پودوں میں پوشیدہ حکمت اور میرے52 سالہ طبی مشاہدات

0 comment 5 views

Advertisements

پودوں میں پوشیدہ حکمت اور میرے52 سالہ طبی مشاہدات

شفا بخش جڑی بوٹیوں کے اثرات

بحمد اللہ وصلوٰۃ علی  محمد الرسول اللہ خاتم الانبیاء والمرسلین۔وعلی الہ وصحبہ نجوم الہدی۔

اس میں شک نہیں کہ گھریلو طورپر استعمال کی جانے والی اشیاء قدرت کا انمول تحفہ ہیں۔کام و دہن کی لذت سے لیکر علامات و امراض میں شفایابی کے  قدرتی گُن سے مالا ہوتی ہیں۔یہ کم قیمت سہل الحصول ہونے کی وجہ سے کوئی بھی ان سے استفادہ کرسکتا ہے۔غیر طبعی طورپر جس قسم کی علامات ظاہر ہوں دستیاب اشیاء کو کام میں لایا جاسکتاہے۔قدرت کی فیاضی ہے کہ اس نے ان بیش قیمت اشیاء کو فروانی کے سے دیدیا ہے۔جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں ان کے لئے فوائد و شفایابی کے سمندر موجزن دکھائی دیتے ہیں۔اس مختصر کتاب میں گھریلو طورپر روزہ مرہ استعمال کی چیزوں کے بارہ کچھ تجربات۔مشاہدات تحریر کئے جارہے ہیں۔

گوکہ سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کی طر ف سے پہلے بھی کئی کتب۔العقاقیر المیسرہ فی فوائدہ المفردہ۔گھریلو اشیاء کے طبی فوائد۔وغیرہ شرف قبولیت سے ہمکنار ہوچکی ہیں۔اطباء و حکماء اور متعلیق کے یومیہ سوالات۔ان کی الجھنیں۔استفسارات کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ لکھنا پڑتا ہے۔انہیں عبارات شتی کو مصفی کرکے ایک مجموعہ کی شکل میں ہدیہ ناظرین کیا جارہا ہے۔امید ہے یہ کاوش پڑھنے والوں کے لئے نافع ثابت ہوگی۔میرے لئے ذخٰیرہ عقبی بنے گی۔

خیر الناس من ینفع الناس۔

مجھے اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ اس وقت میری ظاہری زندگی53 سال ہوچکے ہیں۔اسی نسبت سے اس کتاب میں 63 جڑی بوٹیوں کےطبی فوائد بیان کئے ہیں ۔یعنی ہر سال کے بدلے ایک جڑی بوٹی کے خواصو طبی فوائد لکھے گئے ہیں۔

کوئی بھی مصنف یا مولف اپنی کتاب میں جو حقائق اور تجربات بیان کرتا ہے وہ کہیں نہ کہیں سے حاصل کردہ ہوتے ہیں۔لیکن جب معالج عملی زندگی میں ہاتھ پائوں مارتا ہے تو اُسے ایسے گوہر نایاب ملتے ہیں جو نہ کسی کتاب میں لکھے گئے ہوتے ہیں نہ کسی زبان سے کہے گئے ہوتے ہیں۔علمی زندگی میں تجربات انسان کی صلاحتیں بیدار کرنے کے لئے ہوتے ہیں۔

اس کتاب میں جہاں بہت ساری باتیں دوسرے معالجین کے تجربات کے بیان کئے ہیں۔لیکن ان جڑی بوٹیوں کے بارہ میں جو میرے ذاتی تجربات ہیں اور زندگی کےمختلف مراحل میں ان سے استفادہ کیا گیا ہے۔ میری 35 سالہ طبی زندگی میں بے شمار طبی مسائل در پیش رہے۔دیہاتوں اور دور دراز علاقوں میں جہاں ادویات اور نسخہ کے اجزاء کا حصول ناممکن تھا۔لیکن مریض کو علاج کی ضرورت تھی اور معالج انہیں فائدہ پہنچانا چاہتا تھا۔یہی نظریہ میرے تجربات کی بنیاد بنا۔ یوں  تجربات کا بہت برا ذخیرہ جمع ہوتا گیا ۔یہی تجربات میری کتب میں جابجا دیکھنے کو ملتے ہیں۔یہ تجربات مفردات و مرکبات طب و عملیات اور نفسیات۔دیگر علوم متداولہ و مخفیات میں میرے رہبر و رہنما بنے ہوئے ہیں۔

قدرت بھی عجیب طریقے سے اپنے مخفیات کو انسانوں پر کھولتی ہے۔ایک وقت تھا جو بطاہر زندگی کا مشکل ترین وقت کہا جاسکتا ہے۔ظاہری اسباب کے سارے دروازے بند تھے۔ایک وقت کی روٹی مقصد حیات سمجھی جاتی تھی۔ایسے میں قوت لایموت کا حصول زندگی کا اولین مقصد بن چکاتھا۔میں دیہاتوں میں نکل جاتا کچھ مہربانوں کے توسط سے کوئی بیٹھک یا کمرہ مل جاتا ۔وہیں پر اپنی دوائوں کا بیگ کھول کر لوگوں کی تشخیص اور تجویز و غذا و علاج کرتا ۔اپنے پاس سے ہی  دوائیں دیتا۔لیکن وسائل نہ تھے۔ کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنا خودداری کے منافی تھا۔ایسے میں کھیت کھلیانوں میں ملنے والی جڑی بوٹیاں ۔ فصلوں میں اگنے والی عقاقیر۔دستیاب درخت۔میرا فارماکوپیا تھے۔یہ دور میرے مالی حالات کی وجہ سے سخت امتحانی دور تھا۔لیکن طبی تجربات ۔تشخیصات۔اودیات پر ہونے والے نت نئے مشاہدات کا دور تھا۔

عجیب و غریب قسم کے مشاہدات ہوئے۔لاعلاج و مشکل ترین سمجھے جانے والے مریضوں کے لئے اللہ نے مجھے دست شفاء سے نوازا۔یوں سمجھئے کہ طب کی دنیا میں کھلنے والا یہ دریچہ مجھے  وہ اسباق دے گیا جو کسی  طبیب کے پاس نہ تھے۔کسی کتاب میں درج نہ تھے۔کم لوگوں کی اس طرف نگاہ اٹھتی ہے۔مطالعہ میری زندگی کا اوڑھنا بچونا رہا ہے۔لیکن طبی و جڑی بوٹیوں کی کتب میں  بہت سے کام کی باتیں تھیں لیکن قابل عمل نہ تھیں ۔بہت سی مبالغہ آمیزی تھی۔یہ دس سالہ دور عملی زنگی اور مشاہداتی حیات مستعار کادور تھا۔یہاں تھیوری نہیں پریکٹکل تھا۔پنساری نہیں۔قدرت کا کھلا ہوا میدان عمل میسر تھا۔یہی میری زندگی کا تجرباتی موڈ تھا ۔مشکلات کٹ گئیں ۔حالات نارمل ہوگئے۔وسائل میسر آئے۔دربدر ہونے کے دن  خواب ہوئے۔لیکن تجربات کی روشنی میں آج طب کی دنیا میں جو روشنی دکھائی دیتی ہے وہ کم ہی لوگوں کو دیکھنے کو ملتی ہے

ان تجربات کی روشنی میں مجھے وہ راستے بھی دکھائی دئے جو عمومی طورپر معالجین و عاملین اطباء کرام سے الگ راہیں  اختیار کرنے کا جذبہ ابھرا۔یہ جذبہ جنوں ایسا تھا کہ  روایتی لوگ اس کے ساتھ نہ چل سکے۔جب مشکل ترین امراض معمولی چیزوں سے ٹھیک ہونے لگے ۔جن کے لئے روایتی لوگوں کے پاس مہنگے ترین اجزاء پر مشتمل نسخے تھے انہیں صدری راز۔خاندانی نسخہ جات۔کہہ کر گناہوں کی طرح سینہ میں چھپائے رکھے جاتے تھے۔انہیں قبروں میں لے گئے اور ہزاروں من مٹی میں دفن ہوگئے۔

میری زندگی کا  عجیب ترین پہلوئوں میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب میں نے مشکل امراض کا علاج کیا۔بحمد اللہ مریضوں کو شفاء بھی ملی۔جب معالجین  نے مجھ سے نسخہ پوچھا بلاکم و کاست بتادیا تو انہیں یقین نہ آیا  کیونکہ صعب و مشکل امراض میں جتنے قیمتی اجزاء والے نسخے طبی کتب میں مندرج تھے  وہ ان کم قیمت سہل الاحصول اجزاء سے کسی طرح مطابقت نہیں رکھتے تھے،اس لئے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا لیکن جب کبھی ضرورت پڑی اور بتائےہوئے نسخہ کو تجربہ کی کسوٹی پر پرکھا تو دو اور دو جمع چار کی طرح نتیجہ سامنے آیا   ۔

اس کے علاوہ  طبی کتب    میں   یہ عیب بھی دیکھنے کو ملا کہ ایک نسخہ کے جب تک محیر العقول فوائد بیان نہ کئے جائیں۔اور اس کے حصول کے لئے کی گئی لمبی چوڑی تمہیدی کہانی بیان نہ کی جائے۔پڑھنے والے اسے نسخہ ہی تسلیم نہیں کرتے ۔

ایک اہم نکتہ یہ بھی لازمی ذہن میں رکھئے کہ معالجین عمومی طورپر بیان کرنے والے کے الفاظ پر فدا ہوتے ہیں۔قطع نظر اس بات کہ  جس بارہ میں راوی  بات کہہ رہا ہے ان فوائد  اور حقیقت میں کوئی تطابق ہے بھی کہ نہیں ؟ایک نسخہ جسے ایک مرض یا علامت کے لئے مفید بتایا جارہا ہے۔مرض کا مزاج اور مریض کا مزاج  بھی  تطابق رکھتا ہے؟۔یہی وجہ ہے جب تک چند بنیادی قوانین نہ سمجھ لئے جائیں اس قسم کی پریشانیاں دیکھنے کو ملتی رہیں گی۔

سطحی الذہن کے لوگ  کچھ غیر حقیقی باتوں کو ذہن میں بٹھا لیتے ہیں۔انہیں حرف آخر سمجھتے ہوئے ہر کسی سے الجھتے پھرتے ہیں ۔غیر حقیقی دعوے کرتے ہیں ۔ حکمت والے ایلو پیتھی وک ۔ایلو پیتھی والے حکمت کو اسی طرح دیگر طرُق علاج کے حاملین اپنے اپنے سے الگ طریقہ رکھنے والو کی ہمہ وقت تنقیس و تنقید میں لگے رہتے ہیں ۔اگر کسی سے کوئی غطلی سر زد ہوجائے تو اسے پورے نظام کو غلط ٹہراتے ہیں۔جب کہ یہ حقیقت سے بعید تر بات ہے۔قانون قدرت ہے بڑے سے بڑے انسان یا نظام میں بھی کچھ نہ کچھ خوبیاں موجود ہوتی ہیں تب ہی وہ زندہ رہ سکتے ہیں۔جب افادیت ختم ہوجائے۔قدرت انہیں ختم کردیتی ہے۔یوں سمجھے جب کسی چیز کی اہمیت و افادیت ختم ہوجائے تو وہ قانون قدرت کے تحت زندہ نہیں رہ سکتی۔پھر جو نظام رائج ہیں جن سے بے شمار لوگ استفادہ کررہے ہیں لازمی امر ہے کہ ان میں کچھ نہ کچھ خوبیاں ضرور  موجود ہیں

ایک عاقل انسان کہیں سے بھی کسی کی بھی خوبیاں لے اور کمزوریاں ترک کردے اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اس دنیا میں جو بات ایک کے لئے طاقت  اور سہارا بنتی ہے وہی چیز دوسرے کی کمزوری اور موت کا سبب بنتی ہے۔قدرت کے کارخانے میں بےکار و لایعنی چیزیں تخلیق نہیں ہوا کرتیں ۔کسی چیز کا مفید و مضر پہلو ضرورت کے مطابق ہوا کرتا ہے۔ کوئی بھی چیز نہ تو مخض شر ہوتی ہے ،نہ مخص خیر  یوں کہہ سکتے ہیں خیر و شر کے دونوں پہلو موجود ہیں  اس کا استعمال اور اس استفادہ اس بات کا تعین کرتا ہے کہ وہ مفید ہے یا مضر ہے۔

سانت یا بچھو جسے عمومی طورپر موزی یا مضرت رساں خیال کیا جاتا ہے۔جدید و قدیم تحقیقات کے مطابق انہیں زہریلو کیڑوں سے تریاق و اکسیرات تیار کی جاتی ہیں ۔آگ ہو کہ پانی خاک و ہوا کائنات میں کوئی بھی موجود چیز جب تک حد اعتدال پر رہے نافع رہوتی ہے۔جب حد اعتدال سے افراط و تفریط کا شکار ہوجائے تو ضرررسااں ہوجاتی ہے۔

یہ اصول جڑی بوٹیوں یا غذائوںپر بھی لاگو ہوتا ہے کہ مریض و معالج اگر ٹھیک تشخیصی مرحلہ سے گزر گئے تو وہ صحت کی صبح دیکھ لیں گے۔اور اگر تشخیص مرض میں بے دھیانی ہوئی تو گھی دودھ گوشت بھی زہریلے اثرات پیدا کریں گے۔یہی وجہ ہے حاذق معالج زہروں سے بھی تریاق کے کام لیتا ہے۔اور اناڑی تریاق سے بھی مریض کو اگلے جہاں پہنچا دیتا ہے۔

اس کتاب میں بہت سی باتیں ایسی بھی ملیں گی جو نئے پڑھنے والوں کے لئے تعجب کا سبب بنیں گی۔ایک ماہر طبیب کتاب سے کبھی جدا نہیں ہوتا ۔کتاب ایسا ذریعہ ہے جہاں کم علم انسان اپنے سے  بہتر انسان کے خیالات۔تجربات و مشاہدات سے مطلع ہوتا ہے۔بہت سی ان دیکھی اور غیر معلوم اشیاء معلوم کرتا ہے۔

یاد رکھئے کسی بھی کتاب کی کوئی بھی بات حتمی اور حرف آخر نہیں ہوتی،لکھنے والا اپنے مشاہدات و تجربات اور مطالعہ شدہ مواد کی بنیاد پر لکھتا ہے ۔مشاہدات و تجربات ہر ایک اپنے اپنے ہوتے ہیں۔اس لئے لکھنے والے اور پڑھنے والے کے مشاہدات کا ایک جیسا ہونا قطعی ضروری نہیں۔آپ نے جس بات پر زیادہ توجہ دینے ہے وہ آپ کی ضرورت ہے ۔ضرورت جہاں سے بھی جیسے بھی پوری ہوجائے۔کافی ہے۔جولوگ لکھنے والے کے مشاہدات و تجربات پر پورا اترنے کی کوشش کرتے ہیں وہ زندگی میں گھٹن پیدا کرلیتے ہیں۔وزن اس بات کا نہیں کہ لکھنے والے نے کیا لکھا ہے  وزن اس بات کا ہونا چاہئے کہ آپ کی ضرورت کیا ہے اور کیسے پوری ہوگی؟

عاجز و حقیر فقیر
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میواسکتاہے۔قدرت کی فیاضی ہے کہ اس نے ان بیش قیمت اشیاء کو فروانی کے سے دیدیا ہے۔جو غور و فکر سے کام ل

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme