میو قوم ،جشن آزادی کی تیاریاں۔اگست2026

0 comment 4 views
میو قوم ،جشن آزادی کی تیاریاں۔اگست2026
میو قوم ،جشن آزادی کی تیاریاں۔اگست2026

میو قوم ،جشن آزادی کی تیاریاں۔اگست2026
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
آج 13 اگست2026 ہے۔پاکستان کو قائم ہوئے79 سال ہوچکے ہیں۔جب بھی اگست کا مہینہ آتا ہے تو کچھ کنہ زخم رِسنے لگتے ہیں ۔
یہ دن ایک دن نہین بلکہ وہ انقلاب تھا جب میوات کی تاریخ یکسر بدل کر رہ گئی تھی
خطے کا بٹوارہ ہی نہیں تھا بلکہ ایک تہذیب،ایک روایت کا بدلائو تھا۔
دنیا کی سب سے بڑی ہجرت تھی۔جس میں سب سے زیادہ متاثرہ قوم میو تھی۔
یوں سمجھئے کہ میو قوم کا جگر چھننی ہوا۔اور کمر ٹوٹ گئی تھی۔آج بھی جب 1947 سے پہلے سالوں کی دستیاب تاریخ پڑھتے ہیں تو۔
حکومتی سطح سے لیکر عام لیڈروں اور عوامی سطح تک اور زبانی کلامی گفتگو سے لیکر اخبار و تاریخ تک۔جہاں بہت ساری قومیں موضوع سخن تھیں ان سب میں نمایاں میو قوم تھی۔
میری دادی مرحومہ جب ہمیں آب بیتی سناتیں تو ایسا لگتا کہ ان کے سینے سے رسنے والے زخموں سے پھر لہو ٹپکنے لگا ہے۔۔
میری پیدائش 1972 کی ہے یعنی پاکستان کی پیدائش سے 25 سال بعد اس دنیا میں آیا۔
لیکن جنہوں نے ہجرت کی اور سفر کی صعوبتیں برداشت کیں،اور اپنوں کو خاک و خون میں ترپتے ہوئے دیکھا تھا۔25 سال گزنے کے باوجود اُن کے زخم مندمل نہ ہوئے تھے۔
میرے بڑوں کی آبیتیاں تقسیم ہند کی ہولناکیوں کا مستند ذرائع میں سے ایک ہے،
حقہ پر بیٹھے ہجرت سے متاثرہ لوگ جب اپنے پرانے زخم سہلاتے تو وہ رسنے لگتے۔یہ ایک الگ سے دُکھوں بھرا پشتارہ ہے ۔
مجموعی طورپر میوا قوم اپنے ساتھ جو قومی اثاثہ جات لیکر پاکستان پہنچی ان میں ایک انجمن اتحاد ترقی میوات بھی اہم اثاثہ ہے۔
میو قوم نے کے لیڈر عظیم سوچ کے حامل تھے لیکن حالات و واقعات کا ادراک ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہے۔
انجمن اتحاد ترقی میوات جو آج ایک بدوکی کالج کی زمین تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔
اس کے اغراض و مقاصد اس سے کہیں اعلی و ارفع تھے۔بدوکی زمین ایک ضمنی کام تھا، اس کا دائرہ کار تو بہت وسیع تھا۔
لیکن یار لوگوں نے انجمن اتحاد ترقی میوات کو بدوکی گائوں کی سر زمین میں کلا گاڑ کا لاباندھا۔
اب انجمن ترقی اتحاد کی شناخت کے بجائے بدوکی زمین کے توسط سے اسے پہنچانا جاتا ہے۔یہ سوچ کا محدود پن تھا۔
اس سے پہلے کیا کچھ ہوتا رہا ۔یہ کہی ان کہی داستان ہے جو کبھی کھبار انجمن اتحاد ترقی میوات سے وابسطہ حلقہ احباب سے بھبناہٹ کی صورت میں سننے کو ملتی ہے
انجمن اتحاد ترقی میوات کتنی مظلوم جماعت ہے۔جو پوری برصغیر پاک و ہند میں میو قوم کی ترجمان اور مرجع تھی
اسے۔بدوکی میں لاباندھا گیا۔جب انجمن کے ہاتھ پائوں باندھ دئے گئے تو کچھ لوگوں نے اسے اپنی ملکیت سمجھا۔
اور اس پر کاٹھی ڈالنے کی کوشش کی۔بھلا کچھ لوگوں کا کہ انہوں نے شور و غوغا کرکے انتظامیہ تبدیلی کرائی۔
لیکن وہ باتیں جو کبھی پس پردہ ہوا کرتی تھیں ۔جن تک رسائی میو قوم کو نہ تھی ۔مخصوص لوگ تھے
جو ۔ایک دوسرے کے سر پاگ رکھدیا کرتے تھے۔یوں 79 سال گذر گئے۔
معاشرہ میں اتنا بدلائو آیا کہ۔میڈیا کی یلغار ہوگئی۔
بڑوں نے سمجھا کہ جیسے ہم اجلاسوں میں ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچائی کرتے تھے
اب بھی یہ نسخہ موثرہ معجز نما ثابت ہوگا۔یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی کہ میڈیا پر آگئے۔
پھر میڈیا تو میڈیا ہے ۔یہ تو ایکسرے مشین ہے،صحیح و غلط کی اندرونی کیفیات کو دھوکر رکھ دیتا ہے۔
آج میڈیا پر گردش کرنے والے ایک وائس نوٹ نے ان زخموں کو پھر سے ہرا کردیا ہے جو 79 سال پہلے میو قوم کے سینے پر لگے تھے۔
میو پسماندگی اور تعلیم کی کمی کو ہمیشہ محسوس کرتے رہے اس کے ازالہ کی کوششیں کیں۔
لیکن مقدرنے یاوری نہ کی۔آج کچھ امید کی کرنالیکشن کی شکل میں دکھائی دی تو لگتا ہے جیسے میو قوم کی اور دیگر تنظیمیں عدالتی کمروں کی دیواروں چُن کی دی گئیں ۔
خداخواستہ انجمن اتحاد ترقی میوات۔ کہیں؟؟؟۔۔۔ اللہ کرے انجمن اپنے ہاتھ پائوں ہلاتی رہے،اس حادثہ سے بچی رہے۔۔
۔۔۔اللھم الحفظنا من کل بلاء الدنیا وعذاب الآخرہ

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme