علاج بذریعہ پانی و بھاپ

0 comment 6 views

«علاج بذریعہ پانی و بھاپ»
مصنف: لوئی کوہنے (Louis Kuhne) — اردو ترجمہ
سائنسی تحقیق، اثرات اور طبی اہمیت کا تنقیدی جائزہ —

Advertisements


حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

سعد طبیہ کالج، کاہنہ نو، لاہور


یہ کتاب مفت مین ڈائوں لوڈ کے لئے یہاں دستیاب ہے
(بچپن سے مجھےمطالعہ کا شوق رہا ،جیب خرچی جو کہ والد صاحب مرحوم دیا کرتے تھے خرچ کرنے کے بجائے ان کی کتب خریدا کرتاتھا۔ان گنت کتب مطالعہ کیں لیکن کچھ کتب ذہن میں نقش یوکر رہ گئیں ان میں یہ کتاب بھی تھی۔اس کتاب کی امیت و افادیت تو تجربہ کرنے سے ہی پتہ چلے گی ۔البتہ اتنا ضرور کہونگا،کہ جن دنوں مختلف پٹھیاں جنم لے رہی تھیں انہیں دنوں بھاپ سے علاج بھی سامنے آیا،لیکن اسے قبول عامہ نصیب نہ ہوسکا،اس کی مختلف وجوہات تھیں۔
حکیم المیوات قاتی محمد یونس شاہد میو،سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی//سعد ورچوئل سکلز پاکستان)
علاج بذریعہ پانی و بھاپ:
۱۔ کتاب کا تعارف
یہ کتاب جرمن مصنف لوئی کوہنے (1835–1901) کی ہے، جو باقاعدہ طبیب نہیں تھے۔ وہ لائپزگ میں قدرتی علاج (Naturopathy / Nature Cure) کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی بنیادی کتاب Die neue Heilwissenschaft (نیا علمِ شفا بخشی) ہے، اور زیرِ نظر کتاب اسی کا مختصر، عوامی اور اردو میں ترجمہ شدہ خلاصہ معلوم ہوتی ہے۔
کتاب کے بنیادی دعوے

تمام امراض کی جڑ ایک ہے: جسم میں «زہریلے سڑے ہوئے مادے» کا جمع ہونا۔

اس مادے کی جڑ معدے اور ہاضمے کی خرابی ہے۔

بخار، چیچک، خسرہ، ڈفتھیریا وغیرہ جسم کی «صفائی کی کوشش» ہیں، اس لیے انہیں دبانا نقصان دہ ہے۔

چہرے اور گردن کی بناوٹ دیکھ کر مرض کا پتا لگایا جا سکتا ہے (علمِ قیافہ شناسی)۔

علاج: سادہ خوراک، بھاپ کا غسل (پسینہ لانے کے لیے)، پھر ٹھنڈا «غسلِ پیٹ» (Hip Bath)، اور کھلی ہوا میں چہل قدمی۔

ایلوپیتھی، ہومیوپیتھی اور مسمریزم سب ناکام ہیں۔
۲۔ کتاب کی خوبیاں (جو آج بھی درست یا مفید ہیں)
• سادہ، غیر مصنوعی غذا: زیادہ مرچ مصالحہ، چکنائی اور بسیار خوری سے پرہیز آج بھی غذائی سائنس کے مطابق درست ہے۔
• اچھی طرح چبا کر کھانا: لعاب میں ہاضم خامرے (amylase) ہوتے ہیں، یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہے۔
• چوکر دار آٹا، سبزیاں اور پھل: یہ فائبر سے بھرپور خوراک ہے، اور جدید تحقیق اس کی تائید کرتی ہے۔
• کھلی ہوا میں ورزش اور حرکت: صحت کے لیے مسلمہ طور پر مفید ہے۔
• ماں کا دودھ: کتاب نے ماں کے دودھ کی اہمیت پر زور دیا، جو آج WHO کی سفارشات سے ہم آہنگ ہے۔
• احتیاطی نقطۂ نظر: تندرستی برقرار رکھنے کی ذمہ داری فرد پر ڈالنا صحیح رخ ہے۔
• غیر ضروری ادویات پر تنقید: ادویات کا بے جا استعمال واقعی نقصان دیتا ہے؛ اینٹی بایوٹک کے بے جا استعمال کے خلاف آج کی مہم اسی سے ملتی جلتی فکر ہے۔
۳۔ سائنسی جائزہ: بنیادی نظریات کا تنقیدی تجزیہ
(الف) «تمام امراض کا ایک ہی سبب» (Single Cause Theory)
یہ نظریہ جدید طب کے خلاف ہے۔ امراض کے متعدد اسباب ہیں: جراثیم (بیکٹیریا، وائرس، فنگس، پیراسائٹ)، جینیاتی عوامل، آٹو امیون خرابیاں، میٹابولک بگاڑ، غذائی کمی، ماحولیاتی عوامل اور سرطان کے خلیاتی تغیرات۔ ایک ہی «زہریلا مادہ» ان سب کی وضاحت نہیں کر سکتا۔
(ب) «زہریلا سڑا ہوا مادہ» (Morbid Matter)
یہ تصور انیسویں صدی کے اخلاط (Humoral) نظریے کی ایک شکل ہے۔ جدید طب میں اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ پیڑو یا جسم کے دیگر حصوں میں ایسا کوئی مادہ جمع ہو کر اوپر چڑھتا ہے۔ کسی لیبارٹری، امیجنگ یا پوسٹ مارٹم میں اس کی نشاندہی نہیں ہوئی۔


(ج) بخار کو «صفائی کی کوشش» کہنا
یہ دعویٰ جزوی طور پر درست مگر خطرناک حد تک سادہ ہے۔ بخار مدافعتی ردِعمل کا حصہ ہے اور معمولی بخار کو بلا ضرورت دبانا لازم نہیں۔ مگر یہ کہنا کہ بخار «تندرستی کی کوشش» ہے اور اسے روکنا نقصان دہ ہے، غلط اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔ بچوں میں تیز بخار سے دورے (febrile seizures)، شدید انفیکشن (sepsis)، گردن توڑ بخار اور ملیریا جیسے امراض میں بروقت علاج نہ ہونے سے موت واقع ہو سکتی ہے۔
(د) علمِ قیافہ شناسی (Facial Diagnosis)
سائنسی طور پر غیر ثابت شدہ ہے۔ چہرے اور گردن کی بناوٹ سے تمام اندرونی امراض کی تشخیص کا دعویٰ کسی کنٹرولڈ تحقیق سے ثابت نہیں ہوا۔ جدید تشخیص (خون کے ٹیسٹ، ایکسرے، الٹراساؤنڈ، CT، MRI، بایوپسی) درست اور قابلِ تصدیق ہے۔ کتاب کا یہ دعویٰ کہ «آنکھیں کبھی دھوکا نہیں دیتیں» خطرناک مبالغہ ہے، کیونکہ اس سے ابتدائی سرطان، ذیابیطس یا دل کی بیماری کی تشخیص چھوٹ سکتی ہے۔
(ہ) ہاضمہ بگڑنے کو تمام امراض کی جڑ ماننا
معدے اور آنتوں کی صحت واقعی اہم ہے، اور جدید تحقیق میں gut microbiome اور مدافعت و دماغی صحت کے تعلق پر کام ہو رہا ہے۔ مگر یہ دعویٰ کہ ہر بیماری کا آغاز معدے سے ہوتا ہے، حد سے بڑھا ہوا ہے۔
(و) «ہر مرض کا ایک ہی علاج»
یہ دعویٰ سائنسی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، تپ دق، سرطان، ڈفتھیریا اور فالج کا علاج بالکل مختلف ہے۔

پرانا نسخہ یہاں سے ڈائون لوڈ کریں

ورڈ فائل نیو کموزنگ یہاں سے ڈائون لوڈ کریں

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme