
سر گنگا رام۔ عبقری شخصیت
(ایک ایسی شخصیت جس کے احسانات کا قرض لاہور کبھی نہیں اتار سکتا)
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
آج ہم لاہور کی جن شاندار اور تاریخی عمارتوں کو دیکھ کر فخر محسوس کرتے ہیں—چاہے وہ مال روڈ کا جی پی او (GPO) ہو، لاہور میوزیم، نیشنل کالج آف آرٹس (NCA)، ایچیسن کالج، لاہور ہائی کورٹ یا پھر گنگا رام ہسپتال—ان سب کے پیچھے ایک ہی انسان کی عبقری صلاحیت اور بے لوث محبت کارفرما تھی: سر گنگا رام! انہیں بجا طور پر “Father of Modern Lahore” (جدید لاہور کا باپ) کہا جاتا ہے [^1]۔
پیدائش اور تعلیم
13 اپریل 1851ء کو ننکانہ صاحب کے قریب واقع علاقے میں پیدا ہونے والے اس عظیم سول انجینئر نے تھامسن کالج آف سول انجینئرنگ (جو اب آئی آئی ٹی روڑکی کہلاتا ہے) سے نمایاں پوزیشن حاصل کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا [^2]۔ انہوں نے برصغیر میں کلاسیکی اور مقامی طرزِ تعمیر کا ایک ایسا حسین امتزاج ( Indo-Saracenic Style ) متعارف کروایا جس نے لاہور کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔
زرعی اور تکنیکی کارنامے
سر گنگا رام محض ایک معمار نہیں بلکہ ایک بلند پایہ موجد اور ماہرِ زراعت بھی تھے۔ انہوں نے پنجاب کی زرعی ترقی میں انقلابی کردار ادا کیا:
رینالہ خورد پراجیکٹ: انہوں نے رینالہ خورد کے مقام پر دریا سے پانی اٹھانے کا جدید ہائیڈرو الیکٹرک لفٹ پمپنگ سسٹم (Hydro-electric Lift Pumping System) نصب کیا [^3].
بنجر زمینوں کی آبادی: اس انقلابی نظام کے ذریعے انہوں نے لاکھوں ایکڑ بنجر اور غیر آباد سرکاری زمینوں کو نہری پانی فراہم کر کے سرسبز و شاداب زرعی خطوں میں تبدیل کر دیا [^4].
فلاحی خدمات اور عوامی ادارے
سر گنگا رام نے اپنی زندگی میں اپنی محنت اور تدبیر سے جو کمایا، اسے ذاتی تعیش یا نمود و نمائش کے بجائے بلا تفریقِ رنگ و نسل انسانیت

کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے قائم کردہ چند نمایاں فلاحی ادارے درج ذیل ہیں:
- گنگا رام ہسپتال: 1921ء میں لاہور میں قائم کیا گیا یہ طبی ادارہ آج بھی روزانہ ہزاروں مریضوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کر رہا ہے [^5].
- خواتین کی تعلیم: خواتین کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے انہوں نے لیڈی میکلیگن گرلز ہائی سکول اور گرلز کالج کی بنیاد رکھی [^6].
- فلاحی ٹرسٹ: بیواؤں کی مالی معاونت، ان کی باعزت بحالی اور دوبارہ شادیوں کے انتظامات کے لیے “سر گنگا رام ہندودھو بیوہ فنڈ” اور بیوہ اشرم قائم کیے [^7].
منٹو کا خراجِ تحسین
نامور افسانہ نگار اور خاکہ نگار سعادت حسن منٹو نے اپنے ایک مشہور خاکے (سر گنگا رام) میں اس عظیم شخصیت کے بارے میں انتہائی حقیقت پسندانہ الفاظ میں لکھا تھا کہ انسان کی اصل پہچان اس کے مذہب یا عقیدے سے نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور نوعِ انسان کے لیے کیے گئے فلاحی اعمال سے ہوتی ہے [^8].
وفات اور وصیت
10 جولائی 1927ء کو لندن میں انتقال کرنے والے اس درویش صفت انسان نے اپنی وصیت کے مطابق اپنی کل جائیداد کا بڑا حصہ فلاحی مقاصد کے لیے چھوڑا۔ ان کی آخری خواہش کے مطابق ان کی تدفین کے بعد ان کی راکھ کا ایک حصہ لاہور لایا گیا اور دریاۓ راوی کے کنارے عقیدت کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا [^9].
سر گنگا رام آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا نام، ان کے کارنامے اور ان کے احسانات لاہور کی اینٹ اینٹ میں زندہ و جاوید ہیں۔
مضمون نگار: حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو
تاریخی حوالہ جات (Sources)
[^1]: Latif, Syed Muhammad. Lahore: History, Architectural Remains and Antiquities . (Lahore: New Imperial Press, 1892 / Later historical compilations on colonial Lahore architects).
[^2]: Thomason College of Civil Engineering. Alumni Records and Medalists Register , Roorkee (1870s archives regarding Rai Bahadur Ganga Ram’s academic honors).
[^3]: Punjab Irrigation Department. History of Irrigation in the Punjab , Vol. III (Lahore: Government Printing Press, 1930), detailing the Montgomery District (Renala Khurd) hydroelectric lift irrigation schemes.
[^4]: Darling, Malcolm Lyall. The Punjab Peasant in Prosperity and Debt (Oxford University Press, 1925), references regarding Ganga Ram’s agricultural colonization experiments in the bar lands.
[^5]: Ganga Ram Trust Board. Official Records and Historical Archives of Sir Ganga Ram Hospital Lahore , established 1921.
[^6]: Gazetteer of the Lahore District, compiled under administrative reports of the late 19th and early 20th centuries regarding Lady Maclagan School and female education initiatives.
[^7]: Ahmad, Nazir. Lahore: Past and Present (Historical accounts detailing Hindu-charitable trusts and Ganga Ram’s Widows’ Home endowment).
[^8]: Manto, Saadat Hasan. Sketches / Mazameen-e-Manto (Detailed biographical commentary on Sir Ganga Ram emphasizing humanitarianism over dogma).
[^9]: The Civil and Military Gazette, Lahore. Obituary and Funeral / Cremation coverage of Sir Ganga Ram, July 1927.
