
کیا میو قوم بانجھ ہوچکی ہے؟
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
دنیا میں بسنے والی قومیں آگے بڑھنے اور ترقی کرنے ۔اور نئے اور جوان خون کو آگے بڑھانے اور ان کی سلاحتیوں سے مستفید ہونے کی پلاننگ میں مصروف ہیں۔
نئی نسل کو نت نئی ٹیکنالوجی فراہم کررہی ہیں ۔اپنے بچوں کو جدید اے آئی(Artificial Intelligence) کی تعلیم دے رہی ہیں ۔
اے آئی کی آمد کے بعد تعلیم و تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع تبدیل کردئے ہیں۔
۔روایتی نطام تعلیم اب زمین بوس ہوچکا ہے ۔اب تعلیم سے زیادہ ہنر /سکلز کام کرتے ہیں ۔
کل سے جناب سلیم الرحمن صاحب(ہمارے بہت ہی محترم اور میو قوم کے سرمایہ ہیں) کی ایک پوسٹ میڈیا پر گردش کررہی ہے کہ۔
ایک ریٹائرڈایڈیشنل آئی جی صاحب کو ایک یونیورسٹی کے حوالے سے زیب عنوان کیا گیا ہے کہ
۔فلاں پولیس کے اعلی آفیسر نے میو ٹیکنکل کالج بنانے کا اعلان کیا ہے۔
ممکن ہے ایسا ہی ہو۔۔لیکن یہ پروجیکٹ بھی سابقہ کاوشوں ی طرح ایک اعلان سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔
بہتر ہوتا ۔ہم موصوف سے محکمہ پولیس کے حوالے ان کی خدمات قوم کے سپرد کرتے۔
کیونکہ پولیس سروس میں ایک زندگی گزاری ہے۔
اسی کا انہیں تجربہ ہے۔جیسے کوئی آرمی سے ریٹائرڈ بندہ ،اسی محکمہ کے بارہ میں بہتر معلومات اور خدمات سرانجام دے سکتا ہے۔
کیونکہ میو قوم کے بہت سے جوان آج بھی پولیس اور دیگر انتظامی و دفاعی محکموں میں بہترین خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
ایک صدی کا سب سے برا مذاق میو قوم کے ساتھ یہ ہوگا کہ ایک انڈر میڑک کے نیچے ایک ڈی آئی لیول کا بندہ۔ایک یونیورسٹی تعمیر کرے گا۔
۔۔اس لطیفہ پر رویا جائے یا ہنسا جائے ۔۔؟
میں نے میو قوم کے لیڈران کے منہ سے سنا کہ میو قوم کی تعداد تین کروڑ سے زائد ہے۔اس قوم میں اعلی دماغ بہترین جذبات رکھنے والے خدمت گزار لوگ موجود ہیں۔لیکن انہیں آگے نہیں آنے دیا جاتا ۔ان کی خدمات سے صرف اس لئے آنکھ بند کی جاتی ہے کہ۔کہیں وہ ہم سے آگے نہ نکل جائیں؟۔
جب سے میں نے میڈیا پر ریٹائرڈ پولیس آفیسر کے بارہ میں پولیس دیکھیں ۔ذہن میں عجیب و غریب قسم کے سوالات ابھررہے ہیں۔
۔۔کیا میو قوم لیڈر اور بہتر کارکردگی والے بچے پیدا کرنے سے قاصر ہیں ۔میو قوم کی مائیںکوئی باصلاحیت بچہ جننے سے قاصر ہوچکی ہین ۔
۔۔ساری قومیں اپنے جوانوں کو آگے لاتی ہیں ان کے فن و ہنر کی بنیاد پر ان کی خدمات لی جاتی ہیں۔
کیا میو قوم کے مقدر پھوٹ چکی ہیں کہ جو انہیں تازہ خون میسر نہیں آرہا ہے؟۔
۔۔اگر ایسا ہے تو پھر یہ سب پھرتیاں کس لئے ؟کیا ایسی قوم کے لئے جس میں باصلاحیت جوان میسر آنا بند ہوچکے ہیں ۔
پوری قوم عمر رسیدہ لوگوں کے رحم کرم پے آٹہری ہے؟
۔۔اب تو ایک چوکیدار بھی ایف اے بے اے پڑھا ہوا لگاتے ہیں ۔
میو قوم کتنی بدنصیب ہے کہ اس کے تعلیمی پروجیکٹ کی باگ دوڑ سنبھالنے کے لئےے ان پڑھ لوگون کو آگے لانے کی پلاننگ کی جارہی ہے۔۔۔
۔۔یہ تعلیمی ادارے چلانے کیا ان پڑھ لوگوں کا کام ہوتا ہے۔۔
۔ہم تو کم پڑھے لکھے کو اپنے بچے کا ٹیوٹر نہیں رکھتے ۔یہاں الٹی گنگا بہانے کی تیاریاں ہیں۔
مہذب قومیں۔ترقی یافتہ معاشرے ریٹائرڈ لوگوں کو پینشن دیتے ہیں ۔
انہیں آزادنہ زندگی جینے کی سہولیات دیتے ہیں ۔
ان کے دوا دارو کا بندوبست کرتے ہیں ۔۔ایک ہم ہیں کہ جوانوں کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھمانے جارہے ہیں؟
۔۔۔79 سال میں ہم نے بحیثیت قوم جتنی غلطیاں کی ہیں۔انہیں برقرارکھنے کے لئے پوری قوم کو جھونکا جارہا ہے؟
۔۔اگر قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ہے ۔میو قوم کے لئے رفاہی و تعلیمی نظام لانا ہے۔۔
تو ان لوگوں کو آگے لایا جائے۔جو اس میدان کے تجربہ کار ہیں ۔ان کے اپنے ادارے ہیں ۔
جیتی جاگتی مثالیں ہیں ۔ان کے ادارے مثالی کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
۔۔ایک میو قوم ہے کہ جسے دانستہ و نادانستہ 1857 کے دور میں پھر دھکیلنے کی کوشش جاری ہے۔
۔۔رہی بات چندہ دینے والے اور مخیر لوگوں کی تو ۔
یہ بھی سائکی لوگ ہیں۔اگر سیاست کرنی ہے ۔اور تپتی پے ہاتھ سینکنے ہیں تو کوئی دوسرا موقع تلاش کرلو؟
جب تم نے پیسہ دینا ہی ہے اور دینا بھی میو قوم کے لئے اور خدا کی رضاء کے لئے تو ۔پھر اگر مگر۔چوں ۔چراں ۔کرنے کی کیا بات ہے۔
کیا بڑے کہہ مرے ہیں کہ چندہ سے کالج صرف بدوکی گائوں میں ہی بنے گا؟۔ ۔۔زمین کے دوسرے حصے زیر آب آچکے ہیں ؟
میڈیا پر صدارتی امیدواروں کی باتیں سننے کو ملیں کہ ۔جو کام میو قوم پون صدی میں نہ کرسکی ۔اس سے زیادہ رقم ہم نے ایک ہفتہ میں جمع کرادی ہے۔؟
بہت خوب۔اسی قبیل سے دوسرے امیدوار کی باتیں بھی سننے کو ملیں ۔
پوچھنا یہ تھا کہ تم لوگوں نے ابھی جنم لیا ہے۔۔یا پھر میں قوم ابھی کہیں سے وارد ہوئی ہے۔؟۔
۔۔یقینا دونوں پرانے ہیں ۔تیس چالیس سال، تم لوگوں نے اس قوم میں گزاریں ہیں ۔
۔اس وقت کونسی میو قوم میں خوبی آگئی کہ جو پہلے نہ تھی، جس کی وجہ سے۔خدمات کے جذبات بھڑک اٹھے ہیں ۔؟۔۔۔
اگر میو قوم کوئی ایسا فیصلہ کرے کہ دونوں صدارتی امیدوار میدان انتخاب سے الگ کردئے جائیں تو کیا پھر بھی یہی جذبات موجزن رہیں گے؟۔
اس لئے بہتر ہے کہ قوم کے بابے اور بڑے لوگ ۔خود کو بڑھا بنائیں ۔
اور بڑا ہونے کا ثبوت دیں ۔تم سے پچاس سال میں کچھ نہ ہوسکا تو ۔
ایک باری پڑھے لکھے اور پر عزم جوانوں کو بھی دیکھ لیں ممکن ہے۔۔یہ کچھ کرگزریں؟۔۔
میو قوم میں ہزاروں صفات ہیں ۔لیکن ابھی مزید آگے بڑھنے کے لئے روایتی ہتھکنڈوں کو توڑنا پرے گا۔
پچھلے تین چار ماہ کی میڈیا میں مہم جوئی سے چالیس پچاس سالوں کی ٹانگ کھنچائی۔کی ایک بھیانک تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے۔
ایسا نہیں کہ میو قوم کی نئی نسل اپنے بڑوں کا احترام نہیں کرتی؟۔جتنا احترام میو قوم میں بڑے بوڑھوں کا ہے شاید ہی کسی قوم میں موجود ہو۔
ہم چاہتے ہیں تازہ خون کی گرمی کو قوم کی بڑھوترری میں آگے بڑھا یا جائے ۔اپنے تجربات کی روشنی میں بڑے لوگ انہیں مشورہ دیں ۔اچھا برا سمجھاتے رہیں۔۔
۔۔۔۔
