
میواتی ثقافت کی نئی دستک: سندھ میں فنکاروں کی رجسٹریشن اور شناخت کی جنگ
تحریر: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
قومیں صرف اپنی تاریخ پر فخر کرنے سے زندہ نہیں رہتیں، وہ اپنی زبان، ثقافت، فنون اور روایات کو محفوظ رکھنے کے لیے عملی جدوجہد بھی کرتی ہیں۔ تاریخ کے صفحات میں جگہ حاصل کرنا ایک مرحلہ ہے، لیکن اپنی تہذیبی شناخت کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا اس سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔ جو قومیں اپنے ثقافتی ورثے کی قدر کرتی ہیں، وہ اپنے ماضی کو مستقبل کی طاقت بناتی ہیں؛ اور جو اس ذمہ داری سے غافل ہو جائیں، ان کا قیمتی ورثہ رفتہ رفتہ یادوں میں گم ہونے لگتا ہے۔
میو قوم کے ثقافتی سفر میں 15 اکتوبر 2026ء کی ایک پیش رفت اسی احساسِ ذمہ داری کی عکاس ہے۔ میواتی ہیریٹیج و کلچرل فورم اسلام آباد نے سندھ سے تعلق رکھنے والے میو فنکاروں اور دستکاروں کی سندھ کونسل آف آرٹس میں رجسٹریشن کے لیے باضابطہ کوشش کی ہے۔ یہ محض چند فنکاروں کے نام درج کرانے کا معاملہ نہیں، بلکہ میواتی ثقافت کو ایک وسیع تر ادارہ جاتی اور عوامی پلیٹ فارم تک پہنچانے کی کوشش ہے۔
ایک درخواست، شناخت کے کئی امکانات
15 اکتوبر کو میواتی ہیریٹیج و کلچرل فورم اسلام آباد کے چیئرمین راؤ غلام محمد میو اور جنرل سیکرٹری حاجی محمد اسحاق میو نے لوک ورثہ میوزیم اسلام آباد کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر وقاص سلیم اور ڈائریکٹر انوار الحق سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔
ملاقات میں سندھ کے میواتی فنکاروں اور دستکاروں کی سندھ کونسل آف آرٹس میں رجسٹریشن کی اہمیت واضح کی گئی۔ راؤ غلام محمد میو نے مؤقف پیش کیا کہ اس اقدام سے سندھ میں منعقد ہونے والے ثقافتی پروگراموں میں میواتی فنکاروں کی شرکت کے امکانات بڑھیں گے اور میواتی ثقافت کو فروغ دینے کا راستہ کھلے گا۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق، لوک ورثہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے درخواست سے اتفاق کرتے ہوئے اسے ضروری کارروائی کے لیے سندھ کے متعلقہ محکمۂ ثقافت کو بھجوا دیا ہے۔
یہ پیش رفت امید افزا ہے، لیکن ابھی سفر مکمل نہیں ہوا۔ درخواست کا متعلقہ محکمے کو بھیجا جانا ابتدائی مرحلہ ہے؛ اصل کامیابی فنکاروں کی رجسٹریشن، ثقافتی پروگراموں میں ان کی شرکت اور ان کے فن کو مناسب نمائندگی ملنے سے سامنے آئے گی۔
اس اقدام کا اصل مقصد صرف رجسٹریشن نہیں، بلکہ میواتی فنکاروں کے لیے ایسے دروازے کھولنا ہے جن سے ان کا فن، ان کی زبان اور ان

کی ثقافت وسیع تر معاشرے تک پہنچ سکے۔
میو قوم کا ثقافتی سرمایہ: اسے محفوظ کرنا کیوں ضروری ہے؟
میواتی ثقافت صرف ماضی کی یادگار نہیں۔ اس میں لوک گیت، روایتی دھنیں، داستانیں، کہاوتیں، دستکاری، شادی بیاہ کی رسومات، علاقائی لباس اور نسل در نسل منتقل ہونے والے تجربات شامل ہیں۔ ان روایات میں ایک قوم کی اجتماعی یادداشت محفوظ ہوتی ہے، جسے محض تحریری تاریخ کے ذریعے مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔
سندھ میں آباد میو خاندان بھی اس وسیع ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ ان کے درمیان موجود روایتی فنون کی حقیقی صورت جاننے کے لیے مقامی فنکاروں کی شناخت، ان کے انٹرویوز اور ان کے فن کی دستاویز بندی ضروری ہے۔
اگر میواتی فنکاروں کو سندھ کونسل آف آرٹس جیسے ادارہ جاتی پلیٹ فارم تک رسائی ملتی ہے تو انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار، دوسرے فنکاروں سے رابطے اور ثقافتی تقریبات میں شرکت کے مواقع حاصل ہو سکتے ہیں۔ دستکاروں کے لیے اپنی مصنوعات متعارف کرانے اور روایتی ہنر کو معاشی سرگرمی سے جوڑنے کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
اس کا ایک اور اہم فائدہ نئی نسل کی تربیت ہے۔ جب روایتی فن کو مناسب مقام ملتا ہے تو نوجوانوں کے لیے اسے سیکھنے، محفوظ کرنے اور جدید ذرائع کے ذریعے آگے بڑھانے کی ترغیب پیدا ہوتی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ثقافتی تحفظ، قومی شناخت اور معاشی امکانات ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
راؤ غلام محمد میو کی کوششیں: ثقافت کو عملی شکل دینے کا سفر
میواتی ہیریٹیج و کلچرل فورم کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، راؤ غلام محمد میو اس سے پہلے لوک ورثہ میوزیم اسلام آباد میں میواتی ثقافت کا گوشہ، یعنی میواتی ڈائیوراما، قائم کروا چکے ہیں۔ میواتی کتب کے گوشے کا قیام، تین روزہ میواتی ثقافتی نمائش اور لوک میلہ میں میواتی فنکاروں کی رجسٹریشن و شرکت سے متعلق اقدامات بھی ان کی ثقافتی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔
ان کوششوں کی اہمیت اس حقیقت میں ہے کہ ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے اسے عملی صورت دینا ضروری ہے۔ میوزیم میں ثقافتی گوشہ ورثے کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے، کتابوں کا گوشہ علمی سرمایہ محفوظ کرتا ہے، نمائشیں ثقافتی مظاہر کو عوام کے سامنے لاتی ہیں اور فنکاروں کی رجسٹریشن ان کے لیے ادارہ جاتی روابط اور شرکت کے امکانات پیدا کرتی ہے۔
سندھ کے میواتی فنکاروں کی رجسٹریشن کے لیے موجودہ کوشش اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔ اس کا دائرہ ایک میوزیم یا ایک شہر تک محدود نہیں، بلکہ ایک دوسرے صوبے میں موجود میواتی فنکاروں کو ثقافتی اداروں سے جوڑنے کی سمت میں بڑھ رہا ہے۔
یہاں کسی ایک فرد کی کوشش کے ساتھ اجتماعی ذمہ داری کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ثقافتی ورثہ پوری قوم کی امانت ہے؛ اسے محفوظ کرنے کے لیے تنظیموں، اہلِ علم، فنکاروں، نوجوانوں اور متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
کیا یہ ایک تاریخی اقدام ثابت ہو سکتا ہے؟
کسی واقعے کی تاریخی حیثیت کا فیصلہ صرف اس کے اعلان سے نہیں، بلکہ اس کے نتائج اور دیرپا اثرات سے ہوتا ہے۔ اس لیے سندھ میں میواتی فنکاروں کی رجسٹریشن کی یہ کوشش ایک اہم ادارہ جاتی پیش رفت اور ممکنہ تاریخی سنگِ میل ہے۔
اگر اس درخواست پر مؤثر کارروائی ہوتی ہے، فنکار رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور انہیں ثقافتی سرگرمیوں میں باقاعدہ شرکت کے مواقع ملتے ہیں تو یہ پیش رفت میواتی ثقافت کی نمائندگی کے سفر میں ایک قابلِ ذکر باب بن سکتی ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر، اگر سندھ میں فنکاروں کی شناخت اور رجسٹریشن کا یہ عمل ایک منظم نمونے میں تبدیل ہو جائے تو دوسرے علاقوں میں موجود میواتی فنکاروں کے لیے بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
لیکن اس مقصد کے لیے محض درخواست بھیج دینا کافی نہیں۔ متعلقہ محکمے سے رابطہ برقرار رکھنا، فنکاروں کا سروے کرنا، مطلوبہ دستاویزات تیار کرنا اور رجسٹریشن کے بعد دستیاب مواقع سے انہیں مستفید کرانا بھی ضروری ہے۔
تاریخ میں کسی قدم کی اہمیت اس وقت بڑھتی ہے جب وہ ایک فرد کی کوشش سے نکل کر پوری قوم کے لیے مستقل راستہ بن جائے۔
اب میو قوم کو کیا کرنا چاہیے؟
اس پیش رفت کو مؤثر بنانے کے لیے تین کام فوری توجہ چاہتے ہیں۔
اول: میواتی فنکاروں کی جامع فہرست۔ سندھ کے مختلف علاقوں میں موجود گلوکاروں، موسیقاروں، دستکاروں، لوک داستان گوؤں اور دوسرے روایتی فنکاروں کی شناخت کی جائے۔ ان کے فن، تجربے اور ضروریات کا ریکارڈ مرتب کیا جائے تاکہ رجسٹریشن کا عمل منظم بنیادوں پر آگے بڑھے۔
دوم: ثقافتی ورثے کی دستاویز بندی۔ بزرگ فنکاروں کے انٹرویوز، لوک گیتوں، روایتی دھنوں، داستانوں اور دستکاری کو تحریری، صوتی اور تصویری صورت میں محفوظ کیا جائے۔ اس مواد کو ایک ڈیجیٹل میواتی ثقافتی آرکائیو میں جمع کرنا مستقبل کی تحقیق اور نئی نسل کی تربیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
سوم: رجسٹریشن کو عملی مواقع سے جوڑنا۔ متعلقہ اداروں کے تعاون سے نمائشوں، ثقافتی میلوں، تربیتی ورکشاپس اور فنکارانہ پرفارمنس کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ کوشش کی جائے کہ فنکاروں کو صرف فہرست میں شامل کرنے کے بجائے اپنے فن کو پیش کرنے اور اس سے معاشی فائدہ حاصل کرنے کے حقیقی مواقع بھی میسر آئیں۔
یہ تین اقدامات موجودہ پیش رفت کو ایک مستقل ثقافتی منصوبے میں تبدیل کرنے کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
ثقافت کی حفاظت، شناخت کی حفاظت ہے
میو قوم کی تاریخ اور تہذیب کا تحفظ صرف ماضی کے واقعات بیان کرنے سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے فنکاروں کو پہچانیں، اپنی زبان کو محفوظ کریں، اپنے لوک ادب کو مرتب کریں اور اپنی روایات کو ایسے ادارہ جاتی پلیٹ فارم تک پہنچائیں جہاں انہیں سنا، دیکھا اور سمجھا جا سکے۔
راؤ غلام محمد میو اور حاجی محمد اسحاق میو کی جانب سے سندھ کے میواتی فنکاروں کی رجسٹریشن کے لیے کی جانے والی کوشش اسی مقصد کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔ اب متعلقہ اداروں کی کارروائی اور میو برادری کے اجتماعی تعاون سے یہ طے ہوگا کہ یہ پیش رفت کس حد تک عملی نتائج میں تبدیل ہوتی ہے۔
میو قوم کو یہ حقیقت سمجھنا ہوگی کہ ثقافت صرف بزرگوں کی میراث نہیں، بلکہ نئی نسل کی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر آج ہم اپنے فن، زبان اور روایات کو محفوظ کرنے کے لیے منظم اقدامات کریں گے تو کل ہماری نسلیں اپنی شناخت کے لیے دوسروں کی یادداشتوں کی محتاج نہیں ہوں گی۔
قومیں صرف اپنی تاریخ پر فخر کرنے سے نہیں، اپنی تاریخ، زبان اور ثقافت کو زندہ رکھنے سے پہچانی جاتی ہیں۔
سندھ میں میواتی فنکاروں کی رجسٹریشن کی یہ کوشش اسی منزل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اسے عملی کامیابی تک پہنچایا جائے، تاکہ میواتی ثقافت کی آواز مزید وسیع حلقوں تک پہنچے اور اس کا ورثہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکے۔
تحریر: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
