
یہ سوشل میڈیا کا دور ہے جس نے سوچ کے جہتیں بدل دی ہیں۔
انجمن اتحاد ترقی میوات الیکشن 2026
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
میو قوم اس وقت سوشل میڈیا کو کھلواڑ سمجھتی ہے یا پھر خود اس کےہاتھوں کھلواڑ بن چکی ہے؟۔تاریخ میں ایسی واقعات ملتے ہیں جب کوئی کسی کا حق مارتا ۔یا اجتماعی کاموں میں رخنہ ڈالتا تو اسے اچھی نظر نہیں دیکھا جاتا تھا۔لوگ اپنی بیٹھکوں اور چوپال پر بیٹھ کر اس کی تائیدو تردید کرتے تھے ۔
بے لاگ تبصرے ہوتے تھے۔بیٹھک اور چوپال کا زمانہ ختم ہوا ۔سوشل میڈیا نے سوچنے سمجھنے اور بولنے کی جہتیں بدل دی ہیں۔
اب گناہ و ثواب سب پر عیاں ہوتا ہے،لوگ بے لاگ تبصرے کرتے ہیں۔اپنے حقوق کی باتیں کی جاتی ہیں۔
کسی بھی پوسٹ پر لائک شئیر کمنٹس کی شکل میں رد عمل دیا جاتا ہے۔
انسانی علوم و فنون کو آرٹفیشل انٹلجنس نے ہر ایک کی ٹیبل پر سجادیا ہے۔
حال کے ساتھ ماضی بھی ایک طشتری میں رکھے دکھائی دیتے ہیں ۔تعلیم ۔تجربات۔سکلز کے ڈائیمنشن بدل گئے ہیں۔
احترامی خول کو ایک منٹ میں اُدھیڑ کر رکھ دیا جاتا ہے۔
اگر 1947 یا 1990 والی سیاست ۔باتیں یا دھوکہ دہی سے کام لیا جائے تو نئی نسل ایک منٹ میں آپریشن کرکے کچا چٹھا کھول کر رکھ دیتی ہے۔
انجمن اتحاد ترقی میوات کے تحت بہت کام ہوا ۔لیکن لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل رہا ۔

جنہوں نے قربانیاں دی ۔نئی نسل تک ان کا تعارف اور خدمات نہیں پہنچائی گئیں ۔
یوں انجمن اپنی پختہ عمری کو پہنچ چکی ۔اب نئی نسل آگئی
،جس نے بدوکی کالج میں تعلیم حاصل تو نہیں کی لیکن بدوکی کی کالج کے بارہ میں آگاہی ضرور حاصل کی۔
یوں اس تعلیم یافتہ نسل اس سوچ کے سامنے آکھڑی ہوئی جو مخصوص انداز کی سوچ کے حامل افراد اس پروجیکٹ پر لاگو کرنا چاہتے ہیں ۔
میڈیا مہم اس انداز میں چلائی کہ کی 1090 میں جس پختہ طریقے سے سیاسی مہم چلائی جاتی تھی۔
انجمن اتحاد ترقی میوات
کے زیر اہتمام بدوکی کالج کے الیکشن قریب قریب ہیں۔اس انتخابی گہما گہمی میں عجیب و غریب معاملات دیکھنے اور سننے کو ملے۔
مہذب قومیں یا تعلیم یافتہ لوگ اس تعلیمی پروجیکٹ میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ قیادت لانے۔تعلیمی معیار کو بلند رکھنے کے بارہ میں کوئی لائحہ عمل دینے کے بجائے۔
اسے ایک سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کردیا ہے۔
دوسری برادریوں کے لوگوں کی کافی تعداد ہمارے دوستوں کی فہرست میں شامل ہے۔
ہم نے اپنی کسی تحریر و تقریر یا تقریب میں میو قوم کو جس انداز میں پیش کیا ہماری تحریریں اور کتب اس بات کی گواہ ہیں۔
اب وہی لوگ کہتے ہیں ۔میو قوم کے سربراہ اتنی سطحی سوچ کے مالک ہیں ۔
جو اپنے تعلیمی پروجیکٹ کو ایک سیاست کی طرح چلانے کی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔
ان کے پاس کوئی تعلیمی منصوبہ بندی نہیں ۔کم علم لوگوں کو سرپے بٹھانے کے لئے بڑھے لکھے لوگ زور لگا رہے ہیں ۔
روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا سے جہالت بھری پوسٹیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
کیا میو قوم میں اتنا بھی شعور نہیں کہ کسی پڑھے لکھے اور باشعور انسان کو آگے لاسکیں ۔؟
اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کو فالو کرسکیں ۔جب یہ لوگ آئین و قوانین کی پامالی کریں گے تو نئی نسل سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟

یاد رکھئے۔
جب کوئی بڑا نچلی سطح پر اُتر آئے تو پھر وہ بڑا نہیں رہتا۔چھوٹوں کی صف میں کھڑا ہوجاتا ہے۔
پھر چھوٹے اس کے ساتھ چھوٹوں والا سلوک کرتے ہیں ؟
وقت اور میڈیا ایسا آئینہ ہے یہ گزرے ہوئے لمحات کو باربار یاد کراتے ہیں ۔ایک آئینہ کی صورت دیوار پر آویزاں رہتے ہیں ۔
کردار کی وجہ سے مرتب ہونے والے اعمال کو ذہن سے فراموش نہیں ہونے دیتے۔
