in

Remission and muscle pain

Remission and muscle pain
Remission and muscle pain

Remission and muscle pain

Remission and muscle pain
Remission and muscle pain

معافی اور پٹھوں کا درد
Remission and muscle pain
مغفرة وآلام في العضلات
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

معاشرے میں جس قدر سر درد کی ادویات استعمال کی جاتی ہیں شاید ہی دوسری کوئی دوا استعمال کی جاتی ہے ہو جسے دیکھو جس سے پوچھو اس کے پٹھوں میں درد ہے کہ کھچائوکا شکار ہے، کمر درد ہے، سر پہ بوجھ ہے ،ہر وقت کی بے چینی ہے، نہ سکون سے نیند آتی ہے،
نہ کسی کے ساتھ معاملات ٹھیک ہوتے ہیں اور نہ ہی معاشرے میں امن کی صورت نظر آتی ہے۔اپنے حق کی جنگ میں مصروف ہے۔صرف لینا چاہتا ہے دینے کا تصورہی نہیں ہے، ہر آدمی اپنی اپنی فکر میں لگاہوا ہے، اپنی دھن میں مگن ہے اور ہر آدمی اپنے اپنے مفاد کے تحفظ میں مصروف ہے۔قران کریم کی تعلیمات سے انحراف کرکے سکون کے متلاشی ہیں۔

Free Bodybuilding 3D illustration and picture
لوگ دردو کی دوا کھاتے ہیں اور بڑی مقدار میں کھاتے ہیں۔معالج بدلتے ہیں دوائیں بدلتے ہیں۔لیکن درد کاسبب اور جس وجہ سے درد ہوا ہے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ہم سکون کی زندگی گذار سکتے ہیں ،بغیر دوا سو سکتے ہیں ،یکن وہ باتیں تلاش کرنی ہونگی جو اس درد و بے چینی کا سبب بنی ہیں۔
وہ ہیں نفسیاتی امراض اور ضدی سوچ انتقام کا جذبہ۔اور غیر معتدل معاشرتی سوچ۔ خوامخواہ کا تفوق،یہ بوجھ اتنے بڑے ہیں کہ انسان کی طاقت انہیں برداشت نہیں کرسکتی۔جن چیزوں کو معمولی سمجھا جاتا ہے،کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی کہ ان کی اہمیت یا ان کا بوجھ کتنا ہے۔مثلاََ کاغذ کا ایک ٹکڑا لے لیں جو آپ کی جیب میں رکھا ہوا ہے،بظاہر معمولی وزن رکھتا ہے اگر کسی کو کہیں کہ یہ کاغذ کا ٹکڑا تم نے ہاتھ میں اٹھانا ہے شروع میں کہے گا یہ کونسی بڑی بات ہے؟لیکن جب اس معمولی وزن والے کاغذ کو اٹھانے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو اس کی برداشت جواب دے جائئے گی جسے معمولی سمججھا تھا ایک حد تک اسےہاتھ میں اٹھایا جاسکتا ہے اس کے بعد تھکن محسوس ہوگی پھر درد ہونا شروع ہوجائے گا،اس کے کچھ دیر بعد ہاتھ سُن ہونا شروع ہوجائے گا اور اس مشق کو مزید جاری رکھنے کی صوعت میں ہاتھ مفلوج ہوجائے گا۔یہ تجربہ کوئی بھی کرسکتا ہے۔اپنی جیب سے ایک نوٹ نکال کر تجربہ کرلیں دس منٹ میں میری بات کی تصدیق ہوجائے گی۔
سوچنے کی بات یہ ہے جس سوچ کو ہم ذہن پے پٹھوں پر سوا ر کئے برسوں گھوم رہے ہیں اس نے ہمارے پٹھوں کی کیا حالت کی ہوگی؟

معاف کرنے کی عادت ڈالو | لفظونہ
معاف کرنا طاقتور ہونے کی نشانی ہوتی ہے کمزور لوگ معاف نہیں کرسکتے ،کیونکہ معاف کرنا بہت بڑے کاموںسے ایک کام ہے
اور ارشاد فرمایا:
وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)(شورٰی:۴۳)
اور بیشک جس نے صبر کیااورمعاف کر دیا تو یہ ضرور ہمت والے کاموں میں سے ہے۔
معاف کرنا سنت انبیاء ہے۔سورہ یوسف اٹھا کر دیکھ لیں یا پھر تاریخ فتح مکہ پڑھ لیں۔
ایسی بات نہیں کہ اسلام نے بدلہ کا حق نہیں دیا لیکن ساتھ میں معافی کے معاشرتی و نفسیاتی پہلو بیان کردئے کہ کچھ باتیں سردست نظروں سے اوجھل رہتی ہیں لیکن نتائج کے اعتبار سے ان کے دور رس نتائج ہوتے ہیں۔
وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)
اور اگر تم (کسی کو) سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔
معاف کرنے کے فضائل:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ظالم سے بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے لیکن ظالم سے بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود اس کے ظلم پر صبر کرنا اور اسے معاف کر دینا بہتر اور اجر و ثواب کا باعث ہے ،اسی چیز کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اور ارشاد فرمایا:
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَاۚ-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(۴۰)(شورٰی:۴۰)
اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنواراتو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے، بیشک وہ ظالموں کوپسند نہیں کرتا۔
اور ارشاد فرمایا:
وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲)(نور:۲۲)

:

اور انہیں چاہیے کہ معاف کردیں اور درگزر کریں ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرما دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ درگزر فرمانے والا ہے اور درگزر کرنے کو پسند فرماتا ہے۔(مستدرک، کتاب الحدود، اول سارق قطعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ۵ / ۵۴۶، الحدیث: ۸۲۱۶)

حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے ارشاد فرمایا ’’حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عرض کی :اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے بندوں میں سے کون تیری بارگاہ میں زیادہ عزت والا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’وہ بندہ جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود معاف کر دے۔ (شعب الایمان، السابع والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی ترک الغضب۔۔۔ الخ، ۶ / ۳۱۹، الحدیث: ۸۳۲۷)
مخلوقِ خدا پر شفقت کے فضائل

Roznama Dunya: اسپیشل فیچرز :- ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں :
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مخلوقِ خدا پر شفقت و رحم کرنا اللہ عَزَّوَجَل کو بہت محبوب ہے ۔ اَحادیث میں لوگوں پر شفقت و مہربانی اور رحم کرنے کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ترغیب کے لئے 4اَحادیث درجِ ذیل ہیں :

(1)…حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو آسمانوں کی بادشاہت کا مالک تم پر رحم کرے گا۔ (ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی رحمۃ المسلمین، ۳ / ۳۷۱، الحدیث: ۱۹۳۱)
(2)… حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے،رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے ،نہ اس کی مدد چھوڑے اور جو شخص اپنے بھائی کی حاجت (پوری کرنے کی کوشش) میں ہو اللہ عَزَّوَجَلَّاس کی حاجت پوری فرما دیتا ہے اور جو شخص مسلمان سے کسی ایک تکلیف کو دور کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کی تکالیف میں سے اس کی ایک تکلیف دور کرے گا اور جو شخص مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا،اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ (بخاری، کتاب المظالم والغصب، باب لا یظلم المسلمُ المسلمَ ولا یسلمہ، ۲ / ۱۲۶، الحدیث: ۲۴۴۲)

(3)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اورہمارے بڑے کی توقیر نہ کرے اوراچھی بات کا حکم نہ دے اور بری بات سے منع نہ کرے۔ (ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء فی رحمۃ الصبیان، ۳ / ۳۶۹، الحدیث: ۱۹۲۸)

(4)… حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں اچھا وہ شخص ہے جس سے بھلائی کی امید ہو اور جس کے شر سے امن ہو اور تم میں برا وہ شخص ہے جس سے بھلائی کی امید نہ ہو اور جس کے شر سے امن نہ ہو۔(ترمذی، کتاب الفتن، ۷۶-باب، ۴ / ۱۱۶، الحدیث: ۲۲۷۰)

معاشرتی قیام امن کے لئے صرف یہ حدیث کافی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو جن باتوں کی سفارش کی تھی، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ چل رہے تھے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے عقبہ بن عامر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اے عقبہ! یہ مختصر نبوی ہدایات ہیں جن میں اخلاق، آداب اور معاملات شامل ہیں،
جن سے مسلمان تعلق، سخاوت، معافی، واقفیت اور محبت حاصل کرتے ہیں۔
ان میں سے پہلا:
اس کا یہ قول – خدا کی دعا اور سلام ہو -: “ان سے دعا مانگو جو تمہیں منقطع کرتے ہیں۔” اسلام نے رابطے، ملاقات اور ایک دوسرے کو رد کرنے اور جھگڑے کی تاکید کی۔ (امام احمد نے روایت کیا)۔ اور ان لوگوں کا تعلق جو آپ کو منقطع کرتے ہیں، اس کے ساتھ اس کے ساتھ کرنے سے جو آپ اس کے ساتھ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، اور اگر وہ ختم ہو جائے تو وہ ہے، ورنہ گناہ اس پر ہے، اور یہ اس تعلق میں اچھے اخلاق اور حوصلہ افزائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
قرابت داری اور دیگر کے بارے میں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرابت کی فضیلت بیان کی، اور یہ کہ یہ لمبی عمر اور رزق میں اضافے کا سبب ہے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کا اثر وسیع ہو تو وہ رشتہ داری کو قائم رکھے۔‘‘ (بخاری) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ داریوں کا خیال رکھا اور ان کی اچھی طرح سفارش کی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اور میرے اہل بیت، میں تمہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں خدا کی یاد دلاتا ہوں۔ میں تمہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں خدا کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے گھر والوں کے بارے میں خدا کی یاد دلاتا ہوں۔‘‘ (روایت مسلم)۔
قرابت داری کا دارومدار سودا بازی پر نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا بالکل حکم دیا ہے، ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! ان پر خدا کی طرف سے کوئی حمایتی رکھو جب تک کہ تم اس پر ہو۔‘‘ (مسلم نے روایت کیا ہے۔ ان میں سے دوسری ہدایت: “اور جو تمہیں محروم رکھے ان کو دے دو۔” مسلمان کی اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ زندگی سخاوت اور بھائی چارے سے عبارت ہے، لہٰذا ان کے ساتھ ہدیہ و تحائف کا معاملہ قانونی چارہ جوئی کے معیار کے مطابق نہ کریں۔ خرید و فروخت کے طور پر، بلکہ اس سے بہتر ہے کہ وہ آپ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ پھر اس نے کہا – خدا کی دعا اور سلام – “جن لوگوں نے آپ پر ظلم کیا ان کو معاف فرما۔” 199]،
اور قرآن میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جو اخلاق کے الفاظ کے لیے اس سے زیادہ جامع ہو، اور یہ ہے اس سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اور اللہ تعالیٰ کسی بندے کو بخشش سے نہیں بڑھاتا مگر جلال کے” (روایت مسلم نے)۔
اور کوئی معاف نہیں کرتا سوائے اس کے کہ وہ پیار کرتا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنی قسمت سے چھٹکارا حاصل کیا، اور وہی کیا جو اللہ تعالی نے اسے سونپا تھا، اور دنیا مختصر مدت کی ہے اور اس کے لئے جھگڑا اور تقسیم کا مستحق نہیں ہے، اور ہم سب اسے چھوڑنے والے ہیں. اور آپ پر ظلم کرنے والوں کو معاف کر کے آپ اس کے ہاتھ سے اس کا ہتھیار چھین لیتے ہیں، اسے پشیمانی اور ندامت کا احساس دلاتے ہیں، اور آپ اسے آپ کی تسلی اور آپ کے ساتھ صلح کرنے کے لیے کوشاں پاتے ہیں۔
السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ)[آل عِمرَان: 133-13]۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “یعنی اپنی برائیوں کو روک کر ان لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں جنہوں نے ان پر ظلم کیا ہے، اس لیے وہ اپنے نفس میں کسی پر موجود نہیں رہتے، اور یہ سب سے کامل ہے۔ شرائط کی.” اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (اور برائی کا بدلہ اسی طرح ہے، پس جو معاف کر دے اور اصلاح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے پاس ہے) [الشوریٰ: 40]۔
عفو و درگزر خدا کے پیغمبروں کی خصوصیات میں سے ہے – ان پر سلام ہو – یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہا: (آج تم پر کوئی ملامت نہیں ہے، خدا تمہیں معاف کرے گا) [یوسف: 92]،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم – اللہ نے ان سے فرمایا: (معافی لے لو اور احسان اور عزت کا حکم دو۔ جاہلوں سے) [الاعراف: 199]۔ اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “تین چیزوں کی میں قسم کھاتا ہوں: صدقہ سے کوئی مال کم نہیں ہوتا، اور اللہ تعالیٰ بندے کو بخشنے سے نہیں بڑھاتا سوائے عزت کے، اور جو شخص عاجزی کرتا ہے۔
خدا، خدا اسے اٹھاتا ہے” (روایت احمد اور الترمذی)۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے – اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے – قول، عمل اور کردار میں۔ خدا مجھے اور آپ کو قرآن پاک میں برکت دے۔
دوسرا خطبہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن عامر کو دوبارہ پکار کر احکام کو ختم کیا، اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر دلالت کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے صحابہ کے ساتھ، اللہ تعالیٰ خوش ہوں۔ ان کے ساتھ. جہاں تک زبان کا تعلق ہے: اکثر لوگ جہنم میں داخل ہوتے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے: “منہ اور شرمگاہ” (روایت الترمذی)۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ابن آدم کے اکثر گناہ اس کی زبان میں ہیں” (طبرانی نے روایت کیا ہے)۔ اور اس کے اقوال اسے اس کے درجات میں بلند کر سکتے ہیں، جیسے کہ مصیبت کو دور کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، یا اچھی شفاعت، یا اسے آگ میں اتارا جا سکتا ہے –
دین اور اس کے لوگوں کا مذاق اڑانے کے طور پر – جیسا کہ پیغمبر – خدا کی دعائیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اللہ کی رضا کا کلمہ کہتا ہے، اس کی طرف توجہ نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند کرتا ہے، اور یہ کہ بندہ اللہ کے غضب کا کوئی کلمہ اس کی پرواہ کیے بغیر کہتا ہے اور وہ ڈوب جاتا ہے۔ آگ میں ستر خزاں” (بخاری)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ بھی نصیحت کی کہ وہ گناہ پر روئے، یعنی اس کے ارتکاب پر ندامت کرے اور آخرت سے پہلے توبہ کر کے اس ندامت کو دنیا میں ہی رہنے دے۔
ندامت توبہ کی شرط ہے، جیسے گناہ چھوڑنا، واپس نہ آنے کا عزم کرنا، گناہ سے نفرت کرنا جیسے کہ وہ آگ میں ڈالے جانے سے نفرت کرتا ہے، مستحقین کو شکایتیں واپس کردینا، اور روح کے غروب ہونے یا سورج کے نکلنے سے پہلے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

Healthy food and culture

Healthy food and culture

الأحاديث الثابتة في طعام وشراب النبي صلى الله عليه وسلم جمعا وتخريجا

الأحاديث الثابتة في طعام وشراب النبي صلى الله عليه وسلم جمعا وتخريجا