
انجمن اتحاد ترقی میوات۔توسیع اوقات ممبر شپ۔حقائق و خدشات
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
16 جوالائی2026 تک ممبر شپ کا وقت تھا۔لیکن کچھ احباب اس بات پر بضد تھے کہ کچھ وقت مزید جائے تاکہ انجمن اتحاد ترقی میوات کی ممبر شپ کو ممکنہ حد تک بڑھایا جاسکے ۔سوشل میڈیا پر اس بارہ میں الیکشن ٹربیونل سے کی گئی اپیلیں بھی دیکھنے کو ملیں ۔ حسب توقع مزید وقت دیدیا گیا۔انجمن کے کرتا دھرتا لوگوں نے ایک ویڈیو کلپ شائع کیا جس میں اہل حل و عقد کو خوشگپیوں میں مصروف دکھایا گیا/اور اعلان کیا گیا کہ ممبر شپ کی مدت میں توسیع کردی گئی ہے۔
دوسری طرف اظہار تشکر کی پوسٹیں چلائی گئیں۔
انجمن کے الیکشن2026 میں کچھ لوگ نمائیندہ کے طورپر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ان کی تشہیری مہم

بھی دکھنے کو ملتی رہتی ہے۔
یہ تو ہوگیا تصویر کا ایک رُخ۔
اب دوسرے رُخ کا جائزہ لیتے ہیں۔
اس الیکشن میں بہت سے لوگ دھڑے بندیوں کی صورت میں سامنے آئیں گے۔آثار بتارہے ہیں کہ اس دفعہ الیکشن کا منظر سابقہ تاریخ سے جداگانہ ہوگا۔ سابقہ ادوار انجمن دھڑے بندیوں کا شکار رہی ۔بہت سی تاخیری وجوہ میں سے ایک وجہ کالج تعمیر نہ ہونے کی۔دھڑے بندی بھی ہے ۔حالات بدل گئے ہیں، سوچ و وسائل بدل گئے ہیں ۔اب یہ سانپ نیولے کا کھیل مجمع عام کی زینت بنے گا۔
کچھ لوگ ممکن ہے میری باتوں سے اتفاق نہ بھی کریں ۔البتہ حقائق سے نظریں چرانا حقائق کو بدل نہیں سکتا ۔۔۔
ابھی تک پرانے نظریات نئے لبادہ میں ملبوس دکھائی دے رہے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف نام اور چہرے بدلنے کی بات ہورہی ہے ۔کوئی جامع پلان اور لائحہ عمل قوم کے سامنے نہیں پیش کیا گیا کہ جس پر مثبت و منفی رائے دی جاسکے۔
عبوری باڈی کی جدوجہد لائق تحسین ضرور ہیں ۔لیکن آن والے وقت کے لئے کوئی ایسا ڈھانچہ پیش نہیں کیا جاسکا کہ پرانے لوگوں کے خدشات کا ازالہ کیا جاسکے ۔۔
الیکشن مقصد نہیں ۔پروجیکٹ کی تعمیر مقصد ہے ۔روٹ میپ قوم کے سامنے آنا چاہئے۔
الیکشن کمیشن کو چاہئے جتنے پینل بھی الیکشن میں حصہ لیں۔یاتو ان کے سامنے مکمل نقشہ رکھیں کہ کامیابی کے بعد یہ تمہارا روٹ میپ ہے ۔اپنی مدت انتخاب میں اس کی تکمیل چاہئے۔
یصورت دیگر الیکشن مہم میں حصہ لینے والوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی ترجیحات۔اور انجمن اتحاد ترقی میوات کے تحت متوقع پروجیکٹس کی ممکن شکل کی ڈاکومنٹری تجویز ہوکہ ہم الیکشن میں کامیابی کے بعد ۔تعمیر و ترقی کی یہ شکل ہوگی۔
دستیاب معلومات کے مطابق۔عبوری انتظامیہ نے ایسا کوئی فارمیٹ تیار نہیں کیا ہے کہ اسےقوم کے سامنے پیش کیا جاسکے۔
یہی حال الیکشن میں حصہ لینے والوں کا ہے ۔وہ اس الیکشن کو ایک تنظیمی و انتظامی الیکشن سمجھ رہے ہیں۔ابھی تک طریفین کی طرف سے قوم کے سامنے کوئی عملی شکل پیش نہیں کی جاسکی۔ممکن ہے انہوں نے اس بارہ میں منصوبہ بندی کی ہو لیکن قوم کےسامنے وہی پچاس سالہ تاریخی پردہ ہے جسے باتوں وعدہ، وعیدوں اور باتوں سے برقرار رکھا جارہا ہے۔
جتنی بڑی تنظیم ہے یا جو اس سے توقع کی جارہی ہے۔ابھی تک کوئی اقدام قوم کے سامنے میسر نہیں کہ جسے پیٹرن سمجھ کر بہتری کی توقع کی جاسکے۔
عبوری باڈی میں ایک بات دیکھی گئی ہے کہ انجمن کے شعبہ نشرو اشاعت نے اپنی پچاس سالہ تاریخ برقرار رکھی۔
ایک قائم مقام صدر صاحب نے وہی ہلکان ہوئے دوڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔باقی حجرہ مریم میں معتکف بنے ہوئے ہیں ۔
میڈیا بھی انہیں کے نام سے پوسٹیں لگا رہا ہے ۔امکانی حدتک بھاگ دوڑ میں مصروف ہیں ۔
باڈی کے دوسرے لوگ ایسا لگتا ہے کہ خواب خرگوش میں مگن ہیں۔قوم جیسے پہلے اندھیرے میں تھی چند لوگوں کی آراء ۔پسند و ناپسند کو میو قوم کی ترجمانی بتایا جاتا تھا ۔
حالات آج بھی کچھ زیادہ خوش کن نہیں۔روایتی طریقہ سے مختلف نہیں ہیں ۔
چلومان لیاکہ عبوری انتظامیہ نے الیکشن کروادیا ۔نیا پینل میدان عمل میں آگیا ۔
کیا وہ بھی اپنی مدت انہیں راستوں پر دورتے ہوئے پوری کریگا کہ آج نشان دہی لینی ہے۔
آج فلان ناراض ڈونر کو منانا ہے ۔آج تک حاضر نہیں ہے۔آج فلاں کی مجبوری ہے۔آج یہ کام نہیں ہوسکتا۔
کسی بھی لائحہ عمل کے بغیر الیکشن کروانا۔بغیر فارمیٹ کے آنے والوں کی صلاحیتوں کو زنگ لگانے کے مترادف ہے۔
اگر الیکشن بغیر کسی منصوبہ بندی کے ۔بغیر کسی مضبوط لائحہ عمل کے کرائے گئے تو ۔یہ مشق لاحاصل ہوگی۔میو قوم کے لئے وقفہ غیبت ثابت ہوگی۔۔
انتظامیہ کو چاہئے کہ میو قوم کو بتائے اس الیکشن سے وہ کیا چاہتے ہیں؟۔اگر کوئی منصوبہ ہے تو قوم کے سامنے لایا جائے کہ اس پرعمل درامد کرانا ہے، اس لئے تازہ دم لوگ میدان میں اتارے جارہے ہیں ۔ ۔
بے مقصد جلدی کرنا۔فریم ورک کے بغیر آگے بڑھنا ۔قوم اور نئی باڈی کے جذبات کو سمندری لہروں کے حوالے کرنا ہے۔
تسلی سے کام کرو۔اگر موجودہ عبوری لوگ اس جہت سے سوچیں۔اور ایک فریم ورک تیار کریں ۔
جو اس پر پورا اترے اسے الیکشن مین جتوائیں ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو یاد رکھیں میوقوم غیبت ۔ٹانگ کھنچائی۔
ایک دوسرے کو تسلیم نہ کرنا والے جرثوموں سے بھرپور قوم ہے۔اس میں مزید اضافہ ہوگا۔اور رہی سہی ساکھ بھی جاتی رہے گی۔
عبوری باڈی میں اپنے اپنے شعبہ جات مین مہارت رکھتے والے لوگ شامل ہیں ۔خدا لگتی کہئے اگر یہ ان کا ذاتی پرجیکٹ ہوتا تو عقل سلیم یہ بات تسلیم کرتی ہے کہ بغیر منصوبہ بندی ہے کسی اناڑی کے سپرد کردیا جاتا ۔یقینا اس لئے منصوبہ جات کی ڈرائنگ بنائی جاتیں ۔سلائیڈز تیار کی جاتیں۔امکانی تعمیرات پر جائزے لئے جاتے ۔راکوٹوں پر بحث و مباحثے کئے جاتے۔ماہرین کی ٹیم تشکیل دی جاتی۔وہ جائزاتی رپوتیں پیش کرتی۔اس شعبہ کے مارہرین دعوت دی جاتی۔تاکہ سرمایہ اور وقت دونوں کے ضیاع کو روکا جاسکے۔
یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔
اس کا صاف مطلب ہے
نششتن۔گفتن۔خوردن ۔برخواستن سے آگے ۔کچھ نہیں ۔
پنجابی کی کہاوت ہے ۔مکیوں اگے اُجاڑ۔۔۔
