
ج
دید دور میں بھی پرانی سوچ دھڑے بند ی کا عفریت
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
پت جھڑ میں بہاروں کی فضا ڈھونڈ رہا ہے
پاگل ہے جو دنیا میں وفا ڈھونڈ رہا ہے
کس شہر منافق میں یہ تم آگئے ساغر
ا ک دوجے کی ہر شخص خطا ڈھونڈ رہا ہے
ساغر صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس وقت میو قوم جس سوچ اور اکابر پرستی اور دھڑے بندی سے گزررہی ہے وہ ۔اتحاد و یگانیت کو افتراق و انفرادیت بدلنے کا اعلی سفر ہے۔
جو چیزیں پہلی غیبت و چغلی کی شکل میں سالوں بعد سننے کو ملتی تھیں ۔یہی باتیں سوشل میڈیا کے توسط سے ہر روز سننے اور دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
اس وقت انجمن اتحاد ترقی میوات کی ووٹر لسٹیں مکمل ہونے کا وقت آگیا ہے ایک دو دن باقی ہیں۔۔ووٹ اندراج کے اوقات میں اضافہ کیا گیا ۔رپوٹوں کے مطابق چالیس پچاس سالوں کی تاریخ میں پہلی بار ریکارڈ ممبر شپ کی گئی ہے ۔
آہستہ آہستہ وقت کا پہیا گھومتا رہے گا۔اور ایک دن الیکشن بھی ہوجائے گا۔عبوری باڈی نے حتی الوسع بہترین ذمہ داری ادا کرنے کی مثال قائم کی۔اور انجمن اتحاد ترقی میوات کی روایتی سوچ کو ایک مخصوص دائرے تک محدود تھی اسے پبلک کردیا۔
کچھ اس انداز سے عوام کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کیا کہ کچھ لوگوں نے قدمے درمے سنخے اس میں حصہ لیا۔

ایک جذبہ پروان چڑھا۔بہتر انداز میں آگاہی ملی۔
اس وقت نوجوان نسل بہتر آگے جاچکی ہے۔اور سوچ میں نصف صدی کا فرق آگیا ہے۔
۔الیکشن میں حصہ لینے والوں نے اپنی تشہیری مہم شروع کی ۔کئی دھڑے میدان میں کودے ہیں۔
جو انجمن کی پرانی تاریخ سے واقف ہے،اور جانتا ہے کہ ۔اس وقت وہی تاریخ دہرائی جارہی ہے جو چالیس سالوں میں پروان چڑھی ہے ۔انجمن کے اس الیکشن کو میو قوم کے زعماء نے دھڑوں میں تقسیم کردیا ہے ۔اسے مکمل سیاسی رنگ دیدیا گیا۔
۔جو الیکشن مہم چل رہی ہے اس میں دھڑے بندی ،کھینچا تانی۔ واضح انداز میں شامل ہوگئی ہے یا دانستہ طورپر کردی گئی ہے۔
دیکھنے میں آیا، ماضی کے کھلاڑی اپنے جگہ بدل چکے ہیں ۔نئے مہرے اتارے جارہے ہیں ۔
نامعلوم وجوہات ہیں کہ اس الیکشن کو پراپرٹی ڈیلروں کے حوالے کردیا گیا۔اسے سیاسی شکل دیدی گئی ہے۔
وہی حربے جو ایک کونسلر سے لیکر صوبائی و قومی اسمبلیوں کے الیکشنوں میں استعمال کے جاتے ہیں۔دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔۔
پہلے لوگ منظر عام سے پس پردہ چلے گئے۔انہوں نے دھڑے بندی میں اپنے تجربات شئیر کئے ہیں۔
دنیا میں فلاحی کاموں کے لئے نئی اور بہتر تجاویز تلاش کی جاتی ہیں ،اور آسان و فوائد سے بھرے راستے اختیار کئے جاتے ہیں۔
لیکن میو قوم میں اس سے مختلف سوچ پائی جاتی ہے
بلاشہ اس میں ووٹ اندراج کے لئے پیسوں اور سیاسی اثرو رسوخ کا استعمال کیا گیا۔
۔جو قیمت ووٹ کی ادا کی گئی ہے ۔لازما وہ قوم کی فلاح وبہبود کے لئے نہیں بلکہ طبقاتی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے دی گئی ہے۔
جو کارنر میٹنگز کی جارہی ہیں۔دل کھول کر خرچہ کیا جارہا ہے۔
اگر یہی میٹنگز کالج و انجمن کی فنڈز ریزنگ کے لئے کی جاتیں تو کثیر تعداد میں پیسہ و وسائل جمع ہوجاتے ۔
الیکشن تو کس نے ہارنا جیتنا ہے۔الگ بات ہے۔
البتہ انجمن کا کائونٹ بھرجاتا ۔تعمیر کے لئے وافر مقدار میں وسائل مہیا ہوجاتے۔پیسہ اور وسائل معاملات حل کرنے کے وہ راز ہیں ۔جن پر کھلتے ہیں۔وہ انجوائے کرتے ہیں۔
یہی برادی کے ذمہ داران تمام امیدواروں کو یکجا کریں ۔ان کی ترجیحات معلوم کریں۔انکے مقاصد۔ان کے عزائم قوم کے سامنے رکھیں۔
انہیں فنڈریزنگ کا کہیں کہ کون زیادہ انجمن کے فنڈز میں پیسہ جمع کراتا ہے۔جو بہتر انداز میں خدمات کا ثبوت دے برادری اس کے سرپے ہاتھ رکھ دے۔
خش وخاشاک خودبخود دور ہوجائیں گے۔
۔ہر پینل پر لازم کیا جائے کہ وہ اپنا دستور و منشور کمیٹی کو جمع کرائے ۔اپنی ترجیحات واضح کرے۔حلف دے کہ اپنے کئے گئے وعدے پورے کرنے کی حتی الوسع کوشش کرے گا۔
اگر کوئی اصلاحی پہلو اختیار نہ کیا گیا تو اس تحریر کو بطور ثبوت محفوظ کرلیا جائے کہ ۔۔معاملات جوں کے توں ہی رہیںگے ۔
جیسے چلتا آیا ہے ۔یوں ہی چلتا رہے گا۔۔۔
باقی نام رہے اللہ کا ۔
میو قوم زندہ باد۔پاکستان پائیندہ باد
