
انجمن اتحاد ترقی میوات کا اجلاس۔تجدید عہد یا روش قدیمہ کی ایک مشق
حکیم المیوات قاری محمد یونس شاہد میو۔
میو قوم یوں تو ہر روز کسی نہ کسی انداز ایسا ماحول پیدا کرتی رہتی ہے، کچھ ہو یا نہ ہو البتہ شوسل میڈیا کے لئے ایک دو تصاویر ضرور پیدا کرلیتی ہے۔
علامہ محمد احمد قادری صاحب کی دعوت پے حاضری ہوئی۔وہاں عقدہ کھلا کہ انجمن کو نھلانے دھلانے (صاف صفائی کاکام ۔جاری ہے)کے لئے میو قوم کے زعماء کا اکٹھ موجود ہے ۔میرے ذہن میںتھا کہ چند ملا مولوی، علماء ہونگے ۔لیکن وہاں تو میو قوم کے نمائیندگان موجود تھے۔انجمن کے لئے جگہ وقف کرنے والے۔اس زمین پر قانونی طورپر کام کرنے والے۔اور سالوں تک اانجمن سے پلو سے لپٹے ہوئے عظیم لوگ موجود تھے۔
راقم الحروف کچھ تاخیر سے پہنچا، ،لیکن جو حاضری ہوئی بسا غنیمت۔سابقہ صدور۔اور عاملہ کے ممبران۔موجودہ عبوری الیکشن کمیشن۔سابقہ مجاہدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔اجلاس کی کارروائی سے معلوم پڑا کہ یہ ہمدردان نے قوم انجمن کے اجلاسوں میں باقاعدہ آنا مناسب نہیں

سمجھتے،ممکن ہے اسے وقت کا ضیاع تصور کرتے ہوں۔خوش نصیبی کہ اتنے سارے میو قوم کے ہمدرد ایک ساتھ دیکھنے کو ملے۔
ویسے تو اجلاس میں شریک ہر ممبر نرالی شان کا حامل تھا ۔کچھ کو میں جانتا ہوں ۔کچھ کے نام مجہول ہیں۔ان سے تعلق کمزور ہے، ان کے نام معلوم نہیں۔البتہ۔علامہ محمد احمد قادری میو صاحب کادسترخوان شیرازپرعجوبے ہوتےرہتےہیں۔شیر اور بکریاںایک گھاٹ پردیکھنے کوملے۔۔
یوں تو ہر ممبر میو قوم کے سر کا تاج تھا۔کچھ نمایاں لوگوں میں،چوہدری محمد یوسف (ڈونر)چوہدری محمد عثمان(ڈونر)برگیڈئیر بابر یاسین۔ کرنل محمد علی۔ممتاز شفیق۔انجینئر محمد امین۔ماسٹر جمال دین۔دلشاد یونس۔کلیم اللہ ۔آفتاب اختر۔شہزاد جواہر سابقہ صدرانجمن ہذا۔چوہدری علی محمد ۔رائو محمد شریف ۔ عاصد رمضان میو۔مشتاق امبرالیا۔انیس نتھی۔ایک لمبی فہرست ہے ۔جیسے نام دستیاب ہونگے۔قوم کو

آگاہ کردیا جائے گا۔
اجلاس مجموعی طورپر خوشگوار ماحول میں ہوا،انتخابی دستور میں ووٹر اور ممبر فیس پر بحث ہوئی۔اس کے علاوہ متفقہ بات یہ سامنے آئی کہ پہلی فرصت میں وقف شد ہ زمین پر چار دیواری کرائی جائے۔اور ایک عدد مسجد و مدرسہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔جس جوش و جذبہ کی جھلک دیکھائی دی، لگتا ہے میو اس بار دلی فتح کرلیں گے؟۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے
کہ میو قوم کچھ کرے یا نہ کرے اپنے کاموں میں دین کا تڑکا ضرور لگاتے ہیں۔اپنی زندگی اور معاملات مین دین لاگو کریں یانہ کریں۔لیکن دیندار ہونے کا تاثر ضرور دیتے ہیں۔
دین میں زبردستی نہیں ۔اس لئے کوئی ذمہ داری اٹھانے کے لئے بھی تیار نہیں۔یوں مسجد مدرسہ بنے یا نہ بنے۔کوئی دبائو نہیں ڈال سکتا ۔اللہ کی رضاء ہے۔جس کی مرضی حصہ لے ۔یا منہ موڑے ۔گلہ نہیں کیا جاسکتا۔
یاد رکھئے ۔جب تک ایک قسم کی کنفیوذن سے خود کو آزاد نہیں کریں گے ۔معاملات جوں کے توں ہی رہیں گے۔
ایک پروجیکٹ میو قوم کے تعلیمی ادارے کے لئے وقف ہے۔اس میں دین کو گھیسڑنا مناسب نہیں ،جو مساجد و مدارس پہلے سے موجود ہیں۔کیا

کم ہیں ؟۔
جو اسے بھی اس رنگ میں نہلایا جارہا ہے،میں مانتا ہوں مسجد مدرسہ بنانا دینی کام اور بہترین عمل ہے۔لیکن اس مسجد و مدرسہ کی آڑ میں اگر مسلکی نازع پیدا ہوا تو ۔تاقیامت ایک اینٹ بھی نہ لگ سکے گی۔میو قوم میں ہر مکتب فکر کے لوگ موجود ہیں ۔ہر ایک نے جنت کی جابی اپنی مٹھی میں دبائی ہوئی ہے۔میں دیکھتا ہوں کون جنت میں جاتا ہے؟
میو قوم کے اجلاسوں میں جس انداز میں گفتگو کی جاتی ہے ،یا پھر جن جذبات کی فروانی ہوتی ہے۔اللہ جانے اجلاس کے بعد وہ کہاں گم ہوجاتی ہے؟
اللہ کرے انجمن کا سہاگ سلامت رہے۔اسے دان پُن کرنے والے سدا آباد رہیں ۔اور جن جذبات و قومی خدمات کا اظہار کیا گیا ہے ۔وہ کہیں گم ہونے یا دھڑے بندی کی دھول مٹی میں ملنے سے بچ جائیں۔امید ہے کالج بن جائے گا۔
اجلاس میں جتنے صاد ق و امین ۔خدمت گزار۔اور قوم کی خدمت کے لئے بے تاب لوگ دکھائی دئے۔
میں سوچ سوچ کر ہلکان ہوگیا کہ کونسی غیبی قوم ہے جس نے ان جذبات کو عملی اقدام سے باز رکھا۔
بقیہ کل پڑھئے گا
