
میو قوم اور تقریبات جشن آزادی2026۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
ملک بھر میں یوم آزادی کی تقریبات ترتیب دی جارہی ہیں۔میو قوم کے فرد ہونے کے ناطے اس توجہ طرف توجہ دینی پڑی کہ میو قوم اس جشن آزادی کو کس انداز اور کن اطوار کے ساتھ منارہی ہے۔
میرے سامنے سوشل میڈیا پر بے شمار پوسٹین سکرولینگ کی نظر ہورہی ہیں۔ان میں سے دو پوسٹین اجتماعی شعور اور قوم کی نمائیندگی کے طورپر دیکھی جاسکتی ہیں۔
خیر سے دونوں ہی قوم کی نمائیندگی کی دعوے دار ہیں ۔دونوں پر انجمن اتحاد ترقی میوات کا لیبل موجود ہے۔۔
ایک تقریب بدوکی گائوں سرزمین میں واقع وقف شدہ زمین پر منعقد کی جارہی ہے۔جب کہ دوسری تقریب ایک پرائیویٹ ایونٹ حال میں۔نعرہ دونوں کا ایک ہی اور دونوں قوم کی نمائیندگی کا دعوی کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔اگر یہ دونوں ایک دوسرے سے رابطے میں آجائیں ۔تو قربت کا ایک بہانہ بھی مل جائے قوم بھی ذہنی خفلشار سے محفوظ ہوجائے۔ کیونکہ ایک تقریب 13 اگست کو منعقد ہورہی ہے جبکہ دوسری

14 اگست کو۔یوں دونوں ایک دوسرے کی تقریب میں بغیر اپنی تقریب چھوڑے شامل ہوسکتے ہیں۔
اس وقت میو قوم کو درپیش مسائل میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ نئی نسل کو ذہنی بلوغت کی ساری راہیں مسدود کی جارہی ہیں۔
نسلیں اپنے بڑوں کو دیکھ کر جوان ہوتی اور ذہنی تربیت پاتی ہیں۔جو گھر میں بڑے کریں لاشعوری طورر بچے بھی بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔
جب عقل و شعور پر تنگ ظری دھڑے بندی۔اور تعصب چھا جائیں تو آدھی عقل اور ادھورے حواس ناکارہ ہوجاتے ہیں۔
بے سوچے سمجھے زندہ باد مردہ باد کے نعرہ لگانے والے ایسے بھینگے ہوتے ہیں جن کی ایک آنکھ کو باندھ دیا گیا ہو۔
وہ سیدھا دیکھنے کی کوشش کریں بھی تو نہیں دیکھ سکتے۔اس کی مثال میڈایا پر کمنٹس کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
اس وقت میو قوم کی بد قسمتی ہے کہ بڑے سمجھے جانے والے لوگ چھوٹا کردار شعوری طورپر ادا کرنے میں مصروف ہیں۔
اگر یہ محاذ آرائی قوم کے لئے کی جارہی ہے تو قوم کو اس کی قطعی ضرورت نہیں ہے۔
اور اگر یہ انا ذاتی اغراض کی تکمیل کا کوئی حصہ تو خدا را قوم کو درمیان سے نکال دو۔دنیا بہت وسیع ہے۔آئیڈیاز کی کمی نہیں ہے۔
جب ادارے تشکیل پاتے ہیں تو ان کے بانیان کی سوانح عمریاں آئیڈیل کے طورپرپڑھائی اور مطالعہ کی جاتی ہیں۔
اللہ کرے بدوکی پروجیکٹ پائے تکمیل کو پہنچ جائے تو سوانح عمریوں کی شہ سرخیاں کیا ہوں گی؟
یاپھر یوں سمجھ لیں کہ یہی کچھ کسی دوسری قوم یا برادری میں ہورہا ہوں تو اسے کس عنوان سے معنون کیا جائے گا؟
یہ دوتقریبات نہیں بلکہ دوسوچوں کی عکاس پروگرامنگ ہے۔جو چیزیں پہلے اندرون خانہ تھیں اب انہیں بپلک کیا جارہا ہے۔
ہم مولوی لوگ ہیں ۔ان کا خیال ہے نماز باجماعت ہونی چاہئے ، اگرمصلے پر بطور امام مجھے کھڑا کیا جائے؟
نئی پود اپنے بڑوں کی نقل کرتی ہے جھوٹ نفاق دغابازی ۔یا پھر راست گوئی ۔ایمان داری اپنی ذمہ کا کام کرنا۔اور ہر ایک کے ساتھ مل بیٹھنا ۔
جو لوگ قوم کے بڑے سمجھے جاتے ہیں اگر وہ بڑا کردار ادا کرنے سے قاصر ہونگے تو عوامی سطح پر آجائیں گے۔
یہ جشن آزادی کی تقریبات ہیں۔مناسب ہے کہ نخوت انا پرستی کی زنجیروں سے آزاد ہوکر خود بھی سکھ کا سانس لیں ۔اور قوم کو بھی لینے دیں۔
یاد رکھئے
آئین و قانون ایسی حد بندیاں ہوتی ہیں جہاں ادارے اور شخصیات کے درمیان خط امتیاز کھیا جاتا ہے۔
بڑے بھی اسی آئیںنو قانون کی وجہ سے بڑے ہیں
اور چھوٹے بھی اسی قانون و آئیں کی تقسیم کی وجہ سے فرق مراتب کا شکار ہیں
جب یہ باریک سی لیکر اور خط امتیاز مٹادیا جائے تو کون کسی کوعزت دے سکتا ہے؟۔
