
انسان کی قوتِ خیالیہ جنات کی قوتِ خیالیہ میں بنیادی فرق
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
(یہ اقتباس ہماری کتاب:جادو اور جنات کا طبی علاج” سے اہے۔یہ کتاب پندرہ سال پہلے لکھی گئی تھی،اسے حال ہی میں نظر ثانی کرکے طبع کرایاگیا ہے۔جدید اے آئی کی مدد سے بنیادی اور اہم تصاویر شامل کی گئی ہیں)
انسان کی قوتِ خیالیہ جنات کی قوتِ خیالیہ سے زیادہ قوی ہوتی ہے
انسان اور جنات کی قوتِ خیالیہ میں بنیادی فرق یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کی خیالی قوت محدود، تدریجی اور جسمانی حواس کی محتاج ہوتی ہے، جبکہ جنات کے بارے میں اہلِ علم عموماً یہ لکھتے ہیں کہ ان میں تصور و تشکل کی قدرت زیادہ تیز اور وسیع ہو سکتی ہے، اس لیے وہ مختلف صورتیں اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اگر آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے۔کہ سوچنے اور تصورات کی قوت انسان میں زیادہ ہوتی ہے جب کہ جنات میں متشکل ہونے کی رفتار انسان سے زیادہ ہوتی ہے۔انسان سوچ جنات سے زیادہ ہے لیکن لطافت اور قوت متغیرہ کی زیادتی کی وجہ سے جنات اپنا روپ زیادہ سرعت سے بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضرت یہ جو عامل جن کو دفع کردیتے ہیں یہ کس چیز کا اثر ہوتا ہے؟ فرمایا: یہ قوتِ خیالیہ کا اثر ہوتا ہے، اسی کا تصرف ہوتا ہے ۔ عرض کیا کہ اگر وہ جن بھی اپنی قوتِ خیالیہ سے کام لے؟ فرمایا کہ ممکن تو ہے، مگر انسان کی قوت دافعہ کا مقابلہ جِنّ نہیں کرسکتے۔ ان کی قوتِ دافعہ ایسی قوی نہیں ہو تی۔
( اشرف العملیات – صفحہ نمبر: (126
انسانی قوت متخیلہ اور قوت دافعہ جنات سے بڑھی ہوئی ہے۔البتہ قوت پروازاور سرعت تشکیل جنات کی بڑھی ہوئی ہے۔اس کے نظائرہ مختلف مواقع پر ظاہر ہوئے ہیں۔انسانی سوچ اور خیال کی طاقت کو قران کریم نے بھی تسلیم کیا ہے۔اِنَّهٗ فَكَّرَ وَقَدَّرَ 18ۙفَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ 19ۙ اس نے فکر کیا اور تجویز کی۔ یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔ جنات کے بارہ میں ہمیں ایسی کوئی آیت نہیں ملتی۔
اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ میں سے صفت ارادہ بنیادی عقائد میں شامل ہے۔انسان کو اللہ کا نائب ہونے کی وجہ سے یہ صفت عطاء کی گئی ہے ۔صفت ارادہ قوت تخلیق ہے قران کریم میں ہے جب ہم کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو کہتے ہیں “ہوجا”تو وہ ہوجاتی ہے۔انسان اللہ کا نائب ہے اور جو سوچ ا س کے ذہن میں سما جاتی ہے وہ مکمل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یعنی جو بات سوچی جاسکتی ہے وہ وجود میں بھی لائی جاسکتی ہے۔یہی صفت انسان کو جنات سے ممتاز کرتی ہے۔
