
سال بدلا۔ہم بدلے نہ ہماری عادات بدلیں۔
نیا اسلامی1448 سال مبارک ہو۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
آج۔اسلامی تاریخ 01 مُحَرَّم 1448 ہے
بحمد اللہ نیا اسلامی سال شروع ہوچکاہے ۔اہل اسلام کے اس بارہ میں جو پوسٹیں سوشل میڈیا کی زینت بنی ہیں یوں لگتا ہے جیسے پیاسے کو سیرابی میسر آگئی ہو،
خوش آئیند بات ہے کہ ہمیں اپنے نئے پرانے سالوں کاخیال رہتا ہے۔ہر نئی چیز بنیادی طورپر پرانی بنیادی پر استوار ہوتی ہے۔ نیا سال کی آمد اس بات کی گواہی ہے کہ ہم پرانا سال بتا چکے ہیں۔
پچھلے سال بھی یہی مبارکبادوں کا طوفان آیا تھا۔اہل تسنن لوگوں نے یکم المحرم الحرام کو یوم سیدنا شہاد فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے طورپر منانے کی ترغیب دی۔جلسے جلوس ۔سیمنار۔اور

محافل منعقد کئے۔
جب کہ اہل تشیع ،مظلومین کربلا۔سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ۔ودیگر احباب کے نام پر دس محر الحرام تک مجالس۔محافل۔جلسے جلوس۔ماتم ،سبیلیں۔فاتحہ خوانی کا اہتمام کریں گے۔راستوں گلی محلوں چوراہوں پر کربلا کی یاد میں سبیلیں دکھائی دیں گے۔ ہر کوئی اظہار عقیدت کے نت نئے انداز اختیار کرتا ہے۔
فضا کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ اگر کسی کے بارہ میں ذرا سا بھی شبہ ہوجائے کہ وہ ان کی سوچ کے مطابق ان رسومات میں شریک نہیں ہوتا تو۔جو کچھ بن پڑتاہے کرگزرنے کے لئے بھی تیار رہتے ہیں۔
اپنے مسلک و عقیدت کے بارہ میں ،اسے منانا۔اس کی پیروری کرنا ہر کسی کا حق ہے۔وہ خود جس طرح چاہے عقیدت کا اظہار کرے ۔لیکن معاشرتی طورپر اپنے ایمان و عقیدت سے زیادہ دوسروں کے عقیدے اور اعمال کی فکر ہوتی ہے۔
ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں لوگوں کی چھانٹی کرنے میں لگا ہوتا ہے۔کچھ لوگ کپڑوں سے مردم شماری کرتے ہیں کہ فلاں نے فلاں رنگ کا لباس پہنا ہوا ہے ۔لہذا وہ اس گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔۔فلاں نے اس مسلک کے جلسے یا جلوس مین شرکت کی ہے، تو لازما اس سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے بعد معاشرتی طورپر اس کے ساتھ برتائو اسی سوچ کے مطابق کیا جاتا ہے۔
المیہ یہ ہے۔
بات تو سچی ہے لیکن ہے رسوائی کی۔
جس انداز میں شیعہ سنی محرم الحرام کو مناتے یا آمد محرم کو امن و امان کا مسلہ بناتے ہیں ۔ان کا سیدنا عمر اور سیدنا حسین و اہل کربلا رضوان اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔کیونکہ انہیں کم ہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر و سیدنا حسین کو کن اعمال و افعال اور کن فیصلوں وخدمات کی وجہ سے شہید کیا گیا تھا۔
دوسری طرف سیدنا حسین اور اہل بیت اطہار شرکاء کربلا نے کیوں اپنے سروں کا نذرانہ پیش کیا تھا؟۔ان دونوں میںکوئی فرق نہیں ان کا مشترکہ جرم حق کے ساتھ کھڑا ہونا۔باطل سے جھکنے انکار ہی وجہ شہادت تھا۔
کوئی سنی ہے یا شیعہ ان میں ان جیسی صفات ہیں نہ ان جیسے اعمال۔بالخصوص جو لوگ ان دونوں طبقات کی نمائیندگی کرتے ہیں ان میں ان کی صفات جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔
سیدنا عمر ۔وحدت امت،انصاف۔مظلوموں کا ساتھ۔ظالم سے مظلوم کی داد رسی۔قحط میں بھوک برداشت کرنا،کون ناحق اور خدائی احکامات میں اشداء علی الکفار جیسی صفات سے مملو زندگی گزرای۔جب کہ عمر کے نام لیوا۔عملی زندگی میں ان صفات و عادات سے عاری ہیں ۔
ہر ظالم کے ساتھ کھڑا ہونا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔قران کریم و احادیث مبارکہ سے ہر ظالم کی تائید کے لئے از خود پہنچ جاتے ہیں۔ان کے فتوے ہر ظالم کی تائید کے لئے پہلے سے تیار ہوتے ہیں ۔عقائد کی بندر بانٹ مین اپنی بقا سمجھتے ہیں۔
رہے شیعہ لوگ۔
تو امام حسین و اہل بیت اطہار رضوان اللہ پر اپنی عیدت کے مینار قائم کئے ہوئے ہیں ۔لیکن ان کے نام پر جو کچھ کرتے ہیں ۔یا ان کی مظلومیت کی آڑ میں جو گلی محلوں میں دکھائی دیتا ہے ۔یہ حسین کا طرز عمل تو نہ تھا۔معرکہ حق و باطل کربلا کے میدان میںجو تعلیمات تھیں ۔ان دس دنوں میں اس کی کوئی جھلک دکھائی نہیں دیتی۔
کسی کو یہ حق ہرگز نہیں پہنچتا کہ کسی کے ایمان و عقیدت کی پرکھ کرے ۔یہ تو اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔لیکن اعمال ظاہرہ اس قسم کے ہونے چاہیئں کہ جس کا نام لیا جارہا ہے۔اس کی جھلک بھی زندگی میں دکھائی دے۔
عمومی طورپر حاکم وقت یزید کو بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کیا اب وہ حالات وہ مناظر ختم ہوگئے ہیں۔جن کی بنیاد پر اہل کربلا خاک و خون میں لوٹے تھے؟
یا وہ خلافت راشدہ کا نظام فرسودہ ہوچکا ہے جس کا قیام سیدنا عمر کی شہادت کا سبب بنا تھا۔؟
اگر ایسا نہیں ہے تو شیعہ سنی دونوں طبقات کو سوچنا چاہے کہ جس نظام و کاز کے لئے ان دونوں نانا نواسوں نے اپنے سر پیش کئے تھے اس نظام و تعلیمات پر توجہ دیں۔
لیکن اگر اصلاح کا پہلو نکل آئے تو ۔کروڑوں کا بزنس دائو پے لگ سکتا ہے ۔کیا پڑی کہ نظام وتعلیمات کا احیاء کیا جائے۔
