قرآن و سنت کی روشنی میں فطری علاج

Advertisements

مؤلف

قمر الدین قمر سلطانی

ناشر و ڈیجیٹل فارمیٹنگ

حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو

زیرِ اہتمام

سعد ورچوئل سکلز پاکستان

سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ

کاہنہ نو، لاہور

پیش لفظ: ادارے کی اہمیت و خدمات
حمد و ثنا اس ذاتِ باری تعالیٰ کی جس نے انسان کو پیدا کیا اور بیماری کے ساتھ شفا کے اسباب بھی رکھ دیے، اور درود و سلام اس ہستی ﷺ پر جنہوں نے صحت و بیماری کے باب میں امت کو بنیادی اصول عطا فرمائے۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان اور اس کے زیرِ سایہ قائم سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ (کاہنہ نو، لاہور) ایک ایسا علمی و تربیتی مرکز ہے جو دو سمتوں کو جوڑنے کی کوشش کرتا ہے: ایک طرف طبِ نبوی ﷺ اور فطری طریقۂ علاج کا فروغ، اور دوسری طرف جدید مہارتوں اور ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے اس علم کو نئی نسل تک پہنچانا۔
ادارے کی اہمیت تین پہلوؤں سے نمایاں ہے۔
1۔ علمی پہلو: طب محض نسخوں کا مجموعہ نہیں، یہ اصولوں اور قوانین کا علم ہے۔ ادارہ طلبہ اور معالجین کو اسی اصولی فہم کی طرف بلاتا ہے جو قرآن و سنت کی روشنی میں فطرت کے نظام کو سمجھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
2. اشاعتی پہلو: ایسی کتب کی ترتیب، تدوین اور اشاعت جو طبِ نبوی ﷺ اور فطری علاج کے موضوع پر نیا مطالعہ پیش کرتی ہوں، تاکہ یہ علم صرف سینہ بہ سینہ نہ رہے بلکہ محفوظ صورت میں آئندہ نسلوں تک پہنچے۔
3۔ مہارتی پہلو: ورچوئل سکلز کے ذریعے طلبہ کو ایسے ذرائع سے آشنا کرنا جن سے وہ اپنے علم کو ڈیجیٹل شکل میں مرتب کر سکیں اور دور بیٹھے لوگوں تک پہنچا سکیں۔
زیرِ نظر کتاب «طبِ فطرت» اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اسے حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو نے سعد ورچوئل سکلز پاکستان / سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ کے زیرِ اہتمام شائع کیا ہے اور ڈیجیٹل فارمیٹنگ کے ذریعے اسے جدید کتابی شکل دی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کوشش کو قبول فرمائے اور اسے اہلِ علم و اطبا کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین۔
ادارہ: سعد ورچوئل سکلز پاکستان / سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ، کاہنہ نو، لاہور
کتاب کی اہمیت و افادیت


«طبِ فطرت» کی اہمیت یہ ہے کہ یہ طب کے بنیادی تصورات کو قرآنِ حکیم کی رہنمائی میں پرکھنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ مصنف نے جسم کی تعمیر، مزاج، اعضا اور افعال کو کائنات کے اس نظام کے ساتھ جوڑ کر دیکھا ہے جس کا ذکر قرآن میں جوڑے، ایک جان، تین اندھیروں اور دستورِ الٰہی کے عنوانات سے آتا ہے۔
کتاب کے نمایاں فوائد درج ذیل ہیں:
• طلبۂ طب کے لیے: نظریۂ مفرد اعضا کو سمجھنے کے لیے قرآنی حوالوں کے ساتھ ایک مربوط فکری ڈھانچہ ملتا ہے۔
• معالجین کے لیے: علم الاسباب، علم العلامات اور علم العلاج کو ایک اصولی ترتیب میں دیکھنے کا زاویہ ملتا ہے۔
• تقابلی مطالعے کے لیے: آیورویدک، طبِ یونانی اور اسلامی دور کی طبی فکر کا مختصر تاریخی جائزہ ایک جگہ مل جاتا ہے۔
• عام قاری کے لیے: صحت اور بیماری کو فطرت کے قوانین کے تناظر میں سمجھنے کی دعوت ملتی ہے۔
یہ کتاب کسی حتمی فیصلے کا دعویٰ نہیں کرتی بلکہ تحقیق کا ایک دروازہ کھولتی ہے۔ خود مصنف نے قارئین سے کہا ہے کہ تشریح میں کوئی غلطی نظر آئے تو اس سے آگاہ کیا جائے۔ یہی علمی دیانت اس کتاب کو مزید مباحثے اور اصلاح کے قابل بناتی ہے۔
کتاب کی ضرورت
آج طب کے میدان میں مختلف نظریات کے درمیان بحث جاری ہے، اور طالبِ علم اکثر یہ سمجھ نہیں پاتا کہ کس بات کو معیار بنائے۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ ہر نظریے کو اس کسوٹی پر پرکھا جائے جو ہر دور میں بدلتی نہیں، یعنی قرآنِ حکیم اور قانونِ فطرت۔
اس کتاب کی ضرورت تین وجوہ سے محسوس کی گئی:
1۔ اصولی رہنمائی کی کمی: طبی تعلیم میں اصطلاحات اور نسخے تو بہت پڑھائے جاتے ہیں، مگر یہ کم بتایا جاتا ہے کہ ان کی بنیاد کن اصولوں پر ہے۔
2۔ نظریۂ مفرد اعضا کی وضاحت: اس نظریے کو ماننے والے ہزاروں اطبا موجود ہیں، مگر اسے قرآنی حوالوں کے ساتھ ایک جگہ مرتب صورت میں پیش کرنے والی کتابیں کم ہیں۔
3۔ تاریخی تسلسل کی تفہیم: آیورویدک سے طبِ یونانی اور پھر اسلامی دور تک طب کا سفر سمجھے بغیر موجودہ بحثوں کو سمجھنا مشکل ہے۔
اس لیے ایسی کتاب کی ضرورت تھی جو سادہ اردو میں قرآنی آیات، تاریخی پس منظر اور طبی اصطلاحات کو ایک ترتیب سے پیش کرے، اور یہ ضرورت «طبِ فطرت» پوری کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
مسلمانوں کو قرآن سے جوڑنے کی کوشش
قرآنِ حکیم محض تلاوت کی کتاب نہیں، یہ ہدایت اور شفا کی کتاب ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ (الاسراء: ۸۲)
اور ہر چیز کے جوڑے پیدا کرنے کے بارے میں فرمایا:
وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (الذاریات: ۴۹)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے قرآن نے شفا کے اصل مالک کی طرف توجہ دلائی: «وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ» (الشعراء: ۸۰)۔
مصنف کی کوشش یہ ہے کہ مسلمان طب کے مطالعے کے دوران بار بار قرآن کی طرف لوٹے۔ کتاب میں «قوانینِ قرآن حکیم» کے عنوان کے تحت آیات کو ترتیب سے پیش کیا گیا ہے، اور ہر طبی بحث کو انہی آیات سے جوڑا گیا ہے۔ مصنف قاری کو یہ نصیحت بھی کرتے ہیں کہ قرآنِ مجید کو ترجمے کے ساتھ بار بار پڑھا جائے۔
اس کتاب کے ذریعے ہم یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ:
• قرآن کو صرف عبادت کی کتاب سمجھنا کافی نہیں، اسے زندگی کے ہر شعبے میں رہنما بنانا چاہیے۔
• طب جیسے علم میں بھی کسی بات کو پرکھنے کا آخری معیار اللہ کا دستور اور قانونِ فطرت ہے۔
• تحقیق کا دروازہ کھلا ہے، مگر اس کی سمت قرآن و سنت کی طرف ہونی چاہیے۔
اللہ کرے یہ کتاب پڑھنے والوں کو قرآن سے تعلق مضبوط کرنے اور فطرت کے قوانین پر غور و فکر کرنے کا ذوق عطا کرے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme