(بیماریوں کے علاج میں شفا کی کنجیاں)

0 comment 6 views

مَفَاتِيحُ الشِّفَاءِ فِي مُعَالَجَةِ الأَدْوَاءِ

Advertisements

 (بیماریوں کے علاج میں شفا کی کنجیاں)

تالیف: ایمان محمد نصوح الحلوانی

نظرِ ثانی اور مقدمہ: فضیلۃ الدکتور محمد حسّان ابراہیم عوض (مدرس، جامعہ دمشق – کلیۃ الشریعہ)

تقدیم: فضیلۃ الشیخ عمر ندیم قبلان
اردو ترجمہ
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
26کلو میٹر فیروز پور روڈ کاہنہ نولاہور

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

پیش لفظ

مَفَاتِيحُ الشِّفَاءِ فِي مُعَالَجَةِ الأَدْوَاءِ  (بیماریوں کے علاج میں شفا کی کنجیاں)

حمد اس ذاتِ برحق کے لیے جس نے ہر بیماری کے ساتھ اس کی شفا بھی رکھی، اور درود و سلام اُس رحمۃٌ للعالمین ﷺ پر جنہوں نے امت کو دعا اور دوا، دونوں کا سلیقہ سکھایا۔ اما بعد!

يَا عِبَادَ اللَّهِ تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ شِفَاءً  (سنن ابی داود، جامع الترمذی)

انسان کی پوری تاریخ بیماری اور شفا کی کشمکش کی تاریخ ہے۔ کبھی جسم بیمار ہوتا ہے، کبھی دل بوجھل ہوتا ہے، کبھی نظرِ بد اور حسد کے وسوسے گھیرتے ہیں، اور کبھی طویل علالت انسان کو مایوسی کے کنارے تک لے آتی ہے۔ ایسے میں مسلمان کے پاس دو دروازے کھلے ہیں: ایک اسبابِ علاج کا، جس کی طرف نبی کریم ﷺ نے “تَدَاوَوْا” کے حکم سے متوجہ فرمایا، اور دوسرا دعا، ذکر اور رجوع الی اللہ کا۔ زیرِ نظر کتاب انہی دونوں دروازوں کی کنجیاں ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش ہے۔

کتاب کا تعارف

“مفاتیح الشفاء فی معالجۃ الأدواء” کی مؤلفہ ایمان محمد نصوح الحلوانی ہیں۔ عربی نسخے پر دمشق یونیورسٹی کی کلیۃ الشریعہ کے مدرس فضیلۃ الدکتور محمد حسان ابراہیم عوض نے نظرِ ثانی فرمائی اور مقدمہ تحریر کیا، جبکہ فضیلۃ الشیخ عمر ندیم قبلان نے تقدیم لکھی۔ کتاب کی پہلی اشاعت ۱۴۳۲ھ بمطابق ۲۰۱۱ء میں دار سعد الدین سے ہوئی۔

کتاب کا آغاز دعا کے مقام و مرتبے، قبولیتِ دعا کے اسباب اور اسمائے حسنیٰ کے وسیلے سے شفا طلب کرنے کے بیان سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد چار ابواب ہیں:

پہلا باب آزمائش کی فضیلت اور اس پر صبر کے بیان میں ہے، جو بیمار کو یہ سمجھاتا ہے کہ بیماری بسا اوقات درجات کی بلندی اور گناہوں کے کفارے کا ذریعہ بنتی ہے۔ دوسرا باب “اللَّهُمَّ دَاوِنِي بِدَوَائِكَ” کے عنوان سے قرآنی آیاتِ شفا، مسنون دعاؤں اور علاج کے طریقے پر مشتمل ہے۔ تیسرا باب شیخ عمر ندیم قبلان کی کتاب “الابتہاج بخلاصۃ العلاج” کے متن پر مبنی ہے، جس میں جادو، آسیب، نظرِ بد اور حسد سے شرعی رقیہ کے ذریعے حفاظت اور علاج کا بیان ہے۔ چوتھا باب طبِ نبوی اور قدرتی علاج کا ہے، جس میں کلونجی، شہد، حجامہ جیسے نبوی علاج اور نکسیر، دانت کے درد اور عرق النساء جیسی تکالیف سے متعلق مسنون رقیہ مذکور ہیں؛ اور آخر میں تمائم (تعویزات) کے احکام کی

وضاحت کی گئی ہے۔

کتاب کی اہمیت

اس کتاب کی پہلی اہمیت اس کا ماخذ ہے۔ مؤلفہ نے علاج کو قرآنِ مجید، سنتِ نبویہ اور صالحین کے آزمودہ اذکار کے دائرے میں رکھا ہے، اور آیات و احادیث کی تخریج کا اہتمام کیا ہے۔ جہاں سند کا درجہ کمزور تھا وہاں اس کی صراحت بھی موجود ہے، جو علمی امانت کی علامت ہے۔ قرآنِ کریم خود اپنے بارے میں فرماتا ہے:

وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ  [الإسراء: ٨٢]

دوسری اہمیت اس کا توازن ہے۔ کتاب نہ دوا کو ترک کرنے کی دعوت دیتی ہے اور نہ دعا کو غیر ضروری سمجھتی ہے۔ وہ علاج کو اسباب کا درجہ دیتی ہے اور شفا کو اللہ تعالیٰ کی عطا مانتی ہے، جیسا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے فرمایا گیا:

وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ  [الشعراء: ٨٠]

تیسری اہمیت اس کی جامعیت ہے۔ ایک ہی جلد میں مریض کے لیے صبر و رضا کی تعلیم، دعا اور رقیہ کا طریقہ، اور طبِ نبوی کی غذائی و دوائی ہدایات یکجا مل جاتی ہیں۔ چوتھی اہمیت اس کی اصلاحی جہت ہے: کتاب مریض کو بتاتی ہے کہ شفا کے لیے فرائض کی پابندی، گناہوں سے اجتناب، صدقہ اور اخلاصِ نیت بھی ضروری ہیں، اور یہ کہ دعا کی قبولیت کے لیے جلد بازی سے بچنا لازم ہے۔

اس کتاب کی ضرورت کیوں ہے؟

آج کا مریض عموماً دو انتہاؤں کے درمیان کھڑا ہے۔ ایک طرف وہ ہے جس کا سارا بھروسا صرف مادی علاج پر ہے اور دعا و توکل کی روح اس کی زندگی سے نکل چکی ہے؛ دوسری طرف وہ ہے جو علاج چھوڑ کر ہر مسئلے کا حل جھاڑ پھونک اور تعویز گنڈوں میں ڈھونڈتا ہے، اور یوں جعلی عاملوں اور شعبدہ بازوں کے ہاتھ لگ جاتا ہے۔ یہ کتاب ان دونوں کے مقابل ایک معتدل، مستند اور سنت پر مبنی راستہ دکھاتی ہے۔

ہمارے ہاں رقیہ اور روحانی علاج پر اردو میں مواد تو بہت ہے، مگر ایسی کتب کم ہیں جو حوالہ جات کے ساتھ، شرعی حدود کی وضاحت کے ساتھ اور خود مریض اور اس کے گھر والوں کے استعمال کے قابل سادہ انداز میں لکھی گئی ہوں۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ کتاب قاری کو دوسروں کا محتاج بنانے کے بجائے اس قابل بناتی ہے کہ وہ مسنون اذکار اور آیاتِ شفا کے ذریعے اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت اور تیمارداری کر سکے۔ قرآنِ مجید کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ  [یونس: ٥٧]

ایک ضروری وضاحت

قارئین یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں کہ اس کتاب میں مذکور دعائیں، آیات اور رقیہ شفا طلب کرنے کے مسنون ذرائع ہیں، یہ مستند طبی معائنے اور علاج کا بدل نہیں ہیں۔ بیماری کی صورت میں ماہر معالج سے رجوع کرنا بھی اسی سنت کا حصہ ہے جس کا حکم ہمیں دیا گیا ہے۔ اسی طرح تمائم سے متعلق باب میں جو شرعی تفصیل بیان ہوئی ہے، اسے ضرور پڑھا جائے تاکہ شرک و بدعت کے راستوں سے بچتے ہوئے صرف جائز اور مشروع طریقوں پر عمل ہو۔ طبی نسخوں میں اپنے مزاج، مرض اور مقدار کا لحاظ کسی مستند طبیب کے مشورے سے کیا جائے۔

مترجم: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو کی طبی و ادبی خدمات

اس کتاب کے اردو مترجم حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو ہیں، جن کا نام طبِ نبوی، طبِ اسلامی اور عربی و اردو تراجم کے میدان میں ایک نمایاں حوالہ ہے۔ ان کی مطبوعہ و مرتبہ تالیفات اور تراجم کی فہرست، جو اسی کتاب کے آخر میں شامل ہے، ایک سو اکسٹھ (۱۶۱) عنوانات اور پندرہ موضوعات پر مشتمل ہے، جو ان کی وسعتِ مطالعہ اور مسلسل علمی محنت کی گواہی دیتی ہے۔

طبی میدان میں ان کی خدمات کئی جہات رکھتی ہیں۔ طبِ نبوی کے باب میں “طبِ نبویؐ عصرِ حاضر کے تناظر میں”، “قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ سے اخذ کردہ طبی نکات”، “صحاحِ ستہ میں مذکور طبی احادیث اور ان کی تخریج” اور “الاربعین فی الطب” جیسی کتب ان کے قلم سے ہیں۔ جڑی بوٹیوں اور ادویہ سازی میں “خواص المفردات”، “پودوں میں پوشیدہ حکمت اور میرے ۵۲ سالہ طبی مشاہدات”، کشتہ جات اور مجربات پر مبنی تصانیف ان کے طویل عملی تجربے کی ترجمان ہیں۔ جدید طبی علوم میں قانونِ مفرد اعضاء پر متعدد کتب، اور کلاسیکی طب میں زکریا رازی کی “الحاوی الکبیر” (۲۲ جلدیں)، “الفاخر فی الطب”، داؤد انطاکی کی “التذکرہ”، ابن جلجل اور قاضی صاعد اندلسی کی تاریخِ اطباء کی کتب، اور “تاریخِ مارستان” جیسے بھاری بھرکم عربی ماخذ کو اردو میں منتقل کرنا ایسی خدمت ہے جس نے اردو طبی لٹریچر کو نئی وسعت دی۔

ادبی میدان میں ان کی خدمات بھی کم نہیں۔ قلقشندی کی “صبح الأعشیٰ” (۱۶ جلدیں)، ابن عبد ربہ کی “العقد الفرید” (۸ جلدیں)، مسکویہ کی “تجارب الامم”، ابن قتیبہ کی “المعارف” اور ہشام الکلبی کی “کتاب الاصنام” جیسی امہاتِ کتب کے تراجم عربی ادب و تاریخ سے ان کے گہرے تعلق کا ثبوت ہیں۔ اپنی مادری زبان میواتی کے لیے ان کی خدمات خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں: ۱۹۹۸ء میں قرآنِ کریم کا میواتی ترجمہ، احادیث کے میواتی تراجم، میواتی زبان و ادب پر کتب، اور میوات کی تاریخ، تہذیب اور تحریکِ آزادی پر متعدد تصانیف، جن کے ذریعے انہوں نے ایک پوری قوم کی علمی و تاریخی شناخت کو محفوظ کیا۔

زیرِ نظر ترجمہ اسی طویل علمی سفر کی ایک کڑی ہے، جس میں مترجم نے عربی آیات و احادیث، حواشی اور تخریج کو برقرار رکھتے ہوئے مفہوم کو سلیس اردو میں پیش کیا ہے تاکہ عام قاری بھی کتاب سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکے۔

سعد ورچوئل سکلز پاکستان

سعد ورچوئل سکلز پاکستان وہ ادارہ ہے جس کے زیرِ اہتمام حکیم قاری محمد یونس شاہد میو کی بیشتر تالیفات و تراجم منظرِ عام پر آ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق علم کو سہل اور دور دراز قارئین تک پہنچانا اس کا مقصد ہے۔ طب، اسلامیات، عربی ادب، تاریخ اور علاقائی زبان و ثقافت جیسے متنوع موضوعات پر کتب کی ترتیب و اشاعت اس کی علمی سرگرمیوں کا حصہ ہے، اور یہ کتاب بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ

سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ (۲۶ کلو میٹر، فیروز پور روڈ، کاہنہ نو، لاہور) کا امتیاز یہ ہے کہ وہ طبِ نبوی کو محض ماضی کی یاد کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ، قابلِ عمل اور قابلِ تحقیق علم کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔ قرآن و حدیث میں مذکور غذاؤں، دواؤں اور طبی ہدایات کی تحقیق، کلاسیکی طبی ماخذ کے تراجم، علماء اور مدارس کے طلبہ میں طب کے فہم کی ترویج، اور حکمت کی روایت کو نئی نسل تک پہنچانا اس کی علمی کوششوں کے نمایاں پہلو ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ یہ ترجمہ طلبۂ طب، معالجین اور عام قارئین سب کے لیے یکساں مفید ثابت ہوگا۔

دعا اور اظہارِ تشکر

آخر میں ہم مؤلفہ ایمان محمد نصوح الحلوانی، نظرِ ثانی و مقدمہ کے لیے فضیلۃ الدکتور محمد حسان ابراہیم عوض، تقدیم کے لیے فضیلۃ الشیخ عمر ندیم قبلان، اور ناشر دار سعد الدین کے شکر گزار ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اس کے پڑھنے والوں کو صحت و عافیت نصیب کرے، مؤلفہ، مترجم اور اس کی اشاعت میں شریک تمام حضرات کو اجرِ عظیم دے، اور ہمیں اس دعا کا مصداق بنائے جو نبی کریم ﷺ مانگا کرتے تھے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ، وَأَهْلِي وَمَالِي  (أبو داود، ابن ماجہ)

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ  [یونس: ١٠]

ادارۂ مطبوعات

سعد ورچوئل سکلز پاکستان / سعد طبیہ کالج برائے فروغِ طبِ نبوی ﷺ

کاہنہ نو، لاہور

کتاب کو ڈائون لوڈ یہاں سے کریں

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme