے بڑی فوجی مہم روک دی۔

حوالہ:
چچ نامہ ، ترجمہ مرزا قلیچ بیگ، ص 58–60۔
احمد بن یحییٰ البلاذری، فتوح البلدان ، باب فتح السند، انگریزی ترجمہ Francis Clark Murgotten، The Origins of the Islamic State ، جلد دوم، نیویارک، 1924ء، ص 210–211۔

یہ فوجی حملہ نہیں بلکہ فوجی سروے یا معلوماتی مہم تھی، اس لیے اسے حملوں کی تعداد میں شامل کرنا درست نہیں۔


حضرت علیؓ کے زمانے کی مہم

چچ نامہ کے مطابق حضرت علیؓ کے عہد میں ایک عرب لشکر مکران سے آگے قیکان/کیکانان تک پہنچا۔ ابتدا میں اسے کامیابی اور مالِ غنیمت حاصل ہوا۔ بعد میں مقامی مزاحمت کا سامنا ہوا۔

روایت میں سپہ سالار کا نام مختلف نسخوں میں حارث بن مرہ عبدی یا اس سے ملتے جلتے انداز میں آیا ہے۔

حوالہ:
چچ نامہ ، ص 60–61۔
ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ ، حوادث 38ھ اور 42ھ۔
البلاذری، فتوح البلدان ، باب فتح السند، ص 211–212۔

یہاں قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ قیکان کو کبھی سندھ اور کبھی مکران و بلوچستان کی سرحدی پٹی میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے ’’سندھ کے اندر حملہ‘‘ کہنا محلِ نظر ہے۔


2۔ حضرت معاویہؓ کے عہد کی مہمات

چچ نامہ عہدِ معاویہ میں سندھ اور اس کے مغربی سرحدی علاقوں کی متعدد مہمات بیان کرتا ہے۔

1۔ عبداللہ بن سوار یا عبداللہ بن سواد کی مہم

چچ نامہ کے مطابق حضرت معاویہؓ نے تقریباً چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ عبداللہ بن سوار عبدی کو قیکان کی طرف بھیجا۔ ابتدا میں عرب لشکر کو کامیابی ملی، لیکن بعد میں پہاڑی درّوں میں شدید مزاحمت ہوئی اور سپہ سالار مارا گیا۔

حوالہ:
چچ نامہ ، ص 61–63۔
البلاذری، فتوح البلدان ، ص 212–213۔

چچ نامہ کے بعض نسخوں میں نام ’’عبداللہ بن سواد‘‘ ہے، جبکہ البلاذری میں ’’عبداللہ بن سوار عبدی‘‘ ملتا ہے۔


2۔ سنان بن سلمہ کی مہم

عبداللہ کے بعد سنان بن سلمہ ہذلی کو کمان دی گئی۔ اس نے مکران اور بعض سرحدی مقامات پر عرب اقتدار قائم کیا۔ بعد میں وہ بدھ/بودھیہ کے علاقے میں مارا گیا۔

حوالہ:
چچ نامہ ، ص 63–66۔
البلاذری، فتوح البلدان ، ص 213–214۔

بعض روایات میں سنان کے دور کو ایک علیحدہ حملہ نہیں بلکہ عبداللہ بن سوار کی مہم کا تسلسل شمار کیا گیا ہے۔ تعداد میں اختلاف کی ایک وجہ یہی ہے۔


3۔ راشد بن عمرو کی مہم

معاویہؓ کے حکم پر راشد بن عمرو جدیدی سندھ کی سرحد کی طرف روانہ ہوا۔ اس نے قیکان اور اطراف سے خراج وصول کیا، مالِ غنیمت حاصل کیا، لیکن واپسی میں پہاڑی قبائل سے لڑتے ہوئے مارا گیا۔

حوالہ:
چچ نامہ ، ص 64–65۔

البلاذری، فتوح البلدان ، ص 213–214۔

4۔ سنان بن سلمہ کی دوبارہ تقرری
راشد کی وفات کے بعد سنان بن سلمہ کو دوبارہ کمان دی گئی۔ چچ نامہ کے مطابق وہ متعدد مقامات پر غالب آیا، لیکن بودھیہ میں بغاوت کے دوران مارا گیا۔

اگر دونوں تقرریوں کو دو الگ فوجی مہمات سمجھا جائے تو تعداد بڑھ جاتی ہے؛ اگر انہیں ایک مسلسل سرحدی انتظام سمجھا جائے تو ایک ہی شمار کیا جائے گا۔

5۔ منذر بن جارود کی مہم
بعد میں منذر بن جارود عبدی کو سندھ کی سرحد کی طرف بھیجا گیا۔ چچ نامہ کے مطابق وہ برذ/بوربی کے مقام پر بیمار ہوا اور وفات پاگیا۔ اس لیے اسے مکمل جنگی حملہ کہنا درست نہیں۔

حوالہ:
چچ نامہ ، ص 65–66۔

البلاذری، فتوح البلدان ، ص 214۔

3۔ حجاج بن یوسف کی ابتدائی کارروائیاں
چچ نامہ میں حجاج کے دور میں پہلے سعید بن اسلم کلابی اور پھر مجاعہ بن سعر کے مکران میں تقرر کا ذکر ہے۔ ان کی اصل ذمہ داری مکران کا انتظام، خراج اور سرکش عرب قبائل خصوصاً علافیوں کا تعاقب تھی۔ انہیں سندھ پر باقاعدہ حملوں میں شمار نہیں کرنا چاہیے۔
حوالہ:

چچ نامہ ، ص 67–69۔

4۔ جہازوں کا واقعہ اور دیبل پر ناکام مہم
چچ نامہ کے مطابق سراندیب—موجودہ سری لنکا—سے آنے والے جہاز دیبل کے قریب بحری ڈاکوؤں نے لوٹ لیے۔ حجاج نے راجہ داہر سے قیدیوں اور سامان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ راجہ داہر نے جواب دیا کہ بحری ڈاکو اس کے قابو میں نہیں۔
اس کے بعد حجاج نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے فوجی کارروائی کی اجازت مانگی۔
چچ نامہ کے مطابق بُدَیل کی مہم
چچ نامہ میں حجاج کی طرف سے بُدَیل بن طہفہ/بُدَیل سلمی کی مہم کا ذکر ہے۔ بدیل بحری راستے سے نیرون اور پھر دیبل کی طرف بڑھا۔ راجہ داہر کے بیٹے جیسینہ نے مقابلہ کیا۔ بدیل کا گھوڑا ہاتھیوں سے بدک گیا اور بدیل جنگ میں مارا گیا۔
حوالہ:
چچ نامہ ، ص 70–73۔

اس کے بعد حجاج نے محمد بن قاسم کو سندھ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

5۔ البلاذری کا بیان: دو ناکام مہمات
البلاذری کا بیان یہاں چچ نامہ سے مختلف اور زیادہ مختصر ہے۔ اس کے مطابق حجاج نے محمد بن قاسم سے پہلے یکے بعد دیگرے دو لشکر بھیجے:
پہلی مہم: عبیداللہ بن نبہان
حجاج نے پہلے عبیداللہ بن نبہان سلمی کو دیبل بھیجا۔ اسے شکست ہوئی اور وہ جنگ میں مارا گیا۔

دوسری مہم: بدیل بن طہفہ

اس کے بعد بدیل بن طہفہ بجلی کو بھیجا گیا۔ بدیل بحری راستے سے دیبل کے قریب پہنچا، مگر راجہ داہر کے بیٹے سے مقابلے میں مارا گیا۔

تیسری اور کامیاب مہم: محمد بن قاسم

ان دونوں شکستوں کے بعد حجاج نے محمد بن قاسم کو چھ ہزار شامی سپاہیوں، اونٹ سواروں اور منجنیقوں کے ساتھ روانہ کیا۔

حوالہ:
البلاذری، کتاب فتوح البلدان ، باب ’’فتح السند‘‘؛
Francis Clark Murgotten (trans۔), The Origins of the Islamic State , Part II, Columbia University Press, 1924، ص 215–217۔

لہٰذا:

البلاذری کے مطابق محمد بن قاسم سے فوراً پہلے حجاج کی دو ناکام مہمات ہوئیں: عبیداللہ بن نبہان اور بدیل بن طہفہ کی مہم۔

چچ نامہ عبیداللہ بن نبہان کی مہم کو واضح طور پر بیان نہیں کرتا اور بنیادی طور پر بدیل کی شکست کے بعد محمد بن قاسم کی روانگی بتاتا ہے۔


6۔ چچ نامہ اور البلاذری میں بنیادی اختلافات

معاملہچچ نامہالبلاذری
پہلی بحری مہممغیرہ دیبل پہنچا اور مارا گیامغیرہ کامیاب واپس آیا
حضرت عثمانؓ کا اقدامحکیم بن جبلہ کا معلوماتی سروےاسی نوعیت کی رپورٹ
عہدِ معاویہواقعات نسبتاً تفصیل سےمختصر سلسلۂ مہمات
حجاج کی پہلی ناکام مہمعبیداللہ بن نبہان کا واضح ذکر نہیںعبیداللہ شکست کے بعد مارا گیا
حجاج کی دوسری مہمبدیل کی مفصل شکستبدیل کی شکست کا مختصر بیان
محمد بن قاسم کی مہممفصل مکالموں، خطوط اور جنگی قصوں کے ساتھمختصر، انتظامی اور فوجی خلاصہ

7۔ بعد کے مسلمان مؤرخین نے کیا لکھا؟

ابن الاثیر

ابن الاثیر نے الکامل فی التاریخ میں مکران، قیکان اور سندھ کی ابتدائی مہمات کا ذکر زیادہ تر پہلے عرب مؤرخین، خصوصاً البلاذری، مدائنی اور طبری کی روایات کی بنیاد پر کیا۔ وہ محمد بن قاسم سے پہلے ایک طویل سرحدی کشمکش کو تسلیم کرتا ہے، لیکن حملوں کی کوئی قطعی مجموعی تعداد نہیں دیتا۔

حوالہ:

عزالدین ابن الاثیر، الکامل فی التاریخ ، حوادث 23ھ، 38ھ، 42ھ، 44ھ اور 89–93ھ۔

ابن خلدون
ابن خلدون نے سندھ کی فتح کو اموی توسیع کے وسیع سیاسی تناظر میں بیان کیا، لیکن ابتدائی حملوں کی مفصل تعداد بیان نہیں کی۔ اس کا انحصار زیادہ تر سابقہ عرب تاریخی روایت پر ہے۔
حوالہ:

ابن خلدون، کتاب العبر ، اخبار بنو امیہ، ذکر فتوحاتِ حجاج و محمد بن قاسم۔

مسعودی

المسعودی نے سندھ میں عرب حکومت، منصورہ اور ملتان کا ذکر کیا ہے، لیکن محمد بن قاسم سے پہلے کے ہر حملے کی باقاعدہ فہرست نہیں بنائی۔

حوالہ:
المسعودی، مروج الذہب ، ابوابِ ہند و سندھ۔


8۔ برطانوی دور کے مؤرخین
ایلیٹ اور ڈاؤسن

ایلیٹ اور ڈاؤسن نے البلاذری، چچ نامہ اور دوسرے فارسی و عربی ماخذ کو جمع کرکے یہ نتیجہ دیا کہ محمد بن قاسم کی مہم کوئی اچانک پہلا رابطہ نہیں تھی، بلکہ اس سے پہلے تقریباً پون صدی تک مکران، قیکان اور سندھ کی سرحدوں پر عرب فوجی سرگرمیاں جاری تھیں۔

حوالہ:
H۔ M۔ Elliot and John Dowson, The History of India as Told by Its Own Historians , Vol۔ I, “The Chach Nama” and “Al-Baladhuri”، ص 116–132۔


اسٹینلے لین پول

لین پول نے محمد بن قاسم کی فتح کو سندھ تک محدود ایک عرب فوجی کامیابی قرار دیا، لیکن اس کے اثرات کو نسبتاً کم اہمیت دی۔ جدید محققین اس کی اس رائے کو نوآبادیاتی زاویہ سمجھتے ہیں۔

حوالہ:
Stanley Lane-Poole, Medieval India under Mohammedan Rule , London, 1903، ص 1–13۔


9۔ جدید مؤرخین کی تحقیق

آر۔ سی۔ مجمدار

آر۔ سی۔ مجمدار نے ابتدائی بحری حملوں، مکران کی مہمات، عہدِ معاویہ کی سرحدی کارروائیوں اور حجاج کی دو ناکام مہمات کو ایک مسلسل عرب توسیعی منصوبے کے طور پر دیکھا۔ ان کے ہاں ’’سندھ‘‘ کا مفہوم وسیع جغرافیائی خطے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

حوالہ:

R۔ C۔ Majumdar, “The Arab Invasion of India,” Dacca University Studies , Vol۔ XV, 1931، ص 1–64۔

ڈیرل این میک لین

میک لین کے مطابق سندھ اور عرب دنیا کے روابط محمد بن قاسم سے پہلے موجود تھے۔ وہ حکیم بن جبلہ، سندھی جاٹوں، مکران اور ابتدائی عرب فوجی و سیاسی رابطوں کو اہم سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک محمد بن قاسم کی فتح کو ’’اسلام کی پہلی اچانک آمد‘‘ کہنا تاریخی طور پر سادہ کاری ہے۔

حوالہ:

Derryl N۔ MacLean, Religion and Society in Arab Sind , Brill, Leiden, 1989، خصوصاً ص 9–14، 22–29 اور 126۔

آندرے وِنک
آندرے وِنک مکران کی فتح کو سندھ کی فتح کا ابتدائی مرحلہ قرار دیتا ہے۔ اس کے مطابق مکران، قیکان اور دیبل کی مہمات دراصل عرب خلافت کی مشرقی سمت میں تدریجی توسیع کا حصہ تھیں۔
حوالہ:

André Wink, Al-Hind: The Making of the Indo-Islamic World , Vol۔ I, Brill, 1990، ص 129–131، 192–207۔

منان احمد آصف کی نئی تحقیق
منان احمد آصف نے چچ نامہ کی روایتی حیثیت پر بنیادی سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق:
موجودہ چچ نامہ 13ویں صدی کی فارسی سیاسی و ادبی تصنیف ہے؛
اسے محض آٹھویں صدی کی عربی کتاب کا لفظی ترجمہ سمجھنا مشکل ہے؛
اس میں موجود مکالمے، خطوط، خواب اور طویل تقاریر لازماً عینی تاریخی ریکارڈ نہیں؛
چچ نامہ کو صرف ’’مسلمانوں کی پہلی فتح‘‘ کی کتاب نہیں بلکہ سندھ میں حکومت، مشاورت، انصاف اور سیاسی اخلاق کی 13ویں صدی کی تحریر سمجھنا چاہیے۔
حوالہ:
Manan Ahmed Asif, A Book of Conquest: The Chachnama and Muslim Origins in South Asia , Harvard University Press, 2016، خصوصاً ص 1–16، 26، 38–65 اور 110–112۔
کتاب کا تعارف Harvard/Internet Archive record پر موجود ہے۔


حتمی تاریخی فیصلہ
مختلف دائرۂ شمار کے مطابق جواب یوں ہوگا:
1۔ صرف حجاج کی محمد بن قاسم سے فوراً پہلے بھیجی گئی مہمات:
دو —عبیداللہ بن نبہان اور بدیل بن طہفہ۔ یہ البلاذری کا واضح بیان ہے۔
2۔ چچ نامہ کے اسی آخری مرحلے کے مطابق:
ایک ناکام بڑی مہم—بدیل کی—پھر محمد بن قاسم؛ البتہ چچ نامہ اس سے پہلے کئی سرحدی مہمات بیان کرتا ہے۔
3۔ صرف سندھِ زیریں یا دیبل پر واضح حملے:
ابتدائی دیبل مہم، عبیداللہ کی مہم اور بدیل کی مہم—یعنی تقریباً تین ؛ محمد بن قاسم چوتھا اور کامیاب حملہ شمار ہوگا۔

4۔ مکران، قیکان، بودھیہ اور تمام سرحدی کارروائیاں ملا کر:
کم از کم 10 کے قریب الگ فوجی اقدامات بنتے ہیں؛ بعض جدید سیاسی یا قومی بیانیے انہیں 14 حملے کہتے ہیں، مگر یہ عدد البلاذری یا چچ نامہ کا صریح دیا ہوا مجموعہ نہیں، بلکہ بعد کے مصنفین کی وسیع گنتی ہے۔

اس لیے علمی طور پر سب سے درست عبارت یہ ہوگی:

’’محمد بن قاسم سے پہلے عربوں نے سندھ اور اس کے مغربی سرحدی علاقوں کے خلاف متعدد بحری و بری مہمات کیں۔ البلاذری کے مطابق حجاج بن یوسف کی دو فوری مہمات ناکام ہوئیں، جبکہ تمام ابتدائی سرحدی کارروائیاں شامل کرنے سے تعداد ماخذ اور جغرافیائی تعریف کے لحاظ سے تقریباً دس سے چودہ تک پہنچ جاتی ہے۔‘‘

چچ نامہ-Fathe Nama Sindh Urdu-Kashmir Treasure

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme