شاہ چوکھا ولی اللہؒ

0 comment 3 views
شاہ چوکھا ولی اللہؒ
شاہ چوکھا ولی اللہؒ

شاہ چوکھا ولی اللہؒ

Advertisements

پیش لفظ و تعارفی مضمون

آغاز

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علٰی سیدنا رسول اللہ وعلٰی آلہ وصحبہ اجمعین۔

اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو زندہ رکھنا چاہتا ہے تو اس کی یادیں اور اس کا ماضی بھی کسی نہ کسی انداز میں محفوظ رکھتا ہے۔ عقیدت و تقدیس بلاشبہ زندگی میں اہمیت و افادیت رکھتے ہیں، لیکن اس کی سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ بسا اوقات ایک بزرگ ہستی کو عام انسانوں کے دائرے سے نکال کر محض کشف و کرامات کے حصار میں لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں یہ روایت رہی ہے کہ جب تک کسی شخصیت کو ماورائے فطرت واقعات کے ساتھ نہ جوڑ دیا جائے، تحریر ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ اسے عیب کہیں یا ہنر، تاریخ کے اوراق اسی رنگ سے بھرے پڑے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے اکثر محض ایک تہہ نشین توہم پرستانہ خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ زاہد و صادق لوگوں کو تسلیم کرنا بھی لوگوں کو عجوبہ لگتا ہے، کیونکہ جن واقعات کی بنیاد پر بزرگی و تفوق ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے وہ ممکن نہیں ہو سکتے جب تک صاحبِ واقعہ خود زندہ ہو اور اس کی تصدیق ممکن رہے۔ اسی لیے عموماً یہ شرط رہی ہے کہ کسی کو بزرگ تسلیم کرنے کے لیے پہلے اس کا انتقال اور پھر ایک معقول مدت کا گزرنا ضروری سمجھا جاتا ہے، تاکہ ماننے والے اپنی مرضی کے مطابق کشف و کرامات کے واقعات منسوب کر سکیں۔

شاہ چوکھا ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلے میں بھی یہ اوراق اسی مرحلے سے گزرے ہیں، حالانکہ ان کی حقیقی خدمات اسی قدر وافر ہیں کہ انہیں کرامات کی زینت کی چنداں حاجت نہیں۔ کم وسائل اور ناسازگار حالات کے باوجود زندگی بھر دین و قوم کی خدمت میں منہمک رہنا، اپنی ذات کو تیاگ کر نافعُ الخلائق بن جانا — اس سے بڑی کرامت اور کیا ہو گی؟ اندازہ کیجیے کہ ان کی طرزِ زندگی کیسی رہی ہوگی کہ شاہِ ہند بھی، جس کے در پر لوگ عمر بھر تعلق پیدا کرنے کی آرزو کرتے تھے، خود ان کے آستانے کی طرف کھنچا چلا آیا۔ جس دور میں بادشاہوں و وزراء کا اختیار و جبر آج سے کہیں زیادہ تھا، اس میں شاہ چوکھا ولی اللہؒ کا دامن دنیا کے دھبوں اور لالچ سے یکسر پاک رہا — یہی ان کی اصل عظمت کی دلیل ہے۔

مجھے بزرگوں سے عقیدت ہے، اور ان کی تعلیمات سے استفادہ قسمت کی بات سمجھتا ہوں، لیکن جہاں لوگ عقیدت کی چوکھٹ پر سر جھکاتے ہیں وہیں میرا قلم حقائق کریدنے لگتا ہے۔ مجھے اس سے غرض نہیں کہ کسی بزرگ کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں کتنی عقیدت پنہاں ہے؛ میری جستجو کا محور یہ ہوتا ہے کہ اس سے قوم کو کتنا فائدہ پہنچا، خدمتِ خلق میں اس کا کیا کردار رہا، اور تاریخ پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے۔ عقیدت مندوں کی عقیدت کو ٹھیس پہنچائے بغیر حقائق کی جستجو ممکن ہے — جیسے نمک زخم پر تکلیف دیتا ہے مگر بچھو کے کاٹے کا تریاق بھی وہی نمک ہے؛ قدرت نے جو خاصیت اس میں رکھی ہے اس کا اظہار موقع و محل پر منحصر ہے۔ یہی اصول حقیقت نگاری پر بھی صادق آتا ہے۔

شاہ چوکھا ولی اللہؒ: حیات و خدمات — تاریخی کتب کی روشنی میں

حضرت سید احمد بن محمد خراسانی، المعروف شاہ چوکھا ولی اللہؒ، علاقہ میوات کے ان نفوسِ قدسیہ میں سے ہیں جن کے دمِ قدم سے اس خطے میں اسلام کی روشنی پھیلی۔ آپؒ کی ولادت تقریباً 930ھ میں ملکِ خراسان کے ایک علمی و دیندار گھرانے میں ہوئی؛ والد بزرگوار حضرت سید محمد شیراز میں قاضئ شرع تھے۔ آپؒ نے پہلے حضرت سید علی ہمدانیؒ (کشمیر) سے اور بعد ازاں ہندوستان تشریف لا کر حضرت بندگی شاہ نظام الدین نارنولیؒ کے دستِ حق پرست پر سلسلۂ چشتیہ میں بیعت کی۔ دہلی، پاکپٹن اور نارنول کے سفر کے دوران آپؒ کا گزر بارہا میوات کے اس پہاڑی مقام سے ہوا جسے بعد میں آپؒ کے نام سے موسوم کر کے شاہ چوکھا کہا گیا، اور جہاں آپؒ نے اپنے آخری ایام گزار کر 1000ھ میں وصال فرمایا۔

آپؒ کی حیات و خدمات کا ذکر محض زبانی روایات تک محدود نہیں بلکہ متعدد مستند تاریخی ماخذ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ غدرِ 1857ء کے بعد مرتب ہونے والی کتاب “تذکرۃ الفقراء” میں آپؒ اور آپؒ کے گیارہ خلفاء کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔ حضرت مفتیٔ اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع صاحب دیوبندیؒ کی تالیف میں بھی آپؒ کا بطور صاحبِ کرامات بزرگ ذکر ملتا ہے۔ ادارہ دارالمصنفین اعظم گڑھ کی مطبوعہ کتاب “ہندوستان کے عہد وسطیٰ کا فوجی نظام” میں شاہی دفاترِ آگرہ کے حوالے سے آپؒ کی آمد اور خانقاہ کی تعمیرات کا سرکاری ریکارڈ درج ہے۔ اسی طرح مؤرخِ میوات چوہدری محمد اشرف خان نے اپنی تاریخِ میوات میں بھی آپؒ کی خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ تمام حوالہ جات اس امر کے گواہ ہیں کہ شاہ چوکھا ولی اللہؒ کی شخصیت محض زبانِ خلق پر قائم کوئی روایت نہیں بلکہ تاریخ کے مستند اوراق میں ثبت ایک حقیقت ہے۔

آپؒ کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ جس قوم کو بڑی بڑی سلطنتیں اور فاتح بادشاہ تلوار کے زور پر مطیع نہ کر سکے، اسے آپؒ اور آپؒ کے ساتھی خلفاء نے خدمتِ خلق، صبر اور اخلاقِ حسنہ سے اسلام کی چھاؤں میں جمع کر دیا۔ میوات میں اسلام کی آبیاری انہی صوفیائے کرام کے ہاتھوں ہوئی۔

تصنیف کا محرک اور مقصد

میں نے شاہ چوکھا ولی اللہؒ کی شخصیت کو کشف و کرامات کے بجائے اس لیے بھی اپنی تحریر کا موضوع ٹھہرایا کہ اس وقت میں میو تاریخ پر کام کر رہا ہوں۔ ہر وہ کتابچہ، یا کسی بھی لائبریری کا وہ خانہ، جس میں کتابی شکل میں میوات کے بارے میں روشنی موجود ہو، اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مختصر سی سوانح عمری میوات کی زرخیز زمین کا وہ دانہ ہے جس سے آنے والی نسلوں کے لیے عقیدت و محبت کی کھیتی پیدا ہوئی، اور اس تخم ریزی نے میو قوم کی نفسیات اور تہذیب پر گہرا اثر ڈالا۔

اس کتابچے کی ڈیجیٹل فارمیٹنگ اور از سرِ نو کمپوزیشن کا باعث مفتی محمد ہاشم سندھی، کراچی، صاحب بنے؛ انہوں نے اس موضوع پر کچھ لکھنے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے راقم الحروف سے رجوع کیا، اور ان کی اس ضرورت کی تکمیل کو اخلاقی فرض سمجھتے ہوئے یہ کام مکمل کیا گیا۔

صوفیائے کرام کا میوات کی تہذیب پر اثر

جب تاریخ اٹھا کر دیکھتا ہوں تو میو قوم کی تہذیب و تمدن میں جو بدلاؤ ان بزرگوں کی سعیِ مشکور نے پیدا کیا، وہ تیر و تفنگ، نیزہ و تلوار نہ کر سکے۔ جس قوم کو قاہر بادشاہ اور بڑی بڑی سلطنتیں زیر کرنے سے قاصر رہیں، وہ لوگ موم کی طرح انہی بزرگوں کے آستانے پر عقیدت کے پھول نچھاور کرنے لگے، یہاں تک کہ ان کے تہوار اور مخصوص اوقات کو میو قوم نے اپنا تہوار قرار دے دیا۔ میوات کے میلے، میوات کی تفریحات، میوات کا کلچر اور اس کی عقیدت سے صوفیاء کو خارج کر دیا جائے تو یہ قوم تہی دست ہو کر رہ جائے گی۔ میلے ٹھیلے، عرس اور دیگر رسومات، جنہیں دین سمجھ کر یہ لوگ آج بھی کرتے ہیں، اسی وراثت کی کڑی ہیں۔

میوات کی تاریخ نگاری اور مسلکی اختلاف کا سوال

میو قوم میں عقیدت و نظریے کے لحاظ سے دو مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں: ایک خود کو مکتبۂ دیوبند سے منسوب کرتا ہے، دوسرا مسلکِ بریلوی سے تعلق کا دعویدار ہے۔ دونوں کی اپنی اپنی تاریخِ عقیدت ہے، اور دونوں بریلوی و دیوبندی مزاج میں فرق کے باوجود ایک دوسرے کا وجود تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ ان کے سوتے ایک ہی چشمے سے پھوٹتے ہیں۔ یہ دونوں مکاتبِ فکر بعد کی پیداوار ہیں، جبکہ اسلام اور میوات ان سے بہت پہلے سے موجود ہیں۔ حادثہ کہیں یا وقتی ضرورت، انہیں پروان چڑھایا گیا، اور نچلی سطح پر سطحی الذہن لوگوں نے انہیں مسلک و عقیدے کے طور پر دیکھ کر دفاع و الزامات کی طویل بحثیں تاریخ کے سینے میں پیوست کر دیں۔

جب میوات کی تاریخ کا وسیع تر مطالعہ کیا جائے تو یہ خطہ تاریخی طور پر حکومتوں و سلطنتوں کے ساتھ برسرِ پیکار اور بیرونی حملہ آوروں سے دست و گریبان رہنے کے مناظر سے بھرا نظر آتا ہے، جہاں دیوبندی، بریلوی یا اہلِ حدیث کی تقسیم کی لکیر سرے سے مفقود ہے۔ البتہ سطحی الذہن لوگوں نے فرصت کے اوقات میں اپنے مسلکی مناقشات کو دین کی خدمت اور اپنے مکتبِ فکر کے دفاع کو اسلام کے دفاع کا رنگ دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس کی وجوہات میں مسلکی تعصب، روزی روٹی کا مسئلہ اور علمی سطحیت شامل دکھائی دیتی ہیں۔ آج بھی یہ تقسیم موجود ہے، البتہ وہ شدت جو علمی وسائل کی عدم دستیابی کے دور میں تھی، اب موجود نہیں — شاید اس لیے کہ آج لوگوں کو اس سے زیادہ اہم مشاغل میسر آ گئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اہلِ میوات نے دیوبندی و بریلوی، دونوں مکاتبِ فکر کے لیے اپنی باہیں کشادہ رکھی ہیں: سب سے بڑے میو مؤرخ، مرحوم حکیم عبدالشکور، اہلِ حدیث مکتبۂ فکر سے وابستہ تھے، جبکہ سوندھ کی گدی بریلوی فکر کی نمائندگی کرتی ہے؛ اور یہی میوات ہے جس کے چشموں سے تبلیغی جماعت کی آبیاری بھی ہوئی۔ یہ باہمی کھینچاتانی میو قوم کی انفرادیت نہیں بلکہ پوری ملتِ اسلامیہ کو درپیش ایک پرانا مسئلہ ہے۔ مولانا حبیب الرحمٰن مرحوم کی “تذکرہ صوفیائے میوات”، مولانا عبدالشکور کی “تاریخ میو چھتری”، اور “مرقعِ الور”، “میو اور میوات”، “تمدنِ میوات” جیسی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو کہیں مسلکی پرچھائیں دکھائی نہیں دیتی — صرف اور صرف “میو” دکھائی دیتا ہے؛ جب یہ لفظ آتا ہے تو میو عصبیت ایک چٹان کی طرح ابھر کر سب مسالک پر غالب آ جاتی ہے۔

میو قوم کی تاریخی بے اعتنائی اور اس کے اسباب

میو قوم کے خون میں جوش و ابھار موجود رہا ہے، مگر یہ آگ سلطنتوں سے ٹکرانے میں صرف ہوتی رہی، کسی منظم قاعدے کے تحت نہیں بلکہ محض جنگ کی خاطر — اسی لیے کوئی منظم تاریخ مرتب نہ ہو سکی، اور جیسے ان کی جنگی مہمات بکھری پڑی ہیں ویسے ہی ان کی تاریخ بھی بکھری ہوئی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ میو قوم کی بہادری کے جوہر جن مخالفین کے سامنے ظاہر ہوئے اور جن کے خلاف انہوں نے اپنے سپوت قربان کیے، انہی کے چراغ کی روشنی میں میو قوم آج اپنا اتہاس تلاش کرتی ہے — جیسے تزکِ بابری، ٹاڈ کی تاریخِ راجستان، طبقاتِ ناصری، آئینِ اکبری وغیرہ۔ اپنی دلیری کے باوجود میو قوم اس قدر علمی کم مائیگی کا شکار ہے کہ اسے اپنی بہادری کے ثبوت کے لیے اغیار کی گواہی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

ماضی تو ماضی تھا، آج بھی میو قوم اسی روش پر قائم ہے۔ ہمارے آبا و اجداد کے پاس وسائل اور تعلیم کم تھی، لیکن آج تو سب کچھ میسر ہے، اس کے باوجود اپنی تاریخ سے یہ بے اعتنائی فکرمندی کا سبب ہے۔

میواتی ادب اور قومی تعاون کا فقدان

میو قوم کے بڑے ادیبوں کی تصانیف — تاریخِ میو چھتری، کمال الدین کمال کی فتح نامۂ میوات، سکندر سہراب میو کی کتب، قیس چوہدریچھرک لوت کی نگارشات، اور شیر چوہدری مرحوم کی “زندگی کا سرمایہ” — کا جائزہ لیا جائے تو ایک بات مشترک نظر آتی ہے: یہ تمام اہلِ قلم اپنی قوم کی عملی بے التفاتی اور عدمِ تعاون پر شاکی دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے ادیبوں میں بہت صلاحیت ہے، لیکن کسی مربوط قومی پالیسی کے فقدان کے باعث ان کی صلاحیتوں سے خاطر خواہ استفادہ نہیں کیا جا سکا۔

دوسری طرف میواتی ادب خود بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ میو قوم کے لکھاری اپنے علوم و فنون اور اظہارِ مافی الضمیر کے لیے اکثر دیگر زبانوں کا سہارا لیتے ہیں، کیونکہ یا تو میواتی زبان میں لکھنا اپنے اظہار کے لیے موزوں نہیں سمجھتے، یا یہ ان کی ادبی مجبوری ہے کہ میواتی قارئین میسر نہیں۔ عام میو قوم میں کتاب سے ایک گونہ وحشت بھی پائی جاتی ہے — شاید یہ ان کی خطا نہیں، بلکہ کتاب بے زاری کسی حد تک قوم کی اجتماعی عادت کا حصہ بن چکی ہے۔ اس کے باوجود، بعض لوگ “میو قوم” کے نام پر روزی روٹی کا سہارا بھی لیتے ہیں؛ انہیں مکمل طور پر غلط نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ جیسے تیسے بھی ان کی وجہ سے میڈیا کی سطح پر میو قوم کا نام زندہ رہتا ہے۔

اس کتابچہ کی اہمیت و افادیت — میو قوم کے لیے

موجودہ دور میں تعلیمی رجحان اور خصوصاً تاریخ سے دلچسپی روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں علاقہ میوات کا پڑھا لکھا طبقہ بھی اپنے اسلاف کے حالاتِ زندگی سے بڑی حد تک ناواقف ہے۔ شاہ چوکھا ولی اللہؒ کی سوانح پر مشتمل یہ کتابچہ محض ایک سوانحی تحریر نہیں بلکہ میو قوم کی دینی و تہذیبی شناخت کی بازیافت کی ایک کوشش ہے۔

اس کی افادیت کئی پہلوؤں سے نمایاں ہے: اول، یہ میوات میں اسلام کی آمد اور اس کے فروغ کی اصل تاریخ کو نئی نسل تک منتقل کرتا ہے۔ دوم، میوات کی مختلف پالوں — خصوصاً پالِ چھر کلوت — کا درگاہِ شاہ چوکھا سے صدیوں پرانا روحانی و خاندانی تعلق محفوظ کرتا ہے، جو زبانی روایت کی صورت میں معدوم ہو سکتا تھا۔ سوم، حضرت مولانا محمد الیاسؒ کے اس قول کی روشنی میں کہ “شاہ چوکھا قلبِ میوات ہے، یہاں کی اصلاح پر میوات کی اصلاح موقوف ہے”، یہ کتابچہ اس مرکز کی دینی و تاریخی مرکزیت کو اجاگر کرتا ہے۔ چہارم، یہ میوات کے میلوں، عرسوں اور رسوم کے پیچھے کارفرما روحانی پسِ منظر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، جن کے بغیر میو قوم کی ثقافت نامکمل رہتی ہے۔ یہ کاوش آنے والی نسلوں کو اپنے اسلاف کی قربانیوں اور خدمتِ خلق کے جذبے سے روشناس کراتی ہے، تاکہ وہ اپنی تاریخ پر فخر کرتے ہوئے اسی جذبے کو آگے بڑھائیں۔

سعد ورچوئل سکلز پاکستان کی عملی و ادبی تاریخی خدمات

سعد ورچوئل سکلز پاکستان، سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ (کاہنہ ناؤ، لاہور) کے زیرِ اہتمام، میواتی زبان و تاریخ کی ترویج اور لائبریریوں کی الماریوں میں پڑے بوسیدہ و کرم خوردہ قلمی نسخوں کو از سرِ نو کمپوز کر کے شائع کرنے کو اولین ترجیح سمجھتے ہوئے گزشتہ کئی برسوں سے مصروفِ عمل ہے۔ ادارے کی مطبوعات و تالیفات و تراجم کی فہرست میں قریباً ایک سو اکسٹھ (161) کتب شامل ہیں، جو اسلامیات و سیرت و فضائل، طب، عملیات، میواتی زبان و تاریخِ میوات، اور عربی و فارسی کے کلاسیکی ماخذ کے اردو تراجم جیسے متنوع میدانوں پر محیط ہیں۔ انٹرنیٹ کی آمد کے بعد ایک وسیع جہان ہمارے سامنے ہے — کرنے والوں کے لیے ہزار راستے، نہ کرنے والوں کے لیے لاکھ بہانے۔

اس وقت ادارہ “تاریخ میو چھتری” ،تذکرہ صوفیائے میوات،تاریخ ملت شاہی ، جیسی ضخیم کتب کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل “میو لغات” پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی فارمیٹنگ اس انداز سے کی گئی ہے کہ اہلِ علم اور میو قوم کی ادبی خدمت کے جذبے سے سرشار افراد کو اس کا لنک بھیجا جائے گا، جس میں کوئی بھی لفظ بول کر شامل کیا جا سکے گا، اور مصنوعی ذہانت (AI) خود بخود اس لفظ کو عربی، فارسی، رومن اور انگریزی جیسی بین الاقوامی زبانوں میں پُر کر دے گی۔ یوں تمام الفاظ خود کار طریقے سے ایک ڈیٹا بیس میں جمع ہوتے چلے جائیں گے اور میو قوم کی ایک عظیم، کثیر الجہت لغت وجود میں آئے گی جو انٹرنیٹ پر ہر وقت دستیاب ہوگی۔ اس میں ریختہ، اردو کی فرہنگِ آصفیہ، فیروز اللغات، جامع اردو لغات، عربی کی المنجد اور المعانی، اور آکسفورڈ ڈکشنری جیسی بڑی لائبریریوں کو بذریعہ اے پی آئی جوڑا گیا ہے، جبکہ دیوناگری رسم الخط کے لیے ریختہ سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ ایسے سافٹ ویئر بھی تیار کیے گئے ہیں جن کی مدد سے دنیا کی سو سے زائد زبانوں میں سے کسی بھی زبان میں لکھی ہوئی کتاب کا میواتی زبان میں ترجمہ کیا جا سکے گا، تاکہ میواتی زبان میں ادب کی کمی کو، جو قوم کے لکھاریوں کی دیگر زبانوں پر انحصار اور قارئین کی کمیابی کے باعث پیدا ہوئی ہے، کسی حد تک پورا کیا جا سکے ۔

اس سلسلۂ خدمت میں میواتی قومی ہیریٹیج اسلام آباد کے بانی و چیئرمین جناب غلام محمد میو صاحب کا تعاون بھی قابلِ اعتراف ہے، جنہوں نے اس موضوع کو سنجیدگی سے سنا اور حوصلہ افزائی کی، نیز راقم الحروف کی کئی عملی کتب — میو قوم کا ہیرو، میو قوم کا شاندار ماضی: جنگ آزادی 1857، اور میو کسی فاتح کے سامنے کیوں نہ جھکی؟ — کی اشاعت میں معاونت بھی فرمائی۔ یوسف شاکر میو، حاجی اسحٰق میو، شکیل احمد میو اور جاوید میو جیسے مخلصین بھی قوم کی خدمت میں مصروف ہیں، اور اسلام آباد میں میو قوم کے حوالے سے جاری سرگرمیوں میں آئندہ ثقافتی میلے میں شرکت کا ارادہ بھی رکھا جاتا ہے۔

یہ کتابچہ بھی اسی سلسلۂ خدمت کی ایک کڑی ہے — جس میں قدیم روایات کو جدید اسلوب میں محفوظ کر کے میو قوم کی نئی نسل تک پہنچایا جا رہا ہے، تاکہ علاقہ میوات کی علمی، روحانی اور تاریخی وراثت ضائع ہونے سے محفوظ رہے۔

دعا

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس کاوش کو قبولیت سے نوازے، شاہ چوکھا ولی اللہؒ کے درجات بلند فرمائے، میو قوم کے مخلص اہلِ قلم کی کاوشوں کو ثمر آور بنائے، اور اس کتابچہ کو میو قوم کے لیے ہدایت و استفادہ کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو سعد ورچوئل سکلز پاکستان سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ

اصل نسخہ PDF کے لئے یہاں کلک کریں

جدید نسخہ مع مقدمہ یہاں کلک کریں

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme