in , ,

عید ٹپس۔۔کونسا گوشت کس کے لئے مفید ہے

عید ٹپس۔۔کونسا گوشت کس کے لئے مفید ہے
عید ٹپس۔۔کونسا گوشت کس کے لئے مفید ہے
عید ٹپس۔۔کونسا گوشت کس کے لئے مفید ہے
عید ٹپس۔۔کونسا گوشت کس کے لئے مفید ہے

عید ٹپس۔۔کونسا گوشت کس کے لئے مفید ہے
ان ہدایات پر عمل کرکے عید کے لطف کو دوبالا کریں

حکیم قاری محمد یونس شاہد میو

اللہ تعالیٰ سب کو صحت و تندرستی دے۔اگر کوئی صاحب گوشت کی بوٹیاں کھانے سے تکلیف میں مبتلاء ہوجاتے ہوں تو یخنی بنا کرپی لیا کریں ۔یہ زود ہضم اور جسم میں جذب ہونے والی۔اور خفیہ طاقتوں کو بیدار کرنے والی اور جسم کی ناطاقتی کو زائل کرنے والی ہوتی ہے۔

کمزور لوگ یخنی کا استعمال کریں۔بوٹیاں پلائو کے لئے محفوظ کرلیں۔زیرہ سفید۔کالی مرچ۔ادرک وغیرہ مناسب مقداع میں شامل کرلیں۔کوشش کریں کہ گوشت میں سرخ مرچ کم استعمال کریں. گوشت شوربے والا پکائیں یہ طریقہ زیادہ فائدے مند ہے

 

(1) ہار مونز سے متاثر خواتین ،جن کے نلوں میں درد رہتا ہو۔ماہواری میں بے قاعدگی ہو۔سانس چڑھتا ہو۔ہاتھ پائوں بے جان رہتے ہوں انہیں
گوشت میں ( ادرک+ لہسن+ہلدی+کالی مرچ دھنیا + پودینہ کا استعمال زیادہ کریں ،سرخ مرچ اور دیگر مصالحہ جات کا استعمال برائے نام کریں۔

 

(2) گوشت کھانے سے اگر بلڈ پریشر بڑھے تو ( سونف + زیرہ سفید+ الائچی سبز) کا قہوہ پی لیا جائے۔بالخصؤص ایسی ترکیب جس میں پانی کم استعمال ہو اور چٹخارہ زیادہ ۔کیونکہ بھنا ہوا گوشت گردوں کے لئے آفت ہوتا ہے۔ ایسےبلڈ پریشرکے مریض جن کا پیشاب جل کر۔قطروں کی صورت میں بار بار آتا ہو

 

(3) گوشت کھانے سے جسم پر دھپڑ نکل جائیں تو فورا ( گلاب کی پتی + زیرہ سفید+ الائچی سبز + سونف + ثابت دھنیا) کا قہوہ لیں۔یہ الرجی کی وجہ سے ہوتا ہے۔جس میں صفرا زیادہ مقدار میں جمع ہوجاتا ہے۔جب وہ جسم کے نرم حصوں میں پہنچتا ہے تو ہلکی سی خارش ہوتی ہے اور جسم پر سرخ درپھڑ نمودار ہوجاتے ہیں۔اس لئے وہ اشیاء کھانی چاہیئں جو صفرا کو خارج کرکے جسم میں اعتدال پیدا کردیں۔مذکورہ بالا اشیاء میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ جسم سے فالتو صفرا کو خارج کرکے خون میں اعتدال پیدا کرتی ہیں۔

(4) گوشت کھا کر اگر بدہضمی پیٹ دردہو تو ( اجوائن دیسی + پودینہ+ تیز پات) قہوہ لیں۔گوشت کی تیاری کے وقت اگر لہسن کا زیادہ استعمال کرلیا جائے، زیرہ سفید،کالی مرچ مناسب مقدار میں شامل کرلی جائیں تو کھانا زود ہضم بن جاتا ہے۔

(5) گوشت کھا کر اگر لوز موشن متلی ہونےلگے تو ( لونگ + دار چینی + لیمن چند قطرے) کا قہوہ پی لیں۔اسہال یا دست اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب طبیعت مدبرہ جسم سے فالتو چیز کو خارج کرتی ہے۔یاد رکھئے۔دست اور پیچس میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔دست بغیر بتلائے کپڑے خراب کردیتے ہیں جب کہ پیچس میںمواد کم نکلتا ہے لیکن مروڑ زیاہ محسوس ہوتے ہیں۔جسے پنجابی میں وٹ پھرنا کہتے ہیں۔یہ والا نسخہ اسہال/دستوں میں مفید ہوتا ہے پیچس میں اس کے اس طرح کے فوائد نہیں ملتے۔

(6) گوشت کھا کر اگر پیچش ہو تو ( ہلدی + ملٹھی + سونف) یا ( سونف + زیرہ سفید + ہلدی۔دھنیا خشک) پوڈر کرکے کھا لیں۔میں جو نسخہ برسوں سے استعمال کررہا ہوں اس کے اجزائے ترکیبی میں۔سونف۔ہلدی۔ملٹھی۔دھنیا خشک۔ہیں۔یہ صفراوی امراض میں کمال کی چیز ہے۔جس موشن میں مروڑ ہوں۔بھوک بند ہونا۔اپھار کی صورت پیدا ہوجانا وغیرہ میں کام کی چیز ہے۔جس گوشت کی تیاری میں چٹخارہ کا خصوصی خیال کیا جائے ۔اس کے استعمال سے جب تک طیعت برداشت کرے ۔کچھ نہیں جیسے ہی طبیعت مدبرہ عاجز آتی ہے۔اورگردے خون کی صفائی سے عاجز آجاتے ہیں تو طبیعت فالتو مواد کو خارج کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

(7) گوشت کھا کر اگر پائلز(بواسیر) خونی شروع ہو جائے تو ( زیرہ سفید + سونف + گلاب کی پتی + ) کا قہوہ 2 چٹکی ہلدی پھانک کر قہوہ پی لیں۔دنبہ بکرا چھترا ۔اونٹ کے گوشت سے بواسیر کا خون نہیں آتا بلکہ یہ گوشت تو بواسیر کے لئے نافع ہیں،بالخصوص اونٹ کا گوشت تو بواسیر کو ختم کردیتا ہے۔کٹے کا گوشت اور گائے کا گوشت کھانے سے بواسیری لہوجاری ہوسکتا ہے۔ایسی عورتیں جنہیں تازہ حمل ہوا ہو، وہ بھی کٹے وچھے کا گوشت بقدر ضرورت ہی کھائیں۔انہیں اسقاط حمل کی شکایت ہوسکتی ہے،کیونکہ یہ دونوں گوشت جسم میں سوداویت یعنی خشکی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ جسم میں خشکی جب حد اعتدال سے بڑھ جائے تو اجرائے حیض کا سبب بن سکتے ہیں۔

(8) گوشت کھا کر اگر ( ادرک + پودینہ+ اجوائن دیسی)کا قہوہ معمول سے لیا جائے تو بدہضمی ،بری ڈکاریں،معدہ کا درد ،اپھارہ، لوز موشن وغیرہ سے محفوظ رکھے گا۔اگر اس میں سونف کا بھی اضافہ کرلیا جائے تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں۔ضروری نہیں کہ قہوہ بناکر ہی پیا جائے آپ ان اجزاء کو باریک پیس کر پھکی بھی تیار کرسکتے ہیں۔

(9) گوشت کھا کر اگر مسوڑھوں پر ورم آجائے دانت درد کریں تو ( نمک + سونٹھ + سرسوں کے تیل سے لیپ) تیار کر کے دانتوں مسوڑوں پر ملا جائے تو سکون حاصل ہوتاہے

(10) گوشت کھا کر اگر قبض ہو تو ( منقیٰ 8/10دانے) آدھے کپ پانی میں ابال کر منقیٰ کھالیں اور پانی پی لیں انشاءاللہ قبض رفع ہو جائے گا۔(11) چھوٹے بچوں کو گوشت کے ساتھ صرف( پودینہ + زیرہ سفید + سونف + بڑی الائچی کا قہوہ دیا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گوشت کے فوائد و خواص MEAT

ماہرین تغذیہ نے گوشت کو بطور غذا و دوا مفید قرار دیا ہے۔ اس کی تاثیر گرم تر ہے۔ یہ جسم انسانی میں خون اور گوشت بڑھاتا ہے۔ بادی دور کرتا اور طاقت بخشتا ہے۔ بدن کو موٹا اور جسم میں

چربی پیدا کرتا ہے۔ البتہ اس کا کثرت سے استعمال دماغ کو کند کر دیتا ہے۔

جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گوشت کے اجزائے ملحمہ یعنی گوشت و خون پیدا کرنے والے اجزا چربی، نمک اور پانی پر مشتمل ہیں ۔ چربی میں وٹامن ’’اے‘‘ پایا جاتا ہے جس سے ہڈیوں کو غذا پہنچتی ہے۔

اجزائے ملحمہ کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث یہ غذائیت بخش ہے۔ تاہم گوشت زیادہ کھانے سے گردوں میں یورک ایسڈ کی جو زیادتی ہو جاتی ہے، گردے اسے بآسانی خارج نہیں کر سکتے۔
گوشت بدن میں صفرا زیادہ کرتا ہے۔ ازحد گوشت خوری سے مثانے اور گردے کے امراض رونما ہوتے ہیں۔

جگر، گردوں، قلب اور دوسرے اعضا بدن کے فعل میں نقص آ جاتا ہے۔ اس لیے گوشت کا استعمال کم کرنا چاہیے۔

گوشت عموماً خوب بھون کر پکایا جاتا ہے۔ اس طریقے سے گوشت کے مقوی اجزا جل جاتے ہیں۔ حیاتین بھی ضائع ہوتے ہیں۔ روغنی اجزا بھی نہیں رہتے۔ چناںچہ اسے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ ابلا ہوا گوشت کھایا جائے۔ یا بہترین گُر یہ ہے کہ پہلے گوشت کو مصالحہ وغیرہ ڈال کر بھون لیں پھر پانی ڈال کر پکائیے۔ یوں گوشت کی ساری طاقت شوربے میں آ جاتی ہے۔ اسی لیے شوربا زیادہ مفید ہے۔

اس طریقے میں گوشت کی بوٹی فائدہ مند نہیں رہتی بلکہ قدرے قابض ہو جاتی ہے۔ اسی لیے گوشت کے ساتھ سبزی ڈال کر پکانا مفید ہے۔ یوں اس کی مضرت کم ہو جاتی ہے۔ سبزی کی وجہ سے گوشت فائدہ مند اور صحت بخش غذا بن جاتا ہے۔ دماغی کام کرنے والے افراد گوشت کبھی کبھی کھائیں۔

حضرت ابو الدرداؓ کی حدیث سے مروی ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ’’دنیا والوں اور جنتیوں کے کھانے کا سردار گوشت ہے۔‘‘
امام زہری نے بیان کیا ہے کہ گوشت خوری سے 70قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ محمد بن واسع کا خیال ہے کہ گوشت خوری سے بصارت تیز ہوتی ہے۔ چناںچہ حضرت علیؓ سے مروی ہے،

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ گوشت کھاؤ، اس لیے کہ یہ بدن کے رنگ کو نکھارتا ہے۔ پیٹ بڑھنے نہیں دیتا۔ اخلاق و عادات بہتر بناتا ہے۔

نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ماہ رمضان میں اکثر گوشت کھاتے تھے۔ حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ جس نے چالیس رات گوشت کھانا چھوڑ دیا، اس کا اخلاق برا ہو جائے گا۔گوشت کی مختلف اقسام ہیں۔ وہ اپنے اصول و طبیعت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ مگر یہاں صرف قربانی کے جانوروں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

بھیڑ کا گوشت

یہ دوسرے درجے میں گرم اور پہلے درجے میں تر ہوتا ہے۔ یعنی گرم و تر اور زود ہضم ہے۔ فوائد کے لحاظ سے دوسرے درجے پر ہے۔ جسمانی گوشت بڑھاتا اور طاقت بخشتا ہے۔ ایک سالہ بھیڑ کا گوشت سب سے عمدہ ہوتا ہے۔ جس کا ہاضمہ اچھا ہو، اس میں صالح خون پیدا کرتا ہے۔ سرد اور معتدل مزاج والوں کے لیے عمدہ غذا ہے۔ جو لوگ سرد مقامات میں رہیں اور سرما میں محنت و ریاضت کریں، ان کے نافع ہے۔ سوداوی مزاج والوں کے لیے بھی مفید ہے۔ ذہن اور حافظہ قوی بناتا ہے۔

لاغر اور بوڑھی بھیڑ کا گوشت خراب اور مضر صحت ہے۔ سب سے زیادہ عمدہ گوشت سیاہ رنگ کی بھیڑ کا ہوتا ہے۔ دائیں طرف کا گوشت بائیں طرف سے اور اگلا حصہ پچھلے حصے سے عمدہ ہوتا ہے۔

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو اگلے حصے اور سر کو چھوڑ کر بالائی حصے کا گوشت بہت زیادہ مرغوب تھا۔ یہ زیریں حصہ کے مقابلے میں زیادہ ہلکا اور عمدہ ہوتا ہے۔ گردن کا گوشت زود ہضم اور ہلکا ہے۔ دست کا سب سے، لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے۔
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم کو پشت کا گوشت مرغوب تھا کہ اس میں غذائیت زیادہ ہوتی ہے۔

بکری کا گوشت

اس کا مزاج گرم تر ہے۔ یہ طاقت بخش ہے۔ خون پیدا کرتا ہے۔ تپ دق، سنگرہنی اور کمزوری میں اس کی یخنی مفید ہے۔ ماہرین طب کی تحقیق کے مطابق بکری یا بکرے کے جس عضو کا گوشت کھایا جائے، انسان کے اسی عضو کو طاقت حاصل ہوتی ہے

۔ ایک روایت میں حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ’’بکری کی نگہداشت اچھی طرح کرو اور اس سے تکلیف دور کرتے رہو اس لیے کہ یہ جنت کے چوپایوں میں سے ہے۔‘‘ بکری کے ایک سالہ بچے کا گوشت معتدل ہوتا ہے۔ عرق النساء کے درد میں جس کو لنگڑی کا درد بھی کہتے ہیں، علاج کے لیے حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بکری کے پچھلے حصہ (پُٹھ) کو پکا کر گلا دیا جائے۔ اس کا شوربا تین دن تک پلایاجائے۔‘‘

گائے کا گوشت

اس کا مزاج سرد خشک ہوتا ہے۔ دیر ہضم ہے۔ سوداوی خون پیدا کرتا ہے۔ محنتی اور جفاکش لوگوں کے لیے مناسب گوشت ہے۔ مگر اسے زیادہ استعمال کرنے سے سوداوی امراض جیسے برص، خارش، درد، جذام، فیل پا، کینسر، مسلسل بخاروں کاآنا چمٹ سکتے ہیں ۔ یہ سب بیماریاں اس شخص کو لاحق ہوتی ہیں جو گائے کے گوشت کا عادی نہ ہو اور نہ اس کی مضرت مرچ سیاہ، لہسن اور دارچینی و سونٹھ وغیرہ سے دور کرے۔ اطبا نے گائے کے گوشت کو دیر ہضم اور خراب خون پیدا کرنے والا بتایا ہے۔ اپھارے کی شکایت لاحق کرتا ہے ۔ سوداوی امراض، گٹھیا اور

عرق النساء میں نقصان دہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

خطباتِ حجۃ الوداع… تاریخی دستاویز اور ’حقوقِ انسانی کے چارٹر

اونٹ کا گوشت

 

حضورصلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے سفر اور حضر میں اس کو استعمال کیا ہے۔ اونٹ کے بچے کا گوشت لذیذ ترین، پاکیزہ اور مقوی ہے۔ بھیڑ کے گوشت کی طرح جو اس کا عادی ہو، اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔ شہروں کے لوگ بہت کم پسند کرتے ہیں۔ مگر دیہات اور صحرائی علاقوں میں اس کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ یہ گوشت دیرسے ہضم ہونے کے باعث سوداپیدا کرتا ہے …٭…

یہ یاد رکھیے کہ جس گوشت کاخون باہر نہ نکالا گیا ہو، گندہ اور بدمزہ ہوتا ہے۔ اس کی رنگت گہری ہوتی ہے۔ متلی لانے کے قابل ہوتا ہے اور زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا، بہت جلد

خراب ہو جاتا ہے۔

یہ بھہ پڑھیں

 

ہم قربانی کے ثمرات سے کیوں محروم رہتے ہیں؟ اورہم قربانی کیوں کرتے ہیں؟

مسلم گھروں میں اول تو جھٹکا یا مردار گوشت نہیں آتا۔ پھر گوشت کو خواتین اتنا دھوتی ہیں کہ خون کا آخری قطرہ تک نکل جاتا ہے۔ غیر مسلم دعوتوں اور مسلمان گھرانوں کے گوشت سے پکی چیزوں کو بہت پسند سے کھاتے ہیں۔ ذبح کیے ہوئے جانوروں کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔

عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر شخص کے پاس گوشت کی وافر مقدار جمع ہو جاتی ہے۔ چناںچہ گوشت دھو کر استعمال کیجیے۔ گوشت ضرورکھائیے مگر اعتدال کے ساتھ!گوشت کے کثرت استعمال سے نہ صرف مسوڑوں میں خرابی پیدا ہوتی ہے بلکہ مرض کینسر بھی چمٹنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس لیے گوشت کو سبزیوں کے مقابلے میں کم استعمال کیجیے۔
کٹے کے گوشت کے بارے میں کچھ بتائیں

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

2 Comments

عرفہ کے دن کے فضائل

عرفہ کے دن کے فضائل

کس جانور کا گوشت کس قسم کے مریض کے لئے مناسب ہے صٖفائی سے متعلق کچھ احتیاطی تدابیر۔

کس جانور کا گوشت کس قسم کے مریض کے لئے مناسب ہے صٖفائی سے متعلق کچھ احتیاطی تدابیر۔