سندھ کی دھرتی پر میو قوم کا بھکرا ہوا خون

0 comment 11 views
سندھ کی دھرتی پر میو قوم کا بھکرا ہوا خون
سندھ کی دھرتی پر میو قوم کا بھکرا ہوا خون

سندھ کی دھرتی پر میو قوم کا بھکرا ہوا خون
قمبر شہدادکوٹ سندھ کے گاؤں پکھو میں 2 میو نوجوان قتل
از
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
21 مئی 2026ء کی صبح 7 بجے میو قوم سے تعلق رکھنے والے ندیم میو جوکہ سی ٹی ڈی میں ملازم ہے کو(ڈیوٹی پر جاتے ہوئے ) اور اس کے بھائی مزمل میو کو منظم حملہ کر کے درجنوں گولیاں ماری گئیں ،دونوں بھائی خاک و خون میں لت پت تڑپتے ہوئے زخموں کی تاب نہ لائے اورخالق حقیقی سے جاملے۔
یہ دلخراش واقعہ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں معاشرتی طورپر ایک ناہمواری کا خاشاخانہ ہے۔ وقوعہ کا سبب پسند کی شادی بنی۔
کاشت علی میو جوکہ مقتولین کا بھائی تھا۔ نے ایک بلوچ لڑکی سے پسند کی شادی کی۔اور گھر سے بھاگ گئے۔یہ فیصلہ لڑکی اور لڑکے کی داستان عشق نامراد کا شاخانہ تھا۔
دستیاب معلومات کے مطابق یہ فیصلہ لڑکے اور لڑکی کا تھا، اس میں دونوں کے گھر والے لاعلم تھے۔جب دونوں گھر سے بھاگے تو گھر والوں کو معلوم ہوا ،معاشرتی و علاقائی دستور کے مطابق دونوں طرف اس اقدام کو ناپسند کیا گیا ۔لڑکے والوں نے جیسے جیسے کرکے دونوں کو تلاش کیا۔انہیں واپس لاکر لڑکی کو اس کے گھر والوں کے سپرد کیا۔ گھروالے اس فعل سے لاتعلق ہوگئے۔ اور برادری کے سامنے پنچائت میں لڑکے سے گھر والوں نے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
پسند کی شادی کرنے والے نوجوان کاشت میو کے والد عبدالحمید قرآن پاک لے کر گئے اور کاشف سے لاتعلقی کا اظہار کیا خود کو اور خاندان کے دوسرے افرادکو اس فعل سے بری الذمہ قرار دیا، اور کہا کہ اس نے کوئی اچھا عمل نہیں کیا اگر آپ معاف کر دیں آپ کی مرضی اور اگر آپ کاشف میو کو قتل بھی کر دینگے تو ہم اس کا ساتھ نہیں دینگے ،جس پر لڑکی کے گھر والوں نے 2 روز بعد جواب دینے کا وعدہ کیا۔

Advertisements


روایات و رسوم کے مطابق لڑکی والے دو دن تک جواب دینے یا فیصلہ کرنے کے پابند تھے۔اس کے بعد کسی بھی اقدام کو جائز قرار دیا جاسکتا تھا۔خلاف روایت جواب میں کاشف میو کے 2 بھائیوں کو لڑکی کے بھائیوں محرم علی عرف فدا مگسی، شاہنواز، زاہد، دریا اور تین نامعلوم افراد نے ممنوعہ آتشیں اسلحہ سے فائرنگ کر کے قتل کردیا۔
ندیم میو جوکہCTDکا ملازم تھا جسے ڈیوٹی پر جاتے ہوئے گولیوں سے چھننی کردیا،دوسرا بھائی مزمل میو جوکہ والد عبد الحمید میو کی طرح اس پسند کی شادی کے خلاف تھا کو بھی اندھا دھند گولیاں ماری گئیں ۔زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے یہ بھی چل بسے۔ یوں عید قربان سے پہلے ہی دونوں بھائیوں کو مظلومی کی حالت میںقتل کردیا گیا۔لاقانونیت یوں تو ہر جگہ عوام کو تگنی کا ناچ نچا رہی ہے لیکن قمبر سندھ کے گائوں پکھو میں تو اس کی خون آشامیاں عوام کے گلوں پر اپنے نوکیلے دانٹ نکوس کر خون چوسنے میں مصروف ہے۔


عیدالاضحیٰ کے فوری بعد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی جس میں پکھو گاؤں میں آباد پنجابی (میو قوم) کے آباؤ اجداد کو گھر بار چھوڑ کر بھاگ جانے کی دھمکی کے ساتھ تمام لوگوں کو قتل کرنے کی دھمکی دی گئی۔
جس کے بارے میں ایس ایس پی قنبر اور ڈی آئی جی لاڑکانہ کو بتا دیا گیا مگر نہ تو ملزمان کے خلاف دہشت گردی دھمکیاں دینے، خوف و ہراس پھیلانے کا مقدمہ درج ہوا، نہ ملزمان گرفتار کئے گئے ۔ اسی محرم الحرام کے روز ایک ویڈیو پھر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی جس میں ملزمان دہشت گرد، مسلح ڈاکو کی شکل میں موجود ہیں اور یہ ویڈیو ز علاقے کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے اور اداروں کی کارکردگی کو چیلنج کر رہی ہیں۔
جب ملک کے دوسرے بسنے والے لوگوں نے اس گنڈہ راج کے خلاف متعلقہ محکموں سے رجوع کیا توپولیس کا موقف ہے کہ ملزمان فرار ہو گئے ہیں
جناب عالیٰ ملزمان ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں اور پولیس کو بتا رہے ہیں کہ ہم موجود ہیں آپ ہمیں گرفتار کر سکتے ہیں تو کر لیں۔جب کہ قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے لئے یہ ایک ٹیسٹ کیس بنا ہوا ہے۔
اس بارہ میں میو قوم کے کچھ لوگوں نے مظلوم خاندان کے ساتھ ہمدردی اور للہ فی اللہ قدم بقدم ساتھ دینے کی اپیل کی ہے ۔ کراچی سے حاجی افضل میوچئیرمین پاکستان میو اتحاد کی حاضری۔چوہدری سلیم الرحمن میو( میو قومی یکجہتی کونسل پاکستان) کی شب و روز کی تگ دو۔چوہدری غلام رسول میو کراچی، میو قومی یکجہتی کونسل پاکستان۔۔اسلام آباد سے رائو غلام محمد میو ۔ حاجی اسحق میو میواتی ہریٹج والے۔ اس کے علاوہ ملک بھر سے میو قوم کے نمائیندگان مظلومین کی داد رسی کے لئے کام کررہے ہیں۔
روزانہ بنیاد پر سوشل میڈیا کے ذریعہ مظلوم خاندان کے ساتھ اظہار ہمدری اور قانونی پیچدگیوں کے نبرد آزما ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔
میو برادری سےاہم سوال۔
بحیثیت مسلمان بالخصوص پاکستانی شہری کے ہر ایک کو برابر کے حقوق اور قانونی تحفظ حاصل ہے ۔قومیت یا گروہی اختلاف کو ہوا دینا مناسب نہیں۔داد رسی کے لئے متعلقہ ادارے کام کررہے ہیں۔لیکن اب مزاج ایسا بن گیا ہے کہ اگر متعلقہ اداروں کو باور نہ کروایا جائے کہ کام کی نوعیت کیا ہے؟ تو انصاف کی راہیں بہت طویل ہوجاتی ہیں ۔
میو قوم ایک الگ سے پہنچانی جانے والی قوم ہے ۔اس کے افراد تقریبا تمام محکموں میں اور قانون نافذ کرنے والوں اداروں میں طاقتور عہدوں پر براجمان ہیں۔سیاسی لحاظ سے بھی میو قوم کے لوگ اپنی پہچان رکھتے ہیں۔معاشی و معاشرتی طورپر ان کا مقام ہے۔اگر ایک ذاتی نوعیت کی غلطی کو بہانہ بناکر سندھ دھرتی پر آباد میو قوم کے لوگوں کو گھر بار چھوڑ جانے کی دھمکیاں کھلے بندوں دی جائیں تو سوچنے کا مقام ہے کہ اگر یہ چنگاری آگے بڑھی تو کھیت کھلیان جلنے میں دیر نہیں لگے گی۔جب سندھ کے لوگوں کاخرمن جلے گا تو پنجاب کے لوگ بھی اپنی تیاری کرلیں۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme