فارمیکولوجی: دوا اور اس کے اثرات و عملات

0 comment 13 views

فارمیکولوجی۔ دوا اور اس کے اثرات و عملات
از
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبوی
سعد ورچوئل سکلز پاکستان

Advertisements

فارمیکولوجی: دوا اور اس کے اثرات و عملات
طبِ یونانی کے طالب علم کی تعلیم میں ایک خلا برسوں سے محسوس کیا جاتا رہا ہے۔ وہ کلیات پڑھتا ہے، مفردات و مرکبات کی گتھیاں سلجھاتا ہے، مگر جب مریض کے ہاتھ میں جدید دواؤں کی پرچی نظر آتی ہے تو اس کی زبان پر ایک ہی سوال ہوتا ہے: “یہ دوا جسم کے اندر کرتی کیا ہے؟” اس سوال کا جواب اردو میں دینے کی سنجیدہ کوششیں کم ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر محمد یوسف انصاری کی “فارمیکولوجی: دوا اور ان کے اثرات و عملات” اسی خلا کو پُر کرنے کی ایک قابلِ ذکر کاوش ہے۔

   کتاب کا مزاج اور پس منظر

مصنف نے “حرفِ اوّل” میں خود لکھا ہے کہ یہ ان کی دوسری کتاب ہے۔ پہلی “تحفظی و سماجی طب” تھی۔ ان کے بقول یونانی طبیہ کالجوں میں فارمیکولوجی “علم الادویہ” کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے اور اردو میں اس موضوع پر کوئی کتاب دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے طلبہ و اساتذہ دشواری محسوس کرتے تھے۔ کتاب اسی ضرورت کے احساس سے وجود میں آئی۔

مصنف کی ایک اور بات بہت معنی خیز ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انیسویں صدی کے نصف تک دواؤں کے اثرات کا علم اندازوں اور قیاسات پر قائم تھا۔ پھر جب دواؤں کے کیمیائی اجزا اور ساخت کی معلومات ملنے لگیں تو علاج کی ایک نئی بنیاد پڑی۔ یہ تاریخی نکتہ دراصل پوری کتاب کی روح ہے: دوا کو محض تجربے کی روایت نہیں، فہمِ عمل (mechanism of action) کے ساتھ سمجھا جائے۔
کتاب کی ساخت
فہرست کے مطابق کتاب تین حصوں میں منقسم ہے:
،،پہلا حصہ: تعارف۔،، دوا کی تعریف اور جماعت بندی، ادویہ کی حیاتیاتی قدر، ان کی تقسیم و جذب، دوا کے اثر کی مدت، اور دواؤں کے مقامی و عمومی اثرات جیسے بنیادی تصورات۔ مصنف کے بقول یہ حصہ نظامِ بدنیہ کے علاوہ Basic Concepts پر ہے تاکہ آگے کی بحث سمجھنا آسان ہو۔

،،دوسرا حصہ: نظامِ بدنیہ پر دواؤں کے اثرات۔،، اعصابی نظام (خودکار اور مرکزی)، نظامِ تنفس، ہاضمہ، دورانِ خون، عضلات، نظامِ تولید، جلد، غدد اور دیگر نظاموں پر ادویہ کے اثرات۔ یہی حصہ کتاب کی علمی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

،،تیسرا حصہ: علاج بالکیمیا۔،، جراثیم کی اقسام اور ان کی تحصیل، سلفانمائڈز، پنسلین، اینٹی بایوٹکس، تپِ دق، ملیریا، کینسر، ہارمون اور پروٹوزوا کی ادویہ، اور پیچیدہ امراض میں دواؤں کے استعمال کے اصول۔ آخر میں کتب کی فہرست اور اشاریہ بھی شامل ہے۔

مصنف نے ایک “ضروری انتباہ” بھی دیا ہے کہ تیسرے حصے میں دواؤں کی خوراک اور ترکیبِ استعمال احتیاط سے درج ہے، پھر بھی خودعلاجی کے بجائے معالج کی رہنمائی ضروری ہے۔ کتاب میں دواؤں کے Generic نام دیے گئے ہیں، جنہیں CIMS یا MIMS جیسی مارکیٹ ڈائریکٹریوں میں آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے۔

   ایک اہم اشارہ: طبِ یونانی کو کیا لینا چاہیے

“حرفِ اوّل” کا سب سے قیمتی حصہ وہ ہے جہاں مصنف مغرب کی مثال دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مغرب نے نباتات کے الکلائیڈز کا خوب استعمال کیا، جیسے Reserpine اور Curarine۔ مصنف کا استدلال یہ ہے کہ ہمارے پاس اسرول اور کچلہ کے لیے دستورہ جیسی مثالیں ہیں اور ہمیں چاہیے کہ نظامِ بدنیہ پر ان کے اثرات کا جائزہ لے کر یونانی مفردات و مرکبات کو تجربات کی کسوٹی پر پرکھیں۔ یہ بات آج بھی اتنی ہی برمحل ہے۔

   آج کے زمانے میں اس کتاب کی اہمیت

1 اردو میں بنیادی ماخذ۔،، جدید فارماکولوجی کی اصطلاحات (جذب، تقسیم، تحول، اخراج، dose-response، therapeutic index) اردو میں مربوط انداز سے کم ملتی ہیں۔ یہ کتاب طالب علم کو ان تصورات سے مانوس کرتی ہے۔

2 مریض کی حفاظت۔،، آج مریض عموماً ایلوپیتھک دوائیں بھی ساتھ لے رہا ہوتا ہے۔ جو حکیم یہ نہ جانتا ہو کہ کون سی دوا کس نظام پر اثر کرتی ہے اور کن سے ٹکراتی ہے، وہ نادانستہ نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ اس خطرے کو کم کرتا ہے۔

3 اینٹی بایوٹک مزاحمت کا مسئلہ۔،، مصنف نے خود اشارہ کیا ہے کہ ادویہ کے بے جا استعمال، خصوصاً علاج بالکیمیا میں، معتزرات اور مزاحمت پیدا ہو رہی ہے اور عالمی ادارہ صحت بھی اس پر پریشان ہے۔ آج یہ خطرہ کہیں زیادہ سنگین ہو چکا ہے۔ اینٹی بایوٹکس کے سمجھ دار استعمال کی تعلیم اب پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔

4 تحقیق کی بنیاد۔،، طبِ نبوی اور یونانی مفردات پر جو تحقیق ہو رہی ہے، اسے فارماکولوجی کی زبان اور اصولوں سے سمجھے بغیر معیاری نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ کتاب اس زبان کی ابتدائی تربیت دیتی ہے۔

   تنقیدی نظر: کیا اپ ڈیٹ ہونا چاہیے

ایمانداری کا تقاضا ہے کہ یہ بھی کہا جائے کہ کتاب پرانی ہے اور فارماکولوجی تیزی سے بدلتا علم ہے۔ اسے ایک بنیادی نصابی کتاب کے طور پر پڑھنا چاہیے، تازہ ترین علاجی ہدایت کے طور پر نہیں۔ خاص طور پر:

،،دواؤں کی فہرست، خوراکیں اور علاجی پروٹوکول،، (تپِ دق، ملیریا، کینسر، اینٹی بایوٹکس) اب بدل چکے ہیں۔ بعض دوائیں متروک یا محدود ہو چکی ہیں، اور نئی دوائیں (ٹارگٹڈ تھراپی، ایمیونو تھراپی، نئی نسل کی اینٹی بایوٹکس) آ چکی ہیں۔ کسی بھی خوراک پر عمل سے پہلے موجودہ مستند ماخذ (نصابی کتب، قومی علاجی گائیڈ لائنز، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی) سے تصدیق ضروری ہے۔

،،جدید موضوعات،، جیسے فارماکوجینومکس (جینیاتی فرق کے مطابق دوا کا ردِعمل)، دواؤں کے باہمی تعاملات کے ڈیٹا بیس، اور شواہد پر مبنی طب (evidence-based medicine) کتاب کے دور میں نمایاں نہیں تھے۔

دواؤں کے نام اور برانڈز مارکیٹ کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں۔ Generic ناموں کی پالیسی اب بھی درست ہے، مگر موجودہ فہرست الگ سے دیکھنی چاہیے۔ خلاصہ
فارمیکولوجی” اپنے وقت کی ایک مخلصانہ اور ضرورت پر مبنی علمی کاوش ہے، جو طبِ یونانی کے طالب علم کو جدید علمِ ادویہ کی دہلیز تک لاتی ہے۔ آج بھی اس کی سب سے بڑی قدر اس کا ،،بنیادی تصورات کو اردو میں سمجھانا،، ہے۔ اسے پڑھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ بنیادی اصول اس سے لیے جائیں اور خوراک و علاجی تفصیلات جدید ماخذ سے پرکھی جائیں۔ یوں یہ کتاب روایت اور جدید تحقیق کے درمیان ایک پل کا کام دے سکتی ہے۔


کتاب ڈائون لوڈنگ کے لئے یہاں کلک کریں

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme