in ,

The antidote to poisons is the emerald stone

The antidote to poisons is the emerald stone
The antidote to poisons is the emerald stone

The antidote to poisons is the emerald stone

The antidote to poisons is the emerald stone
The antidote to poisons is the emerald stone

The antidote to poisons is the emerald stone
(www.dynakailm.com)
زہروں کا تریاق زمرد پتھر۔
الترياق المضاد للسموم هو حجر الزمرد.۔۔

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺکاہنہ نو لاہور

پیٹ کے زہریلے مواد کا تریاق۔

پتھروں کا استعمال قدیم سے چلا آرہا ہے۔ ساحرین اور علوم باطنی کے دعویدار لوگ پتھروں کے سحری خواص بیان کرتے ہیں اور انہیں انگوٹھی میں نگینہ کے طورپر یا گلے میں مالا کے طور پر پہنتے ہیں۔جب کہ اطباء حضرات پتھروں کو کشتہ کرکے یا انہیں مختلف انداز میں باندھ کر یا کھلا کر فائدہ اٹھاتے ہین ،پتھروں کے اس قسم کے استعمالات مشرق و مغرب میں ملتے ہیں۔ آئے اس بارہ میں کچھ معلومات حاصل کرتے ہیں
لفظ Emarlad فرانسیسی زبان کے پرانے لفظ Esmeraudeاور لاطینی زبان کے لفظ Smaradgosسے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ”سبز پتھر “ہیں۔۔زمرد (Emerald)

تعارف و تاریخ:

لفظ Emarlad فرانسیسی زبان کے پرانے لفظ Esmeraudeاور لاطینی زبان کے لفظ Smaradgosسے اخذ کیا گیا ہے جس کے معنی ”سبز پتھر “ہیں۔ایک انڈین داستان گوکے مطابق Emeraldپتھر کا سب سے پہلے سنسکرت زبان کےلفظ(Smaradgos) میں ترجمہ کیا گیا جس کے معنی بڑھتا ہوا سبز رنگ کے ہیں۔

قدامت استعمال

اس پتھر کا استعمال قریباََ 6ہزار سال سے کیا جا رہا ہے ۔4000قبل مسیح میںعراق کے شہر بے بی لون کے رہنے والے لوگ اس پتھر کو عباد کے لیے بھی استعمال کرتے تھے اور یہی لوگ اس پتھر کو بازار میںفروخت کے واسطے بھی لائے۔ مصر کے علاقوں سے اس پتھرکو ہزاروں سال سے نکالا جارہا ہے اور قریب تر امکان بھی یہی ہے کہ اس پتھرکی پہلی دریاف بھی مصر میںہی ہوئی ہے۔۔زمرد پتھرہیرا، روبی اور نیلم پتھر کے بعد چوتھا قیمتی ترین پتھر مانا جاتا ہے۔زمرد مرکری سیارے کا مقدس پتھر ہے جسے ایک طویل عرصہ تک امید کی علامت سمجھا گیا ہے ۔ یہ محبت و پیار کی حفاظت کا پتھر ہے۔ یہ پتھر اصل میںسبز رنگ میں ہی پایا جاتا ہے۔

خواص:

زمرد خوبصورت ترین اور قیمتی جواہرات میں سے ایک ہے یہ معدنی زبرجد ایک قسم ہے۔زبرجد میں کرو میم Chromium اور وینیڈیمVanadium کی قلیل مقدار میںموجود گی کی وجہ سے ہی پتھر منفرد اور عمدہ سبزرنگ میں پایا جاتا ہے ۔
اسکا کیمیائی فارمولا Be3Al2(SiO3)6ہے اور فارمولا ماس 573.50ہے۔ یہ پتھر سخت ترین پتھروں میں سے ایک ہے جس کے سخت پن کاموھ سکیل 7.5تا8ہے۔ زمرد پتھر کی کثافت قریباََ 2.76فیصد ہے۔کون کون سے افراد زمرد پتھر پہن سکتے ہیں:یہ پتھرمئی کے مہینے میں پیدا ہونے والے
لوگوں کا پیدائشی پتھر ہے اسکے ساتھ ہی ثور، سرطان اور حوت والے افراد بھی اس پتھر کو پہن کر کثیر فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

زمرد پتھر کے طبی فوائد

اس بات کو جانتے ہی مریض کو فوراً نو دانے (۵۰۰ ملی گرام) کے برابر چمک دار زمرد کھلا کر پانی کے چند گھونٹ پلا دیں۔ اس کے عجیب و غریب اثرات مریض کی قوت مدافعت کے بیدار کرنے کے سلسلے میں مشاہدہ میں آئیں گے اور اس کے مفاصل کی سختی گھل جائے گی۔ پھر اگر مریض سو جائے اور اسے پسینہ بھی آجائے تو اس سمیت کی علت سے اس کی نجات یقینی ہے ۔ جب زمرد کھلایا جائے تو دس گھنٹے یا کم ازکم آٹھ گھنٹے تک دوسری کوئی غذا نہ دی جائے۔۔۔۔۔۔

عقر (تعطل) امعاء دقاق ۔

کتاب التیسییر فی مداوۃ التدبیر میں،ابن زہر لکھتے ہیں:
علی ابن یوسف کی ایک کنیز تھی جس کا نام ثریا تھا۔ اس کے امعاء دقاق میں تعطل لاحق ہو گیا تھا۔ جس سے وہ افعال طبعی کے انجام دہی سے قاصر تھیں۔ اسہال مفرط کے نتیجہ میں آنتیں نچڑجاتی تھیں۔ لہذا میں نے اس سے علاج کا قصد کیا۔ میں سخت پریشانیوں میں مبتلا ہوا۔ حتی کہ چالیس یوم اسی طرح گزر گئے ۔ اور وہ اس ) مرض میں مبتلا ر ہی مجھے اس کے علاج کے سلسلے میں بہر حال بیحد خوش گمانی تھی یکایک اس کے داخلی طبقات امعاء سے دو بالشت سے بڑے ٹکڑے کٹ کر دست میں خارج ہونے لگے ۔

ان حالات کی اطلاع مجھ کو دی گئی یہ سُن کر مجھے حدت خلط کی اس حد تک زیادتی پر تعجب ہوا۔ اور اس خلط کی اتنی زبر دست تاثیر پر بہت متحیر ہوا۔ اس کے بعد مجھے اس امر کا واضح طور پر یقین ہوگیا کہ اس کی سہیلی قمر نے اسے زہر کھلا دیا ہے ۔ لہذا اس مرض سے نجات پانے کی کوئی تدبیر نظر نہیں آئی ۔ اور مریضہ اس علت میں ہلاک ہوگئی۔ ہر شئے اور ذی حیات کے مقدرات ہیں اور موت کا وقت مقرر ہے جو یقینا آکر رہے گا۔

میں نے زمرد کے سلسلے میں تجربہ کیا ہے

۔ اور دیکھا ہے کہ عصار اور اسہال کی صورت میں جوف شکم پر اس کو باندھنا عجیب و غریب خاصیت کا حامل ہوتا ہے ۔ میں جب علی ابن یوسف کی مریضہ کے علاج اور معائنہ کے بعد جب اشبیلیہ (اسپین) سے واپس آرہا تھا تو راستہ میں ایک چیز کو دیکھا، تو مجھے خیال آیا کہ وہ جنگلی مولی ہے۔ پھر اس میں کوئی شک بھی نہیں رہا ، میں نے اس میں سے قدرے کھالی ۔ نتیجہ کار مجھے اسہال اور آنتوں کا درد لاحق ہو گیا مرض میں زیادتی ہوتی گئی۔ میں پھر اشبیلیہ چلا گیا، وہاں میں نے اپنے پیٹ پر زمرد باندھا۔ اور منہ میں چھوٹا سا مسلم زمرد رکھ کر چوسنا شروع کیا۔ نتیجہ میں مرض قطعا رفع ہو گیاہے۔

طبی خواص:

افعال معدہ کے لیے مفید ہے، نبض کی حرکت کو اعتدال پر لاتا ہے لو بلڈ پریشر اور ہائی بلڈ پریشر دونوں میں مفید ہے دل و دماغ اور معدے و جگر کے افعال کو درست کرتا ہے اور قوت دیتا ہے، جذام، زمرد پیاس اور پتھری کے لیے تریاق ہے،زہریلے جانوروں کے ڈنگ سے محفوظ رکھتا ہے، حرارت عزیزی بڑھاتا ہے، مرگی اور امراض رحم کے لیے شفا ہے، سر کے درد خاص طور پر میگرین کی صورت میں سر میں باندھنے سے عموماً افاقہ ہو جاتا ہے، ذیابیطس (شوگر) والوں کے لیے مفید ہے، مثانے کو قوت دیتا ہے، پیشاب کی زیادتی کو کنٹرول کرتا ہے،

وضع حمل میں آسانی کے لیے رانوں پر باندھا جانا نہایت مفید ہے۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

Maktaba of Mufti Muhammad Rafi Osmani

wall of life

wall of life