میو قوم ،دھڑے بندی ،رونا دھونا کے بجائے عملی اقدام کرے۔

0 comment 11 views
میو قوم ،دھڑے بندی ،رونا دھونا کے بجائے عملی اقدام کرے۔
میو قوم ،دھڑے بندی ،رونا دھونا کے بجائے عملی اقدام کرے۔

میو قوم ،دھڑے بندی ،رونا دھونا کے بجائے عملی اقدام کرے۔
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
سعد ورچوئل سکلز پاکستان
آج کل شوسل میڈیا نے سوچن کا انداز بدل دئیا ہاں۔جاکام اے انسان وقت و وسائل خرچ کرکے بھی نہ کرسکے ہو ۔شوسل میڈیا کی مدد سو گھر میں بیٹھو بیٹھو کرسکے ہے۔اور یہی ہورو ہے۔
میو قوم کو بھی اللہ نے میڈیا پے شعور دئیو لیکن ان کی لگی بندھی سایئکی کی وجہ سو یامیں بھی پرانی گھسٹی پٹی سو چ ۔دَر آئی اور کچھ لوگ آج بھی پرانی روش پے برقرار ہاں ۔جیسے گائوں دیہاتن میں پہلے گروہ بندی اور اپنا اپنا خاندان کا حقہ /بیٹھک وغیرہ رہوے ہی۔کچھ لوگ چوپال بیٹھک(بنگلہ)بھی بیٹھن کے مارے بنواوے ہا۔۔اور دن بھر بیٹھن کے مارے حقہ پانی کو بندوبست بھی

Advertisements

راکھے ہا۔
حقہ چوپال کو دور تو گئیو ۔ان کی جگہ اگر نہ بھی لے سکے۔لیکن کائی حد تک شوسل میڈیا نے چوپال اور بنگلہ کی جگہ لے لی ہے۔نوں سمجھو کہ پرانا زمانہ میں بنگلہ اور چوپال ایک میڈیا کی طرح کام کرے ہا۔خلوص نیت سو پورا علاقہ ۔رشتہ دار۔گائوں بستی پے تبصرہ۔بے دھڑک غیبت۔چغلی۔عام بات ۔عوامی تبصرہ۔کرا جاوے ہا۔
کچھ لوگ سارا ،سارا دن پیٹ پکڑی ڈولے ہا کہ کد بنگلہ پے لوگ اکھٹا ہوواں اور اپنا پیٹ درد اے ہلکو کراں ۔شوسل میڈیا آنا کے بعد اب بنگلہ، پور۔بیٹھک کے بجائے۔موبائل اٹھائیو اور گروپ میں آکے۔پیٹ کی ہواڑ نکال دی۔۔دن میں اتنا میسجز اور وائس ،پوسٹ کراہاں کہ اُنن نے یاد بھی نہ رہوے ہے

کہ دھیرئیں کہا کہو۔سانجھ کو کہا کہنو ہے؟۔
بلکہ کچھ دانشور تو دوسران کی باتن سو متاثر ہوکے اپنی کہی ہوئی بات سوُ اِی مُکر جاواہاں ۔کچھ لوگ تو کائی دھینگ کی بات(مسیج)سُن کے ایسا جذبات میں آواہاں کہ سارا سارا دِن ۔مخالفت یا موافقت میں وائس کرکرکے فون کی میموری بھرن کی قسم کھالیواہاں ۔
میرے پئے میو قوم کا نام پے بنا بہت سا گروپ ہاں ۔جن میں لوگن نے میرو نام شامل کرلئیو ہے۔لیکن وقت کی قلت اتنی ہے کہ سبن نے سُننو تو درکنار دیکھن کو بھی وقت نہ ہے۔
میو قوم میں ایک دوسرا کی ٹانگ کھنچائی کی صفت اعلی درجہ کی پائی جاوے ہے ۔شوسل میڈیا کی برکت سو بالخصوص آرٹیفشل انٹلیجنس کا آنا کے بعد ۔دانشورن کی بہت بڑی تعداد بھی آچکی ہے۔اللہ کرے کوئی ان دانشورن کی مخالفت میں وائس یا میسج ،یا پوسٹ لگا دئے،پھر واکی خیر نہ ہے

ایک اور بات ۔
میو قوم کا نام پے بنن والا گروپن میں،ایسا قوائد و قوانین گروپ اصولن کا نام پے بنایا گیا ہاں۔اب گروپ کم لگاہاں ۔مسجد یا مقدس جگہ زیادہ۔کیونکہ جیسے مسجد یا مندر،گردوارہ۔ میں کوئی پوجاری یا عبادت گزار۔معبد کا پوجاری کی مرضی کے بغیر داخل نہ ہوسکے ہے ۔یا پھر کائی فرقہ و مسلک کی مسجد مدرسہ یا ادارہ میں مخالف نظریات والو نہ گُھس سکے ہے ،ایسے ہی ان گروپن میں کوئی مخالف نظریات کو حامل فرد ایڈ نہ ہوسکے ہے۔اگر کائی وجہ سو ہوبھی گئی تو۔مخالفت کی وجہ سو ۔یاتو خود لیفٹ ہوجائے گو،یا ریموو کردئیو جائے گو۔


ایک اور بات بھی دیکھی گئی ہے ۔گروپ ممبران بالخصوص ایڈمنز حضرات نے اپنا اپنا قبلہ متعین کرلیا ہاں ۔اپنی اپنی ترجیحات بنالی ہاں ۔ان کے مطابق پالیسی بنائی ہاں ۔میو قوم صرف وے لوگ ہاں جن سو مفادات وابستہ ہاں۔یا پھر ان کا ہمخیال ہاں۔
روپیہ پیسہ خرچن والا کا بارہ میںپوسٹ ایسے لگائی جاواہاں،کہ سارا میوون کو درد ان کا جگر میں اکھٹو ہوگئیو ہے۔۔ان پوسٹن کی وجہ صرف اور صرف دھڑے بندی یا پیسہ کی فروانی ہے ۔بنی اسرائیل جب مصر سو نکلا ہا تو حضرت موسی سوُدریا عبورکرتے ہی مطالبہ کردئیو ہو۔کہ ہم کو ایسا ای معبود بنادے ۔جیسا معبود بستی والان کے پئے ہاں ۔یعنی جاخدانے غلامی کی دلدل۔اور دریا کی موجن سو بحفاظت نکالا۔اُو بھول گیو ۔جو آنکھن دکھائی دیوے ہو۔وا کی فرمائش کردی۔ایسے میو قوم کا گروپن میں قومی خدمات۔اور میو قوم سو ہمدردی کے بجائے۔دھڑے بندی۔اور مفادات کو ترجیح دی جاوے ہے۔
چلو سب بات قابل برداشت ۔لیکن دکھ یا بات کو ہے کہ کائی تنظیم،کائی جماعت۔کائی گروپ کو کوئی قومی سطح کو منشور ودستور ایسو موجود نہ ہے۔جا کی روشنی میں میو قوم آگے بڑھ سکے ۔کام انفرادی۔ذاتی نوعیت کا رہوا ہاں۔دعویٰ قومی سطح کا۔
میوون کا گروپ غریب کی ٹاٹی کی طرح روز بکھرا رہوا ہاں ۔نیا گروپ برساتی مینڈکن کی طرح بنا، بگڑاہاں۔وہی چند سو لوگ ۔چارو گھاں کو اُدھم مچائی ڈولاہاں ۔
میو قوم کے مارے عملی میدان میں کوئی تبدیلی کرن میں بدستورناکام ہاں ۔
بڑا ن کی عزت۔بچان کی تعلیم ۔پڑھا لکھا ،یا بے روزگارن کے ماے روزگار یا ملازمت کا معاملات۔کاروباری سطح پے قوم کے مارے پلان ۔شعور کی بیداری،کچھ بھی تو نہ ہے۔ویسے کوئی سو بھی پوچھ لئیو واسو گھنو سیانو۔واسو گھنو دابشور ،قوم کو ہمدرد کہیں بھی نہ ملے گو۔

Leave a Comment

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid

Hakeem Muhammad Younas Shahid, the visionary mind behind Tibb4all, revolutionizes education and daily life enhancement in Pakistan. His passion for knowledge and unwavering community dedication inspire all who seek progress and enlightenment.

More About Me

Newsletter

Top Selling Multipurpose WP Theme