wall of life
ایک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے
نادان کہ رہے ہیں نیا سال مبارک
دیوار حیات
ایک اور اینٹ گر گئی دیوار حیات سے
نادان کہ رہے ہیں نیا سال مبارک
دیوار حیات۔جدار الحياة۔۔۔۔۔wall of life/
میری زندگی کے پچاس سال
بہتی ہوئی آبشارے کبھی رکا نہیں کرتیں۔ گرتے ہوئے جھرنے کبھی واپس نہیں ہواکرتے، نکلا ہوا تیر واپس نہیں آیا کرتا۔ اسی طرح گزرے ہوئے لمحے کبھی واپس نہیں آتے ،ہر چیز کو لوٹا ناممکن ہوتا ہے لیکن گزرا ہوا لمحہ کبھی واپس نہیں آتا، ابھی کل کی بات ہے جب سےہم نے خود سنبھالا ،یہ ہماری زندگی کی بیتے ہوئے کچھ ایام ہیں جنہیں ہم خواب کی صورت میں دیکھتے ہیں، بچپن کے دن ایسے لگتے ہیں کل کی بات ہے۔ جو انی یوںلگتی ہے جیسے خواب تھا، اب ڈھلتی ہوئی عمر میں ایسا لگتا ہے کہ ابھی بہت جینا ہے ،لیکن زندگی کے حادثات نے انسان کو اتنا مجبور اور عمل پر اس قدر مستعید کردیا ہے کہ ایک لگے بندھے چکر سے باہر نہیں آ سکتا۔
حکیم-المیوات-قاری-محمد-یونس-شاہد-میو.
میں یکم جنوری1971 کو پیدا ہوا ۔ آج 2022 ختم ہونے کو ہے، میں نے کیا کھویا کیا پایا؟کچھ یاد نہیں۔صرف کچھ تلخیاں ہیں جو کبھی کبھار پر سکون زندگی میںزہر گھول دیتی ہیں۔ اللہ نے ہر چیز سے نوازا ہے۔ گھر بار ہے۔ کھانے پینے کے لئے رزق ہے۔ اولاد کی نعمت ہے، بہن بھائی ہیں، عزیزواقارب ہیں۔اسباب زندگی کی فراوانی ہے۔
ان پچاس سالوں میں بچپن گزارا، جوانی گزاری، تعلیم حاصل کی، بہت سارے کام کیے، زندگی کے اس صحرا میں بہت سے لق دق موڑ آئے ،خوشیاں دیکھیں۔ ناگوار یاں سہنا پڑیں،عادات بدلیں ،نظریات میں تغیر آیا۔جب پردے سرکے تو حقائق کو الگ انداز میں دیکھا۔ سب کچھ کم کم ذہن میں ہے ،باقی یاد نہیں ہے، کم واقعات ایسے ہیں جنہوں نے زندگی میں ہلچل پیدا کی، لیکن وہ ایک ذہن کے نہاں خانے میں مستور ہیں، کبھی کوئی ایسا ہی منظر سامنے آجائے تو وہ سامنے آجاتے ہیں۔
اب صرف ایک ہی سرمایہ ہے وہ میری لکھی ہوئی 80 کے قریب کتب ہیں۔ ان پچاس سالوں میں جیسے بھی زندگی گزری لیکن الحمدللہ میں زندگی سے مطمئن رہا، آج بھی مطمئن ہوں، قدرت میری ضرورتوں کے لئے بروقت اسباب مہیا کرتی رہی،کام کرنے سے پہلے سوچنے کی عادت ہے، کام کے نتائج کچھ بھی ہوں ذہنی طور پر آمادہ رہتا ہوں، اس لئے کم افسوس کا موقع ملتا ہے لیکن کچھ باتیں۔کچھ یادیں بہتے ہوئے زخم، ہلکی سی کسک زندگی میں وقتی ارتعاش پیدا کرتی ہیںشاید اب ان میں اتنی جان نہیں رہی کہ بے چین کرسکیں۔
کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں انسان بھلانے سے بھی نہیں بھولتا ،مجھے آج کا دن بہت شدت سے یاد آرہا ہے، اسی سال گزرے ہوئے یعنی یکم جنوری 2020 کو میرے بیٹے میرے بیٹے سعد یونس کی عمر بیس سال ہوئی تھی، اس نے اپنی سالگرہ کے موقع پر سعدمیو ویلفیئر سکلز کے نام سے ایک ادارے کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ بہت ہونہار قابل تھا، اس چھوٹی سی عمر میں۔ سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا تھا ۔
اس نے میرے علمی کام کو جو صرف میری ہار ڈڈسک یا میرے مسودات تک محدود تھا ،کو عام کیا، اس نے ویب سائٹ ڈیزائن کیں اس مقصدلئے اکاونٹ بنائے ان کی اشاعت کے بہت سارے معاملات کئے اور ساتھ ہی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کو
عملا رائج کیا،اس ادارےسے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کیے ۔گزشتہ چند سالوں میں دو سو سے زائد لوگ فارغ التحصیل ہوئے۔
آئی ٹی کے شعبہ میں سعد میوورچوئل سکلز کو بھرپور عزم سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ میو انٹر نیشنل کالج (حویلی رامیانہ)قصور کے بانی /پرنسپل عاصد رمضان میو نے باہمی اشتراک سے سعد ورچوئل سکلز کے اشتراک سے نئی تعلیمی پالیسی ترتیب دی ہے۔سر دست نصاب میں ان مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔
سعدمیو ورچوئل سکلز پاکستان۔(ملحق۔میو انٹر نیشنل کالج قصور)
ابتدائی نصاب میں ذیل سکلز رکھی گئی ہیں۔
(1)انپیج (2)ایم ایس آفس(3)ویڈیو اڈیٹنگ(4)ویب ڈویلپنگ(5)یوٹیوب کورس(6)فیس بک کورس(7)ویٹس ایپ بزنس ٹریننگ(8)بلاگنگ(9)گرافکس ڈزائننگ(10)فری لانسسگ۔(11)ایمازون کورسز(12)ونڈو/سوفٹ وئیر انسٹالنگ
۔۔۔۔۔۔۔۔دعا ہے رب جلیل ہمیں قوم و ملت کے لئے ہمہ وقت مستعد رہنے کی توفیق عطا فرمائے
دیوار حیات