in , ,

Operational Course for Executives. Lessons. 1

عملیاتی-کورس-برائے-عاملین۔سبق۔1-سعد-طبیہ-کالجب-برائے-فروغ-طب-نبوی-scaled.jpg
عملیاتی-کورس-برائے-عاملین۔سبق۔1-سعد-طبیہ-کالجب-برائے-فروغ-طب-نبوی-scaled.jpg

Operational Course for Executives. Lessons. 1

عملیاتی-کورس-برائے-عاملین۔سبق۔1-سعد-طبیہ-کالجب-برائے-فروغ-طب-نبوی-scaled.jpg
عملیاتی-کورس-برائے-عاملین۔سبق۔1-سعد-طبیہ-کالجب-برائے-فروغ-طب-نبوی-scaled.jpg

عملیاتی کورس برائے عاملین۔سبق۔1
Operational Course for Executives. Lessons. 1
الدورة العملية للمدراء. الدروس .1
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
منتظم اعلی
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ،/علوم مخفیہ

روحانی کورس حصہ اول۔پہلاسبق
عملیات ہر باہمت انسان کرسکتا ہے
اس لئے سوائے قوت ارادی کے کسی دوسرے چیز کی ضرورت نہیں ہوتی
یہ انسانی طاقت کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے
اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور اشیاء کو پرکھنے اور ان سے کام لینے کا ہنر بخشا۔انسانی حواس ایک دائرہ میں رہ کر کام کرتے ہیں۔اگر ان کی استعداد کو کسی طریقے سے بڑھا دیا جائے۔تو ان کی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
انسانی زندگی میں بہت سی اشیاء بے ترتیبی کا شکار ہوکر اپنی اہمیت ختم کردیتی ہیں۔ایک درخت جسے کاٹ دیا گیا ہے۔اس کی بڑھوتری اور سایہ کا فیص بند ہوچکا ہے لیکن عقل مند انسان اس سے اپنی دیگر ضروریات پوری کرسکتا ہے۔اس کا دروازے بنائے۔مکان کی چھت ڈالے۔دشمنوں اور موذیات سے حفاظت کے لئے لاٹھی بنائے۔اس سے آگ جلائے۔کھانا پکائے یا پھر سخت ٹھند میں اپنی سردی دور کرے۔اپنی زندگی بچائے۔

یہی مثال انسانی صلاحیتوں کی ہے۔

ان سے بہت سے کام لئے جاسکتے۔انہیں اپنی مرضی کے مطابق کام میں لایا جاسکتا ہے۔جیسے اعضائے ظاہری سے ہم حتی الامکان کوئی بھی کام کرسکتے ہیں،ایسے ہی باطنی صلاحیتوں سے ان گنت کام لئے جاسکتے ہیں۔یہ کام عجوبہ یا انوکھے نہین نہ ہی یہ کوئی کرامات یا محیر لعقول اموار ہیں۔لیکن یہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں انہیں مشکل سمجھا جاتا ہے،اس لئے ان کے بارہ میں بہت سی لایعنی اور غیر حقیقی باتیں مشہور ہوچکی ہیں۔
جس طرح ہم دیگر علوم و فنون کو سیکھ کر ان سے کام لیتے ہیں اسی طرح جس طرح دیگر فنون سے کام لیتے ہیں۔ ہم روز مرہ کے عملیاتی کورس کو مختصرا لکھ رہے ہیں۔یہ ضروری نہیں ہے لیکن خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور ان سے کام لینے کا بہترین طریقہ ہے۔
بعد نماز عشاء یا رات کو جب اردکرد جب خاموشی ہوجائے تو یہ عمل کریں جیسے بھی مناسب ہو با ادب ہوکر بیٹھیں۔
[۱]درود شریف …اللھم صل وسلم وبارک علی سیدنا ومولانا محمد النبی الامی وعلی آلہ واصحابہ دائماََابداََ[۱۱بار]
[۲]
آیۃ نور …اللہ نور السموٰۃ والارض[۷۰] بار
بنیادی طورپر طاقت کے اظہار کے لئے لفظ نور سے بہتر کوئی تشریح نہیں ہوسکتی۔۔
مادی اشیاء کا تجزیہ کرنے پر جو چیز آخری محسوس ہوتی ہے وہ نور ہوتا ہے۔
یہ اتنی بھاری طاقت ہوتی جہاں سب طاقتیں ختم ہوجاتی ہے۔
[۳]
اس کے بعد آنکھیں بند کرلیں اور تصور کریں کہ ایک وجودتو آپ کا مادی ہے یعنی گوشت پوست کا مگر ایک وجود اسکے اندر بھی ہے
اسے ایثری وجود/روحانی وجود بھی کہتے ہیں ،جیسے آپ کے مادی وجود کے اعضا ہیں اسی طرح اس جود کے بھی اعضا ہیں
مگر یہ قوت و وسعت میں مادی وجود سے کہیں زیادہ واعلی ہیں [بہت سے لوگ اسے ہمزاد سمجھتے یا کہتے ہیں مگر یہ بات درست نہیں ہے
،جسم مثالی در اصل وہ جسم ہے جو ہمارے وجود میں فطرت کی جانب سے ایک سوفٹ وئیرکی صورت میں رکھ دیا گیا ہے
یہ ایک معین وقت تک ہمارے وجود میں رہتا ہے مرنے کے ساتھ ہی یہ ہمارے مادی جسم سے ناطہ توڑ کر فضائوں میں چلا جاتا ہے
اور ہم مر جاتے ہیں [خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ]
میں کہ رہا تھا اب آپ آنکھیں بند کرلیںاور اس مثالی وجود کو بغور دیکھیں
وہ تمام اعضا جو مادی وجود میں ہیں اس میں بھی موجود ہیں دوہاتھ دوپائوں سر،چہرہ،سینہ،ٹانگیں وغیرہ
وہی سب کچھ جو مادی وجود میں ہوا کرتا ہے ۔
[۴]
جب آپ تمام اجزاء محسوس کرنے لگیں تو ابتداََتو یہ ایک احساس ہی ہوگا
مشق کرنے سے آہستہ آہستہ آپ کو یہ مکمل طور پر دکھائی دینے لگے گا،
جب یہ ہوجائے تو اپنے ہاتھ اپنے جسم مثالی کی بھو ئوں تک لے جائیں ،
پھر اپنے انگوٹھے اوراپنی انگلیوں کو کن پٹیوں سے بھوئوں تک دونوں طرف رکھ کر سر کے اوپری حصے کو اُٹھائیں۔ یہ کن ٹوپ کی طرح اُٹھ جایئگا ،سر کے پیچھے گدی کے پاس ایک قبضہ لگا ہوا ہے ہولے ہولے سر کو پیچھے لے جاکر قبضے پر ٹکادیں

اور دیکھیں آپ کا دماغ یعنی بھیجا نچلے سر کی گہرائی میں آٹے کے پیڑے کی طرح یا چلتے ہوئے پنکھے کے پروں کی طرح ہوگا ۔
[۵]
اسی لمحے دماغ کو غور سے دیکھیں تو وہ ذیل کے سیکچ کی طرح نظر آئیگا جو سات حصوں میں بٹا ہوگا۔
دماغ کے ان سات حصوں کو اپنی مثالی آنکھوں سے بغور دیکھیں
ان سات یا بعض حصوں میں سیاہی بھری دکھائی دیگی اور کچھ حصے دھندلے دکھائی دینگے،جب یہ دکھائی دینے لگے تو تو اگلا قدم یہ اٹھائیں ۔
[۶]اسی حالت میں رہتے ہوئے تصور کریں زمین کی تیہ یا پاتا ل میں ایک انجن لگا ہواہے
جس کی ساخت کلمہ طیبہ جیسی ہے تقریباََ ایسا ہے پہلے لفظ لا میں ایک بٹن لگا ہوا ہے
اسم ذات اللہ کی ہ سے ایک پائپ نکل کر آپ کے ہاتھ میں آگیا ہے ۔لا۔ میں لگا ہوا بٹن دبادیں
انجن تیزی سے ہوا اپنی طرف کھینچنا شروع کردیگا ۔
پائپ کا ایک سرا تمام حصوں میں لگائیں چونکہ انجن ہوا کوا پنی طرف کھینچ رہا ہے
لہذا انجن کی ہوا سے تمام سیاہی انجن میں سے ہوتی ہوئی پاتال میں چلی جایئگ
ی یکے بعد دیگرے تمام خانوںسیاہی صاف ہوکر آپ کے ذہن کے تمام حصے چمک ا ٹھیں گے

صفائی کے دوران دل ہی دل میں کلمہ طیبہ کا ورد جاری رکھیں
چند سیکنڈ بعد جب یہ تمام خانے چمکنے لگیں
تو اپنے مثالی جسم کے ہاتھوں سے سے سر کے دونوں حصوں کو ملادیں
یعنی جہاں سے اُٹھایا تھا کن ٹوپ کو وہیں رکھ دیں انگلی سے سطح ہموار کر دیں
تاکہ سر کے کھلنے کی جگہ میں کوئی دراڑ نہ رہ جائے ۔
[۷]آنکھیں کھول کر ستر [70]بار استغفار پڑھیں۔
[۸]پھر آنکھیں بند کرلیںاور اپنے سر کے اوپر دیکھیںیہ سات حصے جو نظر آئے تھے
ان کے اوپر سات پول یا انٹینے لگے ہوئے دکھائی دیںگے،
ان کی حالت مختلف ہوگی کوئی اندر کو دبا ہوگا
اسے اپنے مثالی دایئں ہاتھ سے باہر نکالدیں ۔

 


اگر نہ ٹہرے تو اس کے نیچے واشر لگادیںتاکہ اندر نہ جاسکے،
کچھ انٹینے ٹیڑھے ہونگے اسی طرح انہیں بھی سیدھا کردیں
المختصر ان کو باہر رہنا چاہئے سیدھا اور چمکدار چمک کے لئے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کی رگڑ استعمال کریں
[۹] اب یہ عمل چاہیںتو صبح کی نماز کے بعد کریں یا عشاء کے بعد یہ آپ کی مرضی ہے جب سکون ہو کرلیں۔
[۱۰] یہ مشق دن میں ایک بار کریں،،
البتہ جب کبھی دو چار منٹ ملیں آنکھیں بند کرکے دیکھ لیا کریں
کہ انٹینے ٹھیک ہیں کہ نہیںاگر نہ ہوں تو ٹھیک کردیا کریں،
پھر کھوپڑی کے اندر آپار دیکھیں کہ ان سات حصوں میں کہیں سیا ہی تو نہیں جم رہی
ایسا ہوتو پائپ کے ذریعہ سے فوراََ صاف کردیں،چند ہی دنوں میں تمام خانے صاف ہوجائیں گے
[۱۱]اب مختصر اتناسمجھ لیں کہ کہ اس مشق کے فوائد کیا ہیں،
اس سے ان خانوں کی تشریح سمجھ لیں تاکہ آپ کی سمجھ میںآجائے کہ یہ کتنی اہم مشق ہے
[۱]خانہ خیر و برکت[۲] قبولیت دعا[۳] روحانی روشنی اس حصے سے آپ کا باطنی نظام سماوی نظام سے منسلک رہتا ہے
[۵] اعمال کا محاسبہ[۶] کشف و روحانی کمالات کا حصول[۷] روحانی ارتقاء و تسخیر…
کچھ یوں سمجھ لیں کہ فضائیں تو ان برکتوںاور فیض رسانیوں سے بھری ہوئی ہیں
مگر ہمارے باطنی انٹینے اتنے ٹیڑھے میڑھے ہیں
کہ ان برکات کو
وصول ہی نہیں کرپاتے باطنی ذہن کے خانے اتنے سیاہ و دھندلے ہوتے ہیں
کہ وہ فیوض انٹینوں سے آگے بڑھ کر ہمیں مستفید ہی نہیں کرتے
کیونکہ آگے رستہ بند ہوتا ہے سو اس مشق کو مسلسل کرنے کے بعد بد قسمتی آپ کی زندگی میں نہیں رہ سکتی
مکمل رہنمائی کو آپ وصول کرتے ہیں اور رہنمائی کا مفہوم جلد ہی سمجھ جاتے ہیں
روحانی خواب بالکل صاف ہوجاتے ہیں اس مشق کو کرتے ہوئے کوئی اور روحانی مشق کی جائے
تو اس میں ناکامی نہیں ہوتی یہ کوئی مشکل مشق نہیں ہے سمجھ میں نہ آئے
تو اس تحریر کو باربار پڑھیں ساری بات واضح ہوجایئگی۔

{روحانی کورس نمبر دو}
نماز کے بعد کسی تنہا جگہ بیٹھیںجہاں آپ کو بار بار کوئی ہلائے نہ شور و غل ہو ،اس یقین کے ساتھ دعا کریں
کہ اللہ رحیم و کریم ہے ،ہر لحظہ منتظر ہے کہ آپ اپنی آرزو کے لئے صرف اور صرف اسی کی ذات بے ہمتا کی طرف رجوع کریں اور کامل یقین رکھیں کہ آپ کی دعا مانگتے ہی قبول ہوجائیگی کیونکہ اس منبع جود وسخا کے پاس دینے کے لئے اتنا کچھ ہے کہ وہ ہر ایک مانگنے والے کو خوش ہوکر دیتا ہے ،اس کایئنات میں اس کی ضرور کی کوئی چیز نہیں سب ہمارے لئے پیدا کی ہیں ،
اب جیسے بھی مناسب ہو ایسے بیٹھ کر [اتحیات چہار زانو ]کو بھی آرام دہ ہو نششت اختیار کریں پھر یہ دعا کریں
[اے رب ذولجلال،اے مالک کو ن و مکان اے صاحب اکر ا م لا محدد،اے جما ل لازوال،اے کمال بے مثال اپنی ذات لامتناہی کی تمام نوازشات ،تمام برکات کی بارش مجھ عاجز پر ایسے فرما کہ میرے دنیا و آخرت کے باغات سبز و شاداب ہوکر لہلا اُٹھیں ،اے رب نور و نکہت مجھے سوچ کی سیاہیوں

،وقت کی نحوستوں حسد و بغض،اور بد نصیبی کے اندھیروں سے نکال کر اپنے نور بے پایاں کی کرم سامانیوں کی پناہ میںلے ،اے رب قدیر مجھے ہر عمل ،ہر نیک خواہش اور ہر نیک عزم میں دنیا و آخرت کی تمام کامرانیوں ،تمام سعادتوں سے نواز دے ،۔اِنَّ رَبَّکَ فعَّالٌ لِّمَا یُرید ،تیرارب جوچاہتاہےکرکےرہتاہے
[۲]دعا مانگ کر منہ بند کرکے نتھنوں کے ذریعہ ایک گہرا اور بھر پورسانس لیں آنکھیں بند کرکے سانس سینے میں روک لیں
اور تیزی سے ذہن میں اللہ اللہ اللہ کی تکرار کریں سانس کو زیادہ سے زیادہ سینے میں روکنے کی کوشش کریں
جب نہ رک سکے تو ہونٹوں کو سیٹی بجانے کی آواز میں گول کرکے ہولے ہولے سانس پھپھڑوں سے باہر نکال دیں
اور محسوس کریں کہ تمام جسمانی،روحانی اورنفسیاتی مرضیں تمام نحوستیں ،بد نصبیاں ،
منفی سوچ، و کدورت کی سیاہیاں دھل دھل کر آپ کے دل وماغ رگ و ریشے اور جسم سے خارج ہوگیئں،
آپ کا باطن سر سے پائوں تک صاف و شفاف آیئنے کی طرح چمکدار و پاکیزہ ہوگیا ہے
،ایسے پانچ سانس یکے بعد دگرے لیں ہر سانس کے ساتھ اسم اللہ کا ورد اور باطن دھلنے کا احساس قائم کریں
پانچویں سانس کے ساتھ ایک منٹ تک تصور کو اس نقطے پر مرتکز کریں
کہ تمام بدن روحانی و جسمانی طور پر صحت کاملہ کا شاہکار بن چکا ہے ۔
[۳]اگلا قدم یہ کہ ایک پلاسٹک کا ٹکڑا لیکر جو چونی کے برابر چوڑا ہو ڈیڑھ انچ لمبا و چوڑا ہو لیکر آپ
ماتھے کے وسط میں رکھیں
پلاسٹک کا پچھلا حصہ دونوں بھوئوں کے درمیان ،بایئں ہاتھ کی دو انگلیوں کو پلاسٹک کے دونوں سروں پر رکھ کر تھام لیں
پھر دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی درمیان میں رکھ کر تیزی اور زور سے رگڑیں
ماتھے کا یہ حصہ گرم ہوجائیگا اسے خوب گرم کریں پھر رک جایئں یوں رک کر تین بار اسے رگڑ کر گرم کریں
پھر پلاسٹک کاٹکڑا الگ رکھ دیں۔
[۴]اگلا قدم یہ ہے کہ آنکھیں بند کرکے پوری لگن کے ساتھ ماتھے کے گرم ہونے والی جگہ کو دیکھیں
کہ ایک نوری قلم نوری حروف میں بار بار لفظ اللہ لکھ رہا ہے
ایک تصور کو ۲۰ منٹ یا اس سے زیادیر تک قائم رکھیں
اس دوران ہاتھ گھٹنوں پر رکھے رہیں اس مشق کا اصل مقصد یہ کہ واقعی ماتھے کے وسط میں لفظ اللہ نوری حروف میں لکھا ہوا نظر آنے لگے ۔
[۵]جب اس مشق میں خاصا احساس پیدا ہوجائے کہ نوری قلم نے لفظ اللہ لکھ دیا ہے
تو اپنی مثالی آنکھوں سے دیکھیں کہ یہ لفظ اللہ تیزی سے عالم بالا کی طرف روانہ ہوگیا ہے
آپ بھی اس تیزی سے اس کا پیچھا کررہے ہیں آپ کو محسوس ہوگا کہ بیشمار نوری دائرے ہیں
جن میں سے گزرتے ہوئے آپ لفظ اللہ کی رہنمائی میںآسمانوں کو عبور کر رہے ہیں
بے شمار منظر بھی آئینگے،مگر ان مناظر کی طرف دھیان نہیں دینا
اس اسم مقدس کو اپنی نگاہ میں رکھ کر بڑھتے چلے جانا ہے حتی کہ عرش معلی پر پہنچ جائیں ،
یہاں پہنچ کر یہ اسم غائب ہوجائیگا اور جلوہ جانہ سامنے ہوگا
یہاں رک جائے اور محسوس کیجئے کہ آپ کے بدن کا رواں رواں اللہ اللہ کہ رہا ہے ۔
[۶] یہ پوری کایئنات اللہ کا دربار ہے اس کی ذات ابتداء آفرینش سے قائم ہے
اور ابد الاباد تک قائم رہے گی اسے نیند آتی ہے نہ اونگھ ستاتی ہے یہ کایئنات اس کی ذات کے ساتھ زندہ و قائم ہے ،
بہ الفاظ دیگر اس کا دربار ایک مسلسل صورت میں چل رہا ہے سورج چاند ستارے
اس دربار سے ایک ترتیب کے ساتھ حرکت پزیر ہیں ،پرُسکون ہوکر بیٹھ جائیں
اور تصور کریں کہ کہ آپ بھی خالق کائینات کے دربار میں موجود ہیں اور کائینات کی ہر چیز
نہ صرف یہاں حاضر ہے بلکہ ذات باری سے توانائی حاصل کررہی ہے
آپ تصور کریں آپ بھی نہ صرف یہاں موجود و حاضر ہیں بلکہ اس ذات سے توانائی حاصل کررہے ہیں۔
اس مشق کے دوران نہ صرف اپنی ذات حالت سنوارنے کی کوشش کریں
بلکہ یہ تصور بھی دل جمعی کے ساتھ کریںکہ عالم اسلام حقیقی طور رپ عالم اسلام بن چکا ہے
اللہ کی رضا کی مطابق اقوام عالم کی جانب ایک نظر غلط ڈالنے سے گھبراتی ہیں،
اس عمل کا بنیادی مقصدیکسوئی پیدا کرنا ہے ،یکسوئی اپنی ذات کی قوتوں کو ایک نقطے پر مرتکز کرنے کا نام ہے
پہلے واضح کیا جاچکا ہے
سورج کی بکھری کرنوں کی حرارت بالکل نارمل ہوتی ہے
لیکن جب ان کرنوں کو ایک آتشی شیشے کے زریعہ ایک نقطے پرمرتکز کردیا جائے
تو یہ کرنیں بھی آگ لگا سکتی ہیں،بالکل اسی طرح انسان کی بکھری ہوئی قوتوں کو یکسوئی کے ذریعے ایک
نقطے پر مرتکز کیا جاسکتا ہے
۔۔۔۔یکسوئی کی کیفیت دیگر طریقوں سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے
لیکن مجوزہ طریقہ سے عبادت کا بھی مزہ دیتا ہے تجرباتی طور پر یہ موثر ترین زریعہ ہے
یکسوئی کے حصول کا ،اس سے ذات کے تنائو ختم ہوجاتا ہے
قرب خدا وندی نصیب ہوتا ہے ،ہمارے وجود میں بے پناہ قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔
ْْْْ۔۔۔ ان مشقوں کو صبح فجر یا عشاء کے بعد کیا کریںکوئی وقت بھی سہولت کی خاطرمقرر کیا جاسکتا ہے
بلاناغہ مشق کیا کریں شور و شغل سے دور رہیں
ان کوترتیب سے کیا کریں [۱] دماغ کی صفائی[۲]انٹینوں کی مرمت ،انہیں چمکانا،[۳]دعا کے بعد اللہ کی تکرار پانچ لمبی لمبی سانسیں لینا
[۴]اللہ کی رہبری میںعرش معلی تک جانا [۶]اللہ کے دربار سے توانائی حاصل کرنا ۔

Written by admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.

GIPHY App Key not set. Please check settings

میوبوڑھا ،میرا سر کا تاج۔ میو۔جوَان میری اُمیدہاں

فارغ التحصیل علماء اور عاملین کے لئےکورس

فارغ التحصیل علماء اور عاملین کے لئےکورس