میو قوم کے نام پر بنا، وٹس ایپ گروپس ۔ان کی ترجیحات

0 comment 7 views

میو قوم کے نام پر بنا، وٹس ایپ گروپس ۔ان کی ترجیحات
از /حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میو قوم کو اللہ نے بے شمار نعمت دے راکھی ہاں ۔اَن گِنت مواقع بھی دے راکھاہاں ۔ پاکستان آزاد ہوئے بھی اناسی۔اسی سال ہون والا ہاں۔یادوران قومی سطح پے بہت سا اتار چڑھائو آیا ،بہت سا بدلائو پیدا ہویا۔ہم نے پتو نہ ہے تقسیم ہندسو پہلے میو قوم کہا حالت میں ہی۔لیکن اتنی بات ضرور ہی کہ ای قوم فاقہ مست ہی۔ کاروبار۔ نوکری۔ پڑھائی لکھائی۔اور دنیا سو روابط میں کوئی خاص دلچسپی نہ راکھی ہی ۔
بہت سا کام ایسا ہاں جو معاشرہ میں اچھا سمجھ لیا جاواہاں ۔ ہم کو۔ نائی میراثین نے صرف یک رخی تاریخ و تعریف بتائی ہے۔ اور اپنی بات، اپنی شاعری،اور اپنا ہنر کا، بل بوتا پے وہی لوگ زندہ راکھاہا ۔ جن سو کچھ نہ کچھ ملے ہو۔
جہاں سوُ ان کی گھر گھرستی چلے ہی۔ شاعر لوگن نے ممدوح ہمیشہ سو مال دار طبقہ ہی بنائیو اورقابل تعریف سمجھو ۔اگر ہم دنیا کی ساری قومن نے چھوڑ بھی دیواں ۔تو عرب و عجم بالخصوص تاریخ ہند میں جتنا شعراء نے اپنا جوہر دکھایاہاں۔ ان کو شیشہ دھنیڑی لوگن کو دولت سو پھولو ہوئیو چہرہ دکھائیو ہے ۔وامیں عام آدمی یا قوم کی کوئی بات نہ ہے۔
البتہ شخصیات کی انفرادی تعریف میں کہا گیا قصیدہ قوم کا نام سو منسوب کردیا گیا ہا ۔ شعوری ولاشعوری طورپے میوقوم نے بھی ای بات قبول کرلی کیونکہ ان کے پئے دوسرو کوئی راستہ نہ ہو۔کچھ لوگ جن کو اللہ موقع دیوے ہے وے اپنی مرضی اور ترجیحاتن نے قوم کی خدمت قرار دیواہاں ۔اختلاف اے قوم کے خلاف بتاواہاں ۔یعنی ان کی ذات یا ان کو گروہ صرف میو ہے باقی سبن نے میو پن کو سرٹفکیٹ ان سو لینو پڑے گو؟

Advertisements


میو قوم سوُ اِی کہا پوری دنیا میں یہی روش چلی آری ہے۔تاریخ اسلام اٹھا کے دیکھ لئیو ۔صحابہ کرام کے علاوہ جتنی بھی تاریخ ہے ایسا ہی واقعاتن سو بھری پڑی ہے۔
میو قوم کی پسماندگی اور دوسران کا حقہ پے جا بیٹھنو۔کام کاج نہ کرنو۔عمومی بیماری ہی۔
میو قوم میں تعلیم آگئی لیکن تربیت کی بہت گھنی کمی ہی۔ہمارے پئے کوئی ایسو نظام یا پیمانہ

نہ ہے کہ اصلاح کو پہلو ڈھونڈ سکاں۔
جو دوسری قومن میں روش ہے، وہی میو قوم میں پائی جاواہاں۔ میو قوم نے دوسران کی بھلی بات لینا کے بجائے اپنی اچھی بات بھی چھوڑ دی ہاںمثلاََ پہلے لوگ طلاق اے بہت برُو جانے ہا ۔بہن بیٹی کی قدر کرے ہا۔بڑان کی عزت کرے ہا۔پرے پنچایت کی بات مانی جاوے ہی۔ایک دوسرا کو سہارا بنے ہا۔۔۔یہ صفٖات پہلا لوگن میں ہی۔جن کانامن پے آج روزی روٹی کو سلسلہ چل رو ہے۔
ہم نے دوسرا لوگن سوُ برائی تو لے لی ۔لیکن ان کی بہتر باتن نے قبول کرن سو عاری رہا ۔ لوگن نے کارو بار کرا ۔تجارت کری ۔اپنو فن و ہنر آن والی نسلن کو منتقل کرو۔جب عہدان پے پہنچا ،تو اپنی قوم کی سپورٹ کری۔لیکن میو قوم میں ای کم کم دیکھو گئیو۔نہیں تو جتنا لوگ میوون میں سو مالدار ۔تاجر۔بزنس مین۔حکومتی اداران میں بیٹھا ہاں۔وے کوشش کرتا تو آج نئی نسل کو بہتر پیغام دئیو جاسکے ہو۔
رہی بات سیاسی سماجی۔تنظیمی لوگن کی تو ۔اللہ کو شکر ای روش ان میں بھی پائی جاوے ہے ۔ ابھی تک اتنی بڑی تعداد میں میو قوم موجود ہونا کے باوجود کائی کے پئے کوئی لائحہ عمل موجوود نہ ہے کہ میو قوم کی رہنمائی کے مارے راستہ متعین کرو جاسکے۔
قوم کی نبض پہچاننی ہوئے کہ کونسو مرض جسم اے کھارو ہے ؟کونسی بیماری موجود ہے ؟تو ۔دور جانا کی ضرورت نہ ہے۔وٹس ایپ گروپن نے دیکھ لئیو۔پوری تاریخ سمجھ میں آجائے گی جیسے ہندستان کا میو چوپال یا بنگلہ پے بیٹھ کے میراثین سو اپنی تعریف اور بڑان کی تعریف سُنے کا۔کچھ تعریف کرے ہا،کچھ سُنے ہا۔بس یہی کچھ تو آج بھی ہورو۔
جب تک میراثی کو کردار ادا کرتا رہوگا۔گروپ کا ممبر بلکہ اہم ممبر گروپ کی جان ۔بلکہ جان جاں رہو گا۔جانے ایڈمن یا کائی دھینگ کا مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی، تو رولز کی خلاف ورزی پے ریمو کردیا جائوگا۔
میں نہ کہہ رو ہوں کہ سارا گروپس ایسا ہاں ۔لیکن زیادہ تر جن سو میرو رابطہ رہو ہے۔ان میں ای صفت پائی جاوے ہے۔ گروپ کہا ہاں ۔چھوٹی چھوٹی مقدس جگہ اور مسجد ہاں ۔جن مین ایڈمن کی مرضی کے بغیر داخل ہوسکو ہے ،نہ زبان کھول سکو ہو۔
عزت و آبرو کائی عہدہ۔جاگیر۔یا ٹھونڈا پن کی وجہ سو نہ رہوے ہے ۔عزت تو قوم کی خدمت کی بنیاد پے ملےہے۔جو کام کائی بھی شعبہ میں کام کراہاں ۔ان کو زندگی کا کائی بھی شعبہ سو تعلق ہوئے ۔وے قوم کا ماتھا کا جھومر ہاں ۔لیکن جنن کو خدا نے موقع دیئو ۔وے خدمت کے بجائے اپنا عہدہ کو تعارف کرانو بہتر سمجھا ہاں۔کیونکہ دکھانا کے مارے خدمت کو جھولہ خالی رہوے ہے۔ کچھ لوگ تو گندگی کی مکھی رہوا ہاں ۔جب بھی کائی اے کچھ کام کرتو دیکھا ہاں ۔اُنن نے کوبی دیکھائی نہ دیوے ہے بلکہ تنقید،یا کمزوری ڈھونڈا ہاں کہ بہتر انداز میں ٹانگ کھینچ سکاں۔جیسے مکھی پورا صحت مند جسم اے چھوڑ کے زخمی مقام پے جابیٹھے ہے ایسے ہی یہ لوگ بھی کردار کشی کرن کے مارے تیار بیٹھا رہوا ہاں ۔
ممکن ہے بات کڑوی ہوواں ۔ہر کوئی اتفاق نہ کرسکے۔البتہ دعوت فکر ہے کہ یا پہلو پے بھی سوچو جائے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme