عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات

صحابیاتِ طبیباتؓ
عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حرف اول۔مقدمہ۔
سب خوبیاں اس ذات بابرکت کے لئے جس نے انسان کو خود کفیل بنایا،اس کی علم و حکمت سے مدد کی بصیرت سے راہ دکھائی۔ جس نے سب سے پہلا سبق یہ دیا خلق الانسان من علق۔پھر کہا پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے قلم کے توسط سے علم کے دریا بہائے۔انسانی ساخت اس قسم کی ہے کہ اگر بے اعتدالی نہ کی جائے۔تو اس کا جسم خود بکود اپنی ضروریات پوری کرتا ہے ۔ٹوٹ پھوٹ کی مرمت خود کار طریقے سے جاری رکھتا ہے۔امراض پیدا ہونے کے بے شمار اسباب بیان کئے ہیں لیکن سب سے بڑا سبب غذاو خوراک میں بے اعتدالی ہے۔
لیکن امراض عمر کے ساتھ ساتھ پیدا ہوتے ہیں کچھ حادثایتی طورپر لاحق ہوتے ہیں۔کچھ میں موسمی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں ۔۔صحابیات نے جن شعبوں میں خدمات سرانجام دیں۔ان کی معمولی سی جھلک ذیل کی سطور میں دی گئی ہے۔گوکہ اس بارہ میں مکمل ڈیٹا مرتب نہیں کیا گیا ۔مگر دستیاب معلومات کے مطابق جب شعبوں میں انہوں نے خدمات سرانجام دیں۔ان میں جرحی۔مرہم پٹی۔دایہ گری۔امراض چشم کا علاج۔غذا و خوراک میں مہارت۔وغیرہ ایسے امور ہیں جو صدیں پہلے اہمیت رکھتے تھے مگر آج بھی ان کی اہمیت اسی طرح برقرار ہے۔
زخموں سے خون کے بہائو کو کم کرنا اور خون روکنا،آج بھی میڈیکل میں مہمات میں شامل ہے۔غزوہ احد میں حضرت فاطمہ بنت محمدﷺ نے بوری کا ایک ٹکڑا جلاکر زخم میں بھرا جس سے خون بہنا بند ہوگیا۔
اس وقت کی جتنی طبی ضروریات تھیں ۔دیگر معاشروں کی طرح مسلمانوں میں بھی خود کار طریقے سے پوری کی جاتی تھیں۔ہم لوگ دیہات سے تعلق رکھتے ہیں اپنی طبی ضروریات گھریلو ٹوٹکوں سے ہوتا دیکھا۔ہم نے اپنی طبی زندگی میں بے شمار طبی ٹوٹکے،اور مفردات سے علاج کیا۔اس سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ طب زیادہ لمبے چوڑے نخسوں۔اور بڑی بڑی موشگافیوں و فلسفوں کی الجھنوں نہیں ہوتی بلکہ یہ تو وہ فطری اور الہامی چیزیں ہین ۔انسان کتنا بھی تنہا اور الگ تھلگ زندگی گزار رہا ہو لیکن وہ اپنی صحت کے بارہ میں بنیادی معلومات رکھتا ہے۔
مسلہ طبی معلومات یا صحت کے بارہ میں لکھے گئے لمبے چوڑے قواعد و ضوابط کو یاد رکھنے کا نام نہیں ہے بلکہ انسانی ضروریات کی تکمیل کا نام ہے۔ایک بھوکے انسان کو اس سے غرض نہیں کہ اسے کھانا کہاں سے ملتا ہے،غریب کی کٹیا سے اس کے پیٹ بھرنے کا سامان ملتا ہے یاپھر کسی بڑے ریسٹورنٹ اور فائیو سٹار ہوٹل سے۔جب لقمہ گلے سے نیچے اترتا ہے تو یہ امتیاز قطعی ختم ہوجاتا ہے کہ کھانا کہاں سے میسر آیا۔اور کون لایا؟۔
ہم لوگ مصیبت میں اس وقت پڑے جب ہم نے اپنے زندگی دوسروں کے ہاتھ میں تھمادی۔فطری زندگی کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سپرد کردیا۔وہ صحت مند کو پسند نہیں کرتیں انہیں بیمار لوگ چاہیئں ۔اگر بیمار موجود نہ ہوں تو ایسا انتظام کیا جائے کہ لوگ بکثرت بیمار پریں۔،ان کی کاروباری دنیا آباد ہو۔ہم لوگ ہیں کہ ان کی الٹی سیدھی غیر فطری باتوں کو بھی تحقیق سمجھ کر اپنی ہنستی کھیلی صحت مند زندگی کواپنے حوالے کردیتے ہیں۔موجودہ میڈیکل کے نظام کو انسانیت یا فلاح بہبود سے زیادہ اپنے منافع اور کاروبار کی بڑھوتری کی فکر ہے۔
آہستہ آہستہ انہوں نے ہم سے فطری ماحول سلب کیا۔فطری غذائیں ضبط کیں۔جو چیزیں صحت کی ضامن تھیں انہیں مضرات میں شامل کیا۔جو صحت کی دشمن تھیں انہیں لازم قرار دیا۔ایک ایسا نفسیاتی ماحول بنادیا کہ ہمیں فطری غذا کھانے سے ڈرلگتا ہے اور کیمیکل سے بنی زہریلی اشیاء کو امرت سمجھ کر حلق سے اتار رہے ہیں۔
یہ کتاب اس فطری زندگی کی نشان دہی کرتی ہے جہاں صحت تھی فطری زندگی تھی۔جہاں صحت کی حفاظت کی جاتی تھی اور بیماریوں کا علاج کیا جاتا تھا۔۔زخمیوں کو طبی امداد اور پہلی فرسٹ میں اپنی مرہم پٹی کا بندوبست کیا جاتا تھا۔زخمیوں کو خیموں میں منتقل کیا جاتا تھا۔دستیاب جڑی بوٹیوں۔اور آلات سے اپنی طبی ضروریات پور کی جاتی تھیں۔معالج مخلص تھے۔ا س لئے زخمی یا بیمار جلد تندرست ہوجاتے تھے۔غذائیں خالص تھیں صحت جلد بحال ہوجاتی تھی۔
ہمیں اس بات کا افسوس ہے کہ روایات یا کتب تواریخ میں بہت کم اجزاء ذکر کئے گئے ہیں۔وہ بھی مفردات کی شکل میں۔ حالانکہ مرکبات بھی استعمال ناگزیر تھے۔لیکن وہ غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دئے گئے۔یہ طب میں ہی نہیں بلکہ دیگر میدانوں میں بھی بہت سی باتیں جن کی آج اہم ضرورت ہے وہ لکھنا گوارا نہیں کی گئیں۔
اقتصادیات۔معاشرت۔تمدن،ثقافت۔وغیرہ بے شمار موضوعات ہین جن میں معلومات کی تشنگی موجود ہے۔اس کے بہت سے اسباب ہیں من جملہ ان میں سےبڑا اور اہم سبب وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی چہرے کو اپنے بیانات،اپنی تحریروں اور اپنی مصنفات میں پیش کیا۔وہ لوگ مخلص تھے،لیکن جن علوم و فنون کو ماہرین فن درکار تھے وہ نہ مل سکے ۔یہ خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب علوم فنون کو بھی اعتقدیات کی کسوٹی پر پرکھا انے لگا۔۔
ہر بات معجزات و کرامات کے لباس میں مفلوف کردی گئیں ۔۔دین اسلام کے بجائے طبقاتی کشمکش کی نمائیندگی ہونے لگی۔ مسلکوں اور گروہ بندیوں میں جکڑ کر اسلام کے آفاقی نظام کو ایک ہجرے میں یا کسی ایک انسان کی رائے میں مقید کردیا گیا۔
طب ایسا موضوع اور میدان عمل ہے اس کا دائرہ کار دنیا کے کسی بھی مشترکہ میدان عمل سے زیادہ ہے۔جیسے لباس وخوراک کو کافر یا مسلمان کے دائرہ اختیار میں نہیں لاسکتے طب بھی اسی قبیل سے ہے۔ادیان و مذاہب کی کسی نہ کسی انداز میں ٹخمینی عمر معلوم کی جاسکتی ہے لیکن طب کی تاریخ تو نامعلوم دور سے چلی آرہی ہے۔کونسا معاشرہ ہے جو طب سے مستغفی رہا ہو، طبی فن کو بطور ہنر کے کسی بھی ملک یا معاشرتی طبقاتی تقسیم میں مقید نہیں کیا جاسکتا۔سچی بات تو یہ ہے طب کےماہرین اس بارہ میں اپنی تحقیقات کا آغآز کریں۔اس میں کسی کے فتوے یا غلط معلموات کے اندیشہ سے اپنی جدو جہد کو کم نہ کریں۔
دنیا کا اصول ہے جو جس فن میں مہارت رکھتا ہے اسی کی بات معتبر ہوتی ہے۔فصلوں اور کھیتی باڑی کے میدان میں ایک مفتی یا عالم سے زیادہ ایک دہقاں جس نے ساری زندگی زمین سے رشتہ رکھا ہو۔اس کا سینہ چاک کرکے رق کی فراہمی کے قدرتی اصول کو پرکھا کی رائے زیادہ معتبر ہے۔ایک جولاہا کھڈی اور پارچہ بافی کے جن رموز و اسرار سے آگاہ ہوگا وہ کسی عالم دین کے دائرہ سے پرے کی چیز ہے۔
انحطاط کا یہ عالم ہے کہ قران کریم جس کے بارہ اس کا دعوی ہے کہ یہ آسان ہے اس پر کوئی بھی غور و فکر کرے ہدایت پائے گا ۔اس وقت حال یہ ہے اس آفاقی نسخے کو بھی مسلکی تراجم و تفاسیر کا محتاج بناکر رکھ دیا گیا ۔دوچار سو صفحات کو سمجھنے کے لئے کئی ہزار مجلدات تفاسیر کے نام پر لکھی گئی ہیں۔کہ یہ قران فہہمی میں مددگار ہونگی؟سچی بات تو یہ ہے یہ تراجم و تفاسیر بھی ما و شماء کے خیالات سے زیادہ کچھ نہیں۔کیونکہ ان میں ہر شخص نے اپنے ذہنی رجحانات کو بیان کیا ہے۔جس نے قران کو ایک چیستان بنا کر رکھ دیا ہے۔محراب وممبر سے آواز لگائی جاتی ہے کہ فلاں ترجمہ یا تفسیر کا مطالعہ نہ کریں ،ورنہ گمراہ ہوجائوگے۔لاحول ولا قوۃ ۔کیا قران کے مطالعہ سے بھی کوئی گمراہ ہوتا ہے۔
ایک موٹی سی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی ہے کہ رب کے کلام کو نہ سمجھے لیکن انسانی خیالات پر ریجھ گئے۔دراصل قران فہمی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی۔اسلام اور پیغام قران کو ہر کسی نے مخصوص زاویہ نگاہ سے دیکھا ۔اپنے مقاصد کے خدو خال مقرر کئے کچھ اڑے ترچھے خطوط کھینچے۔انہیں اسلام قران دیا۔اسی کے مطابق قرانو حدیث کے آفاقی پیغام کو ڈھالنے کی کوشش کی ۔عوام کو بتایا گیا کہ یہ اسلام ہے۔اس دائرہ سے باہر جس نے بھی باہر قدم رکھا۔وہ راندہ درگاہ ٹہرا۔
بنیادی طورپر قران و حدیث کو بھی ہم نے اثاثہ کی طرح تقسیم کردیا ہے۔حکمران لوگ اسلام کا نام لیکر حکموت کرتے ہیں ۔مذہبی طبقہ دینی اثاثہ سے اپنا روزگار زندگار چلاتا ہے۔تاجر لوگ قسم کھاکر اسلامی ہونے کا یقین دلاتے ہیں ۔عدالتوں میں قران اٹھا کر جھوٹ کی تکمیل کی جاتی ہے۔ایسے مین اسلام کے اصل خدو خال پس پردہ چلے گئے ہیں ۔جب کوئی صاحب علم باہمت انسان اسلام چہرہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے مردود قرار دیکر دائرہ اسلام سے باہر دھکیل دیا جاتا ہے اس کی تحروروں اور اس کی کاوشوں کو اسلام دشمن قرار دیا جاتا ہے۔
اسلام کا اجلا چہرہ اتنا تابناک ہے کہ اسے دیکھتے ہیں اغیار اس کی ھقیقت قبول کرتے ہوئے اس کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔۔ہم مسلمان اس کی ناقدری کرتے ہیں کیونکہ ہمیں اسلام کا حقیقی چہرہ دیکھنا ہی نصیب نہیں ہوا ۔وہ لوگ اسلام کی ایک جھلک دیکھتے ہیں اور فدا ہوجاتے ہیں ۔سوچنے کی بات ہے ایسی کونسی کوبی تھی جسے دیکھ کر غیر تو گرویدہ ہوگیا ۔ہمیں وہ خوبی دکھائی نہ دی۔یہ بڑا سوالیہ نشان ہے۔؟
ایک اور بھیانک پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے ایمان یا اسلام کی کوبی اغیار دیکھتے ہیں ہمیں بتاتے ہیں ۔ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ فلاں غیر مسلم نے اسلام کی یہ خوبی بیان کی ہے۔فلاں محقق نے داڑھی پر تحقیق کی ۔اس کے یہ فوائد بتائے۔فلاں نے وضو پر تحقیق کی اسے صحت کے لئے حفظ ماتقدم کا حصار بتایا۔فلاں نے کلونجی پر ریسرچ کی اور فلاں فلان فوائد دریافت کئے۔یہ سب کام ہم مسلمانوں نے کیوں نہ کئے؟کسی کے پاس اس بات کا کوئی جواب ہے؟
یہ تو وہ چیزیں ہیں جنہیں ایمانیات میں شامل کی جاتاہے اور عبادات کی اساس قرار دیا جاتا ہے۔جب لاکھوں مذۃبی لوگوں کی روٹی اسی سے وابسطہ ہے تو وہ لوگ اس پر کام کیوں نہیں کرتے۔ایک مقرر و مبلغ فکریہ کہتا ہے کہ اسلام نے قران و حدیث کی شکل میں ہر مسلہ کا حل پیش کیا ایک جامع و مانع نظام زندگی دیا ہے۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔لیکن اس کا اس کا کردار اس کے برعکس ہے۔آیت تو تلاوت کرتا ہے واذا مرضت فہو یشفین۔۔حدیث سناتا ہے ۔لکل داء دواا۔۔لیکن خود کسی ڈاکٹر سے چیک اپ کراتا دکھائی دیتا ہے۔دوا کے لئے میڈیکل سٹور یا دواخانہ پر لائن میں لگا ہوتا ہے۔اس سے بڑا تجاد کیا ہوسکتا ہے؟
ہر معاملہ میں ہمیں یہود و ہنود کی سازش دکھائی دیتی ہے۔لیکن ہمارے سامنے رکھا ہوا قران سمجھ میں نہیں آتا۔حدیث کی ضخیم کتب ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔یہ کسی ایک طبقہ کی ھالت نہیں مجموعی طورپر مسلمانوں کو یہی حال ہے۔اپنا کام کرنا نہیں دوسرے کو کام کرنے نہیں دینا۔
ایک بات پوچھنے کا حق رکھتا ہوں ۔قران کے وارث تم ۔علوم نبوت کے پشتی بان تم ۔دین کے رکھوالے و چوکیدار تم۔خدا لگتی کہئے اس کتاب کو سمجھنے سمجھنے کی یاتو صلاحیت موجود نہیں ہے ۔تم اپنے دعوے میں غلط ہو ۔یا پھر تمہیں اس بات کا شعور نہیں کہ اس معاملہ میں بھی کام کی ضرورت نہیں سمجھتے۔یا پھر محراب و ممبر پر یہی بیان کرنا ہے اسلام پر فلاں انگریز نے یہ تحقیق کی اور اسلام کی حقانیت پر مہر ثبت کی؟۔۔اگر اسی کو علوم نبوت کی نگہبانی سمجھتے تو ،بُرا مت ماننا یہ کام تو گائوں میں ڈھور ڈنگر سمبھالنے والا بھی کرسکتا ہے۔۔جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔مفتی صاحب کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔تراویح میں قران کی ضرورت پڑی ہے تو حافظ کو تلاش کیا جاتا ہے۔
قران فہمی ہر طبقہ کے لئے جداگانہ معنی رکھتی ہے۔ایک مفتی و محقق کے لئے الگ۔ایک باغبان کے لئے زراعت وکھیتی سے متعلق آیات۔باغات و مال مویشی کے لئے اسی شعبہ سے تعلق رکھنے والے ۔مدعنیات۔فلکیات۔موسم۔زمین و آسمان میں کھوج کرید کرنے والا طبقہ۔دھات سازی۔نباتا ت۔غذائیات۔صحت و قائم رکھنے والے اصل۔ماں بچے کے لئے زچہو بچہ کا علم۔خواتین بچوں اور بڑوں کے امراض پر اسی شعبہ والے لوگ توجہ دیں ۔
تتفکرون۔یعقلون۔یعلمون۔تدبرون۔یفقہون ۔ جیسے الفاظ کیا قبر و حشر کے لئے کہے گئے ہیں؟۔ہم نے سارے قران و علوم نبوت کو مجسد کے حجرے مین گٹھڑی باندھ کر رکھا ہوا ہے۔خود استفادہ کرتے ہیں ۔نہ کسی کو قریب آنے دیتے ہیں
میں نے زندگی میں ایک بات گہرائی سے سمجھی ہے کہ جب کتب پر مذہبی طبقہ یا حکومتی سطح پر پابندی لگادی۔ان کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔ان کتب میں علم کی وہ شاخ۔یا وہ راز موجود ہوتا ہے جس کا جواب پابندی لگانے والوں کے پاس نہیں ہوتا۔ان کتب کے مطالعہ سے ذہنی وسعت اور علوم وفنون خفیہ رازوں کی نئی دنیا دیکھنے کو ملتی ہے۔
عمومی طورپر لوگوں کو اس باتسے سروکار نہیں ہوتا کہ لوگ دین یا تحقیق کے بارے میں کہا کہتے یا کیا کرتے ہیں؟ا ن باتوں سے درگزر ہوسکتا ہے لیکن اگر مسلکی و مذہبی معاملات زیر بحث لائے گئے تو ۔کم سے کم سزا دائرہ اسلام سے اخراج کی ہے۔۔
ہماری کتاب//۔۔۔ صحابیاتِ طبیباتؓ
عہدِ نبوی ﷺ میں خواتین کی طبی خدمات
اسی سلسلہ کی ایک کڑی کہ خواتین کے کارناموں کو وہ پہلو جسے نظر انداز کیا گیا یا پھر کسی وجہ سے دبا دیا گیا۔میرا تعلق طب و حکمت سے ہمارے ادارے کا نام بھی ۔سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ۔ہے اسی مناسب سے ان موضوعات پر لکھنا ۔تحقیق کرنا۔ادارے کی ذمہ داری ہے۔
طب نبوی کے نام پر چند کتب مشہور ہیں ۔ابن القیم۔امام ذہبی۔المقدسی وغیرہ کی تصانیف دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ان تسانیف کو بھی روایتی انداز مین مرتب کیا گیا ہے کہ فلاں چیز ہے یہ فوائد فلاں اس مرض کی دوا۔وغیرہ۔گوکہ ابن القیم نے جالینوس۔بقراط ایسے لوگوں کے علوم و تحقیق پر بھرسوہ کرتے ہوئے ان کی تحقیقات و نظریات نقل کئے ہیں ۔احادیث و قرانی آیات میں وہی پرانا طریقہ اختیار کیا ہے۔
طبِ نبوی پر مستقل قدیم کتب
1. الطب النبوي — ابو بکر ابن السُّنّیؒ
مصنف: ابو بکر احمد بن محمد الدینوری، المعروف ابن السنیؒ
وفات: 364ھ
نوعیت: احادیث کا مجموعہ
خصوصیت: مصنف نے بنیادی طور پر طب سے متعلق مرفوع احادیث جمع کیں؛ طبی تشریحات نسبتاً کم ہیں۔
یہ طبِ نبوی کے قدیم مستقل مجموعوں میں شمار ہوتی ہے۔ citealukah
2. الطب النبوي — ابو نعیم اصفہانیؒ
مصنف: امام ابو نعیم احمد بن عبداللہ الاصفہانیؒ
وفات: 430ھ
نوعیت: احادیث، آثار اور علاجی روایات
اہمیت: طبِ نبوی کے ابتدائی مستقل ذخیرے میں اہم مقام رکھتی ہے۔
اس کتاب کی بعض روایات کی اسنادی حیثیت مختلف ہے، اس لیے تخریج ضروری ہے۔
3. الطب النبوي — ابو العباس المستغفریؒ
مصنف: ابو العباس جعفر بن محمد المستغفریؒ
وفات: 432ھ
موضوع: نبی کریم ﷺ سے منقول علاج، ادویہ اور طبی ہدایات
اہمیت: قدیم طبی حدیثی تصانیف میں شمار
4. الطب النبوي — حافظ ذہبیؒ
مصنف: شمس الدین محمد بن احمد الذہبیؒ
وفات: 748ھ
موضوعات:
طب کے بنیادی اصول
ادویہ اور اغذیہ
مختلف امراض کا علاج
طاعون
استسقاء
زخم
عرق النسا
سر درد اور شقیقہ
حجامہ
رقیہ
حناء اور دیگر مفردات
اس کتاب میں طب کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: طب کے قواعد، ادویہ و غذائیں، اور امراض کا علاج۔ cite citewikipedia+1
5. الطب النبوي — حافظ ابن قیم الجوزیہؒ
مصنف: محمد بن ابی بکر ابن قیم الجوزیہؒ
وفات: 751ھ
اصل ماخذ: زاد المعاد فی ہhttps://www.rekhta.org/ebooks/detail/tibbe-nabawi-ibn-e-qayym-al-jauziya-ebooks?lang=urدی خیر العباد
مستقل صورت: زاد المعاد کے طبی حصے کو الگ شائع کیا گیا ہے۔
یہ طبِ نبوی پر اہلِ سنت کی سب سے زیادہ معروف اور مقبول کتابوں میں شامل ہے۔ اس میں:
جسمانی اور روحانی بیماریوں کا فرق
غذا اور صحت
شہد
کلونجی
حجامہ
مسواک
بخار
طاعون
زہر
مرگی
وسوسہ اور قلبی امراض
رقیہ شرعیہ
زخم اور خون بندی
حفظانِ صحت
جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ کتاب دراصل زاد المعاد کی چوتھی جلد یا طبی حصہ ہے۔ citeislamhouse
6. الطب النبوي — حافظ سخاویؒ
مصنف: شمس الدین محمد بن عبدالرحمن السخاویؒ
وفات: 902ھ
موضوع: طب سے متعلق احادیث اور ان کی تشریح
خصوصیت: حدیثی روایت، تخریج اور شرح کا پہلو
اس کتاب کا ذکر طبِ نبوی پر لکھی جانے والی کلاسیکی کتب کی فہرستوں میں ملتا ہے۔ citemadarisweb
7. المنہج السَّوی والمنہل الرَّوی فی الطب النبوی — امام سیوطیؒ
مصنف: جلال الدین عبدالرحمن السیوطیؒ(وفات: 911ھ)
موضوعات:
طب کے قواعد
ادویہ و غذائیں
امراض کا علاج
امام سیوطیؒ نے اس کتاب میں نبی ﷺ کی طبی ہدایات کے ساتھ قدیم اطباء کے اقوال بھی نقل کیے ہیں۔ اس کتاب کو تین بنیادی فنون میں مرتب کیا گیا ہے: قواعدِ طب، ادویہ و اغذیہ، اور علاجِ امراض
اہل تشیع کی کتابیں
دوسری طرف اہل تشیع نے بھی طب کو مذہبی رنگ دیا ہے۔اور طب آئمہ کے نام سے کتابیں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔البتہ بحار الانوار مین بہت زیادہ مواد موجود ہے ۔۔بہت سی باتیں آئمہ اور اہل علم سے منسوب کی گئی ہیں ۔اس کتاب کا یہ حصہ اس قابل ہے اس پر غور وتدبر کیا جائے۔اس طبی ذخیرہ کو از سرنو امت کے سامنے پیش کیا جائے۔
اہلِ تشیع کے ہاں طبِ اہلِ بیت سے متعلق سب سے اہم کتابیں یہ ہیں:
طبّ الأئمۃ — ابنِ بسطام
طبّ الرضا / الرسالۃ الذہبیۃ — امام علی بن موسیٰ الرضاؑ سے منسوب
بحار الأنوار — علامہ مجلسی، خصوصاً جلد 59 اور 62
الکافی — شیخ کلینی، کتاب الأطعمة والأشربة اور متعلقہ ابواب
وسائل الشیعۃ — حرّ عاملی، کتاب الأطعمة والأشربة اور ابوابِ علاج
مستدرک الوسائل — محدث نوری، طبی روایات کے اضافی مصادر

طبّ الإمام الصادقؑ — محمد کاظم قزوینی؛ جدید موضوعاتی مجموعہ، اصل قدیم ماخذ نہیں
اہم علمی احتیاط یہ ہے کہ ان کتابوں میں موجود ہر روایت کو خود بخود صحیح یا امام کی قطعی تعلیم نہ سمجھا جائے۔ خصوصاً طبّ الأئمۃ، الرسالۃ الذہبیۃ اور فقه الرضا کی نسبت اور اسانید پر اہلِ تشیع کے محققین نے بھی کلام کیا ہے
جب سے لوگوں نے تحقیق کے بجائے عقیدت کو ارحنا بچھونا بنایا ہے اس وقت سے علوم و فنون ہماری دنیا کو خیر باد کہہ گئے ہیں
موضوع اتنا طویل ہے کہ لکھنے کے لئے عمر نوح درکار ہے۔
اس وقت ضرورت ااس بات کی ہے علوم القران و لحدیث کو دوبارہ سے مرتب و مدون کیا جائے۔کیونکہ جب کتب کو علوم القران کے نام لکھا گیا تھا ۔ان میں مذکورہ علوم وہ تھے جو مصنف کے ذہن مین آئے یا پھر اس وقت تک معرض وجود میں آچکے تھے۔اس وقت ان علوم سے آدھے علوم بھی کار آمد نہیں رہ ۔بہت سے علوم وفنون کے نام سے دنیا واقف نہیں ہے۔وقت ساتھ ساتھ وہ خش و خاشاک کی طرح کائنات کی وسعتوں میں گم ہوچکے ہیں ۔ان کی جگہ تازہ علوم اور ضرورتر کے فنون نے جگہ لے لی ہے۔ہم اعتقادیات کو ہاتھ نہیں لگاتے لیکن جن علوم و فنون کا تعلق زندگی کے دیگر شعبوں سے ہے ان میں تو تحقیق کرسکتے ہیں۔
یوں بھی کہہ سکتے ہیں جو شعبے مذہبی لوگوں کے کام میں نہیں آتے یا انہیں ان کی ضرورت نہیں ان میں آگے بڑھ بصیرت پیدا کی جاسکتی ہے۔ علی بصیرۃ ومنتبعنی۔۔
جو علوم و فنون قران و حدیث میں بیان ہوئے ہیں ان کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے البتہ اپنی ضرورت کے تحت کام چلایا جاسکتا ہے۔
ان علوم و فنون کی چھوٹی سے جھلک یہاں پیش کی جارہی ہے ۔یہ حتمی نہیں ہے ۔ہمارے مبلغ علم کی بنیاد پر ہے۔۔باغبانی۔صحت و ۔زندگی۔عائلی واقنین ۔زچہ و بچہ۔رضاعت۔امراض۔جراحت۔امراض سے پہلے صحت کی حفاظت کا انتظام۔امراض کے بعد صحت کی بحالی کا نظام۔
طب کو اگر معنوں میں لیا جائے کہ انسانی ضروریات کی تکمیل کرے تو طب نبوی کے موضوع پر پایا جانے والے مواد اور طبی قواعد و ضوابط اتنے اکمل و کامل ہیں کہ مزید کی ضرورت نہیں۔جو انسانی فطری انداز میں زندگی بسر کرے گا۔اس کی طبی ضروریات کے لئے یہ مواد کا فی ہوگا۔
انسانی صحت اور طب نبویﷺ
انسانی کی تخلیق اور اس کے جسم کی ساخت وہی ہے جو روز اول سے متعین کردی گئی تھی۔اس کی بنیادی ضروریات وہی ہین جو صدیوں پہلے تھیں۔۔انسانی صحت کا دارومدار غذا و خوراک پر منحصر ہوتا ہے دوا تو بامر مجبوری اختیار کی جاتی ہے۔جو انسانی غذا کا راز جان گیا اس ن طبی کو اپنے قابو میں کرلیا۔ قران و حدیث میں اس پہلو کو واضح انداز میں بیان کردیا ہے۔کھائو پئیو ۔لیکن اسراف نہ کرو۔(القران)کھانا پینا انسان صحت کے لئے بنیادی ضروریات میں سے ہے۔لیکن ساتھ ہی ہدایات موجود ہین کہ اسراف نہ کرو۔اسراف دراصل کسی بھی چیز کی زیادتی کو کہہ سکتے ہیں۔ ضرورت سے زیادہ خرچ کرنا: جائز و مباح کاموں میں بھی حدِ اعتدال سے بڑھ جانا۔اسراف حرام نہیں لیکن ضرورت سے زائد استعمال اسراف ہے۔یہیں سے بیماری کی شروعات ہوتی ہے۔ایک آدمی کی غذا دو روٹیاں ہیں۔اگر کوئی مزیدار چیز آئی یا لذیذ پکوان سامنے آگیا ۔وہ دو کے بجائے تین چار کھائے گا تو اسراف ہوگا۔یعنی وہ کھاسکتا ہے،لیکن اس کے جسم کی ضرورت نہین ہے یہ حرص کے زمرے میں آتاہے ۔لالچی انسان فطرت کے خلاف چلتا ہے۔فطری قوانین جو توڑنے کی کوشش کرے گا فطرت اسے توڑ کر رکھ دیگی۔
اگر اس آیت کو اس حدیث کی وشنی میں دیکھیں،تو طب سمجھنا آسان ہوجائ گا۔
کھانے کے بارہ میں حدیث کی پی کے تین حصے کرو
کھانے کے بارے میں مشہور حدیث میں آپ ﷺ نے پیٹ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا اصول بتایا ہے: ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس (ہوا) کے لیے خالی رکھا جائے۔
حدیث کا متن اور ترجمہ
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“آدمی نے اپنے پیٹ سے بدتر کوئی برتن نہیں بھرا۔ انسان کے لیے چند لقمے کافی ہیں جو اس کی پیٹھ (کمر) کو سیدھا رکھیں۔ پھر اگر زیادہ کھانا لازم ہو جائے تو (پیٹ کے تین حصے کر لے) ایک تہائی کھانے کے لیے، ایک تہائی پینے کے لیے، اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے۔”
یہ حدیث سنن ترمذی (حدیث: 2380) اور سنن ابن ماجہ (حدیث: 3349) میں آئی ہے اور امام ترمذی نے اسے “حسن صحیح” کہا ہے۔
پیٹ کے تین حصے (عملی تقسیم)
پہلا حصہ (1/3): کھانا — ضرورت کے مطابق خوراک۔
دوسرا حصہ (1/3): پانی/مشروبات — پیاس اور ہاضمے کے لیے مائع۔
تیسرا حصہ (1/3): سانس/ہوا — پیٹ کو بالکل بھر لینے سے بچنا تاکہ سانس لینے میں آسانی رہے اور صحت متاثر نہ ہو۔
مقصد و فائدہ
یہ تقسیم اعتدال، صحت اور عبادت میں چستی کے لیے ہے؛ پیٹ بھر کر کھانا کمزوری، سستی اور بعض بیماریوں کا سبب بنتا ہے، جبکہ ہلکا پھلکا کھانا انسان کو چست رکھتا ہے۔
اس کی مثال کسی بھی گاڑی کے فیول کی لے سکتے ہیں ،جو فیول اس گاڑی کے چلنے کے لئے لازم ہوتا ہے اس کی معمولی زیادتی اس انجن کی کارکردگی میں خلل ڈال دیتی ہے۔موٹر سائکل ہر ایک کی سواری ہے اس کے کاربوائٹر میں زیادہ پٹرول چلا جائے تو اسٹارٹ نہیں ہوتی۔جو پٹرول اس بائک کی جان ہے ،اس کی زیادتی وبال جان بن گئی ۔یہی حال انسانی غذا و خوراک ہے۔نظام ہضم اور انسانی نطام اخراج نے اپنے انداز سے کام کرنا ہوتا ہے وہ ہماری لذت بھری غذا سے کوئی سروکار نہیں رکھتا۔اسے اپنی ضرورت سے غرض ہے۔ اس کی ضرورت روکھی سوکھی غذا سے پوری ہو یا پھر مرغن غذا سے ۔۔صحت کے لئے کافی ہے۔
ایک مشہور حکایت
ایک مشہور حکایت کی طرف ہے جو کھانے میں اعتدال اور صحت کے تعلق پر بیان کی جاتی ہے۔ اس کے مطابق مدینہ منورہ میں ایک (عجمی/عیسائی) طبیب آیا، اس نے مطب کھولا مگر کوئی مریض نہ آیا؛ اس نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں شکایت کی۔dunya.com+2
حکایت کا خلاصہ
ایک نامور طبیب کو (روایت میں بعض اوقات عجم کے عیسائی بادشاہ کی طرف سے بھیجا ہوا بتایا جاتا ہے) مدینہ میں رہنے اور مسلمانوں کا علاج کرنے کی اجازت ملی۔dunya.com
کئی دن گزر گئے مگر کوئی مسلمان اس کے مطب میں علاج کرانے نہ آیا۔dunya.com+1
طبیب نے خیال کیا کہ شاید لوگ اس کے عیسائی ہونے کی وجہ سے دوری کر رہے ہیں، چنانچہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی۔dunya.com
آپ ﷺ نے فرمایا کہ معاملہ نفرت کا نہیں؛ صحیح صورت یہ ہے کہ لوگ بیماری ہی نہیں ہوتے، کیونکہ وہ اعتدال سے کھاتے ہیں: جب تک بھوک نہ لگے کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے، اور جب تھوڑی بھوک باقی ہو تو دسترخوان سے اٹھ جاتے ہیں۔dunya.com+1
سند و حیثیت
یہ واقعہ بعض سیرت و اخلاقی کتب میں بطورِ حکایت بغیر سند کے نقل ہوا ہے؛ محدثین کے نزدیک یہ کوئی ثابت شدہ حدیث نہیں بلکہ ایک تعلیمی/اخلاقی روایت سمجھی جاتی ہے۔
۔اس پر مزید لکھنا ہے
قران سمجھ میں نہیں آتا۔حدیث کی ضخیم کتب ہمارا کچھ ن
