
ممبر شب کی آخری تاریخ۔
انجمن اتحاد ترقی میوات الیکشن مہم۔
آگے بڑھو۔اپنی ذمہ داری پوری کرو
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
ہر کہ آمد عمارتے نو ساخت
رفت و منزل بہ دیگری پرداخت
مفہوم اور تشریح:ترجمہ:
جو بھی (دنیا میں) آیو، وا نے ایک نئی عمارت کھڑی کری (اپنا منصوبہ بنایا)؛ اور پھر اُو چلو گیو اور ۔اُو منزل کائی دوسرا کے حوالے کر دی۔
مطلب: ای شعر دنیا کی بے ثباتی اور عارضی پن اے بیان کرے ہے۔ انسان دنیا میں آوے ہے، گھر بناوے ہے، جائیدادبناوے۔عمارت کھڑی کرے ہے اور سمجھےہے کہ اُو ہمیشہ ہیں رہے گو۔ لیکن وقت بدلے ہے واکی جگہ دوسرا لوگ آکے واکی جگہ اے سنبھال لیواہاں۔چار و ناچار وائے ایک دن چھوڑ چھاڑ کے ایک گھاں کو ہوجانو رہے ہے
اور اَگلو ،آن والو ۔و ا کی جگہ لے لیوے ہے۔ ای سلسلہ صدین سو ایسے ہی چلو آرو ہے۔
انجمن اتحاد ترقی میوات کی عبوری باڈی پوری تندہی اور خلوص سے میو قوم کا اعتماد بحال کرن کےمارے ایڈی چوٹی کا زور لگاری ہے کہ انجمن کا نیا الیکشن بروقت جلد کروادیا جانگا۔
میو قوم توجہ دئے۔ممبر بنے۔ممبر شب مہم میں بڑھ چڑھ کے حصہ لئے۔
اور جن لوگن نے پتو نہ ہے۔اُن کو بتائیو جائے کہ انجمن اتحاد ترقی میوات کی ممبر شب کا فوائد و ثمرات کہا ہاں؟
ممبر شپ کیوں ضروری ہے۔بدوکی کالج میو قوم کے مارے کتنی اہمیت راکھےہے۔
انجمن کا “لوگو”: پے پچاس سالہ تاریخ پیدائش لکھی ہے کہ انجمن لگ بھگ میری ہم عمر ہے۔
نوں تو کہواں کہ انجمن دادی نانی کی عمر کی ہے ہندستان سو چل کے پاکستان آئی۔پھر یاکا بیٹا اور پوتان نے ایک دوسرا کا لتا کپڑا پھاڑا۔ٹولین میں بٹ گا۔ایک دوسرا کی اخلاص کے ساتھ ٹانگ کھنچائی بھی کری ۔اور اپنااپنا طور پے مائی کے مارے چندہ بھی مانگتا رہا۔۔
پیدل اور سائیکل سواری سو ای کام شروع ہوئیو آج کار ۔بڑی بڑی گاڑین تک آپہنچو۔
مائی نے کچھ اچھا سپوت بھی جنا۔کچھ مائی کا نام پے اپنو الو بھی سیدھا کرتا رہا۔افسوس کے مائی کا نام پے کام کرن والان نے ۔ابھی تک ایسو نظام قائم نہ کرو ،کہ مائی کی دُھائی ساری قوم تک پہنچائی جاسکے۔نوں مائی انجمن بیچاری ایک بیٹھ سو لیکے، دوسری بیٹھک تک۔ایک بیٹا کا ہاتھن سوُ نکل کے دوسرا بیٹا تک بھٹکتی رہی۔
آج میو قوم معلومات کا لحاظ سو کائی حد تک بالغ ہوچکی ہے۔
بہت سا میو معاشرتی طورپے اعلی عہدان تک جاپہنچا ہاں۔غربت کی جگہ آسودگی نے لے لی ہے
تعلیم نے ان کو جینا کو ڈھنگ سکھادئیو ہےلیکن میو پکو ہو،
لوہا کی طرح مضبوط ہو۔یامارے یاکے بھینتر کوئی چیز اثر نہ کرسکے ہے۔
یامارے،معاشرتی۔معاشی ۔تہذیبی بدلائو نے بہت کچھ بدل کے دھر دئیو۔
لیکن میو قوم کی سوچ۔عدم برداشت۔ٹانگ کھنچائی۔باجود سچائی معلوم ہونا کے دھڑے بندی میں غلط کام کرن والی صفات میں کوئی دراڑ پیدا نہ ہوسکی۔
یامارے جیسے میو پہلے سوچے ہو ۔اب بھی ایسے ہی سوچے۔

ہر کوئی دوسر ا کو نیچا دکھانا میں جلد بازی کرے ہے۔
دوسرا کی بات کتنی بھی پائیدار۔معقول اور حقائق پے مبنی ہوئے۔قبول کرن کے بجائے یامارے رد کردی جاوے ہے
کہ ۔مخالف نے کہی اور بتائی ہے۔
ایک نامعقول بات۔جامیں غیر سنجیدگی ہوئے۔یامارے قابل قبول ہے کہای بات ہمارا گروپ کا آدمی نے کہی ہے۔
یہی صفات ہاں جن کی بنیاد پے کہو جاسکے ہے کہ انجمن کی ممبر سازی۔متوقع الیکشن۔کالج کی تعمیر و ترقی۔مشکل کام نہ ہاں ۔
لیکن ان کامن نے کرے گو ،کون؟ان کامن نے کرن کے مارے پرانی عادات۔منفی سوچ۔ٹانگ کھنچائی۔گروپ بندی چھوڑنی پڑنگی۔
اگر میو قوم یا بدلائو کے مارے تیار ہے تو بدوکی کالج اےبنن سوکوئی نہ روک سکے ہے۔
اور اگر عادات نہ بدلی گئی تو۔ممبر سازی۔الیکشن۔ اور متعلقہ منصوبہ جات۔ایک مشق لاحاصل ہاں ۔
جیسے پچاس سال سو ہوتو آئیو ہے ۔آگے بھی ایسو ای ہوتو رہے گو۔
میو قوم بہت بڑی تعداد میں پاکستان میں بسے ہے۔ کروڑن میں نہ تو لاکھن میں ضرور ہے۔
کہا اتنی بڑی قوم کے مارے ایک منصوبہ پائے تکمیل تک پہنچانو مشکل بات ہے ؟
آج میو قوم کالج بنان کو پختہ عزم کرلئے۔تو کوئی رکاوٹ راستہ نہ روسکے ہے۔
رہی بات فنڈز کی تو ۔اگر پاکستان میں ایک کروڑ میو قوم کا لوگ آباد ہاں ۔تو ان کو اپنو پیغام شفاف طریقہ سو پہنچائیو جائے۔
ایسو نظام متعارف کرائیو جائے کہ بد اعتمادی کی فضاء کی جگہ اعتماد اور یقین کی فضاء قائم ہوجائے۔
تو میو قوم کو ہر فرد اگر ماہانہ بنیاد پے ایک روپیہ بھی چندہ دئے۔تو کروڑوں روپیہ جمع ہوجائے گو۔۔
۔صرف ایک روپیہ چندہ۔جاکی کوئی ویلیو نہ ہے۔لیکن مائی کی جھولی میں گیر دئیو جائے گو۔ای روپیہ خزانہ میں تبدیل ہوجائے گو۔
میو قوم قوم تیار ہے ۔دیالو ہے۔سخی ہے۔پیسہ خرچ کرنو چاہوے ہے۔ایک ایک میو اتنو بھاری ہے ۔ایک دس پروجیکٹن نے اکیلو بنادئیے گو۔
انتظامیہ اے میو قوم کو یقین دلانو پڑے گو کہ وے یا قابل ہاں۔امین ہاں، دیانت دار ہاں۔اپنی قابلیت ثابت کراں،
میو قوم چندہ دینا کے مارے حاضر ہے۔
ایک سب سو بڑو گیپ ای ہے کہ انجمن اتحاد ترقی میوات ۔کوئی ایسو نظام قائم کرن میں کوئی سنجیدہ کوئی کوشش نہ کرری ہے کہ دنیا بھر میں بسن والا میو قوم کا لوگن کو اپنو پیغام پہنچا سکے۔یا کوئی ایسو شفاف نظام متعارف کرواسکے کہ پچاس سالہ بد اعتمادی ۔اعتماد میں بدلی جاسکے۔
کہا جولوگ انجمن کا عہدہ دار ہاں ۔وہی میو ہاں ۔دوسرا لوگن کی رائے ،ان کو ووٹ کو حق۔ان سو چندہ وصولی کو شفاف نظام نہ دے سکاہاں ؟
ایک معمولی سو اقدام انجمن کی ریپوٹیشن بحال کرسکے ہے۔
انجمن کا نام کو ایسو سوفٹ وئیر بنائیو جائے۔جامیں ہر چیز آن لائن دستیاب ہوئے۔
ووٹ کو حق۔چندہ کی رقم میں شفافیت۔آمد و اخرجات کو اندراج۔اغراض و مقاصد کی تشریح و ترویج۔پورو سسٹم ایک کلک کی دوری پے ہوئے۔
دنیا بھر میں کوئی بھی کہیں بھی بیٹھ کے مانی انجمن کا ہار سنگھار دیکھ سکے۔ضرورت کے وقت مالی مدد دے سکے۔
وائے پتو ہوئے کہ میرو چند ہ کہاں لگ رو ہے؟کہاں خرچ ہورو ہے۔کوئی دس روپیہ بھی دئے تو واکو حساب موجود ہوئے۔
لیکن ان باتن نے سمجھن کے مارے گروپ بندی توڑنی پڑے گی۔
آنا کو مورٹی چکنا چور کرنی پڑے گی۔چوہدر لپیٹ کے چولہی میں دھرنی پڑے گی۔
یاد راکھو دنیا میں کوئی کام ناممکن نہ ہے۔
باقی نام رہے اللہ کو۔
میو قوم زندہ باد۔
پاکستان زندہ باد
