میو قوم کے لیے ایک مثالی اقدام، میو سپوت ایوارڈ اور میو طلبہ کنونشن

0 comment 5 views
میو قوم کے لیے ایک مثالی اقدام، میو سپوت ایوارڈ اور میو طلبہ کنونشن
میو قوم کے لیے ایک مثالی اقدام، میو سپوت ایوارڈ اور میو طلبہ کنونشن

میو قوم کے لیے ایک مثالی اقدام، میو سپوت ایوارڈ اور میو طلبہ کنونشن
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان۔
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ کاہنہ نولاہور
تمہید

Advertisements

کوئی بھی قوم اسی وقت آگے بڑھتی ہے جب وہ اپنے محنتی طلبہ اور باکردار شخصیات کی قدر کرنا سیکھ لے۔ تعلیم میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے بچوں کی حوصلہ افزائی اور عملی میدان میں دیانت و محنت سے کامیاب ہونے والوں کی پذیرائی قومی ترقی کی بنیاد ہے۔ اسی سوچ کے تحت پاکستان صدائے میو فورم نے میو سپوت ایوارڈ اور میو طلبہ کنونشن کا سلسلہ شروع کیا، جو آج میو قوم کے لیے ایک مثالی اقدام کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

آغاز اور ارتقا

اس سلسلے کی ابتدا 2011 میں صدائے میو اخبار کی پہلی سالگرہ کے موقع پر ہوئی۔ پہلے پروگرام میں پورے پنجاب سے صرف 12 طلبہ ایسے ملے جنہوں نے میٹرک اور انٹر میں 900 سے زائد نمبر حاصل کیے تھے۔ 2016 تک یہ پروگرام میو سپوت ایوارڈ کے نام سے ہوتے رہے۔ 2015 میں پاکستان صدائے میو فورم کے قیام کے بعد ایوارڈ اور طلبہ کنونشن کے پروگرام الگ الگ ہونے لگے۔

وقت کے ساتھ ساتھ اہل طلبہ کی تعداد بڑھتی گئی اور 900 نمبر سے شروع ہونے والا میرٹ بڑھ کر 1100 تک پہنچ گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ قوم کے بچے تعلیمی میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔

بچیوں کی نمایاں پیش رفت
اس سلسلے کا سب سے خوش آئند پہلو قوم کی بچیوں کی تعلیمی کامیابیاں ہیں۔ اس سال صرف لاہور اور ساہیوال بورڈ سے ایوارڈ کے لیے منتخب ہونے والے 136 طلبہ میں 96 بچیاں ہیں۔ یہ تناسب بتاتا ہے کہ میو قوم کی بیٹیاں تعلیم میں بہت آگے نکل چکی ہیں اور ان کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔

دائرۂ کار کی توسیع

پروگرام کا دائرہ رفتہ رفتہ پھیلتا گیا:

2019 سے جنوبی پنجاب کا پروگرام شجاع آباد میں ہونے لگا۔

2022 سے گوجرانوالہ بورڈ کا پروگرام نارووال میں منعقد ہو رہا ہے۔

لاہور، شجاع آباد اور نارووال کے 22 پروگراموں میں اب تک 1478 طلبہ و طالبات کو قابل تحسین اسٹوڈنٹ ایوارڈ دیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح 13 میو سپوت ایوارڈ تقریبات میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں محنت اور ایمانداری سے منفرد کامیابی حاصل کرنے والی 536 شخصیات کو اعزاز دیا گیا۔

میرٹ پر کوئی سمجھوتا نہیں

اس پورے سلسلے کی سب سے بڑی خوبی میرٹ کی پاسداری ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ 2017 میں جب میرٹ 950 نمبر تھا، تو منتظمین میں سے ایک کے اپنے بیٹے کے میٹرک میں 949 نمبر آئے۔ صرف ایک نمبر کم ہونے کی وجہ سے اسے ایوارڈ کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں اور یہی اس پلیٹ فارم کی ساکھ کی اصل بنیاد ہیں۔

ضرورت اور اہمیت

حوصلہ افزائی:
ایوارڈ اور نقد انعام طلبہ کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ان کی محنت قوم کی نظر میں ہے۔ اس سے ان میں مزید آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

رول ماڈل کی تشکیل:
نمایاں طلبہ اور کامیاب شخصیات نئی نسل کے لیے عملی نمونہ بنتے ہیں۔ بچے جب اپنی ہی برادری کے لوگوں کو کامیاب دیکھتے ہیں تو ان کے لیے منزل قریب محسوس ہوتی ہے۔

قومی یکجہتی:
لاہور، ساہیوال، گوجرانوالہ اور جنوبی پنجاب کے پروگراموں میں مختلف علاقوں کے افراد ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، جس سے آپس کے روابط مضبوط ہوتے ہیں۔

معاشرتی معاونت:
تقریباً تمام پروگراموں میں ایوارڈ کے ساتھ نقد انعام بھی دیا جاتا ہے۔ اس بار چوہدری محمد انور میو نے تمام پروگراموں میں ٹاپ ٹین اور پوزیشن ہولڈر طلبہ کو معقول کیش انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

ریکارڈ اور مستقبل کی منصوبہ بندی:
اب تک ایوارڈ حاصل کرنے والے تمام طلبہ کا ریکارڈ فورم کے پاس محفوظ ہے۔ فورم اب یہ بھی سوچ رہا ہے کہ پندرہ سال میں ایوارڈ پانے والے طلبہ کا الگ پروگرام رکھا جائے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان میں سے کتنوں نے کامیابی کی منازل طے کیں اور کتنے وسائل کی کمی کے باعث اعلیٰ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ اس جائزے سے قوم کو یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ وسائل کی کمی کہاں رکاوٹ بن رہی ہے۔

خلوص اور قربانی کی روایت

یہ پروگرام محض رسمی تقریبات نہیں بلکہ ذمہ داران کی ذاتی قربانیوں کا نتیجہ ہیں۔ لاہور اور نارووال کے ایوارڈ کوئی نہ کوئی سپانسر کرتا ہے، جبکہ باقی تمام اخراجات صدائے میو کی ٹیم اپنی جیب سے کرتی ہے۔ جنوبی پنجاب کا پروگرام، جو سب سے بڑا ہوتا ہے، اس کے ایوارڈ کے علاوہ ہر سال تین سے چار لاکھ روپے صدائے میو فورم جنوبی پنجاب کے چیف آرگنائزر چوہدری ناصر محمود میو اپنی جیب سے ادا کرتے رہے ہیں۔

آئندہ پروگرام

لاہور اور ساہیوال بورڈ: 3 اکتوبر، برکت پیلس، رائیونڈ

گوجرانوالہ بورڈ: 22 اکتوبر، مون مارکی، ساگر پور، نارووال

جنوبی پنجاب: پہلی بار شجاع آباد کی بجائے ملن میرج ہال، کہروڑ پکا میں

الحمدللہ پاکستان صدائے میو فورم کے سالانہ سات پروگراموں میں سے ایک بھی کبھی ناغہ نہیں ہوا۔ تسلسل اور پابندی کی یہ روایت کسی بھی تنظیم کے لیے قابل رشک ہے۔

اختتامیہ

میو قوم کی تنظیموں میں پاکستان صدائے میو فورم واحد تنظیم ہے جس کا کوئی اجلاس اور پروگرام بغیر ایجنڈے اور مقصد کے نہیں ہوتا اور نہ ہی تنظیم کے عہدیداران کی خودنمائی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ بات یقیناً آپ نے بھی محسوس کی ہوگی۔ مقصدیت، شفافیت، میرٹ اور اخلاص اس کی پہچان ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم کے صاحبِ حیثیت افراد اس مثالی اقدام کا ساتھ دیں، ایوارڈ اور انعامات کی سپانسرشپ میں حصہ لیں، اور ان طلبہ کی سرپرستی کریں جو وسائل کی کمی کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہی راستہ میو قوم کو تعلیم، وقار اور ترقی کی منزل تک لے جائے گا۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme