طبِ نبوی اور جدید طبی سائنس۔حقیقت ،تحقیق اور امکانات

0 comment 3 views

طبِ نبوی اور جدید طبی سائنس۔حقیقت ،تحقیق اور امکانات

Advertisements

·حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد طبیہ کالج برائے فروغ طب نبویﷺ
سعد ورچوئل سکلز پاکستان


تمہید: طبِ نبوی کا مفہوم اور اس کی اہمیت

اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی زندگی کے ساتھ اس کی جسمانی صحت اور تندرستی کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد انسانیت کو توحید کی دعوت دینا، اسے کفر و شرک اور گمراہی سے نکالنا، اخلاق و کردار کی اصلاح کرنا اور زندگی گزارنے کے ایسے اصول عطا کرنا تھا جو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنیں۔

صحت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے۔ جسمانی تندرستی انسان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے، عبادات بجا لانے، معاشرتی خدمات انجام دینے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ اسی لیے اسلامی تعلیمات میں صحت کی حفاظت، بیماریوں سے بچاؤ، اعتدال کے ساتھ زندگی گزارنے اور بیماری لاحق ہونے کی صورت میں مناسب علاج اختیار کرنے کی اہمیت نمایاں

طور پر سامنے آتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے انسانوں کو پاکیزگی، اعتدال، مناسب غذا، ضرر رساں امور سے اجتناب اور بیماری کی صورت میں علاج کی طرف رہنمائی فرمائی۔ آپ ﷺ خود بھی علاج اختیار فرماتے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی ضرورت کے مطابق علاج کی طرف متوجہ کرتے تھے۔ بعض مواقع پر طبیب سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی منقول ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب طبی ہدایات، بیماریوں سے متعلق ارشادات، علاج کے بارے میں تعلیمات اور صحت و عافیت سے متعلق روایات کو مجموعی طور پر طبِ نبوی کے عنوان سے زیرِ مطالعہ لایا جاتا ہے۔

تاہم طبِ نبوی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں میں فرق ملحوظ رکھا جائے۔ ایک پہلو وہ ہے جس کا تعلق قرآن و سنت کی صحت، بیماری، پاکیزگی، غذا اور علاج سے متعلق تعلیمات سے ہے۔ دوسرا پہلو ان روایات کی تشریح اور ان سے اخذ کیے جانے والے طبی اصولوں کا ہے۔ تیسرا پہلو تاریخی طور پر مسلم معاشروں میں رائج ہونے والے طبی نظریات، ادویات اور طریقہ ہائے علاج کا ہے۔

ان تمام پہلوؤں کو ایک ہی درجے میں رکھنا درست نہیں۔ کسی روایت کا دینی ماخذ ہونا، اس کی سند کا معتبر ہونا، اس کے مفہوم کی درست تعیین اور کسی مخصوص علاج کی جدید سائنسی افادیت چار الگ امور ہیں، جن کا جائزہ اپنے اپنے اصولوں کے مطابق لیا جانا چاہیے۔

1۔ بعثتِ نبوی سے قبل طب کی صورتِ حال

انسانی تاریخ میں صحت، بیماری اور علاج ہمیشہ اہم موضوعات رہے ہیں۔ مختلف تہذیبوں نے اپنے مشاہدات، تجربات، مذہبی تصورات اور دستیاب وسائل کی بنیاد پر علاج کے طریقے وضع کیے۔ مصر، بین النہرین، ہندوستان، چین، یونان اور روم سمیت متعدد قدیم تہذیبوں میں طب کے مختلف نظریات اور طریقے رائج تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ طبی معلومات جمع ہوتی رہیں، معالجین نے اپنے تجربات کو دوسروں تک منتقل کیا اور مختلف علاقوں میں علاج کے مخصوص مراکز وجود میں آئے۔ تاہم قدیم طب کی ترقی یکساں نہیں تھی۔ بعض معاشروں میں مشاہدے اور عملی تجربے کو اہمیت دی جاتی تھی، جب کہ بعض مقامات پر بیماریوں کی توجیہ میں مذہبی تصورات، توہمات اور غیر تجرباتی عقائد کا غلبہ بھی پایا جاتا تھا۔

1.1 اسکندریہ اور جندیشاپور کے طبی مراکز

بعثتِ نبوی کے قریب زمانے میں مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گرد و نواح میں کئی علمی و طبی مراکز موجود تھے۔ ان میں اسکندریہ اور جندیشاپور کو خصوصی اہمیت حاصل رہی۔

اسکندریہ میں یونانی علمی روایت کے اثرات کے تحت طب اور دیگر علوم کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔ بقراط اور جالینوس جیسے قدیم طبی مفکرین کے نظریات نے طویل عرصے تک طبی تعلیم اور معالجے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔

اسی طرح جندیشاپور، جو ساسانی سلطنت کے عہد میں علمی سرگرمیوں کے لیے معروف ہوا، طبی تعلیم اور مختلف علمی روایات کے تبادلے کا ایک اہم مرکز تھا۔ وہاں یونانی، سریانی اور دیگر علمی روایات سے وابستہ معلومات کی منتقلی میں بھی کردار ادا کیا گیا۔

ان مراکز کی موجودگی اس حقیقت کی نشان دہی کرتی ہے کہ اسلام کی آمد سے پہلے بھی مختلف علاقوں میں طبی علم موجود تھا۔ البتہ اس علم کی نوعیت، اس کی وسعت اور عام لوگوں تک اس کی رسائی ہر جگہ یکساں نہیں تھی۔

اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے زمانے میں طبی معلومات اور علاج کے مختلف طریقے موجود تھے، لیکن ان کی دستیابی اور معیار معاشرے، علاقے اور طبقے کے لحاظ سے مختلف تھے۔

1.2 عرب معاشرے میں علاج کے طریقے

بعثتِ نبوی سے قبل عرب معاشرے میں علاج کے مختلف طریقے رائج تھے۔ ان میں غذا، جڑی بوٹیوں، بعض قدرتی اشیا اور دستیاب عملی تجربات پر مبنی طریقے بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ تعویذ، کہانت، منتر اور دیگر توہماتی طریقوں سے بیماریوں کا علاج کرنے کی کوششیں بھی پائی جاتی تھیں۔

بیماریوں کے اسباب کے بارے میں لوگوں کے تصورات بھی مختلف تھے۔ بعض لوگ بیماری کو جنات، بدروحوں یا غیر مرئی قوتوں سے منسوب کرتے اور اسی بنیاد پر غیر معمولی طریقوں سے علاج کی کوشش کرتے تھے۔

تاہم اس دور کے تمام عربوں کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ وہ صرف توہمات پر انحصار کرتے تھے یا انہیں عملی طبی معلومات حاصل نہیں تھیں۔ عرب معاشرے میں تجربے سے حاصل ہونے والی معلومات اور بعض معروف معالجین کی موجودگی کے تاریخی شواہد بھی ملتے ہیں۔

اس سلسلے میں حارث بن کلدہ کا نام قابلِ ذکر ہے، جنہیں اسلامی تاریخی روایت میں عرب کے معروف طبیب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے فارس اور جندیشاپور سے علمی تعلق کے بارے میں روایات بیان کی جاتی ہیں، اگرچہ ان تفصیلات کی تاریخی حیثیت کا جائزہ الگ تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔

عربوں کے تجارتی روابط اور فارس و بازنطینی سلطنت سمیت پڑوسی علاقوں سے تعلقات نے مختلف علوم اور طبی معلومات کی منتقلی کے امکانات پیدا کیے۔ اس طرح بعثتِ نبوی کے وقت عرب معاشرہ طبی معلومات سے بالکل خالی نہیں تھا، لیکن علاج کے طریقوں میں سائنسی مشاہدے، روایتی تجربے اور توہماتی تصورات کا امتزاج پایا جاتا تھا۔

2۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور طبی شعور کی اصلاح

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ انسان کو غیر ثابت شدہ توہمات، شرکیہ رسوم اور ایسے تصورات سے دور رکھا جائے جو اسے حقیقی اسباب اختیار کرنے سے غافل کردیں۔

اسلام نے انسان کو اللہ تعالیٰ پر توکل کی تعلیم دی، لیکن اس توکل کو عملی کوششوں اور جائز اسباب کے اختیار کرنے سے الگ نہیں کیا۔ بیماری کی صورت میں دعا، اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست اور مناسب علاج اختیار کرنا ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ اپنی اپنی جگہ مختلف حیثیتیں رکھتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات نے کہانت، جادو اور شرکیہ رسوم کے بارے میں واضح ہدایات دیں۔ تعویذ، دم اور رقیہ سے متعلق تمام صورتوں کو ایک ہی حکم میں شامل کرنے کے بجائے ان کی نوعیت، الفاظ اور شرعی حیثیت میں فرق کرنا ضروری ہے۔ غیر شرعی یا شرکیہ اعمال کی ممانعت کو ہر قسم کی دعا یا جائز دم کی ممانعت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس اصلاحی منہج کا ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ انسان بیماری کے معاملے میں محض توہمات کا سہارا لینے کے بجائے علاج کے جائز ذرائع اختیار کرنے کی طرف متوجہ ہو۔

2.1 علاج اختیار کرنے کی ترغیب

احادیث میں بیماری کی صورت میں علاج اختیار کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔ سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی سمیت متعدد کتبِ حدیث میں اس موضوع سے متعلق روایات موجود ہیں۔

ایک معروف روایت میں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے:

«تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ»

ترجمہ: اے اللہ کے بندو! علاج کرو۔

اسی روایت کے مضمون میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں اتاری جس کے لیے شفا یا علاج کا ذریعہ نہ رکھا ہو، البتہ بعض لوگ اس سے واقف ہوتے ہیں اور بعض نہیں ہوتے۔

اس تعلیم سے علاج کی اہمیت اور طبی تحقیق کے تسلسل کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔ جب بیماری کا مناسب علاج معلوم نہ ہو تو اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ علاج کا کوئی امکان ہی موجود نہیں؛ ممکن ہے کہ اسباب اور مؤثر طریقے ابھی پوری طرح معلوم نہ ہوئے ہوں۔

البتہ اس حدیث سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے کہ ہر بیماری کا علاج موجودہ زمانے میں انسانوں کے علم میں آ چکا ہے یا ہر مریض کا شفا یاب ہونا یقینی ہے۔ دینی روایت کے مفہوم اور موجودہ طبی علم کی حدود کو الگ الگ سمجھنا علمی دیانت کا تقاضا ہے۔

2.2 رسول اللہ ﷺ کا علاج کے بارے میں عملی طرزِ عمل

احادیث میں رسول اللہ ﷺ کے اپنے علاج اختیار کرنے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو علاج کی طرف رہنمائی کرنے کے واقعات ملتے ہیں۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی بیماری کے سلسلے میں طبیب سے رجوع کرنے کی روایت بیان کی جاتی ہے۔ اسی طرح بعض دوسری روایات میں مریض کے معائنے اور علاج کے لیے طبیب کو بلانے کا ذکر بھی ملتا ہے۔

ان واقعات سے ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: بیماری کی صورت میں مناسب طبی مدد حاصل کرنا توکل کے منافی نہیں۔ اگر کسی مرض کی نوعیت ایسی ہو جس میں ماہر معالج کی ضرورت ہو تو اس سے مشورہ کرنا عقل، احتیاط اور علاج کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

یہاں یہ فرق بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ کسی واقعے کی تاریخی نسبت، اس کی حدیثی سند اور اس سے اخذ کیے جانے والے فقہی یا طبی نتائج کی تحقیق الگ الگ مراحل ہیں۔ اس لیے کسی خاص واقعے کو بیان کرتے وقت اس کے اصل ماخذ اور روایت کی صحت کی جانچ ضروری ہے۔

2.3 علاج، دعا اور احتیاط کا باہمی تعلق

رسول اللہ ﷺ سے علاج، دعاؤں اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں سوالات کیے جانے کی روایات بھی ملتی ہیں۔ ان روایات کی روشنی میں یہ اصول سمجھا جا سکتا ہے کہ انسان بیماری سے بچاؤ کے لیے جائز احتیاطی تدابیر اختیار کرے، بیماری لاحق ہونے پر مناسب علاج تلاش کرے اور اللہ تعالیٰ سے مدد بھی طلب کرے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر روایتی نسخہ یا ہر منسوب طبی طریقہ لازماً مؤثر ہوتا ہے۔ کسی طریقۂ علاج کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت اس کی شرعی حیثیت کے ساتھ اس کے ممکنہ فوائد، نقصانات اور طبی شواہد کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔

3۔ طبِ نبوی: محض نسخوں کا مجموعہ یا ایک وسیع تر تصور؟

طبِ نبوی کو صرف چند غذاؤں، جڑی بوٹیوں، ادویات یا روایتی نسخوں تک محدود کردینا اس کے وسیع تر علمی اور اخلاقی پہلوؤں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔

اس کے مطالعے میں کم از کم تین بنیادی جہات کو سامنے رکھنا چاہیے۔

اوّل: دینی تعلیمات۔ ان میں صحت، پاکیزگی، اعتدال، دعا، بیماری کے وقت صبر، علاج اختیار کرنے اور انسانی جان کی حفاظت سے متعلق اصول شامل ہیں۔

دوم: تاریخی طبی روایت۔ اس سے مراد وہ طبی معلومات، تشریحات اور طریقۂ علاج ہیں جنہیں مختلف ادوار میں مسلم علماء، محدثین اور اطباء نے طبِ نبوی سے متعلق کتابوں میں جمع کیا۔

سوم: جدید طبی تحقیق۔ اس میں کسی غذا، دوا یا علاج کی افادیت، مقدار، مضر اثرات، محفوظ استعمال اور مخصوص بیماری میں اس کی موزونیت کو مشاہدے، تجربے اور معتبر طبی شواہد کی روشنی میں جانچا جاتا ہے۔

یہ تینوں جہات ایک دوسرے سے متعلق ضرور ہیں، لیکن ان کے علمی معیار اور طریقۂ تحقیق یکساں نہیں۔

کسی حدیث کا معتبر ہونا اس کے دینی مقام کے تعین کے لیے اہم ہے، لیکن کسی مخصوص دوا کی جدید طبی افادیت کا تعین کرنے کے لیے اس دوا کے متعلق طبی تحقیق بھی درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح جدید تحقیق میں کسی علاج کے فائدہ مند ثابت ہونے سے اس کے بارے میں منسوب ہر تاریخی روایت خود بخود صحیح ثابت نہیں ہوجاتی۔

چنانچہ طبِ نبوی کا سنجیدہ مطالعہ مذہبی احترام اور سائنسی احتیاط، دونوں کا تقاضا کرتا ہے۔

4۔ طبِ نبوی اور طبی تحقیق کی ترغیب

رسول اللہ ﷺ سے منقول بیماری اور شفا سے متعلق احادیث نے مسلم علمی روایت میں علاج کی تلاش، امید اور تحقیق کے موضوعات پر اثر ڈالا۔

ایک معروف حدیث میں ارشاد منقول ہے:

«لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ»

ترجمہ: ہر بیماری کے لیے علاج ہے۔

صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں بیماری کے علاج اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفا حاصل ہونے کا مضمون بیان ہوا ہے۔

اس تعلیم کی ایک اہم معنوی جہت یہ ہے کہ انسان بیماری کے سامنے مایوسی اختیار کرنے کے بجائے علاج کی تلاش جاری رکھے۔ مریض کے لیے امید اہم ہے، جب کہ معالج اور محقق کے لیے یہ بات تحقیق، مشاہدے اور تجربے کی ضرورت کو نمایاں کرتی ہے۔

اس اصول کو جدید طبی تحقیق کے تناظر میں دیکھیں تو بیماریوں کے اسباب، ان کی روک تھام، مؤثر ادویات اور بہتر علاج کی تلاش ایک مسلسل عمل ہے۔ طب میں نئی معلومات سامنے آتی رہتی ہیں، بعض سابقہ نظریات کی اصلاح ہوتی ہے اور نئے طریقۂ علاج کی افادیت کو جانچنے کے لیے مزید تحقیق کی جاتی ہے۔

تاہم اس حدیث کو کسی مخصوص جدید سائنسی دریافت کی پیش گوئی قرار دینے کے لیے الگ دلیل درکار ہوگی۔ زیادہ محتاط تعبیر یہ ہے کہ یہ روایت علاج کی اہمیت، شفا کی امید اور بیماری کے مقابلے میں کوشش جاری رکھنے کے مفہوم کو تقویت دیتی ہے۔

4.1 امام شوکانی کی تشریح

امام شوکانی نے بیماریوں کے علاج سے متعلق احادیث کی تشریح کرتے ہوئے علاج کی اجازت اور اس کی اہمیت پر گفتگو کی ہے۔ ان کی توضیحات کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ علاج کے بارے میں انسان کے علم کی محدودیت، علاج کی تلاش ترک کردینے کی دلیل نہیں بنتی۔

طبی علم وقت کے ساتھ بڑھتا ہے۔ کوئی معالج کسی بیماری کے علاج میں اپنی موجودہ معلومات کی حد تک بے بس ہوسکتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مستقبل میں اس بیماری کے بارے میں مزید معلومات حاصل نہیں ہوسکتیں۔

اس پہلو سے علاج کی تلاش، طبی تجربے اور تحقیق کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ البتہ امام شوکانی کی طرف منسوب کسی مخصوص عبارت کو لفظ بہ لفظ نقل کرتے وقت اصل عربی متن اور متعلقہ مقام کی مراجعت ضروری ہے۔

4.2 ابن قیم الجوزیہ کی توضیح

ابن قیم الجوزیہ نے اپنی کتاب زاد المعاد میں بیماری اور علاج سے متعلق نبوی تعلیمات پر گفتگو کی ہے۔

ان کی تشریح کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ شفا کی امید مریض کی ہمت اور معالج کی کوشش کو تقویت دے سکتی ہے۔ مریض کا حوصلہ، ذہنی کیفیت اور علاج میں اس کا تعاون بیماری سے نمٹنے کے عمل میں اہم ہوسکتا ہے۔

اسی طرح معالج کے لیے یہ تصور کہ بیماری کے اسباب اور علاج کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں، تحقیق اور جستجو کی ترغیب بن سکتا ہے۔

جدید طب میں بھی مریض کی نفسیاتی کیفیت، علاج کے بارے میں اس کی توقعات اور معالج کے ساتھ اس کا تعاون زیرِ مطالعہ موضوعات ہیں۔ تاہم ان عوامل کو ہر بیماری کے لیے واحد سبب یا یقینی علاج قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بیماری کی نوعیت، مریض کی حالت اور دستیاب طبی شواہد کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

4.3 مولانا سید جلال الدین عمری کی توضیحات

مولانا سید جلال الدین عمری نے اسلامی تعلیمات اور صحت و بیماری کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے علاج کی اہمیت اور انسانی کوشش کے پہلو کو نمایاں کیا ہے۔

اس بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ بیماری لاحق ہونے پر انسان کو مایوسی کے بجائے مناسب علاج کی تلاش کرنی چاہیے۔ اگر کوئی علاج ابھی معلوم نہیں تو اس سے طبی جستجو کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔

یہی رویہ طبی تحقیق، بیماریوں کی روک تھام اور صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانے کی کوششوں میں بھی اہمیت رکھتا ہے۔

اس طرح طبِ نبوی کے موضوع کو صرف ماضی کے طبی نسخوں کی فہرست کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے صحت، علاج، امید، ذمہ داری اور تحقیق کے وسیع تناظر میں سمجھنے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

5۔ طبِ نبوی کی تدوین اور علمی ارتقا

رسول اللہ ﷺ کی احادیث اور تعلیمات کو محفوظ کرنے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بنیادی کردار ادا کیا۔ احادیث کو یاد رکھنے، آگے پہنچانے اور بعض صورتوں میں تحریری طور پر محفوظ کرنے کی روایات اسلامی علمی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

ابتدائی دور میں احادیث کی روایت مختلف طریقوں سے ہوتی رہی۔ بعض صحابہ نے تحریری صحیفے مرتب کیے، جب کہ دوسرے صحابہ نے حفظ، روایت اور تعلیم کے ذریعے احادیث کو آگے منتقل کیا۔

بعد کے ادوار میں احادیث کی تدوین اور جمع آوری کا کام زیادہ منظم ہوا۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں احادیث جمع کرنے کی کوششوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد محدثین نے مختلف علمی اصولوں کے تحت روایات کو جمع کیا، ان کی اسناد کا جائزہ لیا اور موضوعات کے اعتبار سے ان کی ترتیب قائم کی۔

تیسری صدی ہجری میں حدیث کی بڑی کتابیں مرتب ہوئیں۔ ان کتابوں میں عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، طب اور زندگی کے دیگر موضوعات سے متعلق روایات محفوظ ہوئیں۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ صحاحِ ستہ کو احادیث کی تمام روایات کا مکمل مجموعہ سمجھنا درست نہیں۔ ان میں منتخب روایات اپنے اپنے مصنفین کے علمی منہج کے مطابق جمع کی گئیں، جب کہ دیگر کتبِ حدیث میں بھی بڑی تعداد میں روایات محفوظ ہیں۔

5.1 حدیث کی کتابوں میں طبی روایات

طبِ نبوی سے متعلق روایات مختلف محدثین کی کتابوں میں ملتی ہیں۔ بعض مصنفین نے انہیں الگ ابواب میں جمع کیا، جب کہ بعض نے متعلقہ روایات کو مختلف موضوعاتی ابواب میں درج کیا۔

امام مالک کی الموطأ میں علاج، بیماری اور بعض متعلقہ موضوعات کی روایات موجود ہیں، اگرچہ اس کتاب میں طب کے نام سے مستقل کتاب کی ترتیب نہیں ملتی۔

امام بخاری نے اپنی صحیح میں کتاب الطب کے عنوان سے ابواب قائم کیے۔ ان میں بیماریوں، علاج، ادویات اور متعلقہ مسائل سے متعلق روایات شامل ہیں۔

امام مسلم کی صحیح میں بھی طب، بیماری، علاج اور دیگر متعلقہ موضوعات پر روایات ملتی ہیں۔ امام ابوداؤد اور امام ترمذی سمیت دیگر محدثین نے بھی اپنی تصانیف میں طبی موضوعات سے متعلق احادیث کو جگہ دی۔

ان مجموعوں نے بعد کے علماء کے لیے طبِ نبوی پر مستقل تصنیف و تحقیق کی بنیاد فراہم کی۔ تاہم کسی کتاب میں کسی روایت کا موجود ہونا بذاتِ خود اس روایت کے ہر ممکن مفہوم یا اس سے اخذ کیے جانے والے ہر طبی نتیجے کی توثیق نہیں کرتا۔ روایت کی سند، متن اور سیاق کو الگ سے دیکھنا ضروری ہے۔

5.2 طبِ نبوی ایک مستقل تصنیفی موضوع کے طور پر

وقت گزرنے کے ساتھ طبِ نبوی سے متعلق مواد پر مستقل کتابیں لکھی جانے لگیں۔ ان تصانیف میں احادیث، دعاؤں، غذاؤں، ادویات، بیماریوں اور علاج کے مختلف طریقوں کو جمع کیا گیا۔

چوتھی صدی ہجری اور اس کے بعد اس موضوع پر تصنیفی سرگرمیوں میں وسعت پیدا ہوئی۔ مختلف علماء نے اپنے علمی رجحان اور دستیاب مواد کے مطابق طبِ نبوی پر کتابیں مرتب کیں۔

اسی زمانے میں مسلم دنیا میں یونانی، فارسی اور سریانی علمی ذخیرے کے عربی تراجم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ ان تراجم نے طب سمیت مختلف علوم کے مطالعے کے لیے نئے امکانات پیدا کیے۔ مسلم اطباء نے اپنے تجربات، مشاہدات اور علمی کام کے ذریعے طبی روایت کو آگے بڑھایا۔

اس پورے تاریخی عمل میں دو سلسلے ساتھ ساتھ آگے بڑھے: ایک حدیثی اور دینی روایت کی تدوین، اور دوسرا طبی علوم کی تحصیل، ترجمہ، تحقیق اور عملی ترقی۔ ان دونوں کے درمیان تعلق ضرور تھا، لیکن ان کے موضوعات، طریقۂ کار اور علمی معیار میں فرق بھی موجود تھا۔

6۔ طبِ نبوی پر لکھی گئی اہم تصانیف

طبِ نبوی کے موضوع پر مختلف ادوار میں متعدد علماء نے کام کیا۔ فراہم کردہ تاریخی فہرست میں درج ذیل نام اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے عنوانات اور بعض مصنفین کی نسبتوں کی حتمی تصدیق کے لیے متعلقہ مخطوطات، مطبوعہ نسخوں اور کتابیاتی مراجع سے رجوع کیا جانا چاہیے۔

طبِ نبوی — احمد بن محمد الدنوری، المعروف ابن السنی۔

طبِ نبوی — ابو عبید محمد بن حسن الحرانی۔

طبِ نبوی — ابو القاسم ابن حبیب النیسابوری۔

طبِ نبوی — ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی۔

طبِ نبوی — ابو العباس جعفر بن محمد المستغفری۔

طبِ نبوی سے متعلق تصنیف — ابوبکر الخطیب البغدادی۔

طبِ نبوی سے متعلق تصنیف — ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحمیری۔

طبِ نبوی — الحافظ عبدالخالق الاشبیلی۔

قرآن و سنت سے طب اور طبِ نبوی سے متعلق روایات — موفق الدین عبد اللطیف ابن یوسف البغدادی۔

طبِ نبوی — ضیاء الدین محمد بن عبدالواحد المقدسی۔

شفا سے متعلق طبی تصنیف — احمد بن یوسف الطفاشی۔

طبِ نبوی — شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی الفتح البعلی۔

طبی پیشے سے متعلق احکامِ نبوی — ابو الحسن علی بن عبد الکریم ابن ترکان۔

طبِ نبوی پر رسالہ — شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن احمد الذہبی الترکمانی۔

الطب النبوي — امام شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن ابی بکر ابن قیم الجوزیہ۔

طبِ نبوی — ابو عبداللہ محمد بن یوسف السنوسی۔

طبِ نبوی سے متعلق تصنیف — محمد بن عبدالرحمن السخاوی۔

طبِ نبوی سے متعلق روایات اور ان کی تشریح — جلال الدین عبدالرحمن بن ابی بکر السیوطی۔

التحفۃ اللطیفہ یا طبِ نبوی سے متعلق تصنیف — احمد بن محمد القسطلانی۔

المنحل الراوی فی الطب النبوی — شمس الدین محمد بن احمد بن تلوان الدمشقی۔

کتابیاتی تنبیہ: یہ فہرست اصل فراہم کردہ عبارت میں مذکور ناموں اور نسبتوں کی تدوینی صورت ہے، مکمل طور پر مصدقہ کتابیاتی فہرست نہیں۔ چند عنوانات یا ناموں کی اصل صورت میں اختلاف یا نقل کی خرابی کا امکان ہے۔ لہٰذا علمی اشاعت کے لیے ہر عنوان، مصنف، تاریخِ وفات اور مطبوعہ نسخے کی الگ تحقیق ضروری ہے۔ بالخصوص غیر واضح عنوانات کو اصل مآخذ دیکھے بغیر قطعی طور پر کسی مصنف کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے۔

ان تصانیف کی تاریخی اہمیت اس امر میں ہے کہ ان کے ذریعے طبی موضوعات سے متعلق احادیث اور روایات کو جمع کرنے، ان کی تشریح کرنے اور ان سے عملی رہنمائی حاصل کرنے کی کوششیں سامنے آئیں۔

امام ابن قیم الجوزیہ کی الطب النبوي اس موضوع کی معروف تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں بیماری، علاج، غذا اور متعدد طبی موضوعات پر گفتگو ملتی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرتے وقت اس کے دینی و تاریخی پس منظر کے ساتھ اس دور کے طبی تصورات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔

قدیم طبی کتابیں اپنے عہد کے علمی ماحول کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان میں موجود ہر طبی رائے کو جدید طب کا مسلمہ نتیجہ سمجھنا درست نہیں؛ البتہ ان کتابوں کی تاریخی، فکری اور علمی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے۔

7۔ طبِ نبوی اور جدید سائنسی منہج

عصرِ حاضر میں طبِ نبوی کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: مذہبی روایت اور جدید سائنسی تحقیق کے درمیان تعلق کو کس طرح سمجھا جائے؟

اس سوال کا جواب نہ تو تمام روایتی طبی طریقوں کو بلا تحقیق جدید سائنس کے مساوی قرار دینے میں ہے اور نہ ہی مذہبی و تاریخی روایت کے ہر پہلو کو غیر اہم سمجھ کر نظر انداز کرنے میں۔

زیادہ متوازن طریقہ یہ ہے کہ ہر دعوے کو اس کی نوعیت کے مطابق پرکھا جائے۔

اگر کسی حدیث میں علاج اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تو اس کا دینی مفہوم اور حدیثی درجہ تحقیق کا موضوع ہوگا۔ اگر کسی غذا یا دوا کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جائے کہ وہ کسی مخصوص مرض کا علاج کرتی ہے تو اس دعوے کو جانچنے کے لیے متعلقہ طبی شواہد درکار ہوں گے۔ اسی طرح کسی تاریخی طبی نظریے کی اہمیت کا تعین کرتے وقت اس کے زمانے، دستیاب معلومات اور اس کے اثرات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

جدید طب میں کسی علاج کی افادیت جانچنے کے لیے مریضوں پر تحقیق، مناسب تقابلی مطالعات، مضر اثرات کا جائزہ اور نتائج کی آزادانہ توثیق اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ کوئی علاج واقعی فائدہ پہنچاتا ہے یا نہیں، کن حالات میں مؤثر ہے اور اس کے استعمال سے کیا خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس منہج کے تحت کسی روایت یا نسخے کے بارے میں تحقیق کرنا اس کے مذہبی احترام کی نفی نہیں، بلکہ علاج کے عملی نتائج کے بارے میں علمی احتیاط ہے۔

اسی طرح جدید سائنس کے نام پر کسی غیر ثابت شدہ دعوے کو یقینی حقیقت بنا کر پیش کرنا بھی درست نہیں۔ معتبر علمی رویہ یہ ہے کہ جہاں شواہد مضبوط ہوں وہاں نتیجہ واضح بیان کیا جائے، جہاں شواہد محدود ہوں وہاں اس کی حد بتائی جائے اور جہاں تحقیق ناکافی ہو وہاں غیر یقینی کو تسلیم کیا جائے۔

8۔ طبِ نبوی کے مطالعے کے بنیادی اصول

طبِ نبوی پر علمی اور تحقیقی کام کرتے ہوئے چند اصول خصوصی اہمیت رکھتے ہیں:

1۔ قرآن و سنت سے درست نسبت: کسی قول، دعا یا طبی ہدایت کو رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کرنے سے پہلے اس کے اصل ماخذ اور روایت کی صحت کا جائزہ لیا جائے۔

2۔ سیاق و سباق کی رعایت: کسی حدیث کے الفاظ کو اس کے سیاق، موقع اور متعلقہ تشریحات سے الگ کرکے ایسا مفہوم نہ دیا جائے جو اصل روایت سے ثابت نہ ہوتا ہو۔

3۔ دینی اور طبی دعووں میں فرق: کسی عمل کی شرعی حیثیت اور اس کی طبی افادیت دو الگ سوالات ہیں۔ دونوں کا جواب اپنے متعلقہ علمی اصولوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔

4۔ طبی تحقیق کی اہمیت: کسی دوا، غذا یا علاج کو کسی مخصوص بیماری کے لیے مؤثر قرار دینے سے پہلے معتبر شواہد اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ لیا جائے۔

5۔ معالج سے رجوع: بیماری کی تشخیص اور علاج کے لیے مستند طبی ماہرین سے مشورہ کیا جائے۔ روایتی نسخوں کو ضروری طبی علاج کا متبادل نہ بنایا جائے، خصوصاً سنگین یا ہنگامی بیماریوں میں۔

6۔ علمی دیانت: تاریخی حوالوں، حدیثی اسناد اور جدید تحقیق کے نتائج کو ان کی اصل حیثیت کے مطابق پیش کیا جائے۔ غیر مصدقہ دعووں کو یقینی نتائج بنا کر بیان نہ کیا جائے۔

یہ اصول طبِ نبوی کے مطالعے کو زیادہ ذمہ دارانہ، مفید اور علمی اعتبار سے مضبوط بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

نتیجہ

طبِ نبوی اسلامی علمی روایت کا ایک اہم موضوع ہے، جس میں صحت، بیماری، علاج، دعا، احتیاط اور انسانی زندگی کی حفاظت سے متعلق متعدد مباحث شامل ہیں۔ اس موضوع کی تاریخی تشکیل کو سمجھنے کے لیے بعثتِ نبوی سے پہلے کے طبی ماحول، عرب معاشرے میں رائج علاج کے طریقوں، احادیث کی تدوین اور مسلم اطباء و علماء کی تصنیفی خدمات کا مطالعہ ضروری ہے۔

رسول اللہ ﷺ سے منقول علاج کی ترغیب انسان کو بیماری کے مقابلے میں کوشش جاری رکھنے اور مناسب اسباب اختیار کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ بعد کے ادوار میں محدثین اور علماء نے ان تعلیمات سے متعلق روایات کو جمع کیا، ان کی تشریح کی اور طبِ نبوی کے عنوان سے مستقل علمی ذخیرہ مرتب کیا۔

تاہم اس پورے موضوع کا درست فہم اسی وقت ممکن ہے جب دینی روایت، تاریخی طبی تصورات اور جدید سائنسی تحقیق کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔ کسی حدیث کی صحت، اس کی تشریح اور کسی مخصوص علاج کی عملی افادیت کو ایک ہی سوال نہ سمجھا جائے۔

طبِ نبوی کا سنجیدہ مطالعہ مذہبی روایت کے احترام، حدیثی تحقیق کی پابندی، تاریخی شعور اور طبی شواہد کی جانچ کو یکجا کرتا ہے۔ یہی متوازن منہج اس موضوع کو محض روایتی نسخوں کی فہرست سے آگے بڑھا کر ایک بامعنی علمی مطالعے میں تبدیل کرسکتا ہے۔


منتخب مراجع و مصادر

اصل فراہم کردہ مضمون میں درج حوالوں کی روشنی میں درج ذیل مصادر اس موضوع کے مطالعے کے لیے اہم ہیں:

سنن ابی داؤد، کتاب الطب۔

جامع ترمذی، ابواب الطب۔

صحیح مسلم، کتاب السلام۔

موطأ امام مالک۔

مسند احمد بن حنبل۔

ابن قیم الجوزیہ، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد۔

ابن قیم الجوزیہ، الطب النبوي۔

امام شوکانی، نیل الأوطار شرح منتقى الأخبار۔

مولانا سید جلال الدین عمری، صحت، بیماری اور اسلامی ہدایات۔

ڈاکٹر مصطفیٰ خضر کی تحقیق و تدوین سے متعلق طبِ نبوی کے کتابیاتی مباحث۔

حوالہ جاتی نوٹ: اصل مضمون میں احادیث کے متعدد نمبر، کتابوں کے عنوانات اور بعض کتابیاتی تفصیلات درج ہیں، لیکن ان میں نقل یا ترجمے کی غلطیوں کا امکان موجود ہے۔ اس لیے اس تدوین میں ہر غیر واضح روایت کے نمبر یا غیر مصدقہ اقتباس کو قطعی قرار دینے سے گریز کیا گیا ہے۔ حتمی اشاعت سے قبل اصل عربی مراجع سے تمام احادیث، ان کے درجات، مصنفین کے ناموں اور کتابیاتی تفصیلات کی باقاعدہ تخریج و تصحیح کرلی جائے۔

مضمون کا مرکزی پیغام: طبِ نبوی کو نہ محض چند قدیم نسخوں تک محدود کیا جائے اور نہ اس سے ایسے طبی دعوے منسوب کیے جائیں جو تحقیق سے ثابت نہ ہوں۔ اس کا علمی مطالعہ دینی تعلیمات، تاریخی تناظر، معتبر روایت اور جدید طبی تحقیق کے درمیان واضح فرق اور ذمہ دارانہ مکالمے کا تقاضا کرتا ہے۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme